آخرِشب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
آخرِشب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 16 دسمبر، 2022

Chacha Sain Ki Baten

 
ماضی کے دریچوں سے۔

قسط نمبر 04.


دونوں افراد کے چلے جانے کے بعد میں پریشان سا ہوکر بیٹھا ھوا تھا، سگریٹ سلگایا اور ہلکے ہلکے کش لینے لگا، اِس سوچ میں غلطاں تھا کہ بلوچ چائے فروش نے "ڈسوں تھا" یعنی دیکھتے ہیں کہہ دیا تھا، کرتا کیا تھا، اب مزید استفسار بھی غیر ضروری تھا۔ کچھ معمول کے کام نپٹانے کے بعد چاچا سائیں بھی پھر سے میرے پاس آکر بیٹھ گئے، بیڑی نکالی، صاف کی اور سلگا کر مُجھ سے پوچھنے لگے، (آپکو بتاتا چلوں کہ بیڑی پینا بھی ایک فن ھے، بہت نزاکت سے اسے پہلے الٹی طرف سے پھونک مار کر صاف کیا جاتا ھے تاکہ کچا تمباکو منہ میں جا کر منہ میں جا کر کڑواہٹ پیدا مت کرے) پھلجی کب چھوڑی تھی؟ میں نے جواب دیا کافی پہلے میں کوئی 03 سال کا ھونگا، بلوچ چائے فروش کے چہرے پر گہری سنجیدگی اور حیرت کے آثار واضح تھے، کیا پھر تمہارا اس طرف آنا ھوا؟ گویا وہ یہ سوال دہرا کر میری باتوں کا یقین چاہتا تھا۔ تین سال کے بچے کو تو کچھ بھی یاد نہیں ہوتا۔ 

میں کہا مُجھے کافی کچھ یاد ہے، تحیر سے مُجھے دیکھا پھر ہلکی سی گردن ہلا دی، گویا میری بات پر یقین کر چکے تھے۔


پھر دور خلاؤں میں گھورتے ھوئے میں گویا ھوئے، ہاں کسی دور میں یہاں پنجابی آبادگار بہت ہوا کرتے تھے، میں نے دریافت کیا پھر چلے کیوں گئے؟ غور سے مُجھے دیکھا اور کہنے لگے " تم لوگ بھلا کیوں گئے تھے؟" میرا جواب نفی میں تھا، میں نہیں جانتا کیوں چلے گئے تھے۔ خود کلامی کے انداز میں کہنے لگے کچھ پنجابی سندھی جھگڑے میں یہاں سے چلے گئے، کچھ ڈاکو راج کی وجہ سے گئے، کچھ لوگوں کو ڈاکو اٹھا کر بھی لے گئے تھے، کچھ اپنا کاروبار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر چلے گئے، باقی اپنی زمینیں وڈیروں کو " بھگڑن مٹھ" بیچ کر یہاں سے لڈ گئے، اچھے لوگ تھے، محنتی تھے، امن پسند تھے۔ اب میں حیران ہو کر بوڑھے چائے فروش کو دیکھ رہا تھا جو انتہائی سچائی کے ساتھ سب کچھ بیان کرتا چلا جا رہا تھا۔


میں نے پوچھا چاچا سائیں کیا اب بھی کچھ پنجابی آبادگار یہاں ہیں؟ جواب ملا " ہیں مگر چند ایک گھر جو جمالیوں کی وجہ سے ابھی تک یہاں آباد ہیں، گئے نہیں، جمالی ہر اچھے برے وقت پر اُنکا ساتھ دیتے ہیں، اُنکے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں، میں ہمہ تن گوش ہوکر بلوچ چائے فروش کی باتیں سن ہی رہا تھا کہ ہوٹل پر 02 نو عمر لڑکے آگئے، یہی کوئی 10 سے 14 سال تک کی عمر کے ہونگے، کندھوں پر کلہاڑیاں رکھی ہوئی تھیں، مقامی طور پر وہاں کے لوگ رکھا ہی کرتے تھے۔


دونوں نے آتے ہی مُجھ پر ایک طائرانہ سی نظر ڈالی اور پھر بوڑھے بلوچ سے روایتی علیک سلیک کیا، بابا جی نے اُنہیں میری طرف اشارہ کرکے بلوچی میں کچھ کہا جس کا مفہوم تو میں سمجھ ہی گیا تھا، دونوں عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے گویا اُنہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اِس ویران سے بس اسٹاپ پر کوئی اجنبی مسافر پھلجی ولیج جانے کو  اُتر بھی سکتا ھے۔ چائے فروش نے اُنہیں مزید کچھ سمجھایا اور پھر مجھے کہنے لگا، یہ لڑکے میں نے گوٹھ سے منگوائے ہیں کہ تم کو تمہاری جنم بھومی تک لے جائیں گے، میں نے مشکور نظروں سے بابا جی دیکھا تو اُنکے چہرے پر اب شفقت کے ساتھ ساتھ میری کیئر بھی نمایاں تھی، کہنے لگے بس وہاں رکنا نہیں ہے، عصر سے پہلے واپس آ جانا، رات دادو گزارنا، ہاں! یہ لڑکے تم کو یہاں واپس بھی لے آئیں گے۔ 

میں نے تشکر آمیز نظروں سے بوڑھے بلوچ کو دیکھا جو اب محبّت بھرے انداز میں مُجھے دیکھ رہا تھا, میں نے اپنا سفری بیگ کندھے پر لٹکایا، کپڑوں کی شکنیں درست کیں، بلوچ بابا جی سے الوداعی مصافحہ کیا، انکے کھردرے ہاتھ تھام کر مجھے اندازہ ھوا کہ زندگی گزارنا کتنا مشکل عمل ھے۔ جاتے وقت کُتّے کو ہلکا سا پچکارا، اُس نے ہلکی سی دم بلا کر مُجھے الوداع کہا، اور پھر پھلجی ولیج جانے کیلئے ان نوعمر لڑکوں کے ساتھ ھو لیا۔


سڑک پار کرکے ایک بغلی سڑک پر چڑھ گئے جو کسی دور میں وہ سڑک ھوا کرتی تھی جس پر "بگھیو بس سروس" سوار ھو کر میں اپنے والدین کے ساتھ کبھی پھلجی سے دادو اور پھر دادو سے پھلجی ولیج آیا کرتا تھا، سڑک پر چڑھتے ہی ساتھ ہی وہ چھنڈن بھی بہہ رہی تھی جس میں میں اپنے بچپن میں ڈوبنے سے بال بال بچا تھا۔ دونوں لڑکے کندھوں پر روایتی کلہاڑیاں رکھے میرے آگے آگے تھے اور میں انکے پیچھے پیچھے چلتا چلا جا رہا تھا، چھنڈن میں پانی تو تھا مگر بہت ہی کم، دونوں لڑکے ایک دوسرے سے گپ شپ کرتے اور کبھی اُلٹی کلہاڑی زمین پر مارتے اور کبھی قریبی جھاڑی پر کلہاڑی سیدھی مار کر اُسکی دھار چیک کرتے چلے جا رہے تھے۔ دور ایک ٹیلے پر وڈی پھلجی کے آثار بھی نمایاں تھے، جو کبھی زندگی سے بھرپور گوٹھ ھوا کرتی تھی اور میری جنم بھومی بھی۔


جاری ھے۔


جی۔ایم چوہان۔

15.12.2022

ہفتہ، 3 دسمبر، 2022

Halaku Khan Ki Beti Aur Aalim Ka Mukalma

 

ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں  گشت کررہی تھی کہ
  ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔

پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟

جواب آیا:

ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔

اس نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ 
  عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے لا کر حاضر کیا گیا۔

شہزادی مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی:

کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟

عالم:   یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں

شہزادی: کیا تمہارا ایمان نہیں کہ اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟

عالم:  یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔

شہزادی:   تو کیا اللہ نے آ ج ہمیں تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟

عالم:    یقیناً کردیا ہے-

شہزادی:  تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ  خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟

عالم:   نہیں

شہزادی:   کیسے؟

عالم:   تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟

شہزادی:  ہاں دیکھا ہے

عالم:  کیا اس کے ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے اپنے کچھ کتے رکھے ہوتے ہیں؟

شہزادی:   ہاں رکھے ہوتے ہیں۔

عالم:  اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو چھوڑ کو کسی دوسری طرف کو نکل  کھڑی ہوں، اور چرواہے کی سن کر واپس آنے کو تیار ہی نہ ہوں، تو چرواہا کیا  کرتا ہے؟

شہزادی:وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے  تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔

عالم:  وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟
  شہزادی:جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔

عالم نے کہا : تم تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے
  حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہو جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے

اور اس کی اطاعت اور اس کے منہج پر نہیں آجائیں گے، تب تک خدا تمہیں  ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، اور ھماری گردنوں پر مسلط رکھے گا ۔ جب ہم خدا  کے در پر واپس آجائیں گے ،اُس دن تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔

آج پھر وہی حال ہے

آج کتے ہم پر مسلط ہیں

یہودیوں عیساٸیوں، ہندوؤں اور لبرلز کی صورت میں
  اور جب تک ہم واپس نہ آجاٸیں اسلام کی طرف
  تب تک ہم پر مسلط رہیں گے۔۔۔

منگل، 15 نومبر، 2022

جیون ساتھی سے گزشتہ زندگی یا کوئی افئیر شیئر کرنا

 

#بات سےبات۔

جیون ساتھی سے اپنی گزشتہ زندگی یا کوئی افئیر شیئر نہ کرنا

آج فیس بُک پر ایک اسٹیٹس لگا دیکھا جس میں کسی نوجوان لکھاری نے اپنے غیر شادی دوستوں کو تلقین کی تھی کہ وہ شادی کے بعد کبھی بھی اپنے جیون ساتھی سے اپنی گزشتہ زندگی خصوصاً اپنا کوئی افئیر شیئر نہ کرنا، ورنہ بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں گی، چند مثالیں بھی دی تھیں۔ کو کہ وہ ایک مزاحیہ پوسٹ تھی، مگر مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرگئی۔


میرا ذاتی مشاہدہ بھی ہے کہ اکثر خواتین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے جیون ساتھی کی سابقہ زندگی کے بارے میں جان سکیں، کثرت ایسی ہو ٹوہ میں لگی رہتی ھے کہ رسّی کا کوئی سرا مل ہی جائے، کامیاب بھی ھو جاتی ہیں۔ 

