صدائے درویش , میرے رفیق/ میرے دوست ,میرا سانگھڑ, عظیم لوگ, ماضی کے جھروکوں سے, میرے قلم سے , میری یادیں، میری ملاقاتیں, یادِ رفتگاں , چھوٹی چھوٹی باتیں/میرے مشاہدات , داستانِ حیات/خود نوشت, حاصل مطالعہ,
ہفتہ، 3 دسمبر، 2022
Halaku Khan Ki Beti Aur Aalim Ka Mukalma
بدھ، 25 مئی، 2022
Pehly Zamany k Chor
*پہلے زمانے کے چور بھی وقت کے فقیہ ہوتے تھے*
۔۔۔۔۔۔
*امام جوزی رحمہ اللہ نے قاضی انطاکیہ کا ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہےکہ وہ ایک دن اپنے کھیتوں کو دیکھنے شہر سے نکلے تو شہر کے باہر ایک چور نے دھر لیا۔چور نے کہا کہ جو کچھ ہے میرے حوالے کردیجئے ورنہ میری طرف سے سخت مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا۔*
*قاضی نے کہا : خدا تیرا بھلا کرے ۔ میں عالم آدمی ہوں اور دین میں اس کی عزت کا حکم دیا گیا ہے ساتھ میں قاضی شہر بھی ہوں لہذا مجھ پر رحم کر۔*
*چور نے کہا :الحمدللہ !ایسا شخص جو بیچارہ فقیر نادار ہو اور اپنا نقصان پورا نہ کرسکے کے بجائے آج ایک ایسے شخص کو اللہ نے میرے قابو میں دیا ہے کہ اگر اس کو میں لوٹ بھی لوں تو شہر واپس جاکر اپنا نقصان پورا کرسکتا ہے ۔*
*قاضی نے کہا :خدا کے بندے تو نےرسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث نہیں سنی کہ دین وہ ہے جسے اللہ نے مقرر کیا اور مخلوق سب اللہ کے بندے ہیں اور سنت وہی ہے جو میرا طریقہ ہے۔ پس جس نے میرا طریقہ چھوڑ کر کوئی بدعت ایجاد کی تو اس پر اللہ کی لعنت ۔*
*تو اے چور !ڈاکے ڈالنا اور لوگوں کو راستے میں لوٹنا یہ بدعت ہے نبی کریم ﷺ کا طریقہ اور دین نہیں ۔میں آپ کا خیر خواہ ہوں آپ کو چوری سے منع کرتا ہوں کہ مبادا نبی کریم ﷺ کی اس لعنت والی وعید میں آپ شامل نہ ہوجائیں ۔*
*چور نے کہا :میری جان! یہ حدیث مرسل ہے (جو شوافع کے ہاں حجت نہیں ) اور بالفرض اس حدیث کو درست بھی مان لیا جایئے تو آپ کا اس ’’چور‘‘ کے بارے میں کیا خیال ہے جو بالکل ’’قلاش‘‘ ہو فاقوں نے اس کے گھر میں ڈیرے ڈال دئے ہو ں اور ایک وقت کے کھانے کا بھی کوئی آسرا نہ ہو؟۔ایسی صورت میں ایسے شخص کیلئے آپ کا مال بالکل پاک و حلال ہے کیونکہ امام مالک رحمہ اللہ نے عبد اللہ ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرمایا کہ دنیا اگر محض خون ہوتی تو مومن کا اس میں سے کھانا حلال ہوتا۔نیز علما کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر آدمی کو اپنے یا اپنے خاندان کے مارے جانے کا خوف ہو تو اس کیلئے دوسرے کا مال حلال ہے۔اور اللہ کی قسم میں اسی حالت سے گزررہا ہوں لہذا شرافت سے سارا مال میرے حوالے کردو۔*
*قاضی نے کہا :اچھا اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو مجھے اپنے کھیتوں میں جانے دو وہاں میرے غلام و خادم نے آج جو اناج بیچا ہوگا اس کا مال میں ان سے لیکر واپس آکر آپ کے حوالے کردیتا ہوں ۔*
*چور نے کہا :ہرگز نہیں آپ کی حالت اس وقت پرندے کی مانند ہے جو ایک دفعہ پنجرے سے نکل گیا پھر اسے پکڑنا مشکل ہے ۔مجھے یقین نہیں کہ ایک دفعہ میرے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد آپ دوبارہ واپس لوٹیں گے۔*
*قاضی نے کہا: میں آپ کو قسم دینے کو تیار ہوں کہ ان شاللہ میں نے جو وعدہ آپ سے کیا ہے اسے پورا کروں گا۔*
*چور نے کہا :مجھے حدیث بیان کی مالک رحمہ اللہ نے انہوں نے نافع رحمہ اللہ سے سنی انہوں نےعبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ :یمین المکرہ* *لاتلزم(مجبور کی قسم کا اعتبار نہیں)*
*اسی طرح قرآن میں بھی ہے الامن اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمان مجبور آدمی زبان سے کلمہ کفر بول سکتا ہے تو مجبوری کی حالت میں جب کلمہ کفر بولنے کی اجازت ہے تو جھوٹی قسم بھی کھائی جاسکتی ہے ۔لہذا فضول بحث سے پرہیز کریں اور جوکچھ ہے آپ کے پاس میرے حوالے کردیں۔*
*قاضی اس پر لاجواب ہوگیا اور اپنی سواری ،مال کپڑے سوائے شلوار کے اس کے حوالے کردیا۔*
*چور نے کہا:شلوار بھی اتار کر دیں۔*
*قاضی نے کہا :اللہ کے بندے نماز کا وقت ہوچکا ہے ۔اور بغیر کپڑوں کے نماز جائز نہیں۔ قرآن کریم میں بھی ہے خذو زینتکم عند کل مسجد (اعراف ،۳۱)اور اس آیت کا معنی تفاسیر میں یہی بیان کیاگیا ہے کہ نماز کے وقت کپڑے پہنے رکھو۔*
*نیز شلوار حوالے کرنے پر میری بے پردگی ہوگی جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ وہ شخص ملعون ہے جو اپنے بھائی کے ستر کو دیکھے۔*
*چور نے کہا: اس کا آپ غم نہ کریں کیونکہ ننگے حالت میں آپ کی نماز بالکل درست ہے کہ مالک رحمہ اللہ نے ہم سے حدیث بیان کی وہ روایت کرتے ہیں نافع رحمہ اللہ سے وہ عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ سے کہ*
*العراۃ یصلون قیاما و یقوم امامھم وسطہم*
*ننگے کھڑے ہوکر نماز پڑھیںاور ان کا امام بیچ میں کھڑاہو۔*
*نیز امام مالک رحمہ اللہ بھی ننگے کی نماز کے جواز کے قائل ہیں مگر ان کا فتوی یہ ہے کہ کھڑے ہوکر نہیں پڑھیں گے بلکہ متفرق متفرق پڑھیں گے اور اتنی دور دور پڑھیں گے کہ ایک دوسرے کے ستر پر نظر نہ پڑے۔جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا فتوی یہ ہے کہ کھڑے ہوکر نہیں بلکہ بیٹھ کر پڑھیں ۔*
*اور ستر پر نظر پڑنے والی جو روایت آپ نے سنائی اول تو وہ سندا درست نہیں اگر مان بھی لیں تو وہ حدیث اس پر محمول ہے کہ کسی کے ستر کو شہوت کی نگاہ سے دیکھاجائے۔ اور فی الوقت ایسی حالت نہیں اور آپ تو کسی صورت میں بھی گناہ گار نہیں کیونکہ آپ حالت* *اضطراری میں ہے خود بے پردہ نہیں ہورہے ہیں بلکہ میں آپ کو مجبور کررہا ہوں ۔لہذا لایعنی بحث مت کریں اور جو کہہ رہاہوں اس پر عمل کریں۔*
*قاضی نے یہ سن کر کہا کہ خدا کی قسم قاضی اور مفتی تو تجھے ہونا چاہئے ہم تو جھگ ماررہے ہیں ۔ جو کچھ تجھے چاہئے لے پکڑ لاحول* *ولاقوۃالاباللہ ۔اور یوں چور سب کچھ لیکر فرار ہوگیا۔*
*(کتاب الاذکیا ،لابن الجوزی ،ص۳۸۹)*
بدھ، 16 مارچ، 2022
Pakistan Army
فوج اور کرپشن!! حقیقت یا افسانہ ....
فوجی ادارے , آمدن اور اخراجات !!
فوج کا احتساب!!
(سب سے پہلے یہ ذہن نشین کیجئے کہ فوج میں کرپشن کا تصور ہی نہیں ہے فوج کے ہر ادارے میں سخت آڈٹ ہوتا ہے اور سخت سزائیں مقرر ہیں.. اب تفصیل ملاحظہ کریں)
پاکستان آرمی کے کاروباری ادارے!
