حاصل مطالعہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
حاصل مطالعہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 15 نومبر، 2022

جیون ساتھی سے گزشتہ زندگی یا کوئی افئیر شیئر کرنا

 

#بات سےبات۔

جیون ساتھی سے اپنی گزشتہ زندگی یا کوئی افئیر شیئر نہ کرنا

آج فیس بُک پر ایک اسٹیٹس لگا دیکھا جس میں کسی نوجوان لکھاری نے اپنے غیر شادی دوستوں کو تلقین کی تھی کہ وہ شادی کے بعد کبھی بھی اپنے جیون ساتھی سے اپنی گزشتہ زندگی خصوصاً اپنا کوئی افئیر شیئر نہ کرنا، ورنہ بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں گی، چند مثالیں بھی دی تھیں۔ کو کہ وہ ایک مزاحیہ پوسٹ تھی، مگر مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرگئی۔


میرا ذاتی مشاہدہ بھی ہے کہ اکثر خواتین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے جیون ساتھی کی سابقہ زندگی کے بارے میں جان سکیں، کثرت ایسی ہو ٹوہ میں لگی رہتی ھے کہ رسّی کا کوئی سرا مل ہی جائے، کامیاب بھی ھو جاتی ہیں۔ 

میری ذاتی رائے ہے کہ خواتین کو کبھی بھی اس حساس مسئلے پر توجہ مرکوز بھی کرنی چاہیئے، اس سے شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے غلط فہمیاں بھی، یہی وہ نکتہ ھے کہ اگر غلط فہمیاں ایک بار دل میں جڑ پکڑ لیں تو فریقین کا جینا محال ہو جایا کرتا ہے، پھر شک کا پودا تناآور درخت تو بن سکتا ہے، کم نہیں نہیں ھوتا۔ گھریلو زندگی خطرات کا شکار ہو جاتی ہے، خدشات اور غلط فہمیاں گھریلو تو تکار کا سبب بنتی ہیں، ہنستی مسکراتی ھوئی زندگی تکرار کا شکار ھو جاتی ھے، گھر اجڑتے ھوئے بھی دیر نہیں لگتی، علیحدگی تک بھی ہو جایا کرتی ہے۔ اِس حساس معاملے پر فقط خواتین کوئی موارد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا، اکثر مرد حضرات بھی اپنی زندگی کے سابقہ افئیر بڑھا چڑھا کر بیان کرنے میں ذرّہ سی بھی عار نہیں محسوس کرتے، یہیں سے جیون ساتھی کے دل میں پہلے تجسّس پھر شک پروان چڑھنا شروع ھو جاتا ھے، جس کی ابتداء کا تو پتہ ھوتا ھے انتہاء کا بلکل بھی نہیں۔  جو باتیں ہم اپنی بیوی کو فخریہ انداز میں بتا رہے ہوتے ہیں، وہی بات اگر شرم و حیاء کا پردہ چاک کرکے بیوی بتانا شروع ہو جائے تو ہم پر بحیثیت انسان کیا گزرے گی، اندازہ لگانا چنداں مشکل بھی نہیں ہے، لگا بھی سکتے ہیں۔


میں نے کافی عرصہ پہلے کہیں پڑھا تھا کہ "محبّت کے تجربے سے زندگی میں ہر آدم زاد ضرور گزرتا ہے، اِس میں وقت اور صنف کی کوئی قید نہیں، جو ایسا نہ ھونے دعویٰ کرتا ہے یا نفی کرتا ھے وہ جھوٹ بول رہا ہوتا ہے، 

واللہ اعلم بالصواب۔


میرے ایک اچھے دوست جو اب کسی انتہائی مجبوری کی وجہ سے سانگھڑ شہر چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے کینیڈا آباد ہو چُکے ہیں، نام لینا مناسب نہیں، موصوف شہر کے اچھے ماہرِ نفسیات بھی تھے۔ میں روزانہ رات کو انکے پاس جایا کرتا تھا، مختلف موضوعات پر بات بھی ہوتی رہتی تھی اور ڈاکٹر صاحب تکلیف زدہ لوگوں کی مسیحائی بھی کرتے رہتے تھے، اسمِ بمسمّہ تھے، جہاں بھی ہیں خوش رہیں، اُنکے لئے دعا گو ہوں۔ ڈاکٹر صاحب سانگھڑ شہر کے واحد ڈاکٹر تھے جو رات گئے تک مریضوں کو میسر رہتے تھے، ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ۔


ایک بار بات سے بات چلی تو فرمانے لگے "یار چاچا کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ عورت اپنی آخری گرہ کبھی بھی نہیں کھولتی؟" (میری سانگھڑ کی سنگت مُجھے چاچا کے نام سے ہی پکارتی تھی، اب بھی گہرے دوست مُجھے چاچا کہہ کر بلاتے ہیں) میرا جواب نفی میں تھا، کہنے لگے میں فزیشن بھی ہوں اور ماہرِ نفسیات بھی، میں نے نوٹ کیا ہے کہ عورت کبھی بھی اپنے دل کی گہری بات کسی کے بھی شیئر نہیں کرتی، خصوصاً محبّت کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط ہوا کرتی ہے، میں نے بطور ڈاکٹر کے کافی خواتین کا علاج بھی کیا ہے، اللّہ نے مریضوں کو شفاء بھی بخشی، مگر اِس نتیجے پر پہنچا ھوں کہ آپ عورت سے اسکی رضا کے بغیر کچھ بھی نہیں پوچھ سکتے، محبت کے معاملے میں عورت کبھی بھی آخری گانٹھ نہیں کھولتی، آخری سانسوں تک بھی، 

واللہ اعلم بالصواب!


جی۔ایم چوھان

15.11.2022

منگل، 11 اکتوبر، 2022

A Message, انسان درخت کاٹ رہے ہیں

 انسان درخت کاٹ رہے ہیں

اے میرے دادا! تم ابھی زندہ نہیں لیکن تمہاری سنہری باتیں زندہ ہیں۔ آج مجھے یاد ہے کہ آپ نے کیا کہا تھا کہ انسان درخت کاٹ رہے ہیں اور دن بدن عمارتیں بڑھ رہی ہیں۔ جنگل سکڑ رہے ہیں۔ میں پچھلے دو دنوں سے بھوکا ہوں، کھانے کو کچھ نہیں۔ اور بلڈوزر کی بھاری آواز سنائی دے سکتی ہے، نئی عمارت کے لیے زمین کو برابر کرتے ہوئے!



