جمعرات، 15 جولائی، 2021

Aik Aham Haqeeqat, Ham Aur Hamaray Aham Idaray, افغان جنگ, جنرل پرویز مشرف اورپاکستان,

حاصل مطالعہ ( منقول)

افغانستان ایک بہانہ تھا , پاکستان اصل نشانہ تھا

پاکستان اورپاکستانیوں کو بچانے والا مرد مجاہد

 *افغان جنگ اورپاکستان*

آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں)
جنرل پرویز مشرف


*افغانستان ایک بہانہ تھا مگر پاکستان اصل نشانہ تھا۔ جنرل پرویز مشرف الجھی ہوئی جنگوں کا استاد نکلا,(کارگل کا محاذ ھو یا افغانستان کی جنگ یافخرِپاکستان ڈاکٹرقدیرخان کا مسئلہ ھو یا انڈیا)*۔


*امریکہ افغان جنگ ہار گیا کیونکہ اس کی پہلی ملاقات جنرل مشرف اور آخری ملاقات آئی ایس آئی سے ہوئی تھی*۔


*بائیس کروڑ پاکستانیوں کو بچانے والا مرد مجاہد جس نے سب الزامات اپنے سر پر برداشت کر لیئے، لیکن آپ اور ہم پر ایک آنچ تک نہ آنے دی* ۔


*شطرنج کے اس کھیل میں جنرل مشرف نے بڑی بڑی دجالی طاقتوں کی اینٹ سے اینٹ بجائی ہے۔*


*لوگوں نے مجھے غدار کہا، وطن فروش کہا، بلکہ ایسے ایسے القابات سے نوازا کہ میں بیان نہیں کر سکتا، بغیر تحقیق کے جس کے منہ جو آیا, بس وہی الزام مجھ پر لگا دیا گیا۔ آج جتنی زبانیں میرے اوپر چلتی ہیں. اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ آئی ایس آئی اور میں (جنرل مشرف) نے مل کر ا،مر،یکہ کو  ایسے قبرستان میں پہنچا دیا تھا، جہاں شکست اس کا مقدر بن چکی تھی*۔


*یہ جو الزام لگا رہے ہیں وہ شائد واقف ہی نہیں ہیں کہ ا،مر،یکہ کس طرح پاکستان کو ٹارگٹ کر کے لیبیا, شام, عراق,  افغانستان اور فلسطین کی طرح مفلوج اور برباد کرنے والا تھا*۔


*لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کو میں (جنرل مشرف) نے افغان وار میں جان بوجھ کر دھکیلا, ا،مر،یکہ کو اڈے دے کر !! لیکن بہت ہی کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ امریکہ نے مجھے اور آئی ایس آئی کو بھی دھمکیاں دی تھیں کہ وہ پاکستان کو پتھروں کے زمانہ میں دھکیل دے گا*۔  

*ہم نے امریکہ کی دھمکیوں کو اس کی بیوقوفی سمجھ کر صرف اڈے اس لئے دئیے کہ وہ ہماری خاموشی میں چھپے ہوئے طوفان سے ناواقف تھا*۔ 


*اس نے ہماری قابلیت کو پس پشت ڈال دیا تھا اور اس وقت ا،مر،یکہ اپنی اوقات بھول رہا تھا کہ جس روس کو ہرانے کے لئے وہ کئی دھائیوں سے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھا اس کو ہرانے میں پاکستان نے صرف چند ہی سال لگائے تھے۔ اور آج تک روس پاکستان کے سامنے خاموش ہے جانتے ہو کیوں ،؟؟*


*چہرے بدلتے رہیں گے, لیکن آئی ایس آئی کی پالیسیاں اور آرمی چیف کا ڈنڈا وہی رہے گا.*


*اگر میں (جنرل مشرف) امریکہ کو اڈے نہ دیتا, تو اس کو انڈیا اڈے دے دیتا اور آپ یقین کریں کہ امریکہ کے ایک بی باون طیارے نے انڈیا سے اڑنا اور پاکستان کے اوپر سے گزرتے ہوئے ایک بم جان بجھ کر پاکستان پر پھیکنا تھا اور ہمارے کئی شہروں کے شہروں  نے پتھر کے زمانہ میں چلے جانا تھا اور امریکہ اس پر کہتا کہ یہ تو پائلٹ سے غلطی ہو گئی تھی. جواب کے لئے کچھ پاس بھی ہونا چائیے تھا۔ پھر یہ مجھ پر الزام لگانے والے بھی نہیں بچنے تھے۔کسی نا کسی امریکی حملے میں کب کے ختم ہو جاتے۔۔۔۔۔۔*


 *خیر کیا کروں مجھے (جنرل مشرف) کو اپنے وطن سے محبت ہے۔ میں تمہارے مطابق وطن فروش ہی صحیح، میں غدار ہی صحیح کیونکہ میں اور آئی ایس آئی اس جنگ کو اس وقت بیس سال پہلے ہی اپنی ٹیبل پر بیٹھ کر جیت چکے تھے*۔


*مجھے پتہ تھا. کہ اس جنگ کا نشانہ پاکستان ہے. میں نے پاکستان کو بچانا تھا, تاکہ پاکستان مضبوط سے مضبوط تر ہو جائے, چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہوتی ہم ادا کرنے کو تیار تھے. یہ میرے اوپر الزامات تو بہت چھوٹی چیز ہیں۔ یاد رکھو اپنے خلاف باتیں سن کر ہمت مت ہارو, کیونکہ شور  تماشائی کرتے ہیں کھلاڑی شور نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔*!