پاکستان آرمی میں چار بڑے ادارے کام کرتے ہیں جن میں آرمی ویلفیئر ٹرسٹ , فوجی فاؤنڈشن , شاہین فاؤنڈیشن , بحریہ فاؤنڈیشن شامل ہیں اور انکے نیچے آرمی کے زیر اختیار مزید چھوٹے ادارے اور کمپنیاں کام کرتی ہیں!
🔹آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کے ادارے !!
نظام پور سیمنٹ
فارما سوٹیکل
عسکری سیمنٹ لیمیٹڈ
عسکری کمرشل بینک
عسکری جنرل انشورنس کمپنی لمٹیڈ
عسکری لبریکینٹس
آرمی شوگر ملز بدین
آرمی ویلفیئر شو پروجیکٹ
وولن ملز لاہور
آرمی ويلفيئير رائس لاہور
آرمی اسٹينڈ فارم پروبائباد
آرمی اسٹينڈ فارم بائل گنج
فارم رکبائکنتھ
فارم کھوسکی بدين
رئيل اسٹيٹ لاہور راولپنڈی کراچی اور پشاور
آرمی ويلفير ٹرسٹ پلازه راولپنڈی
الغازی ٹريولز
سروسز ٹريولز راولپنڈی
ليزن آفس کراچی اور لاہور
آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کمرشل مارکیٹ پراجیکٹ اور عسکری انفارمیشن سروس کے ادارے شامل ہیں...
🔹 فوجی فاؤنڈیشن کے ادارے!!
فوجی شوگر ملز ٹنڈو محمد خان
فوجی شوگر ملز بدين
فوجی شوگر ملز سانگلاہل
فوجی شوگر ملز کين اينڈيس فارم
فوجی سيريلز
فوجی کارن فليکس
فوجی پولی پروپائلين پروڈکٹس
فائونڈيشن گیس کمپنی
فوجی فرٹیلائيزر کمپنی صادق آباد ڈهرکی
فوجی فرٹیلائيزر انسٹیٹیوٹ
نيشنل آئڈنٹٹی کارڈ پروجيکٹ
فائونڈيشن ميڈيکل کالج
فوجی کبير والا پاور کمپنی اور فوجی سيکيورٹی کمپنی لميٹڈ شامل ہیں...
🔹 شاہین فاؤنڈیشن کے ادارے :
شاہین انٹرنیشنل
شاہین کارگو
شاہین ائیرپورٹ سروسز
شاہین ائیرویز
شاہین کمپلیکس
شاہین پی ٹی وی اور شاہین انفارمیشن اور ٹیکنالوجی سسٹم شامل ہیں .....
🔹بحريہ فاؤنڈيشن کے ادارے :
بحریہ يونيورسٹی
فلاحی ٹريڈنگ ايجنسی
بحریہ ٹريول ايجنسی
بحریہ کنسٹرکشن
بحریہ پينٹس
بحریہ ڈيپ سی فشنگ
بحریہ کامپليکس
بحریہ ہاوسنگ
بحریہ ڈريجنگ
بحریہ بيکری
بحریہ شپنگ
بحریہ کوسٹل سروس
بحریہ کيٹرنگ اينڈ ڈيکوريشن سروس
بحریہ فارمنگ
بحریہ ہولڈنگ
بحریہ شپ بريکنگ
بحریہ ہاربر سروسز
بحریہ ڈائيونگ اينڈ سالويج انٹرنيشنل اور بحریہ فائونڈيشن کالج بہاولپور شامل ہیں!!
نوٹ : ان تفصیلات کا سرکاری اعداد و شمار سے کوئی تعلق نہیں ہے!! یہ تمام ادارے لیگل ہیں اور جائز کاروبار کرتے ہیں با قاعدہ ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرواتے ہیں گزشتہ برس 20-2019 میں پاکستان آرمی نے 190 ارب روپے ٹیکس دیا 25.8 ارب انکم, کسٹم اور سیلز ٹیکس دیا جب کہ ان کاروباری اداروں نے 164.239 ارب ٹیکس دیا اور ان میں حاضر سروس فوجی نہیں ہوتے!!
🔵 پاکستان آرمی کو کاروبار کی کیوں ضرورت ہے ؟؟
پاکستان آرمی بلحاظ تعداد دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے اور دونیا کی بہترین افواج میں شامل ہے پاکستانی خفیہ ایجنسیاں دنیا کی پہلی بہترین ایجنسیاں ہیں تو کیا آپکو لگتا ہے کہ یہ سب سرکاری 17 فیصد بجٹ سے ہو سکتا ہے ؟؟... پاکستان آرمی کو جو 17 فیصد بجٹ دیا جاتا ہے ان میں سے بھی 47 فیصد آرمی جب کہ باقی ایئر فورس اور نیوی میں تقسیم ہوتا ہے !! پاکستان آرمی حکومتی خزانے پر بوجھ بننے کی بجاۓ نجی کاروبار کرتی ہے لاکھوں ریٹائر فوجیوں اور سویلین افراد کو روزگار دیتی ہے میڈیکل کی بہترین سہولیات دیتی ہے تو کیا برائی ہے اس میں ؟؟ اگر یہ کام حکومت نہیں کر سکتی تو لازمی بات ہے غیر ملکی کمپنیوں کو دے دیا جاتا تو اس میں ہمارا کوئی فائدہ نہیں تھا !!
🔵 پاکستان آرمی کے اخراجات :
پاکستان آرمی کو جو 17 فیصد بجٹ میں سے حصہ ملتا ہے وہ آرمی کی تشکیل اور توازن کا ہوتا ہے جنگ لڑنے کا نہیں ہوتا! دنیا کی چھٹی بڑی فوج اور پہلے نمبر کی خفیہ ایجنسیاں رکھنے والی فوج ظاہر ہے گھاس تو نہیں کھاۓ گی انکے بھی اخراجات ہیں اور وہ سب اس 17 فیصد میں پورے نہیں ہوتے!!پاکستان آرمی کے کاروباری اداروں سے حاصل شدہ آمدنی سے ہی وہ تمام کام ہوتے ہیں جو بجٹ سے نہیں کیے جا سکتے! جب پاکستان انڈیا کی تقسیم ہوئی تھی تو پاکستان فوجی فاؤنڈیشن کے حصے میں ایک کروڑ روپے آۓ تھے جنکا کفایت شعاری سے استمال کیا گیا تھا اور آج انھیں سے متعدد ادارے کھڑے کیے گئے ہیں !!
آرمی کے کسی یونٹ کے بیرکوں سے لے کر کسی پہاڑی پر بنی چیک پوسٹ تک ایک ایک روپیہ لگا ہوا نظر آتا ہے لاکھوں فوجیوں ریٹائر و حاضر سروس کو میڈیکل کی بہترین سہولیات تعلیم کی بہترین سہولیات جنگ لڑنے کے تمام اخراجات کسی بھی قومی مشن کے اخراجات قدرتی آفات کی صورت میں مدد کے اخراجات اسلحے کی خریداری کے اخراجات خفیہ ایجنسیوں کے اخراجات کسی بھی مصیبت زدہ ملک و قوم کی مدد کے اخراجات غیر ملکی دوروں کے اخراجات کھیلوں کے اخراجات پریڈ کے اخراجات جدید ترین ٹیکنالوجی میزائلز ایٹمی ہھتیار اور سینکڑوں قسم کے اخراجات شامل ہیں اسی میں سے جنگیں لڑتی ہیں اسی میں سے آپریشن ہوتے ہیں اسی میں سے وطن آباد ہوتے ہیں سرحدیں محفوظ ہوتی ہیں شہدا کے لواحقین کا خیال بھی اسی میں سے رکھا جاتا ہے اور ظاہر ہے یہ 17 فیصد سے تو نہیں ہو سکتا!!!
🔹 پاکستان آرمی کا دیگر افواج سے موازنہ !!
پاکستان آرمی اپنے ایک سپاہی پر سالانہ 12500 ڈالر خرچ کرتی ہے جب کہ بھارت 42000 ڈالر امریکا 392,000 ڈالر اور سعودیہ 371,000 ڈالر خرچ کرتا ہے.. بھارت کا بجٹ پاکستان آرمی سے چھے گنا زیادہ ہے انکا صرف اسلحے کا پیسہ پاکستان آرمی سے دو گنا ہے مگر .. اتنے کم خرچ میں بڑے خرچوں والی فوج امریکا کو دھول چٹانے والے یہی سپاہی ہیں ازلی دشمن بھارت کو تگنی کا ناچ نچانے والے یہی ہمارے فوجی ہیں سعودیہ کی رکھوالی کرنے والے یہی فوجی ہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں دنیا کی مظبوط ترین نیٹ ورک رکھنے والی اور تسلیم شدہ ایجنسیاں ہیں اور یہ سب 17 فیصد میں تو نہیں ہوتا !!