جمعہ، 12 اگست، 2022

پاکستان نے ہمیں سب کچھ دیا, My Pakistan

 #صدائے_درویش۔

وطنِ عزیز کے قیام کی 75ویں سالگرہ

اللّہ اور مُلک خدا داد کا شکر گزار

پاکستان نے ہمیں سب کچھ  دیا

قائم اس سال وطنِ عزیز کے قیام کی 75ویں سالگرہ منانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ لوگوں کی کثرت اکثر یہ کہتی پائی گئی ہے کہ پاکستان نے ہمیں دیا کیا ہے؟ ارے ناشکرے لوگو! ہمیں پاکستان نے کیا نہیں دیا، عزت اور پہچان اپنی جگہ، میں اِس وقت صرف ایک شہر کی مثال دوں گا، وہ ہے شہر لاھور جسے پاکستان کا دل بھی کہا جاتا ہے۔


میں نے لاہور شہر کے بارے میں کسی دور میں پڑھا تھا کہ پورے مال روڈ پر مسلمانوں کی صرف دو بلڈنگز تھیں، تقسیمِ ہند کے بعد جب ہندو آبادی شفٹ ہوئی تو پورا مال روڈ خالی ہوگیا تھا، جھوٹے کلیمز کی بندر بانٹ کے بعد آج مال روڈ ہی مسلمانوں کی ملکیت ہے، شاء عالمی مارکیٹ میں مسلمان تاجر نہ ہونے کے برابر تھے، آج شاہ عالمی مارکیٹ میں ارب پتی تاجر کاروبار کر رہے ہیں، اُن میں کثرت ایسے تاجروں کی ہے جن کے اجداد مارکیٹ میں محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالا کرتے تھے۔ آج اُنکی اولادیں ارب پتی ہیں، ہندو گیا تو تجارت کا میدان خالی، تجارت کے میدان میں کوئی مقابلہ نہیں، سکھ اور ہندو گئے تو لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین چھوڑ گئے، جعلی دستاویزات اور کلیمز سے جن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا وہ چودھری بن بیٹھے، یعنی پاکستان کا معرض وجود میں آنا اور "بلّی بھاگوں چھینکا ٹوٹا" والی بات ہوئی۔ ہندو سکھ گئے تو ہزاروں سرکاری ملازمتیں خالی تھیں، جنہوں نے کبھی کسی دفاتر کا منہ تک نہیں دیکھا تھا وہ سب کے سب اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہوئے اور اُنکے بعد اُنکی اولادیں بھی، میدانِ سیاست بلکل خالی، لوگ آگے بڑھے تو اقتدار کے ایوان اُنکے منتظر تھے، پھر بانی پاکستان کی ناگہانی وفات اور اُنکے دستِ راست لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ملک و قوم کے بہترین مفاد میں سیاست نہیں، آہستہ آہستہ خاندانی بادشاہت کا آغاز ہوا جو اب تک بھی جاری و ساری ہے۔ 


کون کہتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کچھ بھی نہیں دیا؟ جو کہتا ہے وہ کذاب ہے، ناشکرا ہے، اللّہ اور مُلک خدا داد کا شکر گزار نہیں۔


آئیں اب ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ ہم نے اس ملک کو کیا دیا؟ جھوٹ، فریب، دھوکہ اور جگہ جگہ دو نمبری؟ اِس یومِ آزادی پر ہم صرف اتنا ہی سوچ کر اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق جواب دیں کہ ہماری کثرت نے من حیث القوم ہر سطح پر ملک کو سوائے لوٹنے اور کھسوٹنے کے ارضِ پاک کو کچھ بھی نہ دینے کا اقرار ہی کر لیں تو 75ویں سالگرہ کا وطنِ عزیز کو دیا جانے والا سب سے بڑا تحفہ ھوگا۔


غلام محمد چوہان۔
12.08.2022.

بدھ، 16 مارچ، 2022

Pakistan Army

 


فوج اور کرپشن!! حقیقت یا افسانہ ....

فوجی ادارے , آمدن اور اخراجات !!

فوج کا احتساب!!


(سب سے پہلے یہ ذہن نشین کیجئے کہ فوج میں کرپشن کا تصور ہی نہیں ہے فوج کے ہر ادارے میں سخت آڈٹ ہوتا ہے اور سخت سزائیں مقرر ہیں.. اب تفصیل ملاحظہ کریں)


پاکستان آرمی کے کاروباری ادارے!


پاکستان آرمی میں چار بڑے ادارے کام کرتے ہیں جن میں آرمی ویلفیئر ٹرسٹ , فوجی فاؤنڈشن , شاہین فاؤنڈیشن , بحریہ فاؤنڈیشن شامل ہیں اور انکے نیچے آرمی کے زیر اختیار مزید چھوٹے ادارے اور کمپنیاں کام کرتی ہیں!


🔹آرمی ویلفیئر ٹرسٹ  کے ادارے !!


نظام پور سیمنٹ 

فارما سوٹیکل 

عسکری سیمنٹ لیمیٹڈ 

عسکری کمرشل بینک 

عسکری جنرل انشورنس کمپنی لمٹیڈ

عسکری لبریکینٹس

آرمی شوگر ملز بدین 

آرمی ویلفیئر شو پروجیکٹ

وولن ملز لاہور

آرمی ويلفيئير رائس لاہور

آرمی اسٹينڈ فارم پروبائباد

آرمی اسٹينڈ فارم بائل گنج

فارم رکبائکنتھ

فارم کھوسکی بدين

رئيل اسٹيٹ لاہور  راولپنڈی کراچی اور  پشاور

آرمی ويلفير ٹرسٹ پلازه راولپنڈی

الغازی ٹريولز

سروسز ٹريولز راولپنڈی

ليزن آفس کراچی اور لاہور

آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کمرشل مارکیٹ پراجیکٹ اور عسکری انفارمیشن سروس کے ادارے شامل ہیں... 