میری ذاتی رائے ہے کہ خواتین کو کبھی بھی اس حساس مسئلے پر توجہ مرکوز بھی کرنی چاہیئے، اس سے شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے غلط فہمیاں بھی، یہی وہ نکتہ ھے کہ اگر غلط فہمیاں ایک بار دل میں جڑ پکڑ لیں تو فریقین کا جینا محال ہو جایا کرتا ہے، پھر شک کا پودا تناآور درخت تو بن سکتا ہے، کم نہیں نہیں ھوتا۔ گھریلو زندگی خطرات کا شکار ہو جاتی ہے، خدشات اور غلط فہمیاں گھریلو تو تکار کا سبب بنتی ہیں، ہنستی مسکراتی ھوئی زندگی تکرار کا شکار ھو جاتی ھے، گھر اجڑتے ھوئے بھی دیر نہیں لگتی، علیحدگی تک بھی ہو جایا کرتی ہے۔ اِس حساس معاملے پر فقط خواتین کوئی موارد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا، اکثر مرد حضرات بھی اپنی زندگی کے سابقہ افئیر بڑھا چڑھا کر بیان کرنے میں ذرّہ سی بھی عار نہیں محسوس کرتے، یہیں سے جیون ساتھی کے دل میں پہلے تجسّس پھر شک پروان چڑھنا شروع ھو جاتا ھے، جس کی ابتداء کا تو پتہ ھوتا ھے انتہاء کا بلکل بھی نہیں۔  جو باتیں ہم اپنی بیوی کو فخریہ انداز میں بتا رہے ہوتے ہیں، وہی بات اگر شرم و حیاء کا پردہ چاک کرکے بیوی بتانا شروع ہو جائے تو ہم پر بحیثیت انسان کیا گزرے گی، اندازہ لگانا چنداں مشکل بھی نہیں ہے، لگا بھی سکتے ہیں۔


میں نے کافی عرصہ پہلے کہیں پڑھا تھا کہ "محبّت کے تجربے سے زندگی میں ہر آدم زاد ضرور گزرتا ہے، اِس میں وقت اور صنف کی کوئی قید نہیں، جو ایسا نہ ھونے دعویٰ کرتا ہے یا نفی کرتا ھے وہ جھوٹ بول رہا ہوتا ہے، 

واللہ اعلم بالصواب۔


میرے ایک اچھے دوست جو اب کسی انتہائی مجبوری کی وجہ سے سانگھڑ شہر چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے کینیڈا آباد ہو چُکے ہیں، نام لینا مناسب نہیں، موصوف شہر کے اچھے ماہرِ نفسیات بھی تھے۔ میں روزانہ رات کو انکے پاس جایا کرتا تھا، مختلف موضوعات پر بات بھی ہوتی رہتی تھی اور ڈاکٹر صاحب تکلیف زدہ لوگوں کی مسیحائی بھی کرتے رہتے تھے، اسمِ بمسمّہ تھے، جہاں بھی ہیں خوش رہیں، اُنکے لئے دعا گو ہوں۔ ڈاکٹر صاحب سانگھڑ شہر کے واحد ڈاکٹر تھے جو رات گئے تک مریضوں کو میسر رہتے تھے، ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ۔


ایک بار بات سے بات چلی تو فرمانے لگے "یار چاچا کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ عورت اپنی آخری گرہ کبھی بھی نہیں کھولتی؟" (میری سانگھڑ کی سنگت مُجھے چاچا کے نام سے ہی پکارتی تھی، اب بھی گہرے دوست مُجھے چاچا کہہ کر بلاتے ہیں) میرا جواب نفی میں تھا، کہنے لگے میں فزیشن بھی ہوں اور ماہرِ نفسیات بھی، میں نے نوٹ کیا ہے کہ عورت کبھی بھی اپنے دل کی گہری بات کسی کے بھی شیئر نہیں کرتی، خصوصاً محبّت کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط ہوا کرتی ہے، میں نے بطور ڈاکٹر کے کافی خواتین کا علاج بھی کیا ہے، اللّہ نے مریضوں کو شفاء بھی بخشی، مگر اِس نتیجے پر پہنچا ھوں کہ آپ عورت سے اسکی رضا کے بغیر کچھ بھی نہیں پوچھ سکتے، محبت کے معاملے میں عورت کبھی بھی آخری گانٹھ نہیں کھولتی، آخری سانسوں تک بھی، 

واللہ اعلم بالصواب!


جی۔ایم چوھان

15.11.2022

منگل، 9 اگست، 2022

میدانِ حشر سب کے نامہ اعمال کا حساب, A Dream A Story

  #ماضیکےجھروکوں_سے۔

میدانِ حشر سب کے نامہ اعمال کا حساب

میرے آباء واجداد

میرے دوستو!


میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں اپنے آباء واجداد سے سنے ہوئے قصے کہانیاں آپ سب سے شیئر کرنا شروع کروں گا، سو آج میں آپکے ساتھ پہلی کہانی شیئر کر رہا ہوں۔ یہ کہانی یا روایت مُجھے میرے والدِ مرحوم نے سنائی تھی۔


میرے والدِ گرامی کورے ان پڑھ تھے، کہانی میں ممکن ہے آپکو چند ایسی باتیں بھی ملیں کہ آپ کہیں کہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، لیکن کہانی تو کہانی ہی ہوا کرتی ہے، یہی سمجھ کر اِس میں سے مثبت سوچ کے ساتھ خیر کا پہلو تلاش کرنا ہمارا کم ہے، قِصّہ گو کا نہیں۔


ایک دن والد صاحب نے مجھے کہا:- بیٹا!

روزِ قیامت برپا تھا، سب کے نامہ اعمال کا حساب ہو رہا تھا، اِس طرح کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی۔ حساب کتاب کے بعد کسی بندے کے گناہ اور ثواب برابر ہو گئے، بارگاہِ الٰہی سے ازن ہوا کہ اے میرے بندے، تمہارے گناہ و ثواب تو برابر ہیں، جاؤ اور کسی سے صرف ایک نیکی لے آؤ تو جنّت کا دروازہ تمہارے لئے کھلا ہے، جنّت میں داخل کر دیئے جاؤ گے۔


حکم سن کر وہ بندہ میدانِ حشر میں نکلا اور گھر کے افراد، دوست احباب یعنی سب سے کہا کہ مُجھے صرف ایک نیکی درکار ہے، کوئی دے سکتا ہے؟


سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی تھی، بھلا اُسکی کون سنتا، سب کا جواب نفی میں تھا۔ وہ شخص ایک نیکی کے حصول کیلئے ہر ایک شخص کی منّتیں کر رہا تھا، رو رو کر سب کے سامنے ہاتھ باندھ رہا تھا، مگر نیکی ندارد۔


اسی اثناء میں میدانِ حشر میں ایک سائڈ پر چُپ چاپ ایک شخص کھڑا ھوا تھا، اپنے نامہ اعمال پر شرمندہ بھی تھا، جب اس گنہگار شخص کی اُس حاجت مند بندے پر نظر پڑی تو اسکے پاس گیا اور پوچھا "میرے بھائی کیوں اتنے پریشان پھر رھے ھو، کیا مسئلہ درپیش ہے؟ ضرورت مند نے کہا میرے بھائی میرے گناہ اور ثواب کا حساب برابر ہے، مُجھے جنّت کے حصول کیلئے صرف ایک نیکی درکار ہے، اسی وجہ پریشان حال ہوں، سر گرداں ہوں، سب کی منّتیں کر رہا ہوں کہ کوئی مُجھے ایک نیکی دے دے تو میں جنّت میں داخل ہو سکتا ہوں۔ اس گنہگار شخص نے سوالی کا سوال سنا اور بولا " میرے بھائی میں تو گنہگار بندہ ہوں، میرا حساب ہونے کے بعد میرے سارے نامہ اعمال میں صرف ایک ہی نیکی ہے جو میرے دائیں ہاتھ میں پکڑا دی گئی ہے، بھائی میرے میں تو ویسے ہی دوزخی ہُوں، ایک نیکی مُجھے جہنّم کی آگ سے تو نہیں بچا سکتی، آپ مُجھ سے میری واحد نیکی لے لیں اور اپنا معاملہ سیدھا کریں۔ سوالی نے ہاتھ بڑھا کر اُس گنہگار شخص سے نیکی وصول کی اور شاداں و فرحاں جنّت کے دروازے کی طرف روانہ ہو گیا کہ داروغہ جنّت کو اپنا حساب دیکھا کر جنّت میں داخل ہو جاؤں۔


دوسری طرف اللّہ کی ذاتِ بابرکات سب کچھ دیکھ رہی تھی، جیسے ہی وہ حاجت مند ایک نیکی لے کر پہنچا تو مالک کائنات نے فوراً فرشتوں کو حکم دیا کہ فلاں بن فلاں جو کہ میدانِ حشر میں شرمندہ کھڑا ہوا ہے اُسے لے کر آؤ، حکم کی تعمیل ہوئی اور اس گنہگار کو بارگاہِ الٰہی میں لا کر پیش کر دیا۔ اللّہ ربّ العزت نے اُس گنہگار سے دریافت کیا کہ "اے میرے بندے کیا اِس حاجت مند کو تُونے اپنی ایک نیکی دی ہے؟ جواب ملا ہاں میرے اللّہ! میرے خالق و مالک میرے نامہ اعمال میں ایک ہی نیکی تھی باقی سارا گناہوں کا ڈھیر، میں نے اسے پریشان حال دیکھ اسے اپنا واحد اثاثہ ایک نیکی اِس کے حوالے کردی کہ میں تو جنّت میں جانے سے رہا، کم از کم یہ بندہ تو جنّت کا حقدار ہو، یہی سوچ کر میں نے اسے اپنی نیکی دے دی ہے۔


یہ بات سُن کر بارگاہِ الٰہی کی رحمت جوش میں آئی اور فرمایا اے میرے بندے تونے میرے ایک بندے پر رحم کھایا اُسے نیکی دی، سو میں اس ایک نیکی کے عوض تمہارے سارے گناہ معاف کرتا ہوں، اِس بندے سے پہلے تم جنّت میں داخل ہوگے بعد میں وہ، سو اللّہ کی رحمت کی وجہ سے دونوں ہی جنّت میں داخل ہوگئے۔