🔹 پاکستان آرمی کے پلاٹس اور اثاثہ جات !!
ایک کمیشن آفیسر جب فوج جوائن کرتا ہے اسے ایک آپشنل فارم دیا جاتا ہے جو کہ پاکستان آرمی کی ہاؤسنگ کی رکنیت کا ہوتا ہے رکنیت لینے والے کو ایک لاکھ کی پیمنٹ کرنی ہوتی ہے اور پھر باقی ماندہ اسکی تنخواہ سے کٹوتی ہوتی رہتی ہے.. جب آفیسر کی سروس 15 سال کے قریب ہو جاتی ہے وہ میجر یا لیفٹیننٹ کرنل بن چکا ہوتا ہے تو وہ تنخواہ میں کٹوتی کے حساب سے تقریباً ایک پلاٹ کا مالک ہو چکا ہوتا ہے اسی طرح پچیس سال سروس کرنے پر وہ برگیڈئیر یا میجر جنرل بنتا ہے تو کچھ زیادہ کا حقدار ہو چکا ہوتا ہے اور یہ مفت میں نہیں انکی تنخواہ سے کٹ چکا ہوتا ہے!!
پاکستان آرمی میں کرنل رینک سے ہر آرمی آفیسر کو سال کے بعد اپنے اثاثے ظاہر کرنے پڑتے ہیں فوجی کمیٹی ان اثاثوں کا موازنہ گزشتہ سال کے اثاثوں سے کرتی ہے اور اگر اثاثوں میں فرق آ جاۓ تو منی ٹریل مانگا جاتا ہے اور قانون کے مطابق کاروائی ہوتی ہے..... !!!
🔹 فوج میں کرپشن حقیقت یا افسانہ !!
پاکستان آرمی میں کرپشن کا تصور نہیں ہے اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پیسوں کا لین دین براہ راست نہیں ہوتا بلکہ پاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ نامی ایک الگ ادارہ کام کرتا ہے یہی ادارہ تمام فورسز کو مالی ادائگیاں کرتا ہے اور پھر آڈٹ بھی کرتا ہے لہٰذا براہ راست پیسوں کے لین دین نا ہونے کی وجہ سے مالی گڑبڑ کا کرپشن کا تصور ختم ہو جاتا ہے اور جیسا کہ میں نے گزشتہ پیراگراف میں بتایا کہ ہر سال اثاثوں کی تفصیلات طلب ہوتی ہیں لہذا ہر چیز کا چیک اینڈ بیلنس ہونا کرپشن کے خاتمے کی بنیادہ وجہ ہے!!
فوج میں اگر آپ غور کریں تو آپکو ایک ایک انچ پر روپے لگے نظر آئیں گے .. فوجیوں کا لباس بہترین اسلحہ و ایمونیشن بہترین گاڑیاں ہر وقت تیار ایک منظم بہترین تربیت یافتہ فوج ہر دم ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ایک بھرپور نظم و ضبط ... انکی کالونیاں صاف ستھری ہسپتال صاف ستھرے اسکول بہترین ایسے کیسے ممکن ہے پھر ؟؟... ہر کام میں ایک ترتیب طے ہے ایک منظم طریقہ کار طے ہے ہر ایک روپیہ اسکی درست جگہ لگنے سے ہی ایسا ممکن ہے !!
آخری میں ایک بڑی مثال دیتا ہوں !!
جب کسی بھی ملک کی آرمی کرپشن کے بازار گرم کرتی ہے پھر وہ جنگیں نہیں لڑتی وطن کا دفاع نہیں کرتی بلکہ مشکل وقت میں دھڑام سے گرتی ہے کیوں کہ اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہے !! میں نے امریکی و افغانی افواج کی کچھ رپورٹس مطالعہ کیں جنکے مطابق افغان آرمی کاغذات میں تعداد میں زیادہ تھی مگر محاذ پر کم یعنی افغانی جرنیل اور سینئر قیادت امریکا سے زیادہ سپاہیوں کے اخراجات لیتے رہے ہیں جب کہ حقیقت میں اتنے سپاہی تھے ہی نہیں انکی خوراک ٹریننگ و دیگر اخراجات کے ڈالر جیب میں ڈالتے رہے ہیں اور جو موجود تھے انکی نا ہی ٹریننگ کی نا ہی منظم فورس تیار کی نتیجہ کیا ہوا ؟؟.. امریکی افواج کے جاتے ہیں افغان آرمی تین دن میں کابل چھوڑ کے بھاگ نکلی !!!!
ہر ادارہ اپنے ملازمین کو سہولیات دیتا ہے جیسے بجلی کا محکمہ چند سو فری یونٹس گیس کا محکمہ کچھ گیس فری اسی طرح آرمی بھی اپنے ملازمین کو چند سہولیات دیتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں !!.........
اتوار، 16 جنوری، 2022
Hazrat Atta Ullah Shah Bukhari Ka Aik Farman
اللہ الصمد :
عطاءاللہ شاہ بخاری فرماتے ہیں
کہ میں جیل میں تھا تو مجھے خیال آیا کہ قرآن مجید کا وہ ترجمہ پڑھنے کی سعادت حاصل کروں
جو حضرت شاہ عبدالقادر ؒ نے لکھا ہے۔
میں نے قرآن مجید جیل میں منگوایا اور پڑھنا شروع کیا جب میں
اللہ الصمد پر پہنچا تو
اللہ الصمد کا جو معنی شاہ عبد القادر ؒ نے کیا تھا وہ میں نے اس سے پہلے نہ سنا نہ پڑھا تھا۔
حضرت نے اللہ الصمد کا معنی
”نراسترک“لکھا ہوا تھا
جو مجھے سمجھ نہ آیا میں بڑا بےچین ہو گیا پھر مجھے خیال آیا
جیل میں ہندو پنڈت بھی قید ہے اس سے نراسترک کا معنی پوچھتا ہوں
حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری لکھتے ہیں
میں اس پنڈت کے پاس گیا اس ساری بات کی اور کہا کہ نراسترک کے کیا معنی ہیں میرا پوچھنا تھا کہ پنڈت وجد میں آ کر جھومنے لگا میں کافی پریشان ہو گیا کہ میں نے معنی پوچھا اسے دیکھو کیا ہو گیا کافی دیر کے بعد وہ اپنی کیفیت میں واپس آیا تو میں نے اسے کہا اللہ کے بندے میں نے تو نراسترک کا معنی پوچھا اور تو وجد میں آگیا ایسا کیا ہے؟
پنڈت نے جواب دیا سن سکے گا
میں نے جواب دیا ہاں کیوں نہیں
پنڈت بولا تو پھر سن
”نراسترک“سنسکرت زبان کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں۔
وہ جس کا کام کوئی روک نہیں سکتا اور اگر وہ ” نہ چاہے تو کسی کا کام ہو نہیں سکتا“اللہ الصمد“
شاہ صاحب فرماتے ہیں
بس اس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہ تھا پتہ نہیں کب تک میری یہ کیفیت رہی۔
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴).