🔹 فوجی فاؤنڈیشن کے ادارے!!


 فوجی شوگر ملز ٹنڈو محمد خان

فوجی شوگر ملز بدين 

فوجی شوگر ملز سانگلاہل

فوجی شوگر ملز کين اينڈيس فارم

فوجی سيريلز

فوجی کارن فليکس

فوجی پولی پروپائلين پروڈکٹس

فائونڈيشن گیس کمپنی

فوجی فرٹیلائيزر کمپنی صادق آباد ڈهرکی

فوجی فرٹیلائيزر انسٹیٹیوٹ

نيشنل آئڈنٹٹی کارڈ پروجيکٹ

فائونڈيشن ميڈيکل کالج

فوجی کبير والا پاور کمپنی اور فوجی سيکيورٹی کمپنی لميٹڈ شامل ہیں...


🔹 شاہین فاؤنڈیشن کے ادارے :

 

شاہین انٹرنیشنل

شاہین کارگو

شاہین ائیرپورٹ سروسز 

شاہین ائیرویز 

شاہین کمپلیکس 

شاہین پی ٹی وی اور شاہین انفارمیشن اور ٹیکنالوجی سسٹم شامل ہیں .....


🔹بحريہ فاؤنڈيشن کے ادارے :


بحریہ يونيورسٹی

فلاحی ٹريڈنگ ايجنسی

بحریہ ٹريول ايجنسی

بحریہ کنسٹرکشن

بحریہ پينٹس

بحریہ ڈيپ سی فشنگ

بحریہ کامپليکس

بحریہ ہاوسنگ 

بحریہ ڈريجنگ 

بحریہ بيکری 

بحریہ شپنگ

بحریہ کوسٹل سروس 

بحریہ کيٹرنگ اينڈ ڈيکوريشن سروس 

بحریہ فارمنگ 

بحریہ ہولڈنگ 

بحریہ شپ بريکنگ 

بحریہ ہاربر سروسز 

بحریہ ڈائيونگ اينڈ سالويج انٹرنيشنل اور بحریہ فائونڈيشن کالج بہاولپور شامل ہیں!!


نوٹ : ان تفصیلات کا سرکاری اعداد و شمار سے کوئی تعلق نہیں ہے!! یہ تمام ادارے لیگل ہیں اور جائز کاروبار کرتے ہیں با قاعدہ ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرواتے ہیں گزشتہ برس 20-2019 میں پاکستان آرمی نے 190 ارب روپے ٹیکس دیا 25.8 ارب انکم, کسٹم اور سیلز ٹیکس دیا جب کہ ان کاروباری اداروں نے 164.239 ارب ٹیکس دیا اور ان میں حاضر سروس فوجی نہیں ہوتے!!


🔵 پاکستان آرمی کو کاروبار کی کیوں ضرورت ہے ؟؟


پاکستان آرمی بلحاظ تعداد دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے اور دونیا کی بہترین افواج میں شامل ہے پاکستانی خفیہ ایجنسیاں دنیا کی پہلی  بہترین ایجنسیاں ہیں تو کیا آپکو لگتا ہے کہ یہ سب سرکاری 17 فیصد بجٹ سے ہو سکتا ہے ؟؟...  پاکستان آرمی کو جو 17 فیصد بجٹ دیا جاتا ہے ان میں سے بھی 47 فیصد آرمی جب کہ باقی ایئر فورس اور نیوی میں تقسیم ہوتا ہے !! پاکستان آرمی حکومتی خزانے پر بوجھ بننے کی بجاۓ نجی کاروبار کرتی ہے لاکھوں ریٹائر فوجیوں اور سویلین افراد کو روزگار دیتی ہے میڈیکل کی بہترین سہولیات دیتی ہے تو کیا برائی ہے اس میں ؟؟ اگر یہ کام حکومت نہیں کر سکتی تو لازمی بات ہے غیر ملکی کمپنیوں کو دے دیا جاتا تو اس میں ہمارا کوئی فائدہ نہیں تھا !!


🔵  پاکستان آرمی کے اخراجات :


پاکستان آرمی کو جو 17 فیصد بجٹ میں سے حصہ ملتا ہے وہ آرمی کی تشکیل اور توازن کا ہوتا ہے جنگ لڑنے کا نہیں ہوتا!  دنیا کی چھٹی بڑی فوج اور پہلے نمبر کی خفیہ ایجنسیاں رکھنے والی فوج ظاہر ہے گھاس تو نہیں کھاۓ گی انکے بھی اخراجات ہیں اور وہ سب اس 17 فیصد میں پورے نہیں ہوتے!!پاکستان آرمی کے کاروباری اداروں سے حاصل شدہ آمدنی سے ہی وہ تمام کام ہوتے ہیں جو بجٹ سے نہیں کیے جا سکتے! جب پاکستان انڈیا کی تقسیم ہوئی تھی تو پاکستان فوجی فاؤنڈیشن کے حصے میں ایک کروڑ روپے آۓ تھے جنکا کفایت شعاری سے استمال کیا گیا تھا اور آج انھیں سے متعدد ادارے کھڑے کیے گئے ہیں !!


آرمی کے کسی یونٹ کے بیرکوں سے لے کر کسی پہاڑی پر بنی چیک پوسٹ تک ایک ایک روپیہ لگا ہوا نظر آتا ہے لاکھوں فوجیوں ریٹائر و حاضر سروس کو میڈیکل کی بہترین سہولیات تعلیم کی بہترین سہولیات جنگ لڑنے کے تمام اخراجات کسی بھی قومی مشن کے اخراجات قدرتی آفات کی صورت میں مدد کے اخراجات اسلحے کی خریداری کے اخراجات خفیہ ایجنسیوں کے اخراجات کسی بھی مصیبت زدہ ملک و قوم کی مدد کے اخراجات غیر ملکی دوروں کے اخراجات کھیلوں  کے اخراجات پریڈ کے اخراجات جدید ترین ٹیکنالوجی میزائلز ایٹمی ہھتیار اور سینکڑوں قسم کے اخراجات شامل ہیں اسی میں سے جنگیں لڑتی ہیں اسی میں سے آپریشن ہوتے ہیں اسی میں سے وطن آباد ہوتے ہیں سرحدیں محفوظ ہوتی ہیں شہدا کے لواحقین کا خیال بھی اسی میں سے رکھا جاتا ہے اور ظاہر ہے یہ 17 فیصد سے تو نہیں ہو سکتا!!!