یہ کہانی سنا کر والدِ گرامی خاموش ہوگئے، اور ایک عجیب سی مسرّت کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھنے لگ گئے۔ میں کہانی کے شروعات میں ہی عرض کر چُکا کہ کہانی تو کہانی ہی ہوا کرتی ہے، اُس سے سبق حاصل کرنا ہی اصل کمال ہوا کرتا ہے۔


طالبِ دعاء:-

غلام محمد چوہان۔

09.08.2022

منگل، 26 جولائی، 2022

ھمیں جمہوریت نہیں امن انصاف اِستحکام چاھیے

 

#صدائے_درویش 

ھمیں جمہوریت نہیں امن انصاف اِستحکام چاھیے

کبھی ہمارے اجداد کہا کرتے تھے کہ معاشرے میں شرافت ہی عزت کا معیار ہوتی ھے، پیسہ نہیں، پیسہ تو کنجروں کے پاس بھی بہت ہوا کرتا ہے، اب تو یارو اُسکے بلکل الٹ ہو چکا، اب اگر پیسہ کنجر یا کنجر اوصاف کے حامل بھی پاس ہے تو لوگ اُسے جُھک جُھک کر سلام کرتے ہیں، آداب بجا لاتے ہیں، شرافت اب معیار نہیں رہی, شرافت کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ کل یگ ھے دوستو کل یگ۔

******

ہمیں جمہوریت کی چنداں ضرورت نہیں،آپ ملکی تاریخ پڑھ کر دیکھ لیں صرف ڈکٹیٹر شپ ہی اس ملک میں کامیاب رہی ہے اور عین ھمارے مجموعی مزاج کے مطابق بھی۔ مرحوم صدر ایّوب خان نے پاکستان کو معاشی میدان میں مضبوط بنایا تو دوسری طرف مرحوم ضیاء الحق نے دفاعی میدان میں وطنِ عزیز کو ناقابلِ تسخیر، اِس حقیقت سے تو انکار ممکن ہی نہیں۔ اِس وقت ملک میں موجود سارے ماندہ میگا پروجیکٹس مرحوم صدر ایّوب خان کے دورِ حکومت میں ہی بنے یا اُنکی بنیاد رکھی گئی تھی، تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔


آئیں اب جمہوری نظامِ حکومت کے کارناموں پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں، تمام صورتِ حال اظہر من الشمس ہمارے سامنے ہے، دونوں آمروں کے دورِ حکومت میں ڈالرز پاکستان آتے تھے، money loundring سے کبھی بھی باہر نہیں جاتے تھے، مرحوم ایّوب خان کے دورِ اقتدار میں ملک صنعتی میدان میں آگے تھا، PIA، ریلوے، WAPDA دنیا کے دیگر ممالک کے لئے ایک طرح سے مثالی departments تھے، منافع بخش تھے، خسارے میں نہیں۔ بھٹّو مرحوم نے ساری صنعتوں کو قومی تحویل میں لے کر اُنکا ستیہ ناس کردیا، روس کے تعین سے اسٹیل مل تو لگی، مگر اُسکے بعد کے جمہوری ادوار میں اُسکا دیوالیہ نکال کر رکھ دیا گیا، اب بند پڑی ہوئی ہے۔ PIA جو کہ "باکمال لوگ اور لاجواب پرواز" کے نام سے دُنیا کی صفِ اوّل کی قومی ایئر لائن اور ہماری شناخت تھی آج اُسکی صورتِ حال بد ہی نہیں بدترین ہے۔ پھر اسکے بعد ایک فوجی آمر اور اُسکے بعد آنے والے جمہوری ادوار میں جو کچھ بھی ہوا وہ ہم سب کے سامنے ہے، ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اب تک غیر قانونی طور پر اربوں ڈالرز جمہوری ادوار میں ہی ملک سے باہر جا چکے ہیں، مرحوم صدر ایّوب خان یا مرحوم ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں سرمایہ ملک سے باہر جانے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ملک میں سب سے پہلے زرعی اصلاحات کا سہرا بھی ایک فوجی آمر مرحوم ایّوب خان کے سر ہی جاتا ہے، ہم لوگ اچھائیوں کو بھول کر برائیوں کو لئے بیٹھنے کے عادی ہیں، یہ روش بدلنی جوگیم


گزشتہ چند دنوں سے ملک میں کو کچھ ہو رہا تھا وہ الحمدللہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے سے آج اختتام پذیر ہوا اور ایک طرح کی ہیجانی کیفیت بھی۔ جمہوریت اچھا نظامِ حکومت ہے، مگر اُن ممالک کے لئے جو معاشی اور اقتصادی طور پر بہت مضبوط ہوں اور جنکا عدالتی نظام top to bottum اچھا ہی نہیں بلکہ بہترین کہلاتا ہو، اگر اسی طرح سے عدالتی نظام مضبوط اور بااختیار رھنے دیا جائے، بلا امتیاز اور یکساں Accountability سے اگر معاشی اور اقتصادی طور پر ملک مستحکم ھو جائے تو موجودہ جمہوری سسٹم بھی تناور درخت بن کر میٹھا پھل دے سکتا ھے، مگر! اِسکے لئے پوری ایمانداری سے پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری ترجیح ہوگی تو ہی کامیابی حاصل ہوگی، ورنہ زہریلا پھل تو ھم تین دہائیوں سے کھاتے ھی چلے آ رھے ھیں۔

****

موجودہ سیاسی کشمش سے قومی اور صوبائی حکومتوں کے ایوانوں میں پیدا شدہ صورتِ حال دیکھ کر میرے ذہن میں خیال آ رہا ہے کہ تمام اہم اداروں کے دفاتر فوری طور پر شاندار بلڈنگز سے شفٹ کرکے نزدیکی قبرستانوں میں لگا دیے جائیں، شائید قبریں دیکھ کر ہی حضرتِ انسان کو اپنی حیثیت اور دُنیا کی بے ثباتی کا اندازہ ہو پائے اور وہ درست فیصلے کرنا شروع ہو ہی جائیں۔


خدا کا خوف اور آخرت میں اپنے اعمال کی جواب دہی کا خوف تو ذہن سے بلکل نکل چکا، ورنہ جو دھینگا مشتی ہو چکی ہے کبھی بھی نہ ہوتی۔ عین ممکن ھے قبریں دیکھ کر  موت کا خوف طاری ہو انانیت ختم ہو اور ہمارے کرتا دھرتا کچھ ایسے فیصلے بھی کر ہی جائیں جن سے ملک و قوم کی بقاء اور عام پاکستانی کے لئے قدرے زندگی آسان ہو جائے۔ میرے نزدیک تو اب حالات کو سدھارنے کا یہی واحد حل بچا ہے۔

باقی تو اندھیرا ہی اندھیرا ہے، اُمید کی کوئی ہلکی سی کرن بھی نہیں دکھائی دے رہی، مایوسی اور انتہائی یاسیت چھائی ہوئی ہے۔


جی۔ایم چوہان

25.07.2022

اتوار، 5 جون، 2022

میرے ماضی کی ایک بڑی دلچسپ کہانی, A Great Past Story

 

 ماضی کے جھروکوں سے

میرے ماضی کی ایک بڑی دلچسپ کہانی


میرے والد صاحب نے مُجھے 07th کلاس میں جانے کے بعد اسکول سے ہٹا لیا تھا، کراچی میں میرے پھپی زاد بھائی تھے اُنہوں نے مشورہ دیا تھا کہ پڑھنے لکھے جتنا پڑھ چُکا اب آپ اسے میرے پاس کراچی بھیج دیں میں اسے کوئی نہ کوئی ہنر سیکھا دوں گا، سونے کے ہاتھ ہوجائیں گے تو ساری عمر دعائیں دیگا، مزید پڑھیے کا کچھ بھی فائدہ نہیں، اِس طرح سے میرا تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ تعطل کا شکار ہو گیا اور مُجھے سانگھڑ چھوڑ کر ہنر بننے کیلئے سانگھڑ سے کراچی آنا پڑا تھا۔ بھائی جان کی رہائش تو کھوپرا مل لارنس روڈ کراچی نمبر 03 میں تھی مگر کاروبار میٹھادر کراچی میں تھا۔ 


اُسی دور کی تلخ و شیریں یادیں میں آج آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ صبح اٹھ کر ایک پیالی چائے اور ساتھ میں ایک رس کھا کر بھائی جان کے ساتھ ویسپا پر بیٹھتا اور میٹھادر کے لئے روانہ ہو جاتا تھا، میٹھادر جانے کیلئے بھائی جان جو راستہ اختیار کرتے تھے وہ اُس زمانے کی مشہور ٹمبر مارکیٹ پھر لی مارکیٹ سے ہوتا ہوا ککری گراؤنڈ کے پاس سے ہوتا ہوا دو شیر والا مندر کے پاس اُنکی مارکیٹ تک جاتا تھا۔ کراچی جا کر کام وغیرہ کیا سیکھنا تھا، سارا دن گھر اور چھوٹے بہن بھائیوں اور ماں باپ سے دوری کی وجہ سے رو کر گزرتا اور اپنے کام سکھانے والے استاد (جنکے حوالے مجھے کیا گیا تھا) سے اکثر و بیشتر مار کھاتا رہتا تھا۔ میری عجیب و غریب حالت اور استاد سے مار کھاتا ھوا دیکھ کر کبھی کبھار بھائی جان نے مجھے کہنا کہ جاؤ علاقہ گھوم پھر آؤ، دل بہل جائے گا، مگر گم مت جانا۔ 


اِس طرح سے مُجھے مُجھے کچھ آزادی ملتی اور میں گھومنے پھرنے کے ساتھ ساتھ ککری گراؤنڈ اور لی مارکیٹ کا علاقہ گھومنے کا موقع مل جاتا تھا، ککری گراؤنڈ کے سامنے بانٹوہ میمن خدمت کمیٹی کا دفتر ہوا کرتا تھا آبادی کی کثرت میمن کمیونیٹی پر مشتمل تھی۔ 