( سوانح و افکار عطا اللّٰہ شاہ بخاری )
جمعرات، 15 جولائی، 2021
Aik Aham Haqeeqat, Ham Aur Hamaray Aham Idaray, افغان جنگ, جنرل پرویز مشرف اورپاکستان,
حاصل مطالعہ ( منقول)
افغانستان ایک بہانہ تھا , پاکستان اصل نشانہ تھا
پاکستان اورپاکستانیوں کو بچانے والا مرد مجاہد
*افغان جنگ اورپاکستان*
*امریکہ افغان جنگ ہار گیا کیونکہ اس کی پہلی ملاقات جنرل مشرف اور آخری ملاقات آئی ایس آئی سے ہوئی تھی*۔
*بائیس کروڑ پاکستانیوں کو بچانے والا مرد مجاہد جس نے سب الزامات اپنے سر پر برداشت کر لیئے، لیکن آپ اور ہم پر ایک آنچ تک نہ آنے دی* ۔
*شطرنج کے اس کھیل میں جنرل مشرف نے بڑی بڑی دجالی طاقتوں کی اینٹ سے اینٹ بجائی ہے۔*
*لوگوں نے مجھے غدار کہا، وطن فروش کہا، بلکہ ایسے ایسے القابات سے نوازا کہ میں بیان نہیں کر سکتا، بغیر تحقیق کے جس کے منہ جو آیا, بس وہی الزام مجھ پر لگا دیا گیا۔ آج جتنی زبانیں میرے اوپر چلتی ہیں. اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ آئی ایس آئی اور میں (جنرل مشرف) نے مل کر ا،مر،یکہ کو ایسے قبرستان میں پہنچا دیا تھا، جہاں شکست اس کا مقدر بن چکی تھی*۔
*یہ جو الزام لگا رہے ہیں وہ شائد واقف ہی نہیں ہیں کہ ا،مر،یکہ کس طرح پاکستان کو ٹارگٹ کر کے لیبیا, شام, عراق, افغانستان اور فلسطین کی طرح مفلوج اور برباد کرنے والا تھا*۔
*لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کو میں (جنرل مشرف) نے افغان وار میں جان بوجھ کر دھکیلا, ا،مر،یکہ کو اڈے دے کر !! لیکن بہت ہی کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ امریکہ نے مجھے اور آئی ایس آئی کو بھی دھمکیاں دی تھیں کہ وہ پاکستان کو پتھروں کے زمانہ میں دھکیل دے گا*۔
*ہم نے امریکہ کی دھمکیوں کو اس کی بیوقوفی سمجھ کر صرف اڈے اس لئے دئیے کہ وہ ہماری خاموشی میں چھپے ہوئے طوفان سے ناواقف تھا*۔
*اس نے ہماری قابلیت کو پس پشت ڈال دیا تھا اور اس وقت ا،مر،یکہ اپنی اوقات بھول رہا تھا کہ جس روس کو ہرانے کے لئے وہ کئی دھائیوں سے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھا اس کو ہرانے میں پاکستان نے صرف چند ہی سال لگائے تھے۔ اور آج تک روس پاکستان کے سامنے خاموش ہے جانتے ہو کیوں ،؟؟*
*چہرے بدلتے رہیں گے, لیکن آئی ایس آئی کی پالیسیاں اور آرمی چیف کا ڈنڈا وہی رہے گا.*
*اگر میں (جنرل مشرف) امریکہ کو اڈے نہ دیتا, تو اس کو انڈیا اڈے دے دیتا اور آپ یقین کریں کہ امریکہ کے ایک بی باون طیارے نے انڈیا سے اڑنا اور پاکستان کے اوپر سے گزرتے ہوئے ایک بم جان بجھ کر پاکستان پر پھیکنا تھا اور ہمارے کئی شہروں کے شہروں نے پتھر کے زمانہ میں چلے جانا تھا اور امریکہ اس پر کہتا کہ یہ تو پائلٹ سے غلطی ہو گئی تھی. جواب کے لئے کچھ پاس بھی ہونا چائیے تھا۔ پھر یہ مجھ پر الزام لگانے والے بھی نہیں بچنے تھے۔کسی نا کسی امریکی حملے میں کب کے ختم ہو جاتے۔۔۔۔۔۔*
*خیر کیا کروں مجھے (جنرل مشرف) کو اپنے وطن سے محبت ہے۔ میں تمہارے مطابق وطن فروش ہی صحیح، میں غدار ہی صحیح کیونکہ میں اور آئی ایس آئی اس جنگ کو اس وقت بیس سال پہلے ہی اپنی ٹیبل پر بیٹھ کر جیت چکے تھے*۔
*مجھے پتہ تھا. کہ اس جنگ کا نشانہ پاکستان ہے. میں نے پاکستان کو بچانا تھا, تاکہ پاکستان مضبوط سے مضبوط تر ہو جائے, چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہوتی ہم ادا کرنے کو تیار تھے. یہ میرے اوپر الزامات تو بہت چھوٹی چیز ہیں۔ یاد رکھو اپنے خلاف باتیں سن کر ہمت مت ہارو, کیونکہ شور تماشائی کرتے ہیں کھلاڑی شور نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔*!
*اس وقت کا پاکستان اور آج کا پاکستان, "فرق بہت زیادہ ہے". کیونکہ اس وقت ابھی جے ایف 17 تھنڈر ہم نے بنائے ہی نہیں تھے۔ ایف 16 وہ تھے جن کو امریکہ آسانی سے جام کر دیتا کیونکہ وہ روس کے خلاف پاکستان کو امریکہ سے ملے تھے. اور ہمارا ایٹم بم بھی نوزائیدہ بچے ہی کی مانند تھا اور ہماری میزائیل رینج بھی نارمل سی تھی۔ اور ہم امریکی جی پی ایس سسٹم استعمال کرتے تھے۔ اس نے ہمارا میزائیل سسٹم بھی جام کر دینا تھا۔ میں (جنرل مشرف) نے اور آئی ایس آئی نے الله کی مدد سے پاکستانیوں کو ا،مر،یکہ نامی ڈائین سے بچایا ہے۔*
*میرے اوپر لگنے والے بے بنیاد الزام کچھ اس طرح ہیں*!!!!!!
*ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو میں نے بیچا تھا، حالانکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ افغانستان سے اغوا کر کے لے گیا تھا اور چند دین فروشوں نے اسلام آباد والی کرسی کے لالچ میں یہ الزام مجھ پر ڈال دیا کہ مشرف نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کیا ہے۔ یہ بات وہ بیٹی بھی جانتی ہے(اور یہ بھی کہ اسکی امریکہ حوالگی میں ڈاکٹر عافیہ کی شوھرکا بھی ایک گھنائوناکرداربھی تھا), جس کو افغانستان کی سرزمین سے سی آئی اے والے اغوا کر کے لے گئے تھے یا میرا اللّٰہ بھی جانتا ہے۔ کن کن کے کہنے پر مجھ پر الزام لگائے گئے. پچھلے دو حکومتی ادوار میں پاکستان اور سندھ کا کباڑا نکال کر رکھ دیا۔ مہنگائی تو ہو گی۔ کیونکہ شیر اور بھٹو دونوں ہی زندہ باد ہیں. جو انھوں نے بیج بویا آنے والی نسلوں کو مہنگائی کی صورت میں اس کا پھل تو ملنا ہی ہے*۔
*یہ الزام بھی مجھ پر لگے کہ میں نے پاکستان کے اڈے بیچے, زمین بیچی ڈالی، جب شیر دو قدم پیچھے ہٹتا ہے تو جاہل سمجھتے کہ شیر ڈر گیا. جبکہ اہل عقل لوگ اسے شیر کے جھپٹنے کا سٹائل سمجھتے ہیں۔ امریکہ جنگ ہار گیا کیونکہ اس کی آخری ملاقات آئی ایس آئی سے ہوئی تھی۔*
*پاکستان کی زمین کو بیچا یہ والے بے بنیاد الزامات ہیں, ا،مر،یکہ جو پاکستان کو ایٹم بم سمیت ختم کرنے آیا تھا پاکستان کی ایک انچ زمین بھی ہلا نہیں سکا، جبکہ ہمارے نیوکلیئر پروگرام کی جاسوسی پر امریکہ نے ہر سال پچیس ارب ڈالر ضائع کئے، لاتعداد ایجنٹ مروائے اور ایک پٹاخہ تک نہ ڈھونڈ سکے۔۔۔۔۔ ۔!!!!!!*
*اور کیا دنیا کی نمبر ایک ایجنسی آئی ایس آئی کے ہوتے ہوئے جنرل مشرف کی کیا مجال تھی کہ وہ پاکستان کا سودا کر کے زندہ بچ جاتا، وہ لوگ کچھ خدا کا خوف کریں, جو جنرل مشرف پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں* ۔
*لال مسجد کا آپریشن کروایا کیونکہ جنرل مشرف نے امام کعبہ کو کہا کہ آپ لال مسجد کے مولویوں سے مذاکرات کر لیں, اگر وہ مان جاتے تو آپریشن نہیں ہونا تھا، لال مسجد کے اندر دہشتگردوں کو ٹریننگ ملتی تھی, پاکستانیوں اور پاک فوج پر حملے کی ترغیبیں بتائی جاتی تھیں اور وہ مولوی برقع پہن کر فرار ہوتا ہوا پکڑا گیا تھا. جس نے لوگوں کے معصوم بچوں اور بچیوں کے کندھے ہر رکھ کر گولی چلوائی تھی، مسجد اور قرآن پاک کی بے حرمتی اندر چھپے دہشتگردوں نے کی تھی، جس کے جواب میں مجبورا جنرل مشرف کو ایکشن لینا پڑا اور ان دہشتگردوں کو ہلاک کروایا جہنوں نے مسجد کی آڑ لے لی تھی۔ پاکستان میں لائی لگ لوگوں کی بھر مار ہے. جس کی وجہ سے لوگ آگے جانے کی بجائے نیچے جا رہے ہیں اگر مولوی کوئی فتوی دے گا تو لوگ اسے قبول کریں گے اور ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے لیکن یہ لوگ نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل نہیں کرتے، اگر عمل کر لیں تو دین و دنیا آسان ہو جائے* ۔