🔹 پاکستان آرمی کا دیگر افواج سے موازنہ !!


پاکستان آرمی اپنے ایک سپاہی پر سالانہ 12500 ڈالر خرچ کرتی ہے جب کہ بھارت 42000 ڈالر امریکا 392,000 ڈالر اور سعودیہ 371,000 ڈالر خرچ کرتا ہے.. بھارت کا بجٹ پاکستان آرمی سے چھے گنا زیادہ ہے انکا صرف اسلحے کا پیسہ پاکستان آرمی سے دو گنا ہے مگر .. اتنے کم خرچ میں بڑے خرچوں والی فوج امریکا کو دھول چٹانے  والے یہی سپاہی ہیں ازلی دشمن بھارت کو تگنی کا ناچ نچانے والے یہی ہمارے فوجی ہیں سعودیہ کی رکھوالی کرنے والے یہی فوجی  ہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں دنیا کی مظبوط ترین نیٹ ورک رکھنے والی اور تسلیم شدہ ایجنسیاں ہیں اور یہ سب 17 فیصد میں تو نہیں ہوتا !!


🔹 پاکستان آرمی کے پلاٹس  اور اثاثہ جات !!


ایک کمیشن آفیسر جب فوج جوائن کرتا ہے اسے ایک آپشنل فارم دیا جاتا ہے جو کہ پاکستان آرمی کی ہاؤسنگ کی رکنیت کا ہوتا ہے رکنیت لینے والے کو ایک لاکھ کی پیمنٹ کرنی ہوتی ہے اور پھر باقی ماندہ اسکی تنخواہ سے کٹوتی ہوتی رہتی ہے.. جب آفیسر کی سروس 15 سال کے قریب ہو جاتی ہے وہ میجر یا لیفٹیننٹ کرنل بن چکا ہوتا ہے تو وہ تنخواہ میں کٹوتی کے حساب سے تقریباً ایک پلاٹ کا مالک ہو چکا ہوتا ہے اسی طرح پچیس سال سروس کرنے پر وہ برگیڈئیر یا میجر جنرل بنتا ہے تو کچھ زیادہ کا حقدار ہو چکا ہوتا ہے اور یہ مفت میں نہیں انکی تنخواہ سے کٹ چکا ہوتا ہے!!

پاکستان آرمی میں کرنل رینک سے ہر آرمی آفیسر کو سال کے بعد اپنے اثاثے ظاہر کرنے پڑتے ہیں فوجی کمیٹی  ان اثاثوں کا موازنہ گزشتہ سال کے اثاثوں سے کرتی ہے اور اگر اثاثوں میں فرق آ جاۓ تو منی ٹریل مانگا جاتا ہے اور قانون کے مطابق کاروائی ہوتی ہے..... !!!


🔹 فوج میں کرپشن حقیقت یا افسانہ !!


پاکستان آرمی میں کرپشن کا تصور نہیں ہے اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پیسوں کا لین دین براہ راست نہیں ہوتا بلکہ پاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ نامی ایک الگ ادارہ کام کرتا ہے یہی ادارہ تمام فورسز کو مالی ادائگیاں کرتا ہے اور پھر آڈٹ بھی کرتا ہے لہٰذا براہ راست پیسوں کے لین دین نا ہونے کی وجہ سے مالی گڑبڑ کا کرپشن کا تصور ختم ہو جاتا ہے اور جیسا کہ میں نے گزشتہ پیراگراف میں بتایا کہ ہر سال اثاثوں کی تفصیلات طلب ہوتی ہیں لہذا ہر چیز کا چیک اینڈ بیلنس ہونا کرپشن کے خاتمے کی بنیادہ وجہ ہے!!


فوج میں اگر آپ غور کریں تو آپکو ایک ایک انچ پر روپے لگے نظر آئیں گے ..  فوجیوں کا لباس بہترین  اسلحہ و ایمونیشن بہترین  گاڑیاں ہر وقت تیار  ایک منظم بہترین تربیت یافتہ فوج ہر دم ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار  ایک بھرپور نظم و ضبط ... انکی کالونیاں صاف ستھری ہسپتال صاف ستھرے اسکول بہترین ایسے کیسے ممکن ہے پھر ؟؟... ہر کام میں ایک ترتیب طے ہے ایک منظم طریقہ کار طے ہے ہر ایک روپیہ اسکی درست جگہ لگنے سے ہی ایسا ممکن ہے !!

آخری میں ایک بڑی مثال دیتا ہوں !!


جب کسی بھی ملک کی آرمی کرپشن کے بازار گرم کرتی ہے پھر وہ جنگیں نہیں لڑتی وطن کا دفاع نہیں کرتی بلکہ مشکل وقت میں دھڑام سے گرتی ہے کیوں کہ اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہے !! میں نے امریکی و افغانی افواج کی کچھ رپورٹس مطالعہ کیں جنکے مطابق افغان آرمی کاغذات میں تعداد میں زیادہ تھی مگر محاذ پر کم یعنی افغانی جرنیل اور سینئر قیادت امریکا سے زیادہ سپاہیوں کے اخراجات لیتے رہے ہیں جب کہ حقیقت میں اتنے سپاہی تھے ہی نہیں انکی خوراک ٹریننگ و دیگر اخراجات کے ڈالر جیب میں ڈالتے رہے ہیں اور جو موجود  تھے انکی نا ہی ٹریننگ کی نا ہی منظم فورس تیار کی نتیجہ کیا ہوا ؟؟.. امریکی افواج کے جاتے ہیں افغان آرمی تین دن میں کابل چھوڑ کے بھاگ نکلی !!!!


