Social Media لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Social Media لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 4 جولائی، 2021

Return of America From Afghanistan, امریکہ کی افغانستان سے پس پائی اور پاکستان۔

 #صدائے_درویش۔


"امریکہ کی افغانستان سے پس پائی اور پاکستان۔


ہم سب نے ایک طویل عرصے سے دُنیا بھر کے میڈیا پر ایک طرح کی سرد جنگ چلتی ہوئی دیکھی ہے، جس میں ایک مذموم منصوبے کے تحت مملکتِ خداداد کو دُنیا بھر باقاعدہ طور پر بدنام کیا جاتا رہا ہے تاکہ دُنیا پاکستان کا روشن چہرہ دیکھ ہی نہ سکے، اسے صرف ایک خونخوار اور عالمی امن کا دشمن ہی سمجھا جائے، شیطانی طاقتیں جب بھی اس ملک کو نیست و نابود کرنے کیلئے یکجاء ھوں تو دنیا بھر میں سے کسی بھی ملک سے احتجاج یا مذمّت کی آواز بلند نہ ہو، اس سے پہلے وہ یہ حربہ دو مسلم ممالک پر آزما چکے ہیں، ابھی بھی یہ ففتھ جنریشن وار رکی نہیں، جاری ہے۔ 

ھو سکتا ھے آنے والے دنوں میں یہ مزید تیز ہو، افغانستان میں دانستہ پیدا کردہ "خانہ جنگی" سے افغانستان کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز کو زیادہ سے زیادہ غیر مستحکم کیا جا سکے، شیطانی نظام جو کام خود نہیں کر سکا اسے اپنے حرام خور کتوں سے ہڈی پھینک پھینک کر پورا کروائے۔


افغانستان میں امریکی قیام اسی مشن کا حصّہ تھا، اس مذموم مقصد کو پورا کرنے کیلئے بھارت کو اپنے ساتھ ملایا اور غلیظ مشن پر اپنا کام شروع کردیا، بھارت نے وطنِ عزیز میں میں دہشتگردی کو فروغ دینے کیلئے سرحد کیساتھ ساتھ درجنوں سفارتخانے کھولے، اپنے ایجنٹ بھرتی کئے، قوم پرستی، فرقہ واریت اور ہر طرح کے تعصب کو فروغ دیا، جاسوسی کے نیٹ ورک قائم کیلئے، الیکٹرونک میڈیا پر بھرپور مہم چلا کر فوج اور عوام کو اپنے سامنے لانے اور نئی نسل کو افواجِ پاکستان کے خلاف بھڑکانے میں کونسا  مذموم حربہ ھے جو اس نے ان بیس سالوں میں استعمال نہ کیا ہوگا، بدقسمتی سے ہمارے ملک کے سرکردہ سیاستدان بھی بھی اس مہم میں سرِ فہرست نظر آئے۔ 


مگر! 


اللّہ کے فضل و کرم سے سب اندرونی اور بیرونی عناصر نے ہے میدان میں منہ کی کھائی اور ناکام رہے۔ پاکستانی قومی سلامتی کے اداروں نے انڈین نیوی کے ایک حاضر ڈیوٹی آفیسر "کلبھوشن یادو" کے دہشتگردی کے نیٹ ورک کو پکڑا، ایسے پتہ نہیں مزید کتنے گروہ ہونے جن کی اللّہ کے فضل و کرم سے ہمارے قومی سلامتی کی حفاظت کرنے والے اداروں  نے کمر توڑی۔ 