لی مارکیٹ سے بھائی جان کی مارکیٹ کی طرف آتے ھوئے ایک دو گلیاں چھوڑ کر ایک گلی میٹھادر بازار کی طرف بھی جاتی تھی، اُسکی گلی کی خاص بات یہ تھی کہ کوئی دو فرلانگ فاصلے کے بعد  سیدھے ہاتھ پر آزادی سے پہلے کا شدہ ویران شدہ "دو شعر والا مندر" بھی ہوا کرتا تھا، مندر کے باہر سنگ مرمر سے بنائے ہوئے دو شیر ہوا کرتے تھے، مندر سے باہر ایستادہ دونوں شیر مُجھے بہت اچھے لگے تھے، مُجھے یوں لگتا تھا کہ دونوں شیر ماضی کی طرح سے اب بھی پرانے مندر کی رکھوالی کر رہے ہوں، میں کبھی کبھار تو گھنٹوں اُن شیروں کے پاس کھڑا اُنہیں حیرت سے دیکھتا رہتا تھا۔ 


یہ 1973ء کی بات ھے، میری وہاں سے 03 ماہ بعد میری وہاں سے کیسے گلو خلاصی ھوئی، یہ بھی بڑی دلچسپ کہانی ھے، ہنر مند تو نہ بن سکا، جیسا تھا ویسا ہی سانگھڑ لوٹ آیا تو مرحومہ والدہ صاحبہ نے مُجھے اپنے گلے سے لگایا اور جی بھر کر روئیں جیسے ہم ایک دوسرے سے صدیوں بعد ملے ہوں، ماں جو تھیں۔ 


سانگھڑ واپس آنے کے بعد تعطل شدہ تعلیمی سلسلہ پھر سے شروع نہ ہو سکا، جس کا آج بھی مُجھے بہت زیادہ دُکھ ہے، بہرحال جو ہونا تھا ھوگیا، ضرور اِس میں بھی کوئی بہتری ہی ہوگی۔ انسان اپنا ماضی نہیں بھولتا، پھر کوئ 30 سال بعد میرا اس طرف جانا ہوا تو اجاڑ مندر کے سامنے ایستادہ دونوں شیر کسی مرد مومن نے توڑ کر اسلام کی بہت بڑی خدمت کردی تھی، مجھے سب کچھ دیکھ کر انتہائی دُکھ ہوا تھا۔ 1973 میں امن و امان کا گہوارہ لیاری ایک طرح سے سب کیلئے خوف و ہراس کی علامت بن چکا تھا، مل جل کر رہتے ہوئے بھائی اور محلّے دار ایک دوسرے سے خوف زدہ تھے، کثرت لیاری چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا چُکی تھی۔


ککری گراؤنڈ کے چاروں طرف لیاری امن کمیٹی کے بڑے بڑے بورڈ ایستادہ تھے اور فضا میں ایک طرح کا خوف سا طاری تھا، سب کچھ بدلا بدلا سا تھا، وہاں کے رہنے والوں کی نظریں تک بھی۔


خیر اندیش:-
جی۔ایم چوہان
05.06.2022

بدھ، 25 مئی، 2022

Pehly Zamany k Chor

 *پہلے زمانے کے چور بھی وقت کے فقیہ ہوتے تھے*

۔۔۔۔۔۔

*امام جوزی رحمہ اللہ نے قاضی انطاکیہ کا ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہےکہ وہ ایک دن اپنے کھیتوں کو دیکھنے شہر سے نکلے تو شہر کے باہر ایک چور نے دھر لیا۔چور نے کہا کہ جو کچھ ہے میرے حوالے کردیجئے ورنہ میری طرف سے سخت مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا۔*

*قاضی نے کہا : خدا تیرا بھلا کرے ۔ میں عالم آدمی ہوں اور دین میں اس کی عزت کا حکم دیا گیا ہے ساتھ میں قاضی شہر بھی ہوں لہذا مجھ پر رحم کر۔*

*چور نے کہا :الحمدللہ !ایسا شخص جو بیچارہ فقیر نادار ہو اور اپنا نقصان پورا نہ کرسکے کے بجائے آج ایک ایسے شخص کو اللہ نے میرے قابو میں دیا ہے کہ اگر اس کو میں لوٹ بھی لوں تو شہر واپس جاکر اپنا نقصان پورا کرسکتا ہے ۔*

*قاضی نے کہا :خدا کے بندے تو نےرسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث نہیں سنی کہ دین وہ ہے جسے اللہ نے مقرر کیا اور مخلوق سب اللہ کے بندے ہیں اور سنت وہی ہے جو میرا طریقہ ہے۔ پس جس نے میرا طریقہ چھوڑ کر کوئی بدعت ایجاد کی تو اس پر اللہ کی لعنت ۔*

*تو اے چور !ڈاکے ڈالنا اور لوگوں کو راستے میں لوٹنا یہ بدعت ہے نبی کریم ﷺ کا طریقہ اور دین نہیں ۔میں آپ کا خیر خواہ ہوں آپ کو چوری سے منع کرتا ہوں کہ مبادا نبی کریم ﷺ کی اس لعنت والی وعید میں آپ شامل نہ ہوجائیں ۔*

*چور نے کہا :میری جان! یہ حدیث مرسل ہے (جو شوافع کے ہاں حجت نہیں ) اور بالفرض اس حدیث کو درست بھی مان لیا جایئے تو آپ کا اس ’’چور‘‘ کے بارے میں کیا خیال ہے جو بالکل ’’قلاش‘‘ ہو فاقوں نے اس کے گھر میں ڈیرے ڈال دئے ہو ں اور ایک وقت کے کھانے کا بھی کوئی آسرا نہ ہو؟۔ایسی صورت میں ایسے شخص کیلئے آپ کا مال بالکل پاک و حلال ہے کیونکہ امام مالک رحمہ اللہ نے عبد اللہ ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرمایا کہ دنیا اگر محض خون ہوتی تو مومن کا اس میں سے کھانا حلال ہوتا۔نیز علما کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر آدمی کو اپنے یا اپنے خاندان کے مارے جانے کا خوف ہو تو اس کیلئے دوسرے کا مال حلال ہے۔اور اللہ کی قسم میں اسی حالت سے گزررہا ہوں لہذا شرافت سے سارا مال میرے حوالے کردو۔*

*قاضی نے کہا :اچھا اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو مجھے اپنے کھیتوں میں جانے دو وہاں میرے غلام و خادم نے آج جو اناج بیچا ہوگا اس کا مال میں ان سے لیکر واپس آکر آپ کے حوالے کردیتا ہوں ۔*

*چور نے کہا :ہرگز نہیں آپ کی حالت اس وقت پرندے کی مانند ہے جو ایک دفعہ پنجرے سے نکل گیا پھر اسے پکڑنا مشکل ہے ۔مجھے یقین نہیں کہ ایک دفعہ میرے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد آپ دوبارہ واپس لوٹیں گے۔*

*قاضی نے کہا: میں آپ کو قسم دینے کو تیار ہوں کہ ان شاللہ میں نے جو وعدہ آپ سے کیا ہے اسے پورا کروں گا۔*

*چور نے کہا :مجھے حدیث بیان کی مالک رحمہ اللہ نے انہوں نے نافع رحمہ اللہ سے سنی انہوں نےعبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ :یمین المکرہ* *لاتلزم(مجبور کی قسم کا اعتبار نہیں)*

*اسی طرح قرآن میں بھی ہے الامن اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمان مجبور آدمی زبان سے کلمہ کفر بول سکتا ہے تو مجبوری کی حالت میں جب کلمہ کفر بولنے کی اجازت ہے تو جھوٹی قسم بھی کھائی جاسکتی ہے ۔لہذا فضول بحث سے پرہیز کریں اور جوکچھ ہے آپ کے پاس میرے حوالے کردیں۔*

*قاضی اس پر لاجواب ہوگیا اور اپنی سواری ،مال کپڑے سوائے شلوار کے اس کے حوالے کردیا۔*

*چور نے کہا:شلوار بھی اتار کر دیں۔*

*قاضی نے کہا :اللہ کے بندے نماز کا وقت ہوچکا ہے ۔اور بغیر کپڑوں کے نماز جائز نہیں۔ قرآن کریم میں بھی ہے خذو زینتکم عند کل مسجد (اعراف ،۳۱)اور اس آیت کا معنی تفاسیر میں یہی بیان کیاگیا ہے کہ نماز کے وقت کپڑے پہنے رکھو۔*

*نیز شلوار حوالے کرنے پر میری بے پردگی ہوگی جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ وہ شخص ملعون ہے جو اپنے بھائی کے ستر کو دیکھے۔*

*چور نے کہا: اس کا آپ غم نہ کریں کیونکہ ننگے حالت میں آپ کی نماز بالکل درست ہے کہ مالک رحمہ اللہ نے ہم سے حدیث بیان کی وہ روایت کرتے ہیں نافع رحمہ اللہ سے وہ عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ سے کہ*

*العراۃ یصلون قیاما و یقوم امامھم وسطہم*

*ننگے کھڑے ہوکر نماز پڑھیںاور ان کا امام بیچ میں کھڑاہو۔*

*نیز امام مالک رحمہ اللہ بھی ننگے کی نماز کے جواز کے قائل ہیں مگر ان کا فتوی یہ ہے کہ کھڑے ہوکر نہیں پڑھیں گے بلکہ متفرق متفرق پڑھیں گے اور اتنی دور دور پڑھیں گے کہ ایک دوسرے کے ستر پر نظر نہ پڑے۔جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا فتوی یہ ہے کہ کھڑے ہوکر نہیں بلکہ بیٹھ کر پڑھیں ۔*

*اور ستر پر نظر پڑنے والی جو روایت آپ نے سنائی اول تو وہ سندا درست نہیں اگر مان بھی لیں تو وہ حدیث اس پر محمول ہے کہ کسی کے ستر کو شہوت کی نگاہ سے دیکھاجائے۔ اور فی الوقت ایسی حالت نہیں اور آپ تو کسی صورت میں بھی گناہ گار نہیں کیونکہ آپ حالت* *اضطراری میں ہے خود بے پردہ نہیں ہورہے ہیں بلکہ میں آپ کو مجبور کررہا ہوں ۔لہذا لایعنی بحث مت کریں اور جو کہہ رہاہوں اس پر عمل کریں۔*

*قاضی نے یہ سن کر کہا کہ خدا کی قسم قاضی اور مفتی تو تجھے ہونا چاہئے ہم تو جھگ ماررہے ہیں ۔ جو کچھ تجھے چاہئے لے پکڑ لاحول* *ولاقوۃالاباللہ ۔اور یوں چور سب کچھ لیکر فرار ہوگیا۔*

*(کتاب الاذکیا ،لابن الجوزی ،ص۳۸۹)*

بدھ، 16 مارچ، 2022

Pakistan Army

 


فوج اور کرپشن!! حقیقت یا افسانہ ....

