میرا سانگھڑ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
میرا سانگھڑ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 16 دسمبر، 2022

Chacha Sain Ki Baten

 
ماضی کے دریچوں سے۔

قسط نمبر 04.


دونوں افراد کے چلے جانے کے بعد میں پریشان سا ہوکر بیٹھا ھوا تھا، سگریٹ سلگایا اور ہلکے ہلکے کش لینے لگا، اِس سوچ میں غلطاں تھا کہ بلوچ چائے فروش نے "ڈسوں تھا" یعنی دیکھتے ہیں کہہ دیا تھا، کرتا کیا تھا، اب مزید استفسار بھی غیر ضروری تھا۔ کچھ معمول کے کام نپٹانے کے بعد چاچا سائیں بھی پھر سے میرے پاس آکر بیٹھ گئے، بیڑی نکالی، صاف کی اور سلگا کر مُجھ سے پوچھنے لگے، (آپکو بتاتا چلوں کہ بیڑی پینا بھی ایک فن ھے، بہت نزاکت سے اسے پہلے الٹی طرف سے پھونک مار کر صاف کیا جاتا ھے تاکہ کچا تمباکو منہ میں جا کر منہ میں جا کر کڑواہٹ پیدا مت کرے) پھلجی کب چھوڑی تھی؟ میں نے جواب دیا کافی پہلے میں کوئی 03 سال کا ھونگا، بلوچ چائے فروش کے چہرے پر گہری سنجیدگی اور حیرت کے آثار واضح تھے، کیا پھر تمہارا اس طرف آنا ھوا؟ گویا وہ یہ سوال دہرا کر میری باتوں کا یقین چاہتا تھا۔ تین سال کے بچے کو تو کچھ بھی یاد نہیں ہوتا۔ 

میں کہا مُجھے کافی کچھ یاد ہے، تحیر سے مُجھے دیکھا پھر ہلکی سی گردن ہلا دی، گویا میری بات پر یقین کر چکے تھے۔


پھر دور خلاؤں میں گھورتے ھوئے میں گویا ھوئے، ہاں کسی دور میں یہاں پنجابی آبادگار بہت ہوا کرتے تھے، میں نے دریافت کیا پھر چلے کیوں گئے؟ غور سے مُجھے دیکھا اور کہنے لگے " تم لوگ بھلا کیوں گئے تھے؟" میرا جواب نفی میں تھا، میں نہیں جانتا کیوں چلے گئے تھے۔ خود کلامی کے انداز میں کہنے لگے کچھ پنجابی سندھی جھگڑے میں یہاں سے چلے گئے، کچھ ڈاکو راج کی وجہ سے گئے، کچھ لوگوں کو ڈاکو اٹھا کر بھی لے گئے تھے، کچھ اپنا کاروبار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر چلے گئے، باقی اپنی زمینیں وڈیروں کو " بھگڑن مٹھ" بیچ کر یہاں سے لڈ گئے، اچھے لوگ تھے، محنتی تھے، امن پسند تھے۔ اب میں حیران ہو کر بوڑھے چائے فروش کو دیکھ رہا تھا جو انتہائی سچائی کے ساتھ سب کچھ بیان کرتا چلا جا رہا تھا۔


میں نے پوچھا چاچا سائیں کیا اب بھی کچھ پنجابی آبادگار یہاں ہیں؟ جواب ملا " ہیں مگر چند ایک گھر جو جمالیوں کی وجہ سے ابھی تک یہاں آباد ہیں، گئے نہیں، جمالی ہر اچھے برے وقت پر اُنکا ساتھ دیتے ہیں، اُنکے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں، میں ہمہ تن گوش ہوکر بلوچ چائے فروش کی باتیں سن ہی رہا تھا کہ ہوٹل پر 02 نو عمر لڑکے آگئے، یہی کوئی 10 سے 14 سال تک کی عمر کے ہونگے، کندھوں پر کلہاڑیاں رکھی ہوئی تھیں، مقامی طور پر وہاں کے لوگ رکھا ہی کرتے تھے۔