امریکہ، بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ، آزاد کشمیر میں بھارتی ایئر فورس کی در اندازی، جارحیت اور پاکستان ائیر فورس کے ہاتھوں منہ کی کھانا، زخمی حالت میں "ابھینندن" کا پاک فوج کے ہاتھوں گرفتار ھونا پھر گرماگرم چائے پی کر واپس جانا ہماری اخلاقی برتری کی بہترین مثال تھی، پھر ھماری فضائیہ کا بھارت کو موثر جواب کہ سب کچھ "ٹارگٹ لاک" جن میں اُنکا اسلحہ کا بہت بڑا ڈپو اور انڈین آرمی کا چیف آف اسٹاف بھی شامل تھا، مگر اُنکا کسی بھی طرح کا مالی یا جانی نقصان نہیں کیا اور دُنیا کو بتلا دیا کہ ہم پُرامن قوم ہیں، جنگ نہیں چاہتے اگر ہم پر جنگ مسلّط کی گئی تو ہم دفاع وطن کیلئے آخری قدم تک اٹھانے کی بھی ہم الحمدللہ اصلاحیت رکھتے ہیں۔  


وطنِ عزیز میں دہشتگردی کے ہاتھوں ہونے والے نقصانات کو اگر ضابطہء تحریر میں لاؤں تو درجنوں صفحات درکار ہونگے، سول اور فوجی املاک پر حملے پے در پے حملے ایک طرف تو پاک فوج "ڈی مورال" کرنا تو دوسری طرف ملک میں مسلسل دہشت میں رکھا جائے، غیر محفوظ اور غیر مستحکم رکھا جائے۔ ھمارا ھونے والا مالی نقصان تو اپنی جگہ، ہمارے ہزاروں بے گناہ اور معصوم شہری جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے اپنی جان سے گئے، وطن کی آن پر قربان ہو گئے، ہزاروں فوجیوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرکے اپنے وطن کا دفاع کیا، اسکی جڑیں مضبوط کیں، ہم من حیث القوم یہ سب کچھ بھولے نہیں، سب یاد ھے اور یاد بھی رہے گا۔


پاکستان میں دہشتگردی کی لہر کو جاری رکھنے کیلئے امریکا، برطانیہ اور اُنکا بغل بچّہ اسرائیل پیش پیش تھے اور ہیں اب تک ہیں بھی، افغانستان کو غیر مستحکم رکھنا، خود ساختہ خانہ جنگی مسلّط کرنا اُسی کا ہی ایک حصّہ ہے تاکہ پاکستان بھی ماضی کی طرح عدم استحکام کا شکار رہے، معیشت دباؤ میں اور "پاک فوج" کو بھی ایک طرح سے اسی میں ہی engage رکھا جائے۔


میرے دوستو!


افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد امریکہ افغانستان سے بہُت "بے آبرو" ہو ہو کر نکل رہا ہے، مگر اپنے پیچھے افغانستان میں ایک طویل خانہ جنگی کو بھی یقینی بنا کر ہی اپنے حواریوں سمیت افغانستان سے پسں پائی اختیار کر رہا ہے، ایسے سب خطرات سے نپٹنے کے لئے اللّہ کے فضل سے لاہ عمل طے کرلیا ہے، آنے والے اچھے یا برے وقت کو منہ دینے کیلئے بھی حکومتِ پاکستان سب تیاریاں مکمل کرچکی ہے، اللّہ ربّ العزت نصرت اس ملک کے ساتھ ہے، یہ ملک خواہشِ رسولِ مقبول (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) ہے اسے مٹانے والے ہمیشہ خود ہی مٹے ہیں، اللّہ کے فضل و کرم سے پاکستان نہیں، یہ قائم و دائم اور اللّہ نے بہت ہی خاص مقصد کے حصول کیلئے ہمیں عطا فرمایا ہے، ان شاء اللہ العزیز وہ مقصد بھی بہت جلد آپ سب کے سامنے ہوگا، حیاتی بخیر۔


حرفِ آخر!


میرے دوستو! 