*اس وقت کا پاکستان اور آج کا پاکستان, "فرق بہت زیادہ ہے". کیونکہ اس وقت ابھی جے ایف 17 تھنڈر ہم نے بنائے ہی نہیں تھے۔ ایف 16 وہ تھے جن کو امریکہ آسانی سے جام کر دیتا کیونکہ وہ روس کے خلاف پاکستان کو امریکہ سے ملے تھے. اور ہمارا ایٹم بم بھی نوزائیدہ بچے ہی کی مانند تھا اور ہماری میزائیل رینج بھی نارمل سی تھی۔ اور ہم امریکی جی پی ایس سسٹم استعمال کرتے تھے۔ اس نے ہمارا میزائیل سسٹم بھی جام کر دینا تھا۔ میں (جنرل مشرف) نے اور آئی ایس آئی نے الله کی مدد سے پاکستانیوں کو ا،مر،یکہ نامی ڈائین سے بچایا ہے۔*


*میرے اوپر لگنے والے بے بنیاد الزام کچھ اس طرح ہیں*!!!!!! 


*ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو میں نے بیچا تھا، حالانکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ افغانستان سے اغوا کر کے لے گیا تھا اور چند دین فروشوں نے اسلام آباد والی کرسی کے لالچ میں یہ الزام مجھ پر ڈال دیا کہ مشرف نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کیا ہے۔ یہ بات وہ بیٹی بھی جانتی ہے(اور یہ بھی کہ اسکی امریکہ حوالگی میں ڈاکٹر عافیہ کی شوھرکا بھی ایک گھنائوناکرداربھی تھا), جس کو افغانستان کی سرزمین سے سی آئی اے والے اغوا کر کے لے گئے تھے یا میرا اللّٰہ بھی جانتا ہے۔ کن کن کے کہنے پر مجھ پر الزام لگائے گئے. پچھلے دو حکومتی ادوار میں پاکستان اور سندھ کا کباڑا نکال کر رکھ دیا۔ مہنگائی تو ہو گی۔ کیونکہ شیر اور بھٹو دونوں ہی زندہ باد ہیں. جو انھوں نے بیج بویا آنے والی نسلوں کو مہنگائی کی صورت میں اس کا پھل تو ملنا ہی ہے*۔


*یہ الزام بھی مجھ پر لگے کہ میں نے پاکستان کے اڈے بیچے, زمین بیچی ڈالی، جب شیر دو قدم پیچھے ہٹتا ہے تو جاہل سمجھتے کہ شیر ڈر گیا. جبکہ اہل عقل لوگ اسے شیر کے جھپٹنے کا سٹائل سمجھتے ہیں۔ امریکہ جنگ ہار گیا کیونکہ اس کی آخری ملاقات آئی ایس آئی سے ہوئی تھی۔*


*پاکستان کی زمین کو بیچا یہ والے بے بنیاد الزامات ہیں, ا،مر،یکہ جو پاکستان کو ایٹم بم سمیت ختم کرنے آیا تھا پاکستان کی ایک انچ زمین بھی ہلا نہیں سکا، جبکہ ہمارے نیوکلیئر پروگرام کی جاسوسی پر امریکہ نے ہر سال پچیس ارب ڈالر ضائع کئے، لاتعداد ایجنٹ مروائے اور ایک پٹاخہ تک نہ ڈھونڈ سکے۔۔۔۔۔ ۔!!!!!!*


*اور کیا دنیا کی نمبر ایک ایجنسی آئی ایس آئی کے ہوتے ہوئے جنرل مشرف کی کیا مجال تھی کہ وہ پاکستان کا سودا کر کے زندہ بچ جاتا، وہ لوگ کچھ خدا کا خوف کریں, جو جنرل مشرف پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں* ۔