ہر ادارہ اپنے ملازمین کو سہولیات دیتا ہے جیسے بجلی کا محکمہ چند سو فری یونٹس گیس کا محکمہ  کچھ گیس فری اسی طرح آرمی بھی اپنے ملازمین کو چند سہولیات دیتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں !!.........

اتوار، 16 جنوری، 2022

Hazrat Atta Ullah Shah Bukhari Ka Aik Farman

 

اللہ الصمد :


عطاءاللہ شاہ بخاری فرماتے ہیں

کہ میں جیل میں تھا تو مجھے خیال آیا کہ قرآن مجید کا وہ ترجمہ پڑھنے کی سعادت حاصل کروں

جو حضرت شاہ عبدالقادر ؒ نے لکھا ہے۔ 

میں نے قرآن مجید جیل میں منگوایا اور پڑھنا شروع کیا جب میں 

اللہ الصمد پر پہنچا تو

اللہ الصمد کا جو معنی شاہ عبد القادر ؒ نے کیا تھا وہ میں نے اس سے پہلے نہ سنا نہ پڑھا تھا۔

حضرت نے اللہ الصمد کا معنی 

”نراسترک“لکھا ہوا تھا

جو مجھے سمجھ نہ آیا میں بڑا بےچین ہو گیا پھر مجھے خیال آیا 

جیل میں ہندو پنڈت بھی قید ہے اس سے نراسترک کا معنی پوچھتا ہوں 

حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری لکھتے ہیں

میں اس پنڈت کے پاس گیا اس ساری بات کی اور کہا کہ نراسترک کے کیا معنی ہیں میرا پوچھنا تھا کہ پنڈت وجد میں آ کر جھومنے لگا  میں کافی پریشان ہو گیا کہ میں نے معنی پوچھا اسے دیکھو کیا ہو گیا کافی دیر کے بعد وہ اپنی کیفیت میں واپس آیا تو میں نے اسے کہا اللہ کے بندے میں نے تو نراسترک کا معنی پوچھا اور تو وجد میں آگیا ایسا کیا ہے؟ 

پنڈت نے جواب دیا سن سکے گا 

میں نے جواب دیا ہاں کیوں نہیں

پنڈت بولا تو پھر سن 

”نراسترک“سنسکرت زبان کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں۔

وہ جس کا کام کوئی روک نہیں سکتا اور اگر وہ ” نہ چاہے تو کسی کا کام ہو نہیں سکتا“اللہ الصمد“

شاہ صاحب فرماتے ہیں 

بس اس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہ تھا  پتہ نہیں کب تک میری یہ کیفیت رہی۔


قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴).


( سوانح و افکار 
عطا اللّٰہ شاہ بخاری )


اتوار، 26 دسمبر، 2021

قائد حضرت قائد اعظم محمّد علی جناح رحمت اللّه علیہ کا یوم ولادت

 قائد حضرت قائد اعظم محمّد علی جناح رحمت اللّه علیہ 

قانون دان، با اصول اؤر با ہمت و دور اندیش سیاست دان اور صادق و امین


آج ہمارے قائد حضرت قائد اعظم محمّد علی جناح رحمت اللّه علیہ کا  یوم ولادت ہے، مجھے یہ کہنے میں ذرّہ بھی شک نہیں کہ آپ ایک بہت بڑے قانون دان، با اصول اؤر با ہمت و دور اندیش سیاست دان اور صادق و امین جیسے اوصاف کے حامل بھی تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد کے واقعات اِس کی بہت بڑی گواہی ہے۔


میرے قائد نے ایک سوال کے جواب میں اپنے قلم کی سیاہی فرش پر چھڑک کر کہا تھا کہ مجھے سیاہی کے ایک چھینٹے جتنا بھی پاکستان بھی ملا تو میں حاصل کروں گا. 

کیوں؟ میری سوچ کے سفر نے مجھ کو یہ نقطہ اس طرح سمجھایا کہ آپ کو بحالت ہوش میرے اور ھم سب کے آقا و مولا نے ہندوستان جانے کا حکم دے کر فرمایا تھا کہ انڈیا واپس جاؤ وہاں کے مسلمانوں کو تمہاری ضرورت ہے اور اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لئے میں آپکے ساتھ ھوں، قلم چھڑک کر ایک ذرّہ برابر بھی پاکستان حاصل کرنا انکی کوئی ضد نہیں بلکہ آقا و مولا کے دیئے ھوۓ حکم کی ھر حالت میں تعمیل کو یقینی بنانا تھا. 


تقسیم ھند کے بعد آپ پاکستان تشریف لائے، مملکت خدا داد کے پہلے گورنر جنرل بنے تو کابینہ کے اجلاس میں ماتحت افراد و افسران اور حکم دیا کہ جو بھی وزیر کابینہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے آئے وہ اپنے گھر سے چائے پی کر آئے، مجھے اور وزراء کو صرف سادہ پانی پیش کیا جائے غریب اور نو زائیدہ مملکت کا خزانہ اس اسراف کا متحمل نہیں ھو سکتا، پھر تاریخ گواہ ہے جب تک آپ اپنےعہدے پر فائز رہے کابینہ کے ھر اجلاس میں سبکو صرف سادہ پانی ہی پیش کیا گیا. بیت المال کے ایک ایک پیسے کو قوم کی امانت سمجھا۔


تنخواہ کا چیک نہ ھونے کے برابر، آپ پاکستان کے وہ واحد سربراہ تھے جنہوں نے اپنی وصیت  میں اپنے تمام اثاثہ جات تک مملکت خدا داد کو وقف کر دیئے اور سرکار نبی پاک کے دربار پر وقار میں سرخ رو ھوۓ. 


قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ پر وہی مکتبہء یا سوچ یہ الزام بھی لگاتی ھے کہ قیامِ پاکستان کے بعد اگر بھارت کی طرح سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو پاکستان کو سربراہ بنا دیا جاتا تو بہتر تھا، قائد اعظم خود بنے، یہ بھی انکی سیاسی غلطی بھی، مخالفین اگر ذرا سی بھی عقل سے سوچیں تو اُنکو اندازہ ہو کہ بھارت ایک سیکولر ریاست تھا، پاکستان نہیں، کیسے ممکن ہوتا کہ ایک نو زائدہ نظریاتی مسلمان ملک کا سربراہ کوئی غیر مسلم ھو۔


یہ تھی امانت، دیانت اور عظیم قائد کی صداقت. اللّه میرے قائد کی روح کو تسکین بخشے، کتنے پریشان ھوتے ھوں گے ملک کی موجودہ حالت کو دیکھ کر، یہ کوئی صاحب درد ہی محسوس کر سکتا ہے، عام پاکستانی یا آج کے نام نہاد سیاست دان ہر گز نہیں...


احقر العباد:-

جی۔ایم چوھان،

25 دسمبر 2021ء

ہفتہ، 10 جولائی، 2021

ہم نہ ہونگے کوئی ہم سا ہوگا, Ham Na Hongay Koi Hamsa Hoga

  #صدائے_درویش.

ہم نہ ہونگے کوئی ہم سا ہوگا

پتہ نہیں ہم شہرت کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی اتنے مصروف کیوں ہو جاتے ہیں کہ پرانے رشتے ناطے, جملہ دوست احباب کیوں بھول جاتے ہیں، یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ یہاں کوئی چیز بھی دائمی نہیں، مدام و دائم اللّہ ربّ العزت کی ذاتِ گرامی ہے، انسان تو کمزور و بے بس ہے، میں یا آپ ایک حقیقت کی طرح دنیا کی کتاب میں ابھی اس وقت موجود ھیں شائید اگلے ہی لمحے نہ ہوں، پیوند خاک ہو جائیں، ماضی کا حصّہ بن جائیں۔ دنیا کی بے ثباتی کو یاد رکھنا ہی دانش مندی ھے۔


خالی ہاتھ آئے تھے خالی ہی لوٹ جانا ہے، عزت، دولت اور شہرت سب یہاں ہی دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، بس سانسوں کی پھرتی ہوئی مالا ٹوٹنے کی دیر ہے صاحب، پھر کیا "قلندر اور کیسا تونگر" سب منوں مٹّی کے نیچے سبھی ایک ہونگے میرے صاحب۔ سب کے سب دانے بکھر جائیں گے، صور قیامت سے پہلے کبھی بھی اکٹھے نہ ہونے تک۔ سب سانسوں کے "آواگون" کا کھیل ہے میرے دوستو، کسی کے نہ ہونے سے کارخانہء حیات رکا نہیں، سب چلتا رہے گا، قارون، فرعون اور شدّاد تک خالی ہاتھ چلے گئے، پھر بھلا ہم کس "کھیت کی مولی" ہیں اگر یقین نہ ہو تو تمام تر سچائیوں اور خلوصِ نیّت کیساتھ ایک چکّر قبرستان کا لگا کر دیکھ لیں  "دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی" ہوجائے گا۔


"دائم آباد رہے گی دُنیا،

ہم نہ ہونگے کوئی ہم سا ہوگا"


ایک دوسرے سے بلا تکلّف ملتے جلتے رہیئے رشتوں کو جوڑیئے للّٰہ توڑئیے نہیں،  اس سے پہلے کہ ھم ایک دوسرے کو ملتے جلتے رہنے کی خواہش کو دل میں لئے ہی اسی مٹّی کا ڈھیر کا دائمی حصّہ ہو جائیں جس پر رہتے ہوئے ہم اپنے اپنے اندر انانیت کے بت پال رہے ہیں، جس  پر ہم اپنے پیاروں کو بھلائے بیٹھے ہیں۔


شب بخیر:-

جی۔ایم چوہان۔

05 جولائی 2021ء

ہفتہ، 19 جون، 2021

Kisidor men, جب علم بکنا شروع ہو جائے وہاں سے ادب خاموشی سے کوچ کرجاتا ہے


جب علم بکنا شروع ہو جائے وہاں سے ادب خاموشی سے کوچ کرجاتا ہے 

میرے دوستو! 


کسی دور میں علم بیش قیمت سرمایہ ہوا کرتا تھا، لوگ نہ تو علم خرید سکتے تھے اور نہ ہی بیچنے والا علم کی قیمت وصول کرتا تھا نہ ہی استاد جانتا تھا کہ کتنی قیمت وصول کرے، انمول جو تھا اس لئے مفت ہی بانٹا جاتا تھا، صدقہء جاریہ سمجھ کر، کسی دور میں حصولِ علم کیلئے لوگ دور و دراز ممالک کا سفر کیا کرتے تھے، در در کی خاک چھان کر کرتے تھے اور پھر حاصل شدہ سرمایہ کو ضرب دیکر اُسے فی سبیل اللہ تقسیم بھی کیا کرتے تھے، آج علم آپکے dor step پر ہے، موبائل کے ایک ٹچ کی دوری پر ہے، جب دوریاں ختم ھو کر بلکل نزدیکیاں پیدا ہو ہیں تو آسانی سے حاصل شدہ چیز کی اہمیت بھی کم ہوتی چلی جاتی ہے، یہ ناقدری ہے علم کی اور بہتات بھی، علم تو ہے، بحث برائے بحث ہے مگر عمل نہیں۔ کسی زمانے میں پڑھا تھا کہ "زہر کیا ہے؟ تو کسی دانا نے جواب دیا کسی بھی چیز کی کثرت" آج آپ اپنے گرد و نواح پر نظر ڈالیں تو ہمارے معاشرے میں یہ زہر جگہ جگہ پھیلا ہوا ملے گا، یہی وجہ ہے کہ کسی کی بات سن کر اُسے سر خم تسلیم کرکے مان لینے کی رسم بھی ختم ہو گئی، بحث و مباحثہ، دلائل سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش، تعمیری سوچ اور مثبت عمل ندارد، علمی بہتات مگر ادب واحترام ختم۔ للّٰہ خریدے یا بیچے گئے علم سے دوری اختیار کریں۔