*اکبر خان بگٹی کو بے قصور مارا یہ الزام بھی بے بنیاد ہے جاؤ بلوچستان اور ان غریب غربا سے پوچھو کون سا ظلم باقی بچا تھا جو نواب اکبر بگٹی اور اس کے چیلوں نے بلوچوں کے ساتھ نہیں کیا تھا۔ جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو مصر میں فرعون پر موسی اور پاکستان کے فرعونوں پر ایک عدد مشرف الله تعالی ضرور بھیجتے ہیں*۔
*الزامات کے پیچھے وہی حرام خور ہیں, جن کو میں نے این آر او دیا تھا اور کیا اس کے چیلے نہیں جانتے تھے کہ شیروں نے سب کچھ لوٹا اور ملک کو مہنگائی کے طوفانوں میں چھوڑ کر خود لندن بھاگ گئے, سب کچھ لوٹ کر لے گئے* ۔
*مجھ پر اگر الزام لگانا تھا تو یہ لگاتے کہ میں نے ان چوروں کو بچایا، یہ میری غلطی تھی, جو ان چوروں کو این آر او دیا تھا۔ جس کی وجہ سے آج آپ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہو*
*جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر ادراے مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کو خطرہ صرف چند نوسرباز ڈاکو خاندانوں اور ان کی لا دین اور بے ایمان اولادوں سے ہے*۔
*خدارا۔۔۔ ان کو مت چھوڑنا اگر ملک سلامت چاہتے ہو۔ لوٹا ہوا مال ملے نہ ملے، یہ آئندہ اقتدار میں نہ آئیں اور ان کو ڈھیل ڈیل وغیرہ وغیرہ مت دو یہ لوگ انڈیا اور اسرائیل سے زیادہ خطرناک ہیں. پاکستان کے لئے۔ جو ان کو چھوڑنا چاہتے ان کو بھی اڑا دو۔ چاہے وہ جج ہوں، جرنیل ہوں یا پھر سیاستدان ہوں۔ 🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰 اس ملک اور پرچم کی خاطر*۔
*جب سے پاکستان بنا ہے, آئے روز پاک فوج کے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ کیا ان جوانوں کا خون ان چند ڈاکو خاندانوں سے سستا ہے ؟؟*
*آج ملک پاکستان مین جتنی دونمبری، بے ایمانی، رشوت، سود کرپشن چوری مہنگائی، ناانصافی اور بے ایمانی سرکاری محکموں میں بیٹھے افسروں میں ہے, اس سب کے موجد یہ دو خاندان ہی ہیں نواز زرداری*۔
*بہرحال سیاست اپنی جگہ ایک گند ہے اس سے میرا کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔*،
*نوٹ*
*آج شیطانوں کو ا،فغا،نستا،ن سے دم دبا کر بھاگتا ہوا دیکھا تو مجھے اپنے جنرل مشرف اور آئی ایس آئی کی اس چال کا ادراک ہوا جس کو سمجھنے میں امریکہ کو بیس سال لگے اور اس قوم کو سمجھنے میں آئندہ #مزید بیس سال لگیں گے#*
*پاک فوج زندہ باد* *آئی ایس آئی زندہ باد*
*پاکستان سیکرٹ فورس*
A Short History of General Pervez Musharraf
General Pervez Musharraf is four-star general Ex- Chief of Army Staff and became the tenth president of Pakistan. He held the presidency from 2001 until 2008,
Born: August 11, 1943
(age 77 years), Old Delhi, Delhi, India
Height: 6′ 0″
Spouse: Sehba
Musharraf (m. 1968)
Books: In the Line of
Fire: A Memoir, Agnipath Meri Atmakatha
Children: Bilal
Musharraf, Ayla Musharraf
Education: Royal College
of Defence Studies (1990–1991)
جمعرات، 3 دسمبر، 2020
Baba Bullayh Shah ki Aik Hidayat Aik Waqia
حاصلِ مطالعہ۔
بابا بّلھے شاہ کی ایک حکایت ایک واقعہ ایک حقیقت
ایک دن ایک جٹ بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا-
کہنے لگا "دنیا داری زیادہ نہیں جانتا، عشق حقیقی سمجھنا ہے-"
بابا جی نے کہا " یہ بتاؤ کے دنیا میں سب سے زیادہ محبت کس سے کرتے ہو؟"
جواب دیا-
"اپنی بھینس سے کرتا ہوں-"
بابا جی نے کہا-
"آج سے تمھارا سبق یہی ہے کہ اسے دیکھتے رہو، چھ مہینے تک-"
بندہ خوش ہوگیا-
چھ مہینے کے بعد حاضر ہوا تو بابا جی نے پوچھا کہ "کون؟"
اس نے کہا "جٹ"-
بابا جی نے پھر حکم کیا کیا-
جاؤ اور چھ مہینے بعد آنا-
جس دن وہ بابا جی کو ملنے آیا تو دروازے سے سر ٹکرا کر واپس ہو جاتا اندر نہیں جا رہا تھا-
بابا جی نے اس سے پوچھا-
"بھائی! اندر کیوں نہیں آتے؟"
کہنے لگا-
"بابا جی! اندر کیسے آؤں، میرے دونوں سینگ اس دروازے میں پھنس جاتے ہیں-"
بابا جی نے ہنستے ہوئے کہا-
"جاؤ! آج تمھارا سبق پورا ہوا-
"رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھا ہوئی"
عشق حقیقی یہی ہے کہ اپنی ذات کی نفی ہو جائے.
22.11.2820
اتوار، 22 نومبر، 2020
Kor Chasham, کورچشم
حاصلِ مطالعہ- منقول
میرے دوستو!
عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو
آج آخرِشب میں یہ کاپی پیسٹ حاضر خدمت ہے، مجھے امید ہے آپ سب کو بہت پسند آئے گی, یہ کہانی پڑھنے کے بعد مجھے آج کچھ لکھنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی، ایسے لگ رہا ھے جیسے میرے تمام الفاظ اس کہانی کے سامنے گونگے ہو چکے ہیں، اگر بات سمجھ میں آ جائے تو نامعلوم لکھاری کو خراج تحسین پیش کر دیجئے گا۔
طالب دعا:-
غلام محمد چوہان،
17.11.2020.
کورچشم
سنا ہے جس عورت سے آپکی شادی ہوئی تھی وہ بڑی خطرناک عورت تھی، اور آپ نے ڈر کے مارے اسے طلاق دے دی تھی"برگد کے درخت کے نیچے کرسی پر بیٹھے ایک خاموش طبع بوڑھے سے ایک منچلے نے استہزائیہ کہا. ساتھ ہی قریب بیٹھے نوجوانوں کی ٹولی نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو ہنس کردیکھا.
"اللہ بخشے اسے،بہت اچھی عورت تھی." بنا ناراض ہوئے، بغیر غُصّہ کئے بابا جی کی طرف سے ایک مطمئن جواب آیا.
مسکراہٹیں سمٹیں، ایک نوجوان نے ذرا اونچی آواز میں کہا "لیکن بابا جی لوگ کہتے ہیں وہ بڑی خطرناک عورت تھی، کیا نہیں؟ بابا جی کچھ دیر خاموش رہے پھر کہنے لگے.
کہتے تو ٹھیک ہی ہیں، وہ عورت واقعی بہت خطرناک تھی اور حقیقتا میں نے ڈر کے مارے اسے طلاق دی تھی۔
"یہ بات تو مردانگی کے خلاف ہے، عورت سے ڈرنا کہاں کی بہادری ہے؟ نوجوان جوشیلے انداز میں بولا۔
"میں عورت سے نہیں ڈرتا تھا، میں تو "اس" سے ڈرتا تھا جس تک اس کی رسائی تھی، پرسکون جواب۔
جوانوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا.
ایسی عورتوں کو تو.جہنم میں ہونا چاہیئے."لا حولا ولا قوۃ" کہاں آپ جیسا شریف النفس انسان کہاں وہ عورت، اچھا کیا چھوڑ دیا "نوجوان کے لہجے میں غصہ تھا، بوڑھے کی مجسس زندگی کا پٹارا کھل کر سامنے آگیا تھا.
تجسس ختم ہوا، اب سب باری باری منتشر ہونے لگے. جانے والوں نے عنوان پڑھ لیا تھا، کہانی خود بنانی تھی.جو رہ گئے تھے، وہ وہی تھے جو اصل کہانی جاننا چاہتے تھے۔
میں بھی ایسا ہی سوچتا تھا کہ اسے جہنم میں ہی ہونا چاہیئے تھا، تب ہی میں نے اسے جہنم جیسی زندگی دی تھی"بوڑھی آنکھوں میں اضطراب اترا.