دہشت گردی کی جنگ میں جانوں کا نذرانہ دے کر اللّہ ربّ العزت کی طرف سے عطا کی گئی فتح و نصرت کے کے بعد ھم سب نے آرام سکون سے نہیں بیٹھنا، سرد جنگ ابھی جاری ہے، پروپیگنڈا جاری ھے، دُنیا بھر کے الیکٹرونک میڈیا پر اب بھی پاکستان کا میڈیا ٹرائل جاری ہے، میرا اندازہ ہے کہ ہم پر ابھی مزید کڑا وقت آ سکتا ہے جس وجہ سے ہم پر واجب ہے کہ ہم سب ذاتی اختلافات کو بھلا کر اپنی سول قیادت اور ملکی مسلّح افواج کے ساتھ حسبِ سابق کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑے ھوں یہی وقت کی اہم ضرورت ہے اور #عظیم_قائد کے فرمان "ایمان،اتحاد اور تنظیم" پر پورا اترنے کا اس سے بہترین وقت شائید ہی کوئی ہو۔


آپ سب کا:-

جی۔ایم چوہان

03=07.2021

منگل، 18 اگست، 2020

Islam aur Firqa Parasti - FB per aik Coment Kay Jawab Men

صدائے درویش - حالاتِ حاضرہ

ایک دوست کے کمنٹ پردیاگیاجواب 

اسلام اور فرقہ پرستی

میرے معزز دوست!


فرقوں کو تو میں سرے سے مانتا ہی نہیں، کلام الٰہی میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ " اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقوں میں مت بٹو" اس آیۃ مبارکہ کی رو سے اگر ہم فرقہ پرستی کی بات کرتے ہیں تو ہم صریحاً احکامات خدا وندی کے منکرین میں شمار ہوتے ہیں۔ تاھم حدیث پاک ھے کہ ۷۲ فرقے مسلمانوں کے ھونگے تو ھوںگے ھم حدیث پاک کے بھی منکر نہیں ھوسکتے ھاں البتہ ھمیں فرقوں میں بٹنے سے بچنا چاھیئے۔

بد قسمتی سے اس وقت ہم ایک نہیں 72 فرقوں میں تقسیم ہیں اور ہر فرقہ خود کو درست ثابت کرنے کیلئے دوسرے کو واجب القتل تک قرار دیتے یا بد عقیدہ و کافر تک قرار دینے سے بھی بعض نہیں آتا۔


شدّت پسندی اور تھیوکریسی نے ہی ہم کو یا ہماری نئی نسل کو اسلام سے کافی حد تک دور کیا ہے، میں نے ایک کو نہیں ایک سے کہیں زائد فرقوں کے علماء کرام اور اکابرین کو سنا ہے، سب کو اپنی اپنی دُم پر ہی کھڑا پایا ہے، اسلامی تعلیمات یا اسلام کی نشر و اشاعت کیلئے بلکل بھی نہیں۔ مثال کے طور پر ( انتہائی معذرت کےساتھ) آپ اہل حدیث ہیں سو آپکے نزدیک صرف اہل حدیث ہی صحیح مسلمان ہیں باقی سب بد عقائد یا مشرک ہیں، کافر و زندیق ہیں، دوسرے الفاظ میں واجب القتل  بھی۔ تاھم ھمیں فقہ اور فرقے کے فرق کو بھی سمجھنا چاہیئے۔ حنفی، حنبلی، شافعی، مالکی، جعفریہ، یہ سب فقہ ھیں فرقہ نہیں۔


 میں سنی العقیدہ ہوں تو خود کو ھی درست عقائد کا حامل، یہی شیعہ بھی کہتے ہیں، بندہ کس کی مانے کس کی نہ مانے، مجھ سے بندے نے تو بلآخر یہی کہنا ہے کہ عقائد کا معاملہ اللہ کے سپردکرتا ہوں " اپنی قبر اور اپنا عذاب" میں الحمدللہ کسی بھی عقیدے کے حامل مسلمان کی طرف " توتو" کہ کر انگلی نہیں اٹھاتا۔ مجھے ہر برائی کا محور اپنی ذات میں ہی نظر آتا ہے دوسرے میں ہرگز نہیں, ہمیشہ اپنی ہی اصلاح کا قائل ہوں، دوسروں کی نہیں، کہاں تک اور کتنا کامیاب رہا ہوں یہ خالق و مالک ہی جانتا ہے، مجھے تو اسکا بلکل بھی ادراک نہیں ہے۔


اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم سب صبر و تحمل کے ساتھ جینا سیکھیں، رواداری کا راستہ اپنائیں جو کہ ہمارے اسلاف کی پہچان اور وطیرہ تھا۔ عین اسلام بھی تھا۔ میرے دوست اسلام کو سمجھنا ہے تو خود اپنی ذات میں جھانکیں، سنت کا پیروکار ثابت کرنے کیلئے سب سے پہلے خود کو " صادق و امین" کی کسوٹی پر پرکھیں، کیوں کہ میرے، آپکے اور ہم سب کے آقا و مولیٰ نبی رحمت ( صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کی سب سے پہلی اور اہم سنت ہے۔ آپ یا میں یا ہم سب جب خود احتسابی کے عمل سے گزرنا شروع ہو جائیں گے تو آپکو اور مجھے اپنے ہر سوال کا خود اپنے ہی اندر سے ملتا چلا جائے گا،  شرط صرف اندر کے منصف کے ایمانداری کے ساتھ زندہ ہونے اور صحیح سمت میں فیصلہ کرنے کی ہے۔ آزمائش کرکے دیکھ لیں۔


خیر اندیش:-

جی۔ایم چوہان۔

14.08.2020

منگل، 23 جون، 2020

Mohtram aur Muqaddas Rishton ka Videos Msgs men Social Media per Mazaq Urana

Social Media
چھوٹی سی بات

محرم اور مقدّس رشتوں کا تسلسل سے مذاق 

میں چند ماہ سے تواتر کے ساتھ فیس بک پر ایسی ویڈیوز دیکھ رہا ہوں جن میں محرم اور مقدّس رشتوں کا تسلسل سے مذاق اڑایا جا رہا ہے، جن میں صرف اور صرف جنسی زیادتی اور پھر گناہ آلودہ زندگی پر مائل کرنے کے علاوہ کچھ ہوتا ہی نہیں۔

باپ،  سگے چچا اور سگے ماموں کا اپنے محرم رشتوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور پھر اُن سے گناہ آلودہ زندگی گزارنے پر یعنی بدکاری پر مجبور کرنے کے علاوہ اور کوئی پیغام ہوتا ہی نہیں، ایسے لگتا ہے کہ خون کا خون سے اعتبار ختم کیا جا رہا ہے، باپ، چچا اور ماموں سے بچی محفوظ نہیں، لیکن ایسی کوئی بھی وڈیو اپ لوڈ نہیں ہوتی جس میں غیر محرم رشتے پر اعتماد اور اعتبار نہ کرنے کا پیغام دیا جا رہا ہو، یہ کیسی awareness ہے جو نئی نسل کے بچوں کے اذہان میں زہر گھول رہی ہے؟

میں مانتا ہوں کہ ایسی درندگی کے واقعات ضرور ہوتے ہونگے ک جب انسان انسان سے وحشی بنتا ہے تو وہ مقدّس ترین رشتوں کی پہچان تک بھی بھول جاتا ہے۔

ایک اور بھی چلن عام ہو چکا کہ مالکن کس طرح سے اپنے ملازم کو اپنی مکروہ خواہشات کے تکمیل کے لئے ٹریپ کرکے اُسے جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ یہ مکروہ عمل بھی ہمارے ہی معاشرے کا ایک حصہ بن چکا ہے، لیکن سب تو ایسے نہیں کہ سب کو ایک نظر سے دیکھا اور ہانکا جائے۔

کچھ بیرونی ممالک کے نشریاتی ادارے بھی بلوغت کو پہُںچ کر نو عمر بچوں میں ہوتی ہوئی تبدیلیوں بتاتے ہوئے Awarenees کے نام پر ہی تمام اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جن کو ہمارا مشرقی معاشرہ اور کوئی بھی مذہب سر عام ڈسکس کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