فوجی ادارے , آمدن اور اخراجات !!

فوج کا احتساب!!


(سب سے پہلے یہ ذہن نشین کیجئے کہ فوج میں کرپشن کا تصور ہی نہیں ہے فوج کے ہر ادارے میں سخت آڈٹ ہوتا ہے اور سخت سزائیں مقرر ہیں.. اب تفصیل ملاحظہ کریں)


پاکستان آرمی کے کاروباری ادارے!


پاکستان آرمی میں چار بڑے ادارے کام کرتے ہیں جن میں آرمی ویلفیئر ٹرسٹ , فوجی فاؤنڈشن , شاہین فاؤنڈیشن , بحریہ فاؤنڈیشن شامل ہیں اور انکے نیچے آرمی کے زیر اختیار مزید چھوٹے ادارے اور کمپنیاں کام کرتی ہیں!


🔹آرمی ویلفیئر ٹرسٹ  کے ادارے !!


نظام پور سیمنٹ 

فارما سوٹیکل 

عسکری سیمنٹ لیمیٹڈ 

عسکری کمرشل بینک 

عسکری جنرل انشورنس کمپنی لمٹیڈ

عسکری لبریکینٹس

آرمی شوگر ملز بدین 

آرمی ویلفیئر شو پروجیکٹ

وولن ملز لاہور

آرمی ويلفيئير رائس لاہور

آرمی اسٹينڈ فارم پروبائباد

آرمی اسٹينڈ فارم بائل گنج

فارم رکبائکنتھ

فارم کھوسکی بدين

رئيل اسٹيٹ لاہور  راولپنڈی کراچی اور  پشاور

آرمی ويلفير ٹرسٹ پلازه راولپنڈی

الغازی ٹريولز

سروسز ٹريولز راولپنڈی

ليزن آفس کراچی اور لاہور

آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کمرشل مارکیٹ پراجیکٹ اور عسکری انفارمیشن سروس کے ادارے شامل ہیں... 


🔹 فوجی فاؤنڈیشن کے ادارے!!


 فوجی شوگر ملز ٹنڈو محمد خان

فوجی شوگر ملز بدين 

فوجی شوگر ملز سانگلاہل

فوجی شوگر ملز کين اينڈيس فارم

فوجی سيريلز

فوجی کارن فليکس

فوجی پولی پروپائلين پروڈکٹس

فائونڈيشن گیس کمپنی

فوجی فرٹیلائيزر کمپنی صادق آباد ڈهرکی

فوجی فرٹیلائيزر انسٹیٹیوٹ

نيشنل آئڈنٹٹی کارڈ پروجيکٹ

فائونڈيشن ميڈيکل کالج

فوجی کبير والا پاور کمپنی اور فوجی سيکيورٹی کمپنی لميٹڈ شامل ہیں...


🔹 شاہین فاؤنڈیشن کے ادارے :

 

شاہین انٹرنیشنل

شاہین کارگو

شاہین ائیرپورٹ سروسز 

شاہین ائیرویز 

شاہین کمپلیکس 

شاہین پی ٹی وی اور شاہین انفارمیشن اور ٹیکنالوجی سسٹم شامل ہیں .....


🔹بحريہ فاؤنڈيشن کے ادارے :


بحریہ يونيورسٹی

فلاحی ٹريڈنگ ايجنسی

بحریہ ٹريول ايجنسی

بحریہ کنسٹرکشن

بحریہ پينٹس

بحریہ ڈيپ سی فشنگ

بحریہ کامپليکس

بحریہ ہاوسنگ 

بحریہ ڈريجنگ 

بحریہ بيکری 

بحریہ شپنگ

بحریہ کوسٹل سروس 

بحریہ کيٹرنگ اينڈ ڈيکوريشن سروس 

بحریہ فارمنگ 

بحریہ ہولڈنگ 

بحریہ شپ بريکنگ 

بحریہ ہاربر سروسز 

بحریہ ڈائيونگ اينڈ سالويج انٹرنيشنل اور بحریہ فائونڈيشن کالج بہاولپور شامل ہیں!!


نوٹ : ان تفصیلات کا سرکاری اعداد و شمار سے کوئی تعلق نہیں ہے!! یہ تمام ادارے لیگل ہیں اور جائز کاروبار کرتے ہیں با قاعدہ ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرواتے ہیں گزشتہ برس 20-2019 میں پاکستان آرمی نے 190 ارب روپے ٹیکس دیا 25.8 ارب انکم, کسٹم اور سیلز ٹیکس دیا جب کہ ان کاروباری اداروں نے 164.239 ارب ٹیکس دیا اور ان میں حاضر سروس فوجی نہیں ہوتے!!


🔵 پاکستان آرمی کو کاروبار کی کیوں ضرورت ہے ؟؟


پاکستان آرمی بلحاظ تعداد دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے اور دونیا کی بہترین افواج میں شامل ہے پاکستانی خفیہ ایجنسیاں دنیا کی پہلی  بہترین ایجنسیاں ہیں تو کیا آپکو لگتا ہے کہ یہ سب سرکاری 17 فیصد بجٹ سے ہو سکتا ہے ؟؟...  پاکستان آرمی کو جو 17 فیصد بجٹ دیا جاتا ہے ان میں سے بھی 47 فیصد آرمی جب کہ باقی ایئر فورس اور نیوی میں تقسیم ہوتا ہے !! پاکستان آرمی حکومتی خزانے پر بوجھ بننے کی بجاۓ نجی کاروبار کرتی ہے لاکھوں ریٹائر فوجیوں اور سویلین افراد کو روزگار دیتی ہے میڈیکل کی بہترین سہولیات دیتی ہے تو کیا برائی ہے اس میں ؟؟ اگر یہ کام حکومت نہیں کر سکتی تو لازمی بات ہے غیر ملکی کمپنیوں کو دے دیا جاتا تو اس میں ہمارا کوئی فائدہ نہیں تھا !!


🔵  پاکستان آرمی کے اخراجات :


پاکستان آرمی کو جو 17 فیصد بجٹ میں سے حصہ ملتا ہے وہ آرمی کی تشکیل اور توازن کا ہوتا ہے جنگ لڑنے کا نہیں ہوتا!  دنیا کی چھٹی بڑی فوج اور پہلے نمبر کی خفیہ ایجنسیاں رکھنے والی فوج ظاہر ہے گھاس تو نہیں کھاۓ گی انکے بھی اخراجات ہیں اور وہ سب اس 17 فیصد میں پورے نہیں ہوتے!!پاکستان آرمی کے کاروباری اداروں سے حاصل شدہ آمدنی سے ہی وہ تمام کام ہوتے ہیں جو بجٹ سے نہیں کیے جا سکتے! جب پاکستان انڈیا کی تقسیم ہوئی تھی تو پاکستان فوجی فاؤنڈیشن کے حصے میں ایک کروڑ روپے آۓ تھے جنکا کفایت شعاری سے استمال کیا گیا تھا اور آج انھیں سے متعدد ادارے کھڑے کیے گئے ہیں !!


آرمی کے کسی یونٹ کے بیرکوں سے لے کر کسی پہاڑی پر بنی چیک پوسٹ تک ایک ایک روپیہ لگا ہوا نظر آتا ہے لاکھوں فوجیوں ریٹائر و حاضر سروس کو میڈیکل کی بہترین سہولیات تعلیم کی بہترین سہولیات جنگ لڑنے کے تمام اخراجات کسی بھی قومی مشن کے اخراجات قدرتی آفات کی صورت میں مدد کے اخراجات اسلحے کی خریداری کے اخراجات خفیہ ایجنسیوں کے اخراجات کسی بھی مصیبت زدہ ملک و قوم کی مدد کے اخراجات غیر ملکی دوروں کے اخراجات کھیلوں  کے اخراجات پریڈ کے اخراجات جدید ترین ٹیکنالوجی میزائلز ایٹمی ہھتیار اور سینکڑوں قسم کے اخراجات شامل ہیں اسی میں سے جنگیں لڑتی ہیں اسی میں سے آپریشن ہوتے ہیں اسی میں سے وطن آباد ہوتے ہیں سرحدیں محفوظ ہوتی ہیں شہدا کے لواحقین کا خیال بھی اسی میں سے رکھا جاتا ہے اور ظاہر ہے یہ 17 فیصد سے تو نہیں ہو سکتا!!!


🔹 پاکستان آرمی کا دیگر افواج سے موازنہ !!


پاکستان آرمی اپنے ایک سپاہی پر سالانہ 12500 ڈالر خرچ کرتی ہے جب کہ بھارت 42000 ڈالر امریکا 392,000 ڈالر اور سعودیہ 371,000 ڈالر خرچ کرتا ہے.. بھارت کا بجٹ پاکستان آرمی سے چھے گنا زیادہ ہے انکا صرف اسلحے کا پیسہ پاکستان آرمی سے دو گنا ہے مگر .. اتنے کم خرچ میں بڑے خرچوں والی فوج امریکا کو دھول چٹانے  والے یہی سپاہی ہیں ازلی دشمن بھارت کو تگنی کا ناچ نچانے والے یہی ہمارے فوجی ہیں سعودیہ کی رکھوالی کرنے والے یہی فوجی  ہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں دنیا کی مظبوط ترین نیٹ ورک رکھنے والی اور تسلیم شدہ ایجنسیاں ہیں اور یہ سب 17 فیصد میں تو نہیں ہوتا !!


🔹 پاکستان آرمی کے پلاٹس  اور اثاثہ جات !!