اب ھم بد قسمتی سے بہت زیادہ پروفیشنل ھو چکے ہیں، علم سود مند ھو یا ناقص اسے فروخت کرتے ہیں ضرورت مندوں سے منہ مانگی قیمت بھی وصول کرنے کا ہنر جانتے ہیں، یہی وجہ ھے جو تعلیم کا وہ معیار باقی نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا، استاد علم فی سبیل اللّٰہ بانٹا تھا تو شاگرد بھی استاد کی عزت کرتے تھے باپ سے زیادہ عزت و مقام و مرتبہ بھی ہوا کرتا تھا، پھر والدین کے ہاتھ میں دولت کی تلوار آگئی، علم دولت کے بل بوتے پر خریدا جانے لگا، نتیجتاً حصولِ علم کی خواہش اور جستجو طالبِ علم کے ذہن سے نکلتی گئی، والدین بھی اپنی عزت گنوا بیٹھے، علم کی قیمت جو چکائی تھی، علم کو بے توقیر کیا تھا، خود بھی اولاد کی نظر میں ہوتا چلا گیا، اگر علم بیچ کر ہم صرف پیٹ پالنے ایک ہی محدود رہتے تو بہتر تھا آج ہم اپنا علم بیچ کر خاندان پالتے ہیں۔


پرائیویٹ تعلیمی ادارے علم کی قیمت وصول کرکے ہی اُنہیں چلا رہے ہیں، یہ تلخ حقیقت ہے کہ تعلیمی ادارے علم تو بیچتے ہیں لیکن ادب بلکل بھی نہیں، اسکا مطلب یہ ہوا کہ ادب علم سے زیادہ بیش قیمت ہے، بک اسلئے نہیں سکا کہ اب معاشرے میں ادب و احترام کی چنداں ضرورت نہیں رہتی، میرے نزدیک ادب کی اہمیت علم سے زیادہ ہے، اللّٰہ ربّ العزت جس کو بھی چاہے نواز دے، کورے ان پڑھ کو بھی ادب حصولِ علم کا پہلا دروازہ ہے۔ معاشرے میں ایسی ہی صورت حال دیکھ کر آج سے صدیوں پہلے سلطان العارفین حضرت سلطان باہو رحمت اللہ علیہ نے اپنی شاعری میں ہم سب کو متنبہ کر دیا تھا کہ:-


"علم سکھیا پر ادب ناں سکھیا،

کی کرنا علم نوں پڑھ کے ہُو۔"


میرے دوستو!


جب علم بکنا شروع ہو جائے وہاں سے ادب خاموشی سے کوچ کرجاتا ہے، یہی وجہ ہے مدرسہ یا اسکول آج ایک تربیت گاہ نہیں محض کمائی کا مرکز بن کر رہ گئے ہیں۔


مدرسہ ہو یا عام معاشرہ اس میں جب کسی بھی چیز کی بولی لگنا شروع ہو جائے اور حسبِ ضرورت لوگ اُسے خریدنا بھی شروع ہو جائیں تو بہتات ہو جاتی ھے، اہمیت پیسے کی ہوجاتی ہے، ادب و احترام، تہذیب و تمدن کی نہیں، یہی ہمارا اس وقت سب سے بڑا المیہ ہے۔ حضرت بابا بلھے شاہ شاہ نے آج سے کوئی تین سو سال پہلے ہی لوگوں کو آگاہ کرکے "علموں بس کریں او یار" کا نعرہء مستانہ لگا دیا تھا، نتیجتاً بعد از مرگ اس وقت کے علم کے ٹھیکیداروں نے آپکا جنازہ پڑھنے اور اُنہیں اپنے قبرستان میں دفن کرنے دینے سے بھی یکسر انکار کردیا تھا۔ شنید ہے کہ آپ کے جسدِ خاکی کو ہیجڑوں اٹھا کر قصور شہر  سے دو کوس کے فاصلے پر رات کے اندھیرے میں لے جاکر دفن کر دیا گیا تھا کیوں کہ آپ کے پاس علم کے ساتھ ساتھ ادب و احترام بھی تھا، علم کے ٹھیکیدار آپکے جسدِ خاکی سے بھی ڈرتے تھے۔


طالبِ دعا اور دعا گو،

جی۔ایم چوہان،

18 جون 2021ء کی ایک تپتی ہوئی دوپہر۔

ہفتہ، 22 مئی، 2021

Zara Socheye, Sabar Shukar Insaniat Ya Ghussa Hasad Janoon

 "حاصل مطالعہ"

ذراسوچئے

صبر، شکرگزاری، سکون، انسانیت۔ یا غصہ، جنون، حسد ۔

فرض کیجئے آپ چائے کا کپ ہاتھ میں لئے کھڑے ہیں اور کوئی آپ کو دھکّا دے دیتا ہے، تو کیا ہوتا ہے۔ آپ کے کپ سے چائے چھلک جاتی ہے۔ اگر آپ سے پوچھا جائے کہ آپ کے کپ سے چائے کیوں چھلکی تو آپ کا جواب ہوگا کیونکہ فلاں نے مُجھے دھکّا دیا۔


غلط جواب:-


درست جواب یہ ہے کہ آپ کے کپ میں چائے تھی اسی لئے چھلکی, آپ کے کپ سے وہی چھلکے گا جو اس میں ہے۔ 

اسی طرح جب زندگی میں ہمیں دھکّے لگتے ہیں، لوگوں کے رویوں سے تو اس وقت ہماری اصلیت ہی چھلکتی ہے۔ 

آپ کا اصل اس وقت تک سامنے نہیں آتا جب تک آپ کو کوئی دھکّا نہ لگے۔


تو دیکھنا یہ ہے کہ جب آپ کو دھکّا لگا تو کیا چھلکا؟

صبر، خاموشی، شکرگزاری، رواداری، سکون، انسانیت۔


یا


غصہ، کڑواہٹ، جنون، حسد، نفرت، حقارت۔

چن لیجئے کہ ہمیں اپنے کردار کو کس چیز سے بھرنا ہے، فیصلہ ہمارے اختیار میں ہے۔

جمعرات، 15 اپریل، 2021

Doure Hazir Aur Uskay Asri Aur Askari Taqazay, عصری تقاضےاورپاکستانی سیاست پر اُسکے اثرات


عصری تقاضےاورپاکستانی سیاست پر اُسکے اثرات۔


میرے دوستو!