ایسی پوسٹس سے ہمارے معاشرے میں نئی نسل کا جنسیات اور جسنی عمل کی طرف راغب ہونے کا عمل تیز ہو گیا ہے کہ آئے دن کوئی نہ کوئی واقعہ سوشل کی زینت بنتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

 کیا کیسی پوسٹس کو نظر انداز کرنا چاہئے؟

یہ میرا آپ سب سے آج ایک چھوٹا سا سوال ہے، اُمید ہے میرے تمام دوست اپنی قیمتی آراء سے نوازیں گے کہ ان سب کا کیسے سد باب کرکے نوجوان نسل کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

احقر العباد:-
جی۔ایم چوہان،
February 12, 2020

جمعرات، 18 جون، 2020

سوشل میڈیا، فتنہ پوسٹس اور ہم

صدائے درویش

سوشل میڈیا، فتنہ پوسٹس اور ہم

کسی دور میں ایک حکایت پڑھی تھی، جی چاہا کہ آج آپ سب دوستوں سے شیئر کروں, حرف بحرف تو یاد نہیں، لیکن جیسی اور جتنی یاد ہے عصر حاضر کے تقاضوں کو دیکھ اتنی ہی بطور تبرک حاضر خدمت ہے، اُمید ہے تمام احباب موجودہ صورت حال کے تناظر میں ساری بات سمجھ جائیں گے۔

ایک بستی تھی، بستیوں جیسی بستی، جس میں ہر مکین امن و سکون اور بھائی چارے سے اپنی اپنی زندگی گزار رہا تھا۔

شیطان کو بھلا اُنکا بھائی چارہ کیوں ہضم ہونا تھا!

ایک دن شیطان اپنے اپنے چیلوں کے ساتھ آسمان پر محفل جمائے بیٹھا تھا کہ ایک شتونگڑے چیلے نے شیطان سے کہا " آقا! مجھ سے اس بستی کے مکینوں کی باہمی محبت اور بھائی چارہ دیکھا نہیں جاتا، خصوصاً دودھ فروش اور حلوائی کی دوستی ایک آنکھ نہیں بھائی جو ایک دوسرے کے دکھ اور سکھ کے ساتھی اور ایک ہی برتن میں ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں۔
 کوئی تدبیر کریں کہ یہ پیار و محبت سے زندگی گزارنے والے آپس میں دست و گریباں ہو جائیں۔

استاد نے کچھ سوچا، پھر خبیث مسکراہٹ سجائے ہوئے بولا " ابھی لو سب کچھ کئے دیتے ہیں کہ دست و گریبان ہی نہیں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بھی بن جائیں گے، دیکھتے جاؤ میں اب کرتا کیا ہوں۔

بستی میں دیگر دکانوں کے ساتھ ساتھ ایک مٹھائی فروش اور دودھ فروش کی دکانیں بلکل ساتھ ساتھ تھیں، وہی دکانیں شیطان  مردود کا نشانہ تھیں۔ شیطان نے جلیبیوں سے بھرے تھال میں سے شیرے سے انگلی لتھیڑ کر حلوائی اور دودھ فروش کی مشترکہ دیوار پر لگا کر واپس  کوچ کر گیا۔

شاگردوں نے کہا آقا!
آپ نے کیا کیا؟
کوئی جلوہ نظر نہیں آیا، سب کے سب تو آرام سکوں سے اپنے اپنے دھندے میں مشغول ہیں، شیطان بولا تھوڑا سا صبر سے کام لو اور دیکھتے چلے جاؤ، میں اپنا کام کر چکا ہوں!

دوستو!