ایک کمیشن آفیسر جب فوج جوائن کرتا ہے اسے ایک آپشنل فارم دیا جاتا ہے جو کہ پاکستان آرمی کی ہاؤسنگ کی رکنیت کا ہوتا ہے رکنیت لینے والے کو ایک لاکھ کی پیمنٹ کرنی ہوتی ہے اور پھر باقی ماندہ اسکی تنخواہ سے کٹوتی ہوتی رہتی ہے.. جب آفیسر کی سروس 15 سال کے قریب ہو جاتی ہے وہ میجر یا لیفٹیننٹ کرنل بن چکا ہوتا ہے تو وہ تنخواہ میں کٹوتی کے حساب سے تقریباً ایک پلاٹ کا مالک ہو چکا ہوتا ہے اسی طرح پچیس سال سروس کرنے پر وہ برگیڈئیر یا میجر جنرل بنتا ہے تو کچھ زیادہ کا حقدار ہو چکا ہوتا ہے اور یہ مفت میں نہیں انکی تنخواہ سے کٹ چکا ہوتا ہے!!

پاکستان آرمی میں کرنل رینک سے ہر آرمی آفیسر کو سال کے بعد اپنے اثاثے ظاہر کرنے پڑتے ہیں فوجی کمیٹی  ان اثاثوں کا موازنہ گزشتہ سال کے اثاثوں سے کرتی ہے اور اگر اثاثوں میں فرق آ جاۓ تو منی ٹریل مانگا جاتا ہے اور قانون کے مطابق کاروائی ہوتی ہے..... !!!


🔹 فوج میں کرپشن حقیقت یا افسانہ !!


پاکستان آرمی میں کرپشن کا تصور نہیں ہے اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پیسوں کا لین دین براہ راست نہیں ہوتا بلکہ پاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ نامی ایک الگ ادارہ کام کرتا ہے یہی ادارہ تمام فورسز کو مالی ادائگیاں کرتا ہے اور پھر آڈٹ بھی کرتا ہے لہٰذا براہ راست پیسوں کے لین دین نا ہونے کی وجہ سے مالی گڑبڑ کا کرپشن کا تصور ختم ہو جاتا ہے اور جیسا کہ میں نے گزشتہ پیراگراف میں بتایا کہ ہر سال اثاثوں کی تفصیلات طلب ہوتی ہیں لہذا ہر چیز کا چیک اینڈ بیلنس ہونا کرپشن کے خاتمے کی بنیادہ وجہ ہے!!


فوج میں اگر آپ غور کریں تو آپکو ایک ایک انچ پر روپے لگے نظر آئیں گے ..  فوجیوں کا لباس بہترین  اسلحہ و ایمونیشن بہترین  گاڑیاں ہر وقت تیار  ایک منظم بہترین تربیت یافتہ فوج ہر دم ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار  ایک بھرپور نظم و ضبط ... انکی کالونیاں صاف ستھری ہسپتال صاف ستھرے اسکول بہترین ایسے کیسے ممکن ہے پھر ؟؟... ہر کام میں ایک ترتیب طے ہے ایک منظم طریقہ کار طے ہے ہر ایک روپیہ اسکی درست جگہ لگنے سے ہی ایسا ممکن ہے !!

آخری میں ایک بڑی مثال دیتا ہوں !!


جب کسی بھی ملک کی آرمی کرپشن کے بازار گرم کرتی ہے پھر وہ جنگیں نہیں لڑتی وطن کا دفاع نہیں کرتی بلکہ مشکل وقت میں دھڑام سے گرتی ہے کیوں کہ اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہے !! میں نے امریکی و افغانی افواج کی کچھ رپورٹس مطالعہ کیں جنکے مطابق افغان آرمی کاغذات میں تعداد میں زیادہ تھی مگر محاذ پر کم یعنی افغانی جرنیل اور سینئر قیادت امریکا سے زیادہ سپاہیوں کے اخراجات لیتے رہے ہیں جب کہ حقیقت میں اتنے سپاہی تھے ہی نہیں انکی خوراک ٹریننگ و دیگر اخراجات کے ڈالر جیب میں ڈالتے رہے ہیں اور جو موجود  تھے انکی نا ہی ٹریننگ کی نا ہی منظم فورس تیار کی نتیجہ کیا ہوا ؟؟.. امریکی افواج کے جاتے ہیں افغان آرمی تین دن میں کابل چھوڑ کے بھاگ نکلی !!!!


ہر ادارہ اپنے ملازمین کو سہولیات دیتا ہے جیسے بجلی کا محکمہ چند سو فری یونٹس گیس کا محکمہ  کچھ گیس فری اسی طرح آرمی بھی اپنے ملازمین کو چند سہولیات دیتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں !!.........

اتوار، 16 جنوری، 2022

Hazrat Atta Ullah Shah Bukhari Ka Aik Farman

 

اللہ الصمد :


عطاءاللہ شاہ بخاری فرماتے ہیں

کہ میں جیل میں تھا تو مجھے خیال آیا کہ قرآن مجید کا وہ ترجمہ پڑھنے کی سعادت حاصل کروں

جو حضرت شاہ عبدالقادر ؒ نے لکھا ہے۔ 

میں نے قرآن مجید جیل میں منگوایا اور پڑھنا شروع کیا جب میں 

اللہ الصمد پر پہنچا تو

اللہ الصمد کا جو معنی شاہ عبد القادر ؒ نے کیا تھا وہ میں نے اس سے پہلے نہ سنا نہ پڑھا تھا۔

حضرت نے اللہ الصمد کا معنی 

”نراسترک“لکھا ہوا تھا

جو مجھے سمجھ نہ آیا میں بڑا بےچین ہو گیا پھر مجھے خیال آیا 

جیل میں ہندو پنڈت بھی قید ہے اس سے نراسترک کا معنی پوچھتا ہوں 

حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری لکھتے ہیں

میں اس پنڈت کے پاس گیا اس ساری بات کی اور کہا کہ نراسترک کے کیا معنی ہیں میرا پوچھنا تھا کہ پنڈت وجد میں آ کر جھومنے لگا  میں کافی پریشان ہو گیا کہ میں نے معنی پوچھا اسے دیکھو کیا ہو گیا کافی دیر کے بعد وہ اپنی کیفیت میں واپس آیا تو میں نے اسے کہا اللہ کے بندے میں نے تو نراسترک کا معنی پوچھا اور تو وجد میں آگیا ایسا کیا ہے؟ 

پنڈت نے جواب دیا سن سکے گا 

میں نے جواب دیا ہاں کیوں نہیں

پنڈت بولا تو پھر سن 

”نراسترک“سنسکرت زبان کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں۔

وہ جس کا کام کوئی روک نہیں سکتا اور اگر وہ ” نہ چاہے تو کسی کا کام ہو نہیں سکتا“اللہ الصمد“

شاہ صاحب فرماتے ہیں 

بس اس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہ تھا  پتہ نہیں کب تک میری یہ کیفیت رہی۔


قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴).


( سوانح و افکار 
عطا اللّٰہ شاہ بخاری )


اتوار، 26 دسمبر، 2021

قائد حضرت قائد اعظم محمّد علی جناح رحمت اللّه علیہ کا یوم ولادت

 قائد حضرت قائد اعظم محمّد علی جناح رحمت اللّه علیہ 

قانون دان، با اصول اؤر با ہمت و دور اندیش سیاست دان اور صادق و امین


آج ہمارے قائد حضرت قائد اعظم محمّد علی جناح رحمت اللّه علیہ کا  یوم ولادت ہے، مجھے یہ کہنے میں ذرّہ بھی شک نہیں کہ آپ ایک بہت بڑے قانون دان، با اصول اؤر با ہمت و دور اندیش سیاست دان اور صادق و امین جیسے اوصاف کے حامل بھی تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد کے واقعات اِس کی بہت بڑی گواہی ہے۔


میرے قائد نے ایک سوال کے جواب میں اپنے قلم کی سیاہی فرش پر چھڑک کر کہا تھا کہ مجھے سیاہی کے ایک چھینٹے جتنا بھی پاکستان بھی ملا تو میں حاصل کروں گا. 

کیوں؟ میری سوچ کے سفر نے مجھ کو یہ نقطہ اس طرح سمجھایا کہ آپ کو بحالت ہوش میرے اور ھم سب کے آقا و مولا نے ہندوستان جانے کا حکم دے کر فرمایا تھا کہ انڈیا واپس جاؤ وہاں کے مسلمانوں کو تمہاری ضرورت ہے اور اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لئے میں آپکے ساتھ ھوں، قلم چھڑک کر ایک ذرّہ برابر بھی پاکستان حاصل کرنا انکی کوئی ضد نہیں بلکہ آقا و مولا کے دیئے ھوۓ حکم کی ھر حالت میں تعمیل کو یقینی بنانا تھا. 


تقسیم ھند کے بعد آپ پاکستان تشریف لائے، مملکت خدا داد کے پہلے گورنر جنرل بنے تو کابینہ کے اجلاس میں ماتحت افراد و افسران اور حکم دیا کہ جو بھی وزیر کابینہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے آئے وہ اپنے گھر سے چائے پی کر آئے، مجھے اور وزراء کو صرف سادہ پانی پیش کیا جائے غریب اور نو زائیدہ مملکت کا خزانہ اس اسراف کا متحمل نہیں ھو سکتا، پھر تاریخ گواہ ہے جب تک آپ اپنےعہدے پر فائز رہے کابینہ کے ھر اجلاس میں سبکو صرف سادہ پانی ہی پیش کیا گیا. بیت المال کے ایک ایک پیسے کو قوم کی امانت سمجھا۔


تنخواہ کا چیک نہ ھونے کے برابر، آپ پاکستان کے وہ واحد سربراہ تھے جنہوں نے اپنی وصیت  میں اپنے تمام اثاثہ جات تک مملکت خدا داد کو وقف کر دیئے اور سرکار نبی پاک کے دربار پر وقار میں سرخ رو ھوۓ. 


قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ پر وہی مکتبہء یا سوچ یہ الزام بھی لگاتی ھے کہ قیامِ پاکستان کے بعد اگر بھارت کی طرح سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو پاکستان کو سربراہ بنا دیا جاتا تو بہتر تھا، قائد اعظم خود بنے، یہ بھی انکی سیاسی غلطی بھی، مخالفین اگر ذرا سی بھی عقل سے سوچیں تو اُنکو اندازہ ہو کہ بھارت ایک سیکولر ریاست تھا، پاکستان نہیں، کیسے ممکن ہوتا کہ ایک نو زائدہ نظریاتی مسلمان ملک کا سربراہ کوئی غیر مسلم ھو۔


یہ تھی امانت، دیانت اور عظیم قائد کی صداقت. اللّه میرے قائد کی روح کو تسکین بخشے، کتنے پریشان ھوتے ھوں گے ملک کی موجودہ حالت کو دیکھ کر، یہ کوئی صاحب درد ہی محسوس کر سکتا ہے، عام پاکستانی یا آج کے نام نہاد سیاست دان ہر گز نہیں...