دونوں نے آتے ہی مُجھ پر ایک طائرانہ سی نظر ڈالی اور پھر بوڑھے بلوچ سے روایتی علیک سلیک کیا، بابا جی نے اُنہیں میری طرف اشارہ کرکے بلوچی میں کچھ کہا جس کا مفہوم تو میں سمجھ ہی گیا تھا، دونوں عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے گویا اُنہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اِس ویران سے بس اسٹاپ پر کوئی اجنبی مسافر پھلجی ولیج جانے کو  اُتر بھی سکتا ھے۔ چائے فروش نے اُنہیں مزید کچھ سمجھایا اور پھر مجھے کہنے لگا، یہ لڑکے میں نے گوٹھ سے منگوائے ہیں کہ تم کو تمہاری جنم بھومی تک لے جائیں گے، میں نے مشکور نظروں سے بابا جی دیکھا تو اُنکے چہرے پر اب شفقت کے ساتھ ساتھ میری کیئر بھی نمایاں تھی، کہنے لگے بس وہاں رکنا نہیں ہے، عصر سے پہلے واپس آ جانا، رات دادو گزارنا، ہاں! یہ لڑکے تم کو یہاں واپس بھی لے آئیں گے۔ 

میں نے تشکر آمیز نظروں سے بوڑھے بلوچ کو دیکھا جو اب محبّت بھرے انداز میں مُجھے دیکھ رہا تھا, میں نے اپنا سفری بیگ کندھے پر لٹکایا، کپڑوں کی شکنیں درست کیں، بلوچ بابا جی سے الوداعی مصافحہ کیا، انکے کھردرے ہاتھ تھام کر مجھے اندازہ ھوا کہ زندگی گزارنا کتنا مشکل عمل ھے۔ جاتے وقت کُتّے کو ہلکا سا پچکارا، اُس نے ہلکی سی دم بلا کر مُجھے الوداع کہا، اور پھر پھلجی ولیج جانے کیلئے ان نوعمر لڑکوں کے ساتھ ھو لیا۔


سڑک پار کرکے ایک بغلی سڑک پر چڑھ گئے جو کسی دور میں وہ سڑک ھوا کرتی تھی جس پر "بگھیو بس سروس" سوار ھو کر میں اپنے والدین کے ساتھ کبھی پھلجی سے دادو اور پھر دادو سے پھلجی ولیج آیا کرتا تھا، سڑک پر چڑھتے ہی ساتھ ہی وہ چھنڈن بھی بہہ رہی تھی جس میں میں اپنے بچپن میں ڈوبنے سے بال بال بچا تھا۔ دونوں لڑکے کندھوں پر روایتی کلہاڑیاں رکھے میرے آگے آگے تھے اور میں انکے پیچھے پیچھے چلتا چلا جا رہا تھا، چھنڈن میں پانی تو تھا مگر بہت ہی کم، دونوں لڑکے ایک دوسرے سے گپ شپ کرتے اور کبھی اُلٹی کلہاڑی زمین پر مارتے اور کبھی قریبی جھاڑی پر کلہاڑی سیدھی مار کر اُسکی دھار چیک کرتے چلے جا رہے تھے۔ دور ایک ٹیلے پر وڈی پھلجی کے آثار بھی نمایاں تھے، جو کبھی زندگی سے بھرپور گوٹھ ھوا کرتی تھی اور میری جنم بھومی بھی۔