یہ تب کی بات ہے جب میں سرکار کے ہاں سو روپیہ ماہوار پر ملازم ہوا، میری ماں چاہتی تھی کہ میری شادی ہوجائے. رشتہ ڈھونڈا گیا، ایک مونگ پھلی فروش کی بیٹی میری ماں کو پسند آئی، سلیقہ مند، خوبصورت اور ایک دم خاموش طبع. مجھے اس رشتے پر اعتراض تھا کہ وہ ایک مونگ پھلی بیچنے والی کی بیٹی تھی۔ مزدور کی اولاد کو پیٹ کی فکر رہتی ہے، تربیت کی نہیں،بتربیت تو بڑے گھرانوں میں کی جاتی ہے جہاں افلاس آنکھوں کے روشنی چھیننے سے قاصر ہوتا ہے.وہ کیا تربیت دے گی میری اولاد کو؟ لیکن وہ لڑکی میری ماں کو ایسی پسند تھی کہ اماں اس کے علاوہ کسی کا نام نہیں سننا چاہتی تھیں.
پھر وہ بیاہ کر میرے گھر آگئی، رخصتی کے وقت اس کے باپ نے مجھے کہا،
"میری بیٹی سیدھی سادھی ہے، اسے دنیاداری کا کوئی خاص پتا نہیں، اگر کہیں کوئی چوک ہوجائے تو معاف کردینا، یوں ھے بڑے دل والی، اپنے "سائیں" کو خوش رکھے گی، وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسی میری ماں نے بتایا تھا.سلیقہ مند، سگھڑ اور تابعدار. "بابا جی کی وہی گھسی پٹی بابوں والی داستان ہوگی، یہ سوچ کر دو نوجوان اٹھ کر چلے گئے.
میری باہر دوستوں کے ساتھ صحبت کوئی اچھی نہیں تھی ،ملازمت کے اوقات میں کھانا گھر سے باہر کھاتا، دوستوں میں بیٹھتا، رات گئے تک محفل چلتی پھر گھر جاتا. وہ کیا کھاتی تھی کیا پیتی تھی کس حال میں رہتی تھی مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی.انہی دنوں میری ماں بھی دنیا سے رخصت ہوگئی.
ایک روز میں جوئے میں بھاری رقم ہار کر جب تھکا ہارا گھر آیا تو کہنے لگی" آپ تو کھانا باہر کھا لیتے ہیں، مجھے بھوک لگتی ہے، ہوسکے تو ایک ہی بار مہینے کا راشن ڈلوا دیا کیجیئے، روز روز بازار سے خریداری کی صعوبت نہیں اٹھانی پڑے گی. "کیا؟ اس پھونگ پھلی بیچنے والے کی بیٹی کی اتنی اوقات کہ مجھ سے مطالبہ کرسکے؟ مجھے طیش آیا.
ہو ناں تم کسی بہت بڑے باپ کی بیٹی کہ تمہیں پورے مہینے کا راشن اور خرچ چاہیئے، اپنی اوقات دیکھی ہے؟ غصے میں آکر اس پر ہاتھ اٹھایا اور مغلظات بھی بکے، میں نے یہ نہیں سوچ سکا کہ آخر اسے زندہ رہنے کے لئے روٹی تو ہر حال میں چاہیئے تھی۔
وہ جسمانی اعتبار سے کافی کمزور تھی، مار برداشت نہیں کرسکتی تھی، پشیمانی تھی یا کیا وہ دو دن تک بستر پر پڑی رہی. مجھے اس کی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی.
پھر اس نے گھر میں ہی سینا پرونا شروع کردیا، ہاتھ کا ہنر اس کے کام آیا یوں اس کی روٹی کا انتظام ہوگی، اور میں یہ سوچ کر پہلے سے بھی زیادہ بے پرواہ ہوگیا.
ایک روز ایک ہمسائے نے مجھے روک کر کہا "دن میں جب آپ گھر نہیں ہوتے تو آپ کے گھر سے باتوں کی آوازیں آتی ہیں" میرے سوا میری غیر موجودگی میں کون آتا تھا.جس سے وہ اتنی آواز میں باتیں کرتی تھی؟ غصہ حد سے سوا تھا، بس نہ چلتا تھا کہ اسے جان سے ماردوں، لیکن میں بس ایک موقع کی تاک میں تھا.
ایک رات پچھلے پہر کسی کے بولنے کی آواز پر میری آنکھ کھلی، چاندی رات میں صحن میں پڑی ہر شے بالکل واضح طور پر دکھائی دیتی تھی، میں اٹھ کر دروازے تک آیا، اب آواز زیادہ واضح تھی.وہ کہ رہی تھی۔
"سائیں! صبح ایک روٹی کے لئے آٹا گھر میں موجود ہے، وہ ایک روٹی کھا کر چلا جائے گا، یہ سوچے بنا کہ میں سارا دن بھوکی رہوں گی میری روٹی جب تک تیرے ذمے تھی تو عزت سے ملتی تھی، میرے سائیں! تو نے اپنے نائب کے ہاتھ دی تو روٹی کیساتھ بے عزتی اور اذیت بھی ملنے لگی، مجھے اب روٹی تو ہی دے، تیرا بنایا نائب تو خائن نکلا "وہ میری شکایت کررہی تھی" لیکن کس سے؟؟؟ کون تھا جو اسے روٹی دیتا تھا مجھ سے بھی پہلے؟
میں نے باہر آکر دیکھا وہ صحن کے بیچ چارپائی پر ہاتھ میں سوئی دھاگہ اور فریم لئے خود سے باتیں کررہی تھی. وہاں کوئی بھی نہ تھا، میرے پیروں سے زمین نکل گئی، وہ خدا سے میری شکایت کررہی تھی.وہ اس لمحے مجھے کوئی اور ہی مخلوق لگی، وہ بہت کم بولتی تھی لیکن وہ کس کے ساتھ اتنا بولتی تھی، آج مجھے سمجھ آیا تھا. وہ تو بہت بڑے باپ کی بیٹی تھی.کیسی عورت تھی جو افلاس کے ہوتے بھی "خدا شناس" تھی.میرا جسم خوف سے کانپ رہا تھا.
دن چڑھتے ہی میں نے سامان باندھا اور اسے اس کے باپ کے گھر چھوڑ آیا، سسر نے طلاق کی وجہ پوچھی تو میں ڈرتے ہوئے کہنے لگا،
" یہ بڑی خطرناک عورت ہے، بڑے دربار میں میری شکایتیں لگاتی ہے. مجھے ڈر ہے کہ بادشاہ کو کسی دن تاؤ آگیا تو میرا حشر نہ کردے "حقیقت یہ تھی کہ میں اس کیساتھ انصاف نہیں کرسکا تھا.
اس کا باپ گھر کی دہلیز پر کھڑا تھا. میرے پلٹنے پر کہنے لگا " میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ اسے دنیاداری نہیں آتی، وہ تو بس "سائیں" کو خوش رکھنا جانتی ہے, اس کی مراد خدا سے تھی اور میں خود کو سمجھا تھا.
جب میں واپس گھر آیا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ رات اس نے یہی تو مانگا تھا، تُو خود مجھے روٹی دے، تیرا نائب تو خائن نکلا اور آج نان نفقے کا اختیار مجھ سے چھین لیا گیا.
میں بے تحاشہ رویا، اس کا سائیں بہت بڑا تھا، اس کی رسائی جس تک تھی وہ تو دوجہانوں کا رب تھا، وہ جس کی ایک روٹی مجھ پر بھاری تھی وہ اس کے لئے کیا نہیں کرسکتا تھا، میں واقعی ڈر گیا تھا.میں آج بھی ڈرتا ہوں کہیں میرے حق میں اس نے کوئی بددعا نہ کردی ہو.
ٹھیک کہتے ہیں لوگ! کہاں میں کہاں وہ؟ "بوڑھی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی.
میں "کور چشم" اسے پہچان نہیں سکا، میں نہیں ڈرتا تھا، حالانکہ ڈرنا چاہیئے تھا ،اس کے سائیں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ "عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو" کہانی کے اختتام تک ایک جوان بابا جی کے پاس بیٹھا تھا.
کہانیاں بہت سے لوگ جانتے ہیں لیکن حقیقت تک پہنچنے والا کوئی ایک ہی ہوتا ہے۔
منگل، 25 اگست، 2020
Dr Hameedullah R.A., Pakistan Ka aik Gumnaam Sipahi
عظیم لوگ
ایک عظیم شخصیت، ایک عظیم پاکستانی ۔ ڈاکٹر حمیداللہ
ایک ایسا عظیم شخص جس نے 1994ء میں کنگ فیصل ایوارڈ کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرایا کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے لکھا ہے لہذا مجھ پر میرے دین کو خراب نہ کریں.
ایک ایسا عظیم شخص جس نے فرانس کی نیشنیلٹی کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دی کہ مجھے اپنی مٹی اور اپنے وطن سے محبت ہے.
ایک ایسا عظیم شخص جس کے ہاتھ پر 40000 غیر مسلموں نے کلمہ طیبہ پڑھا.
ایک ایسا عظیم شخص جو 22 زبانوں کا ماہر تھا اور 84 سال کی عمر میں آخری زبان تھائی سیکھ لی تھی.