احقر العباد:-

جی۔ایم چوھان،

25 دسمبر 2021ء

ہفتہ، 10 جولائی، 2021

ہم نہ ہونگے کوئی ہم سا ہوگا, Ham Na Hongay Koi Hamsa Hoga

  #صدائے_درویش.

ہم نہ ہونگے کوئی ہم سا ہوگا

پتہ نہیں ہم شہرت کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی اتنے مصروف کیوں ہو جاتے ہیں کہ پرانے رشتے ناطے, جملہ دوست احباب کیوں بھول جاتے ہیں، یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ یہاں کوئی چیز بھی دائمی نہیں، مدام و دائم اللّہ ربّ العزت کی ذاتِ گرامی ہے، انسان تو کمزور و بے بس ہے، میں یا آپ ایک حقیقت کی طرح دنیا کی کتاب میں ابھی اس وقت موجود ھیں شائید اگلے ہی لمحے نہ ہوں، پیوند خاک ہو جائیں، ماضی کا حصّہ بن جائیں۔ دنیا کی بے ثباتی کو یاد رکھنا ہی دانش مندی ھے۔


خالی ہاتھ آئے تھے خالی ہی لوٹ جانا ہے، عزت، دولت اور شہرت سب یہاں ہی دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، بس سانسوں کی پھرتی ہوئی مالا ٹوٹنے کی دیر ہے صاحب، پھر کیا "قلندر اور کیسا تونگر" سب منوں مٹّی کے نیچے سبھی ایک ہونگے میرے صاحب۔ سب کے سب دانے بکھر جائیں گے، صور قیامت سے پہلے کبھی بھی اکٹھے نہ ہونے تک۔ سب سانسوں کے "آواگون" کا کھیل ہے میرے دوستو، کسی کے نہ ہونے سے کارخانہء حیات رکا نہیں، سب چلتا رہے گا، قارون، فرعون اور شدّاد تک خالی ہاتھ چلے گئے، پھر بھلا ہم کس "کھیت کی مولی" ہیں اگر یقین نہ ہو تو تمام تر سچائیوں اور خلوصِ نیّت کیساتھ ایک چکّر قبرستان کا لگا کر دیکھ لیں  "دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی" ہوجائے گا۔


"دائم آباد رہے گی دُنیا،

ہم نہ ہونگے کوئی ہم سا ہوگا"


ایک دوسرے سے بلا تکلّف ملتے جلتے رہیئے رشتوں کو جوڑیئے للّٰہ توڑئیے نہیں،  اس سے پہلے کہ ھم ایک دوسرے کو ملتے جلتے رہنے کی خواہش کو دل میں لئے ہی اسی مٹّی کا ڈھیر کا دائمی حصّہ ہو جائیں جس پر رہتے ہوئے ہم اپنے اپنے اندر انانیت کے بت پال رہے ہیں، جس  پر ہم اپنے پیاروں کو بھلائے بیٹھے ہیں۔


شب بخیر:-

جی۔ایم چوہان۔

05 جولائی 2021ء

اتوار، 4 جولائی، 2021

Return of America From Afghanistan, امریکہ کی افغانستان سے پس پائی اور پاکستان۔

 #صدائے_درویش۔


"امریکہ کی افغانستان سے پس پائی اور پاکستان۔


ہم سب نے ایک طویل عرصے سے دُنیا بھر کے میڈیا پر ایک طرح کی سرد جنگ چلتی ہوئی دیکھی ہے، جس میں ایک مذموم منصوبے کے تحت مملکتِ خداداد کو دُنیا بھر باقاعدہ طور پر بدنام کیا جاتا رہا ہے تاکہ دُنیا پاکستان کا روشن چہرہ دیکھ ہی نہ سکے، اسے صرف ایک خونخوار اور عالمی امن کا دشمن ہی سمجھا جائے، شیطانی طاقتیں جب بھی اس ملک کو نیست و نابود کرنے کیلئے یکجاء ھوں تو دنیا بھر میں سے کسی بھی ملک سے احتجاج یا مذمّت کی آواز بلند نہ ہو، اس سے پہلے وہ یہ حربہ دو مسلم ممالک پر آزما چکے ہیں، ابھی بھی یہ ففتھ جنریشن وار رکی نہیں، جاری ہے۔ 

ھو سکتا ھے آنے والے دنوں میں یہ مزید تیز ہو، افغانستان میں دانستہ پیدا کردہ "خانہ جنگی" سے افغانستان کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز کو زیادہ سے زیادہ غیر مستحکم کیا جا سکے، شیطانی نظام جو کام خود نہیں کر سکا اسے اپنے حرام خور کتوں سے ہڈی پھینک پھینک کر پورا کروائے۔


افغانستان میں امریکی قیام اسی مشن کا حصّہ تھا، اس مذموم مقصد کو پورا کرنے کیلئے بھارت کو اپنے ساتھ ملایا اور غلیظ مشن پر اپنا کام شروع کردیا، بھارت نے وطنِ عزیز میں میں دہشتگردی کو فروغ دینے کیلئے سرحد کیساتھ ساتھ درجنوں سفارتخانے کھولے، اپنے ایجنٹ بھرتی کئے، قوم پرستی، فرقہ واریت اور ہر طرح کے تعصب کو فروغ دیا، جاسوسی کے نیٹ ورک قائم کیلئے، الیکٹرونک میڈیا پر بھرپور مہم چلا کر فوج اور عوام کو اپنے سامنے لانے اور نئی نسل کو افواجِ پاکستان کے خلاف بھڑکانے میں کونسا  مذموم حربہ ھے جو اس نے ان بیس سالوں میں استعمال نہ کیا ہوگا، بدقسمتی سے ہمارے ملک کے سرکردہ سیاستدان بھی بھی اس مہم میں سرِ فہرست نظر آئے۔ 


مگر! 


اللّہ کے فضل و کرم سے سب اندرونی اور بیرونی عناصر نے ہے میدان میں منہ کی کھائی اور ناکام رہے۔ پاکستانی قومی سلامتی کے اداروں نے انڈین نیوی کے ایک حاضر ڈیوٹی آفیسر "کلبھوشن یادو" کے دہشتگردی کے نیٹ ورک کو پکڑا، ایسے پتہ نہیں مزید کتنے گروہ ہونے جن کی اللّہ کے فضل و کرم سے ہمارے قومی سلامتی کی حفاظت کرنے والے اداروں  نے کمر توڑی۔ 


امریکہ، بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ، آزاد کشمیر میں بھارتی ایئر فورس کی در اندازی، جارحیت اور پاکستان ائیر فورس کے ہاتھوں منہ کی کھانا، زخمی حالت میں "ابھینندن" کا پاک فوج کے ہاتھوں گرفتار ھونا پھر گرماگرم چائے پی کر واپس جانا ہماری اخلاقی برتری کی بہترین مثال تھی، پھر ھماری فضائیہ کا بھارت کو موثر جواب کہ سب کچھ "ٹارگٹ لاک" جن میں اُنکا اسلحہ کا بہت بڑا ڈپو اور انڈین آرمی کا چیف آف اسٹاف بھی شامل تھا، مگر اُنکا کسی بھی طرح کا مالی یا جانی نقصان نہیں کیا اور دُنیا کو بتلا دیا کہ ہم پُرامن قوم ہیں، جنگ نہیں چاہتے اگر ہم پر جنگ مسلّط کی گئی تو ہم دفاع وطن کیلئے آخری قدم تک اٹھانے کی بھی ہم الحمدللہ اصلاحیت رکھتے ہیں۔  


وطنِ عزیز میں دہشتگردی کے ہاتھوں ہونے والے نقصانات کو اگر ضابطہء تحریر میں لاؤں تو درجنوں صفحات درکار ہونگے، سول اور فوجی املاک پر حملے پے در پے حملے ایک طرف تو پاک فوج "ڈی مورال" کرنا تو دوسری طرف ملک میں مسلسل دہشت میں رکھا جائے، غیر محفوظ اور غیر مستحکم رکھا جائے۔ ھمارا ھونے والا مالی نقصان تو اپنی جگہ، ہمارے ہزاروں بے گناہ اور معصوم شہری جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے اپنی جان سے گئے، وطن کی آن پر قربان ہو گئے، ہزاروں فوجیوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرکے اپنے وطن کا دفاع کیا، اسکی جڑیں مضبوط کیں، ہم من حیث القوم یہ سب کچھ بھولے نہیں، سب یاد ھے اور یاد بھی رہے گا۔


پاکستان میں دہشتگردی کی لہر کو جاری رکھنے کیلئے امریکا، برطانیہ اور اُنکا بغل بچّہ اسرائیل پیش پیش تھے اور ہیں اب تک ہیں بھی، افغانستان کو غیر مستحکم رکھنا، خود ساختہ خانہ جنگی مسلّط کرنا اُسی کا ہی ایک حصّہ ہے تاکہ پاکستان بھی ماضی کی طرح عدم استحکام کا شکار رہے، معیشت دباؤ میں اور "پاک فوج" کو بھی ایک طرح سے اسی میں ہی engage رکھا جائے۔


میرے دوستو!


افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد امریکہ افغانستان سے بہُت "بے آبرو" ہو ہو کر نکل رہا ہے، مگر اپنے پیچھے افغانستان میں ایک طویل خانہ جنگی کو بھی یقینی بنا کر ہی اپنے حواریوں سمیت افغانستان سے پسں پائی اختیار کر رہا ہے، ایسے سب خطرات سے نپٹنے کے لئے اللّہ کے فضل سے لاہ عمل طے کرلیا ہے، آنے والے اچھے یا برے وقت کو منہ دینے کیلئے بھی حکومتِ پاکستان سب تیاریاں مکمل کرچکی ہے، اللّہ ربّ العزت نصرت اس ملک کے ساتھ ہے، یہ ملک خواہشِ رسولِ مقبول (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) ہے اسے مٹانے والے ہمیشہ خود ہی مٹے ہیں، اللّہ کے فضل و کرم سے پاکستان نہیں، یہ قائم و دائم اور اللّہ نے بہت ہی خاص مقصد کے حصول کیلئے ہمیں عطا فرمایا ہے، ان شاء اللہ العزیز وہ مقصد بھی بہت جلد آپ سب کے سامنے ہوگا، حیاتی بخیر۔


حرفِ آخر!