جاری ھے۔


جی۔ایم چوہان۔

15.12.2022

جمعہ، 24 جولائی، 2020

Babul Islam Sindh Utter, Wichlo aur Laar Sindh

صدائے درویش                             میرا سانگھڑ، سندھ، پاکستان

اُتروچولواورلاڑ سندھ

اّتر سندھ

ہم اگر سندھ کے مزاج کا مطالعہ کریں تو ہم اسے 03 حصوں میں بانٹ کر سمجھ سکتے ہیں، شمالی سندھ کو سندھی زبان میں "اُتر" اور وہاں کے رہنے والوں کو ہم "اترادی" کے نام سے پکارتے ہیں، یہ لوگ چونکہ عام طور پر کم تعلیم یافتہ ہوا کرتے ہیں اور قبائلی نظام کے زیرِ اثر بھی، سو یہ لوگ قدرے "جھگڑالو" ہوتے ہیں، خاندانی دشمنیاں وغیرہ بھی عام ہوتی ہیں، "اُتر" کے اضلاع شکارپور اور جیکب آباد زیادہ مشہور ہیں، شکارپور کو تو مقامی لوگ 12 سرداروں کا شہر کہتے ہیں، کوئی ایک سردار ہوتا تو شائید شکارپور کی بھی سنی جاتی، سندھ کا "پیرس" کہلانے والا شہر شکارپور اب کھنڈر نما ہوچکا ہے۔ "جیکب آباد" سندھ کا سرحدی شہر ہے، سرحدی شہر ہونے کی وجہ سے یہاں کاروبار بہت اچھا ہے، کاروبار کی کثرت "ہندو برادری" کے ہاتھ ہے۔ بلوچستان کے قریب ہونے کی وجہ سے  بلوچی ثقافت اور رہن سہن کے زیر اثر ہے، اگر آپ شکارپور یا جیکب آباد جائیں تو بازاروں میں شہری علاقوں کی طرح مقامی خواتین خرید و فروخت کرتی ہوئی نظر نہیں آئیں گی، صرف مرد حضرات کرتے ہیں۔

لیکن! 

وقت کے ساتھ ساتھ ان میں بھی شعور آ رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ تعلیم کے حصول کے لئے بڑھتا ہوا رجحان بھی۔ ان دونوں اضلاع کے دیہاتیوں کی زندگی بہت کھٹھن ہے، مرد سارا دن ہوٹلوں پر چائے پیتے، گپ شپ لگاتے اور انکی خواتین انتہائی محنتی اور جفا کش کہ سارا دن "کھیتی باڑی" کو سنبھالتی ہیں، ھارپہ کرتی اور شام کو گھر اور بچوں کو بھی۔ 

سکھر اور ڈھرکی کے اضلاع البتہ قدرے بہتر ہیں اور "اُتر" کے لحاظ سے تعلیم کا ratio بھی دیگر شمالی اضلاع کی نسبت بہتر ہے، مگر دریائے سندھ کا کچّہ نزدیک ہونے کی وجہ سے کسی دور میں لوٹ مار اور ڈاکے وغیرہ عام تھے، اب نہیں ہیں۔ سلرا شہداد کوٹ، خیرپور میرس، قنبر علی خان، لاڑکانہ اور ضلع دادو کا شمار بھی اُتر سندھ میں ہی ہوتا ہے، لیکن یہ اضلاع جیکب آباد، شکار پور، سکھر اور گھوٹکی سے مزاج کے اعتبار سے الگ ہیں، شرح خواندگی بھی اچھی ہے اور وہاں کے رہنے والے بھی عقل و شعور کے حامل ہیں، سیاست ہو یا کوئی اور شعبہ ہر فیلڈ میں خود کو منوا رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق لاڑکانہ جب کہ قاضی فیملی کا تعلق (یہ وہی قاضی محمد اکبر ہیں جس نے 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر جی۔ایم سید کو شکست دی تھی).