دیوار پر لگے شیرے پر مکھی آ بیٹھتی ہے، جسکو شکار کرنے کیلئے چھپکلی آگے بڑھنا شروع ہوتی ہے، چھپکلی کو دیکھ کر دودھ فروش کی بلی چھپکلی پر جھپٹنے کو تیار ہوتی ہے۔
بلّی نے چھپکلی پر چھلانگ لگائی تو وہ دودھ سے بھرے برتن میں تھی، دودھ فروش نے حلوائی سے کہا کہ تمہاری بلی کے گرنے سے میرا دودھ ضائع ہوا، جب کہ حلوائی کا مؤقت تھا کہ جاندار ہے، گرگیا میرا کیا قصور، کیوں نقصان بھروں؟

بات" تو تو میں میں" سے ہاتھا پائی تک پونچھی، پھر دودھ فروش نے اپنا کڑچھا اٹھایا تو دوسری طرف حلوائی نے بھی مٹھائی بنانے میں استعمال ہونے والا کوئی اوزار، گھمسان کا رن پڑا کہ الحفیظ و الامان، دودھ کے نقصان کو بھول کر دونوں دوست آپس میں لڑلڑ کر لہو لہان ھو گئے۔

دوستو!

اس دور رستخیز میں ہم پاکستانیوں  کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے، وطن عزیز يا ملک سے باہر کچھ شیطانی اذہان ہمارے ساتھ بھی کسی نہ کسی متنازعہ پوسٹ کو "شیرے" کی مانند اسپریڈ کر دیتے ہیں کہ ہم آپس میں دست و گریبان ہوتے رہتے ہیں۔

للّہ!

اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانئے، اس سے پہلے کہ وقت ہمارے ہاتھ سے نکل جائے!

احقر العباد؛-

غلام محمد چوہان،
Jnauary 10. 2020ء


اتوار، 14 جون، 2020

فیس بک کےایک گروپ میں دیئے گئے ایک اسٹیٹس کا جواب

ایک گروپ میں دیئے گئے ایک اسٹیٹس کا جواب فیس بک کے

 اسلام بالکل بھی تنگ نظر نہیں ہے، اسلام اور مسلمان دونوں ہی فراخ دل ہیں، صرف ویسٹ کو اسلام کو سمجھنے میں نچلی سطح  دقّت ہے، عام شہری کو پتہ ہی نہیں کہہ اسلام ہے کیا اور اسلام کا پیغام کیا ہے۔ جبکہ خاص سطح پر لوگ اسلام اور اسلامی تعلیمات سے خوب آگاہ ہیں، عام ویسٹرن شعائر اسلامیہ کو اپنائے ہوئے ہیں, بس کلمہ نہیں پڑھتے۔


عمومی طور پر ویسٹ میں لوگ مذہب کو نچلی سطح پر ڈسکس نہیں کرتے، لیکن!
اسلام فوبیا کا شکار ضرور ہیں۔

ہمیں چاہئے کہ ہم اسلام کا صحیح رخ اُنکے سامنے رکھیں، اسلام عبادات کا ہی نام نہیں، خدمت، ایثار اور قربانی، افہام تفہیم، معاملہ فہمی اور صبر و استقلال اؤر میانہ رویے کا دوسرا نام ہے۔

اسلام کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سب سے پہلے بدنام کیا گیا، امن کے پیامبر مذہب کو دہشت گرد ثابت کیا گیا، القاعدہ، ISIS اور دیگر تنظیمیں ہماری نہیں ویسٹ کے ایک خاص طبقے اور سوچ کی پیدا کردہ تھیں، جن کی مذموم کاروائیوں کی وجہ سے دنیا بھر کو پیغام دیا گیا کہ اسلام (خدا نخواستہ) ایک دہشت گرد مذہب ہے اور اسکے پیروکار بھی دنیا بھر میں امن کے دشمن ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج امت محمدیہ پر دنیا بھر میں زندگی تنگ ہو چکی ہے کہ خون مسلم ارزاں ہے کہ کوئی آواز تک اٹھانے کو تیار نہیں۔

ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ " تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں"

عبادات کے بعد ہم نے سب سے پہلے اخلاقیات اور دنیاوی معاملات کی چھلنی سے گزرنا ہے، یہی وہ مقام ہیں جہاں جملہ عبادات اگر اُن میں کسی بھی طرح کی کوئی معاملات میں کوتاہی پائی گئی تو دھری کی دھری رہ جائیں گی۔
ہم ابھی تک اسلام کو صحیح طور پر سمجھ کر دوسروں کو سمجھا ہی کب سکے ہیں؟