میرے دوستو! 


دہشت گردی کی جنگ میں جانوں کا نذرانہ دے کر اللّہ ربّ العزت کی طرف سے عطا کی گئی فتح و نصرت کے کے بعد ھم سب نے آرام سکون سے نہیں بیٹھنا، سرد جنگ ابھی جاری ہے، پروپیگنڈا جاری ھے، دُنیا بھر کے الیکٹرونک میڈیا پر اب بھی پاکستان کا میڈیا ٹرائل جاری ہے، میرا اندازہ ہے کہ ہم پر ابھی مزید کڑا وقت آ سکتا ہے جس وجہ سے ہم پر واجب ہے کہ ہم سب ذاتی اختلافات کو بھلا کر اپنی سول قیادت اور ملکی مسلّح افواج کے ساتھ حسبِ سابق کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑے ھوں یہی وقت کی اہم ضرورت ہے اور #عظیم_قائد کے فرمان "ایمان،اتحاد اور تنظیم" پر پورا اترنے کا اس سے بہترین وقت شائید ہی کوئی ہو۔


آپ سب کا:-

جی۔ایم چوہان

03=07.2021

جمعہ، 25 جون، 2021

Choti c khwahish,چھوٹی سی خواہش۔

 

چھوٹی سی خواہش۔


میرا زاتی مشاہدہ ھے کہ اس دور کے بچّے کمال کے سیاستدان، ذہین و فطین، ساتھ ہی ساتھ دانشور، مدبّر اور ماشاء اللّہ معاملہ فہم اور باتوں ہی بیٹوں میں دُور کی کوڑی لینے والے ہوتے ہیں، والدین سے اپنی بات منوانے کا ہنر بھی خوب جانتے ہیں، انہیں ننھے پھولوں کی مسکراہٹ، خوشی اور ضرویات کو پورا کرکے ہی ہمیں قلبی سکون ملا کرتا ہے، بلآخر اولاد ہے جو کہ جانوروں کو بھی پیاری ہوا کرتی ہے، سچی بات تو یہ کہ ہمارے دل کی دنیا بستی ہی انہیں کے دم سے ھے، ھماری پوری کائنات و دولت، ھماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ہمارے بچّے ہی ہوا کرتے ہیں۔ جب میں ان خوبصورت پھولوں کو ہنستا مسکراتا، ضد کرکے کبھی رو کر بھی اپنی بات منواتا دیکھتا ھوں تو بس میری بچوں کو دیکھ کر اللّہ ربّ العزت سے یہی دُعا ہوا کرتی ہے کہ جب وہ "اپنی دُنیا بسائیں" تو اپنے دل کی بستی میں تھوڑی سی جگہ ہمارے لئے بھی ضرور رکھ لیں, ایک چارپائی برابر جگہ، کھڑکی بھر آسمان اور تھوڑی سی توجہ، اس سے زیادہ شائید ہی ہم قناعت پسند لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی، اگر آنے والے وقتوں میں ایسا ممکن ھو جاتا ھے تو سمجھ لیں کہ ہمیں اللّہ کی بخشی ہوئی نعمتوں میں سے ایک بہت ہی بڑی نعمت مل چکی ہوگی۔


طالبِ دعاء اور دُعا گو:-

جی۔ایم چوہان۔

25 جون کی ایک حبس زدہ شام۔

ہفتہ، 19 جون، 2021

Kisidor men, جب علم بکنا شروع ہو جائے وہاں سے ادب خاموشی سے کوچ کرجاتا ہے


جب علم بکنا شروع ہو جائے وہاں سے ادب خاموشی سے کوچ کرجاتا ہے 

میرے دوستو! 


کسی دور میں علم بیش قیمت سرمایہ ہوا کرتا تھا، لوگ نہ تو علم خرید سکتے تھے اور نہ ہی بیچنے والا علم کی قیمت وصول کرتا تھا نہ ہی استاد جانتا تھا کہ کتنی قیمت وصول کرے، انمول جو تھا اس لئے مفت ہی بانٹا جاتا تھا، صدقہء جاریہ سمجھ کر، کسی دور میں حصولِ علم کیلئے لوگ دور و دراز ممالک کا سفر کیا کرتے تھے، در در کی خاک چھان کر کرتے تھے اور پھر حاصل شدہ سرمایہ کو ضرب دیکر اُسے فی سبیل اللہ تقسیم بھی کیا کرتے تھے، آج علم آپکے dor step پر ہے، موبائل کے ایک ٹچ کی دوری پر ہے، جب دوریاں ختم ھو کر بلکل نزدیکیاں پیدا ہو ہیں تو آسانی سے حاصل شدہ چیز کی اہمیت بھی کم ہوتی چلی جاتی ہے، یہ ناقدری ہے علم کی اور بہتات بھی، علم تو ہے، بحث برائے بحث ہے مگر عمل نہیں۔ کسی زمانے میں پڑھا تھا کہ "زہر کیا ہے؟ تو کسی دانا نے جواب دیا کسی بھی چیز کی کثرت" آج آپ اپنے گرد و نواح پر نظر ڈالیں تو ہمارے معاشرے میں یہ زہر جگہ جگہ پھیلا ہوا ملے گا، یہی وجہ ہے کہ کسی کی بات سن کر اُسے سر خم تسلیم کرکے مان لینے کی رسم بھی ختم ہو گئی، بحث و مباحثہ، دلائل سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش، تعمیری سوچ اور مثبت عمل ندارد، علمی بہتات مگر ادب واحترام ختم۔ للّٰہ خریدے یا بیچے گئے علم سے دوری اختیار کریں۔


اب ھم بد قسمتی سے بہت زیادہ پروفیشنل ھو چکے ہیں، علم سود مند ھو یا ناقص اسے فروخت کرتے ہیں ضرورت مندوں سے منہ مانگی قیمت بھی وصول کرنے کا ہنر جانتے ہیں، یہی وجہ ھے جو تعلیم کا وہ معیار باقی نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا، استاد علم فی سبیل اللّٰہ بانٹا تھا تو شاگرد بھی استاد کی عزت کرتے تھے باپ سے زیادہ عزت و مقام و مرتبہ بھی ہوا کرتا تھا، پھر والدین کے ہاتھ میں دولت کی تلوار آگئی، علم دولت کے بل بوتے پر خریدا جانے لگا، نتیجتاً حصولِ علم کی خواہش اور جستجو طالبِ علم کے ذہن سے نکلتی گئی، والدین بھی اپنی عزت گنوا بیٹھے، علم کی قیمت جو چکائی تھی، علم کو بے توقیر کیا تھا، خود بھی اولاد کی نظر میں ہوتا چلا گیا، اگر علم بیچ کر ہم صرف پیٹ پالنے ایک ہی محدود رہتے تو بہتر تھا آج ہم اپنا علم بیچ کر خاندان پالتے ہیں۔


پرائیویٹ تعلیمی ادارے علم کی قیمت وصول کرکے ہی اُنہیں چلا رہے ہیں، یہ تلخ حقیقت ہے کہ تعلیمی ادارے علم تو بیچتے ہیں لیکن ادب بلکل بھی نہیں، اسکا مطلب یہ ہوا کہ ادب علم سے زیادہ بیش قیمت ہے، بک اسلئے نہیں سکا کہ اب معاشرے میں ادب و احترام کی چنداں ضرورت نہیں رہتی، میرے نزدیک ادب کی اہمیت علم سے زیادہ ہے، اللّٰہ ربّ العزت جس کو بھی چاہے نواز دے، کورے ان پڑھ کو بھی ادب حصولِ علم کا پہلا دروازہ ہے۔ معاشرے میں ایسی ہی صورت حال دیکھ کر آج سے صدیوں پہلے سلطان العارفین حضرت سلطان باہو رحمت اللہ علیہ نے اپنی شاعری میں ہم سب کو متنبہ کر دیا تھا کہ:-


"علم سکھیا پر ادب ناں سکھیا،

کی کرنا علم نوں پڑھ کے ہُو۔"


میرے دوستو!


جب علم بکنا شروع ہو جائے وہاں سے ادب خاموشی سے کوچ کرجاتا ہے، یہی وجہ ہے مدرسہ یا اسکول آج ایک تربیت گاہ نہیں محض کمائی کا مرکز بن کر رہ گئے ہیں۔


مدرسہ ہو یا عام معاشرہ اس میں جب کسی بھی چیز کی بولی لگنا شروع ہو جائے اور حسبِ ضرورت لوگ اُسے خریدنا بھی شروع ہو جائیں تو بہتات ہو جاتی ھے، اہمیت پیسے کی ہوجاتی ہے، ادب و احترام، تہذیب و تمدن کی نہیں، یہی ہمارا اس وقت سب سے بڑا المیہ ہے۔ حضرت بابا بلھے شاہ شاہ نے آج سے کوئی تین سو سال پہلے ہی لوگوں کو آگاہ کرکے "علموں بس کریں او یار" کا نعرہء مستانہ لگا دیا تھا، نتیجتاً بعد از مرگ اس وقت کے علم کے ٹھیکیداروں نے آپکا جنازہ پڑھنے اور اُنہیں اپنے قبرستان میں دفن کرنے دینے سے بھی یکسر انکار کردیا تھا۔ شنید ہے کہ آپ کے جسدِ خاکی کو ہیجڑوں اٹھا کر قصور شہر  سے دو کوس کے فاصلے پر رات کے اندھیرے میں لے جاکر دفن کر دیا گیا تھا کیوں کہ آپ کے پاس علم کے ساتھ ساتھ ادب و احترام بھی تھا، علم کے ٹھیکیدار آپکے جسدِ خاکی سے بھی ڈرتے تھے۔


طالبِ دعا اور دعا گو،

جی۔ایم چوہان،

18 جون 2021ء کی ایک تپتی ہوئی دوپہر۔

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...