ایک ایسا عظیم شخص جس نے مختلف زبانوں میں 450 کتابیں اور 937 علمی مقالے لکھے.
ایک ایسا عظیم شخص جو اس قدر علمی مقام رکھنے کے باوجود اپنے برتن اور کپڑے خود دھوتے تھے.
ایک ایسا عظیم شخص جسے 1985 میں پاکستان نے اعلی ترین شہری اعزاز ہلال امتیاز سے نواز تو اعزاز کے ساتھ ملنے والی رقم جو ایک کروڑ روپے بنتی تھی اس رقم کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ تحقیقات اسلامی کو یہ کہتے ہوئے دیا کہ اگر اس فانی دنیا میں یہ اعزاز وصول کیا تو پھر باقی رہنے والی زندگی کے لئے کیا بچے گا.
ایک ایسا عظیم شخص جس نے حدیث کی اولین کتاب جو 58 ہجری میں لکھی گئی تھی جسے صحیفہ ہمام بن منبہ کہا جاتا ہے اس عظیم حدیثی و تاریخی دستاویز کو انہوں نے 1300 سال بعد جرمنی میں برلن لائبریری سے دریافت کیا اور تحقیق کے بعد شائع کرایا.
ایک ایسا عظیم شخص جس نے قرآن مجید کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ و تفسیر لکھا اس شاہکار ترجمے کے بیسوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں.
ایک ایسا عظیم شخص جس نے "تعارف اسلام " کے نام سے ایک شاہکار کتاب لکھی جس کتاب کے دنیا کی 22 زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں.
یہ عظیم انسان یہ نابغہ روزگار شخصیت ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تھی،آپ 1908 میں حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے،
آپ نے 1933ء میں جرمنی کیبون یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد وہیں عربی اور اردو کے استاد مقرر ہوئے.
آپ 1946ء میں اقوام متحدہ میں ریاست حیدرآباد کے نمائندہ (سفیر) مقرر ہوئے۔
1948 میں سقوط حیدر آباد اور انڈیا سے ریاست کے جبری الحاق پر سخت دلبرداشتہ ہوئے اور جلاوطنی کی زندگی اختیار کی اور جلا وطنی کے دوران "حیدرآباد لیبریشن سوسائٹی" کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی.
1950 میں پاکستان کا پہلا قانونی مسودہ بن رہا تھا تو آپ سے رابطہ کیا گیا آپ پاکستان تشریف لائے.
آپ نے 1952 سے 1978 تک ترکی کی مختلف جامعات میں پڑھایا
1980 میں جامعہ بہاولپور میں طلبہ کو خطبات دیے جنہیں بعد ازاں خطبات بہاولپوری کے نام سے شائع کیا گیا
یہ عظیم علمی اور فکری شخصیت 17 دسمبر 2002 کو امریکی ریاست فلوریڈا میں انتقال کر گئی.
ڈاکٹر محمد حمیداللہ کہنے کو ایک فرد تنہا لیکن کام کئی جماعتوں سے زیادہ کر گئے،اللہ تعالی انہیں غریق رحمت کرے.
جمع و ترجمہ
بقلم فردوس جمال !!!
بدھ، 12 اگست، 2020
Meri Wafat Kay Baad
حاصلِ مطالعہ ۔ منقول
میری وفات کے بعد...
موسم سرما کی ایک انتہائی ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی۔
اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے دوائیں تبدیل کیں مگر میں خلافِ معمول خاموش رہا۔
دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔ جو بیٹا پاکستان میں تھا وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔ چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں دونوں یونیسف کے سروے کے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔
لاہور والی بیٹی کو میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں بے حد مصروف ہے اور بچوں کی وجہ سے خود اس کا آنا بھی مشکل ہے۔
رہے دو لڑکے جو بیرون ملک ہیں انہیں پریشان کرنے کی کوئی تُک نہ تھی.
میں میری بیوی گھر پر تھے اور ایک ملازم جو شام ڈھلے اپنے گھر چلا جاتا تھا۔
عصر ڈھلنے لگی تو مجھے محسوس ہوا کہ نقاہت کے مارے بات کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ میں نے اپنی پرانی ڈائری نکالی، بیوی کو پاس بٹھا کر رقوم کی تفصیل بتانے لگا جو میں نے وصول کرنا تھیں اور جو دوسروں کو ادا کرنا تھیں۔
بیوی نے ہلکا سا احتجاج کیا:
” یہ تو آپ کی پرانی عادت ہے ذرا بھی کچھ ہو تو ڈائری نکال کر بیٹھ جاتے ہیں“
مگر اس کے احتجاج میں پہلے والا یقین نہیں تھا۔ پھر سورج غروب ہوگیا۔ تاریکی اور سردی دونوں بڑھنے لگیں۔ بیوی میرے لیے سُوپ بنانے کچن میں گئی۔ اس کی غیر حاضری میں مَیں نے چند اکھڑی اکھڑی سانسیں لیں اور........... میری زندگی کا سورج غروب ہو گیا۔
مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں آہستہ آہستہ اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں۔ پھر جیسے ہوا میں تیرنے لگا اور چھت کے قریب جا پہنچا۔
بیوی سُوپ لے کر آئی تو میں دیکھ رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس پر سکتہ طاری ہوا اور پھر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ میں نے بولنے کی کوشش کی. یہ عجیب بات تھی کہ میں سب کچھ دیکھ رہا تھا مگر بول نہیں سکتا تھا۔
لاہور والی بیٹی رات کے پچھلے پہر پہنچ گئی تھی۔ کراچی سے چھوٹی بیٹی اور میاں صبح کی پہلی فلائیٹ سے پہنچ گئے۔
بیٹے تینوں بیرون ملک تھے وہ جلد سے جلد بھی آتے تو دو دن لگ جانے تھے۔ دوسرے دن عصر کے بعد میری تدفین کر دی گئی۔
شاعر، ادیب، صحافی، سول سرونٹ سب کی نمائندگی اچھی خاصی تھی۔ گاؤں سے بھی تقریباً سبھی لوگ آ گئے تھے۔ ننھیا ل والے گاؤں سے ماموں زاد بھائی بھی موجود تھے۔
لحد میں میرے اوپر جو سلیں رکھی گئی تھیں مٹی ان سے گزر کر اندر
آ گئی تھی۔ بائیں پاؤں کا انگوٹھا جو آرتھرائٹس کا شکار تھا، مٹی کے بوجھ سے درد کر رہا تھا۔
پھر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔
شاید فرشتے آن پہنچے تھے۔ اسی کیفیت میں سوال و جواب کا سیشن ہوا۔
یہ کیفیت ختم ہوئی۔
محسوس ہو رہا تھا کہ چند لمحے ہی گزرے ہیں مگر فرشتوں نے بتایا کہ پانچ برس ہو چکے ہیں تمہیں فوت ہوئے ۔
پھر فرشتوں نے ایک عجیب پیشکش کی:
” ہم تمہیں کچھ عرصہ کے لیے واپس بھیج رہے ہیں۔ تم وہاں دنیا میں کسی کو نظر نہیں آؤ گے. گھوم پھر کر اپنے پیاروں کو دیکھ لو،
پھر اگر تم نے کہا تو تمہیں دوبارہ نارمل زندگی دے دیں گے ورنہ واپس آ جانا “
میں نے یہ پیشکش غنیمت سمجھی اور ہاں کر دی۔
پھر ایک مدہوشی کی حالت چھا گئی۔ آنکھ کھلی تو میں اپنی گلی میں کھڑا تھا۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اپنے گھر کی جانب چلا۔ راستے میں کرنل صاحب کو دیکھا۔ گھر سے باہر کھڑے تھے۔ اتنے زیادہ بوڑھے لگ رہے تھے۔ خواجہ صاحب بیگم کے ساتھ واک کرنے نکل رہے تھے۔
اپنے مکان کے گیٹ پر پہنچ کر میں ٹھٹھک گیا۔ میرے نام کی تختی غائب تھی۔ پورچ میں گاڑی بھی نہیں کھڑی تھی۔ وفات سے چند ہفتے پہلے تازہ ماڈل کی خریدی تھی دھچکا سا لگا۔
گاڑی کہاں ہوسکتی ہے؟
بچوں کے پاس تو اپنی اپنی گاڑیاں تھیں تو پھر میری بیوی جو اب بیوہ تھی، کیا گاڑی کے بغیر تھی؟
دروازہ کھلا تھا۔ میں سب سے پہلے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اپنی لائبریری میں گیا۔ یہ کیا؟
کتابیں تھیں نہ الماریاں
رائٹنگ ٹیبل اس کے ساتھ والی مہنگی کرسی، صوفہ، اعلیٰ مرکزی ملازمت کے دوران جو شیلڈیں اور یادگاریں مجھے ملی تھیں اور الماریوں کے اوپر سجا کر رکھی ہوئی تھیں۔ بے شمار فوٹو البم، کچھ بھی تو وہاں نہ تھا۔
مجھے فارسی کی قیمتی ایران سے چھپی ہوئی کتابیں یاد آئیں، دادا جان کے چھوڑے ہوئے قیمتی قلمی نسخے، گلستان سعدی کا نادر نسخہ جو سونے کے پانی سے لکھا ہوا تھا اور دھوپ میں اور چھاؤں میں الگ الگ رنگ کی لکھائی دکھاتا تھا.