وچولو سندھ

اب آئیں "وچولو" پر نظر ڈالتے ہیں، نوشہرو فیروز، اور نواب شاہ اور سانگھڑ ضلع کا بھی وچولو میں ہی شمار ہوتا ہے، ( جبکہ سانگھڑ کا مشرقی حصہ صحراءتھر کا حصہ ہے اُسے اچھڑوتھر  کے نام  سے پُکارا جاتا ہے) ضلع نوشہرو فیروز، نواب شاہ، سانگھڑ، میرپور خاص، ٹنڈو الہیار، جام شورو اور حیدرآباد کے اضلاع بھی وچولو میں ہی ہیں، یہاں کا کیلا اور آم ملک اور بیرون ملک بہت پسند کیا جاتا ہے، ایکسپورٹ بھی ہوتا ہے، دیگر زرعی اجناس بھی وافر مقدار میں ہوتی ہیں، دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ کا پانی میٹھا اور قابل کاشت ہے، جبکہ دیگر جگہوں میں نہری نظام سے استفادہ حاصل کیا جاتا ہے۔

کسی دور میں نوشہرو فیروز اور قاضی احمد تعلیم کے لحاظ سے سندھ بھر میں سر فہرست تھے (اب بھی ہیں) ان علاقوں کے سومرو، میمن اور سہتے خود کو ہر میدان میں صرف سندھ ہی نہیں بلکہ پاکستان اور بیروں ملک بھی منوا چکے ہیں، انتہائی ذہین لوگ ہیں۔ کسی دور میں سندھ کی ٪80 نوکریوں پر اسی علاقے کے لوگ ہی براجمان تھے، اب زیادہ تر نوابشاھ کے ہیی, سول نوکریوں میں "زرداری" قوم کی کثرت ھے۔

وچولو کے شہری علاقوں میں شرح تعلیم زیادہ ہے، دیہاتوں میں کم، زرعی زمین اچھی مگر صحرائی علاقوں میں پیداوار کا زیادہ تر انحصار برسات پر ہے 

لاڑ یا لوئر سندھ

لاڑ میں ضلع بدین، ٹھٹہ اور مٹھی کے اضلاع شامل ہیں، مٹھی صحراء تھر پر مشتمل ہے، جبکہ ضلع بدین اور ٹھٹہ کے اضلاع کاشتکاری اور تعلیم کے میدان میں کافی بہتر ہیں، یہاں کا کیلا بھی سندھ کے دیگر علاقوں کی طرح بہت مشہور ہے۔ ضلع ٹھٹھہ میں ہی درهائےسندھ سمندر میں گرتا ہے، آج بھی وہاں مشہور بندر گاہ کیٹی بندر کے اثر موجود ہیں جہاں سے کسی دور میں کیٹی بندر سے سکھر تک دریا کے راستے تجارتی سامان کی نقل و حمل ہوا کرتی تھی۔ مٹھی سارے کا سارا صحرائی علاقہ ہے جس عرف عام میں صحرائے تھر کہتے ہیں۔  صحراء اور سمندر نزدیک ہونے کی وجہ سے لاڑ کے لوگ بہت سادہ لوح اور انکے مزاج میں سمندر اور صحرا کی سی وُسعت ملتی ہے، امن پسند، صلح جو اور مل بانٹ کر کھانے والے ہیں۔ 

کراچی بھی جنوبی سندھ میں ہی ہے، پاکستان اور سندھ کی واحد "بندرگاہ" سندھ کا دار الحکومت اور غریبوں کی ماں بھی۔ کراچی اور کراچی کے لوگوں اور انکے مزاج کو سمجھنے کیلئے الگ سے لکھنے کی ضرورت ہے۔

"اُتر ہو یا وچولو یا لاڑ " ان سب میں جو چیز کامن ہے وہ ھے سندھ کی روایتی "مہمان نوازی" اور باہمی رواداری، ایک دوسرے کا عزت و احترام جس کا ملک بھر شائد ہی کوئی ثانی ہو۔

میرے دوستو!


یہ ہے میرے سندھ میرے "باب السلام" کا تعارف، اُمید ہے ضرور پسند آیا ہوگا۔

میرے شہر اور ضلع سانگھڑ کا تفصیلی تعارف مجھ پر قرض رہا، سانگھڑ "مردان حر" کا ضلع ہے، انتہائی پرامن محبت, رواداری اور بھائی چارے سے رہنے والوں کا شہر بھی۔


احقر العباد:-
غلام محمد چوہان،
21.07.2020

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...