*لال مسجد کا آپریشن کروایا کیونکہ جنرل مشرف نے امام کعبہ کو کہا کہ آپ لال مسجد کے مولویوں سے مذاکرات کر لیں, اگر وہ مان جاتے تو آپریشن نہیں ہونا تھا، لال مسجد کے اندر دہشتگردوں کو ٹریننگ ملتی تھی, پاکستانیوں اور پاک فوج پر حملے کی ترغیبیں بتائی جاتی تھیں اور وہ مولوی برقع پہن کر فرار ہوتا ہوا پکڑا گیا تھا. جس نے لوگوں کے معصوم بچوں اور بچیوں کے کندھے ہر رکھ کر گولی چلوائی تھی، مسجد اور قرآن پاک کی بے حرمتی اندر چھپے دہشتگردوں نے کی تھی، جس کے جواب میں مجبورا جنرل مشرف کو ایکشن لینا پڑا اور ان دہشتگردوں کو ہلاک کروایا جہنوں نے مسجد کی آڑ لے لی تھی۔ پاکستان میں لائی لگ لوگوں کی بھر مار ہے. جس کی وجہ سے لوگ آگے جانے کی بجائے نیچے جا رہے ہیں اگر مولوی کوئی فتوی دے گا تو لوگ اسے قبول کریں گے اور ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے لیکن یہ لوگ نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل نہیں کرتے، اگر عمل کر لیں تو دین و دنیا آسان ہو جائے* ۔


*اکبر خان بگٹی کو بے قصور مارا یہ الزام بھی بے بنیاد ہے جاؤ بلوچستان اور ان غریب غربا سے پوچھو کون سا ظلم باقی بچا تھا جو نواب اکبر بگٹی اور اس کے چیلوں نے بلوچوں کے ساتھ نہیں کیا تھا۔ جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو مصر میں فرعون پر موسی اور پاکستان کے فرعونوں پر ایک عدد مشرف الله تعالی ضرور بھیجتے ہیں*۔


*الزامات کے پیچھے وہی حرام خور ہیں, جن کو میں نے این آر او دیا تھا اور کیا اس کے چیلے نہیں جانتے تھے کہ شیروں نے سب کچھ لوٹا اور ملک کو مہنگائی کے طوفانوں میں چھوڑ کر خود لندن بھاگ گئے, سب کچھ لوٹ کر لے گئے* ۔


*مجھ پر اگر الزام لگانا تھا تو یہ لگاتے کہ میں نے ان چوروں کو بچایا، یہ میری غلطی تھی, جو ان چوروں کو این آر او دیا تھا۔ جس کی وجہ سے آج آپ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہو*


*جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر ادراے مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کو خطرہ صرف چند نوسرباز ڈاکو خاندانوں اور ان کی لا دین اور بے ایمان اولادوں سے ہے*۔


*خدارا۔۔۔ ان کو مت چھوڑنا اگر ملک سلامت چاہتے ہو۔ لوٹا ہوا مال ملے نہ ملے، یہ آئندہ اقتدار میں نہ آئیں اور ان کو ڈھیل ڈیل وغیرہ وغیرہ مت دو یہ لوگ انڈیا اور اسرائیل سے زیادہ خطرناک ہیں. پاکستان کے لئے۔ جو ان کو چھوڑنا چاہتے ان کو بھی اڑا دو۔ چاہے وہ جج ہوں، جرنیل ہوں یا پھر سیاستدان ہوں۔ 🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰 اس ملک اور پرچم کی خاطر*۔


*جب سے پاکستان بنا ہے, آئے روز پاک فوج کے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ کیا ان جوانوں کا خون ان چند ڈاکو خاندانوں سے سستا ہے ؟؟*


*آج ملک پاکستان مین جتنی دونمبری، بے ایمانی، رشوت، سود کرپشن چوری مہنگائی، ناانصافی اور بے ایمانی سرکاری محکموں میں بیٹھے افسروں میں ہے, اس سب کے موجد یہ دو خاندان ہی ہیں نواز زرداری*۔ 


*بہرحال سیاست اپنی جگہ ایک گند ہے اس سے میرا کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔*، 


*نوٹ*


*آج شیطانوں کو ا،فغا،نستا،ن سے دم دبا کر بھاگتا ہوا دیکھا تو مجھے اپنے جنرل مشرف اور آئی ایس آئی کی اس چال کا ادراک ہوا جس کو سمجھنے میں امریکہ کو بیس سال لگے اور اس قوم کو سمجھنے میں آئندہ #مزید بیس سال لگیں گے#*


*پاک فوج زندہ باد* *آئی ایس آئی زندہ باد*

*پاکستان سیکرٹ فورس*

A Short History of General Pervez Musharraf

General Pervez Musharraf is four-star general Ex- Chief of Army Staff and became the tenth president of Pakistan. He held the presidency from 2001 until 2008, 

Born: August 11, 1943 (age 77 years), Old Delhi, Delhi, India

Height: 6′ 0″

Spouse: Sehba Musharraf (m. 1968)

Books: In the Line of Fire: A Memoir, Agnipath Meri Atmakatha

Children: Bilal Musharraf, Ayla Musharraf

Education: Royal College of Defence Studies (1990–1991)

 





کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...