داداجان اور والد صاحب کی ذاتی ڈائریاں سب غائب تھیں۔ کمرہ یوں لگتا تھا، گودام کے طور پر استعمال ہو رہا تھا. سامنے والی پوری دیوار پر جو تصویر پندرہ ہزار روپے سے لگوائی تھی وہ جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی.
میں پژمردہ ہوکر لائبریری سے باہر نکل آیا۔ بالائی منزل کا یہ وسیع و عریض لاؤنج بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ یہ کیا؟
اچانک مجھے یاد آیا کہ میں نے چکوال سے رنگین پایوں والے سُوت سے بُنے ہوئے چار پلنگ منگوا کر اس لاؤنج میں رکھے تھے شاعر برادری کو یہ بہت پسند آئے تھے وہ غائب تھے۔
نیچے گراؤنڈ فلور پر آیا، بیوی اکیلی کچن میں کچھ کر رہی تھی۔ میں نے اسے دیکھا۔ پانچ برسوں میں اتنی تبدیل ہو گئی تھی میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کیسے پوچھوں کہ گھٹنوں کے درد کا کیا حال ہے؟
ایڑیوں میں بھی درد محسوس ہوتا تھا۔ دوائیں باقاعدگی سے میسر آرہی تھیں یا نہیں؟
میں اس کے لیے باقاعدگی سے پھل لاتا تھا۔ نہ جانے بچے کیا سلوک کر رہے ہیں؟
مگر... میں بول سکتا تھا نہ وہ مجھے دیکھ سکتی تھی۔
اتنے میں فون کی گھنٹی بجی بیوی بہت دیر باتیں کرتی رہی۔ جو اس طویل گفتگو سے میں سمجھا یہ تھا کہ بچے اس مکان کو فروخت کرنا چاہتے تھے۔ ماں نے مخالفت کی کہ وہ کہاں رہے گی۔ بچے بضد تھے کہ ہمارے پاس رہیں گی.
میری بیوی کو میری یہ نصحیت یاد تھی کہ ڈیرہ اپنا ہی اچھا ہوتا ہے مگر وہ بچوں کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈال رہی تھی۔
گاڑی کا معلوم ہوا کہ بیچی جاچکی تھی۔ بیوی نے خود ہی بیچنے کے لیے کہا تھا کہ اسے ایک چھوٹی آلٹو ہی کافی ہو گی۔
اتنے میں ملازم لاؤنج میں داخل ہوا۔
یہ نوجوان اب ادھیڑ عمر لگ رہا تھا۔
میں اس کا لباس دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ اس نے میری قیمتی برانڈڈ قمیض جو ہانگ کانگ سے خریدی تھی پہنی ہوئی تھی۔ نیچے وہ پتلون تھی جس کا فیبرک میں نے اٹلی سے خریدی تھی. اچھا... تو میرے بیش بہا ملبوسات ملازموں میں تقسیم ہو چکے تھے.
میں ایک سال لوگوں کی نگاہوں سے غائب رہ کر سب کو دیکھتا رہا۔
ایک ایک بیٹے بیٹی کے گھر جا کر ان کی باتیں سنیں۔ کبھی کبھار ہی ابا مرحوم کا یعنی میرا ذکر آتا وہ بھی سرسری سا۔
ہاں...
زینب، میری نواسی اکثر نانا ابو کا تذکرہ کرتی۔ ایک دن ماں سے کہہ رہی تھی:
” اماں... یہ بانس کی میز کرسی نانا ابو لائے تھےنا جب میں چھوٹی سی تھی اسے پھینکنا نہیں“
ماں نے جواب میں کہا:
” جلدی سے کپڑے بدل کر کھانا کھاؤ پھر مجھے میری سہیلی کے گھر ڈراپ کردینا“
میں شاعروں ادیبوں کے اجتماعات اور نشستوں میں گیا۔ کہیں اپنا ذکر نہ سنا۔ وہ جو بات بات پر مجھے جدید غزل کا ٹرینڈ سیٹر کہا کرتے تھے جیسے بھول ہی تو چکے تھے۔
اب ان کے ملازموں نے میری کتابیں بھی الماری سے ہٹا دی تھیں۔
ایک چکر میں نے قبرستان کا لگایا۔
میری قبر کا برا حال تھا. گھاس اگی تھی۔ کتبہ پرندوں کی بیٹوں سے اٹا تھا۔ ساتھ والی قبروں کی حالت بھی زیادہ بہتر نہ تھی۔
ایک سال کے جائزے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میری موت سے دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ زرہ بھر بھی نہیں.
بیوی یاد کر لیتی تھی تاہم بچے پوتے نواسے پوتیاں سب مجھے بھول چکے تھے ۔
ادبی حلقوں کے لیے میں اب تاریخ کا حصہ بن چکا تھا۔ جن بڑے بڑے محکموں اور اداروں کا میں سربراہ رہا تھا وہاں ناموں والے پرانے بورڈ ہٹ چکے تھے۔
دنیا رواں دواں تھی۔ کہیں بھی میری ضرورت نہ تھی۔ گھر میں نہ باہر. پھر تہذیبی، معاشرتی اور اقتصادی تبدیلیاں تیزی سے آ رہی تھیں اور آئے جا رہی تھیں.
ہوائی جہازوں کی رفتار چار گنا بڑھ چکی تھی۔ دنیا کا سارا نظام سمٹ کر موبائل فون کے اندر آ چکا تھا۔ میں ان جدید ترین موبائلوں کا استعمال ہی نہ جانتا تھا۔
فرض کیجئے،
میں فرشتوں سے التماس کر کے دوبارہ دنیا میں نارمل زندگی گزارنے آ بھی جاتا تو کہیں بھی ویلکم نہ کہا جاتا. بچے پریشان ہو جاتے ، ان کی زندگیوں کے اپنے منصوبے اور پروگرام تھے جن میں میری گنجائش کہیں نہ تھی.
ہو سکتا تھا کہ بیوی بھی کہہ دے کہ تم نے واپس آ کر میرے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ مکان بک چکا،
میں تنہا تو کسی بچے کے پاس رہ لیتی، دو کو اب وہ کہاں سنبھالتے پھریں گے.
دوست تھوڑے بہت باقی بچے تھے۔
وہ بھی اب بیمار اور چل چلاؤ کے مراحل طے کر رہے تھے. میں واپس آتا تو دنیا میں مکمل طور پر اَن فِٹ ہوتا۔ نئے لباس میں پیوند کی طرح۔
جدید بستی میں پرانے مقبرے کی طرح.
میں نے فرشتے سے رابطہ کیا اور اپنی آخری خواہش بتا دی۔ میں واپس قبر میں جانا چاہتا ہوں.
فرشتہ مسکرایا۔ اس کی بات بہت مختصر اور جامع تھی:
”ہر انسان یہی سمجھتا ہے کہ اس کے بعد جو خلا پیدا ہو گا، وہ کبھی بھرا نہیں جا سکے گا مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ خلا تو کبھی پیدا ہی نہیں ہوتا “
#حاصل مطالعہ#
پیر، 27 جولائی، 2020
Insan Ki Zindagi, Taqdeer Aur Tadbeer ka Khail
حاصل مطالعہ ۔ منقول
انسان کی زندگی ۔ تقدیر اور تدبیر کا کھیل
منگل، 21 جولائی، 2020
Bawajood Qudrat Kay Bhi Kisi ko Maaf Kardena, Naimate Khudawandi
حاصل مطالعہ (منقول)
قدرت اور طاقت ھونے کے باوجود بھی کسی کو معاف کردینا، نعمت خداوندی
بدھ، 15 جولائی، 2020
Raiseenia, A mix Famus Dish
رائسینیا کی مشہور ڈش! . RAISEENIA
Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments
تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...
-
پرسکون، آرام دہ اور فکر اور شور کے بغیر پرسکون کا مطلب ہے پرسکون، آرام دہ اور فکر اور شور کے بغیر۔ سب کچھ پرسکون نظر آئے گا اگر ہمارا دماغ...
-
انسان درخت کاٹ رہے ہیں اے میرے دادا! تم ابھی زندہ نہیں لیکن تمہاری سنہری باتیں زندہ ہیں۔ آج مجھے یاد ہے کہ آپ نے کیا کہا تھا کہ انسان درخت...