آپ صرف ہمارے آقا و مولا (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کا آخری خطبہ حج ملاحظہ فرمائیں تو اسلام کا اندازہ ہوگا، پورے خطبے میں دنیاوی زندگی کو گزرنے کے اصول و ضوابط اور طریقے ہی ہیں، کہیں پر ابھی آپکو عبادات کا ذکر تک بھی نہیں ملے گا۔

ویسٹ کا کلچر ہی ایسا ہے کہ وہاں مذہب کو نچلی سطح پر ثانوی حیثیت حاصل ہے سو وہ کہیں بھی اپنے مذہب کا یا کسی بھی مذہب کا پرچار کرتے ہوئے نہیں ملتے, جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں وہ عیسائیت کا بھرپور پرچار کر رہے ہیں، یہ جملہ مشنریاں کیا ھیں؟

ہم بد قسمتی سے نچلی سطح پر ہی اسلام اسلام کی رتّ لگاتے ہیں، عملی طور پر ہم اسلامی تعلیمات اور شعائر اسلام سے صدیوں دور ہیں۔

جی۔ایم چوہان
January 15, 2020

بدھ، 10 جون، 2020

Her Qaom Qable Ehteram, Bahudur Aur Ghairatmand hay, Andaz Mukhtalif hy


شاہ زاد کا فیس بک اسٹیٹس 

ھرقوم قابل احترام ھے ھر قوم ھی بھادر، غیرت مند ھے بس انداز مختلف ھے

ہم سب نے ہی رکھا ہے، تقسیم ہند کے وقت میرا خاندان بھی 17 جانوں کی قربانی دے کر امرتسر سے واگہ تک پہونچا تھا، میں ہمیشہ ہی یہ کہتا ہوں کہ خدا کیلئے پاکستانیت کو فروغ دو اسی میں ہی ملکی بقاء کا مضمر ہے۔
ریاست بہاولپور پاکستان میں شامل ہوتی ہے تو پاکستان کے اُپر Areas کو کراچی تک بذریعہ ریل اور سڑک رسائی حاصل ہوتی ہے، ریاست خیر پور میرس ابھی بغیر کسی شرط و شرائط کے پاکستان کا حصہ بنتی ہے، پھر ریاست قلات بھی، صرف پشتون ہی نہیں باقی ماندہ اقوام بھی پاکستان کی ایسی ہی محسن ہیں جیسے پشتون یا پشتون قبائل۔
اگر ہم صرف پشتونوں کی ہی بات کریں تو یقینی طور پر دوسری اقوام کی دل آزاری نہیں نہیں حق تلفی بھی ہوگی، آپ ریاست بہاولپور کا نقشا دیکھ لیں اگر بہاولپور ریاست پاکستان میں شامل نہ ہوتی تو کراچی اور سندھ پاکستان کے بالائی علاقوں سے کتے ہوئے ہونے تھے۔
سب ہی ہمارے محسن ہیں ہمیں سب کی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہئے، ریکارڈ درست کرلیں مسلم لیگ صرف صوبہ بنگال اور سندھ سے جیتی تھی، پنجاب اور صوبہ سرحد میں تو اکثریت حاصل نہیں ملی تھی, پنجاب میں ملک خضر حیات ٹوانہ کی یونینسٹ پارٹی اور صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان کی حکومت بنی تھی، اس کے باوجود بھی ہم پشتون بھائیوں کی حب الوطنی پر ذرا سا بھی شک نہیں کرسکتے 
سب ہی بہادر ہیں، سب ہی مادر وطن کا دفاع کرنا جانتے ہیں، 1948, 1965 1971 یا کارگل جنگ، قوم کے سب بیٹے چاہے وہ پشتون، پنجابی، بلوچ، سندھی مہاجر اور کشمیر/گلگت بلتستان کے رہنے والے ہوں اپنی بحیثیت پاکستانی خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور مادر وطن کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی۔ 1948 میں البتہ پشتون قبائلیوں کو ایک پلاننگ کے تحت ہراول دستے کے طور پر دشمن کے سامنے رکھا گیا تھا، پشت پر پاک آرمی نے سرو سامانِی کے باوجود بھی موجود تھی۔ برہمن ذہنیت پاکستان اور ایسے ہی "لولا لنگڑا" پاکستان کہا تھا، ہم سب نے شانہ بشانہ مل کر اسے مکمل کیا ہے۔
پاکستانیت کو فروغ دو، یہ اسٹیٹس پہلے بھی لگا تھا، نظر انداز کردیا کہ اس پر کمنٹس دینا ہی بیکار ہے، اب آپ نے اسے دوبارہ سے اپلوڈ کیا تو واجب ہو گیا کہ اب اپنا مؤقف بیان کر دیا جائے۔



Aik Manfi Soch ka Facebook per Status ka Jawab


  فیس بک پر لگے ہوئے ایک اسٹیٹس کا جواب

اندازبیان گرچہ مراشوخ نہیں ہے


تقسیم ہند کے بعد غلط معاشی پالیسیز کی بنا پر ایسا ہوا ہے، اگر ہمارے ملک کی معاشی اور معاشرتی تقسیم انصاف پر مبنی ہوتی تو ایسا ہونا ممکن ہی نہیں تھا، دل دکھتا سب دیکھ کر لیکن ہم بے بس ہیں کر کچھ نہیں سکتے۔
ایسے اسٹیٹس لگانے والے ذہنی طور پر انڈیا سے متاثر ہیں،ااپ زرا غربت کے تناسب سے بھارت اور پاکستان کا تقابلی جائزہ لیں تو ہمیں غربت اور افلاس پاکستان  سے کہیں زیادہ نظر آتا ہے۔

اگر ہمارے صاحب حیثیت رزق حرام کمانا چھوڑ دیں، عمروں کے بعد الحاج بنتے چلے جانے کی کوشش نہ کریں، صرف رزق حلال کما کر صدق دل سے جمع شدہ مال میں سے ایمانداری کے ساتھ زکواۃ ہی ادا کرتے چلے جائیں تو 03 سے 05 سال کے اندر اندر اس ملک میں غربت افلاس کا دور دور تک بھی شائبہ تک نہیں ہوگا۔ حکمران سے لیکر ایک عام چپڑاسی تک ہمیں ایمانداری کی ضرورت ہے، پھر دیکھیں کہ پاکستان کا نقشا بدلتا ہے یا نہیں۔

میں صرف ایک مسلم ملک ملائشیا کی مثال دوں گا، پام آئل اور ربڑ اس ملک کی کل پیداوار ہے، آپ ذرا وہ ملک وزٹ کرلیں، اندازہ ہو جائے گا کہ اگر حکمرانوں کی پہلی ترجیح ملک و قوم کے مفادات ہوں تو وہ کیسے ترقی کرتے ہیں، دنیا بھر میں کیسے عزت و وقار پاتے ہیں۔ کیا نہیں ہے اس ملک میں سوائے شخصی اور اجتماعی ایمانداری کے؟

تصویر میں جو افلاس زدہ لوگ نظر آ رہے ہیں وہ ہم سے کہیں زیادہ مطمعئین اور محب وطن ہیں، آپ ان سے بات کر کے دیکھ لیں ہر حال میں شکر اور پاکستان سے محبت کرتے ہوئے ملین گے،

اللہ کا شکر کرنا سیکھو، اللہ کا شکر اور ایمانداری کا راستہ اختیار کرو، خدمت  کا جذبہ پیدا کرو، عبادات بعد کا مسئلہ ہے، نُسخہء کیمیاء ھے اور آزمائش شرط۔

غلام محمد چوہان
June 07, 2020


Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...