میرا ذاتی تجزیہ اور مشاہدہ ھے کہ ھم لوگ پیدا ھی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور بلیک میل کرکے "un due benefits" حاصل کرنے کے لئے ہوئے ہیں، جناب جہانگیر ترین نے عمران خان پر انویسٹمنٹ کی ہے، ہر طرح سے ساتھ دیا ہے، اب خان کو اقتدار ملا ہے تو وہ بینیفٹس بھی تو لے گا، رہی پاور شو کی بات، تو چپڑاسی سے لیکر چیف سیکرٹری، اور ایک عام بی۔ڈی ممبر سے لے کر پرائم منسٹر تک ہر کوئی "Power show" ہی کر رہا ہے کہ جیسے زندگی بھر کبھی اختیارات دیکھے ہی نہ ہوں، یقین جانئے ہم عجیب سی شو باز گروہ کے ہم فرد ہیں، آج ہم ایک دوسرے کیساتھ مخلص ہو جائیں تو آدھے زائید مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے، کیوں کہ سب کے سب ایک دوسرے کو ہر حال میں نیچا دکھانے کیلئے پیدا ہی ہم نے خود کئے ہیں, حالانکہ عصرِ حاضر کا اوّلیں تقاضہ ہے کہ میدانِ سیاست ہو یا معاشی ترقّی کے منصوبے، حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار، عام سول عدالتیں سب کو ہی ملک و قوم کے وسیع تر قومی مفاد میں ایک دوسرے کے ساتھ اس انتہائی بدترین وقت میں کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑا ہونا چاہئے تھا، نہ کہ بدترین مخاصمت۔


سول بیوروکریسی، انتہائی معذرت کے ساتھ کے "عدلیہ" اور مافیاز کی کثرت عمران خان کو صحیح طرح سے کھل کر کام کرنے کا موقع دے ہی نہیں رہی، پروپیگنڈہ ایسا ایسا زہریلا کہ الحفیظ و الامان کہ لوگوں کو ورغلا کر ایسا mind set تیار کردیا جو سرِ عام یہ کہتا پھر رہا ہے کہ عمران خان ووٹ کی طاقت سے نہیں آیا، "خلائی مخلوق" لائی اور وہی اسے سپورٹ بھی کررہی ہے، کورونا اور خان حکومت کی وضع کردہ غلط پالیسیز کی وجہ سے بیروزگاری اور مہنگائی کا ایسا طوفانِ بدتمیزی اٹھا ہے کہ اللہ کی پناہ۔

یہاں صرف حوالے کے طور پر گزشتہ سال چینی کی فاضل پیداوار کو عالمی منڈی میں فروخت کرنے کا حکم کہ جس میں شوگر ملز مالکان کو سرکاری خزانے سے اربوں روپے کی سبسڈی بھی دی گئی، ملک میں چینی کے ساتھ ساتھ آٹے کا بھی مصنوعی بحران پیدا کیا گیا، ایکسپورٹ شدہ چینی کی جگہ بیرونِ ملک سے چینی امپورٹ کرکے کروڑوں روپیس کا زر مبادلہ خرچ کر دیا گیا، اسی طرح سے آٹے کے بحران پر بھی قابو پانے کیلئے جلد بازی میں ایسے اقدامات کئے گئے جن کا تمام فائدہ بھی بل الواسطہ یا بلا واسطہ سرمایہ کاروں کو ہی ہوا، عام بندے جو دھکّے کھانے کیبعد 10کلو کے آٹے کا تھیلا۔ جو بحران پیدا کیا گیا اس سے ایک طرف تو کثیر ذر مبادلہ ضائع ہوا تو دوسری طرف عوام اور ملکی دفاع پر معمور اداروں کے افراد کو یہ جتلایا گیا کہ سب کیا دھرا فوج کا ہی ہے، بغاوت کرو، افسران کو Dis obay کرو، پھر جو جو کچھ بھی ہوا یا PDM کے جلسوں میں اس اتحاد نے کیا یا کہا وہ بھی تلخ حقیقت اور کسی سے بھی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔


اس سے پاکستان مخالف قوّتوں کو دو فائدہ حاصل ہوئے ہیں، اس کھینچا تانی میں عمران خان کو اپنے اہداف و ملکی مسائل پر فوکس کرنے ھی نہیں دیا گیا تو دوسری طرف فوج کی پشت پناہی پر آنے والا سمجھ کر عوام میں فوج کی اعلیٰ کمان کے خلاف بدگمانی مزید بڑہائی گیم

اسے کہتے ہیں "ایک تیر سے دو شکار" خان صاحب اپنے لئے ہر قدم پر مسائل خود پیدا کر رھے ھیں، انکو کرکٹ اور سیاست میں فرق کو سمجھنا چاہئے جو فی الوقت کہ بہُت ضروری ہے۔ ڈسکہ کی سیٹ کا ہاتھ سے نکل جانا اس بات کی واضح علامت ہے کہ عوام کے ہاتھ میں جو ووٹ کی طاقت ہے یا اُسکو کو استعمال کرنے کا جو اختیار ہے وہ "ڈسکہ الیکشن" میں خطرے کی گھنٹی کے طور پر وہاں کے ووٹر اسے بجا چکے ھیں۔


جہانگیر ترین صاحب پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، تیسری سیاسی پارٹی کے ظہور پذیر ہونے کے بھی واضح امکانات موجود ہیں جس میں چاروں صوبوں سے اہل اور محب وطن سیاسی قیادت کو بھی آگے لا کر ملک بھر میں سے موروثی سیاست کو بھی شائید ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا جائے گا۔ 

دعا گو ہوں اللہ جو بھی کرے وہ سب وطنِ عزیز اور عام پاکستانی کے مجموعی مفاد میں ہو ورنہ خانہ جنگی کی سی کیفیت بھی پیدا ھو سکتی ہے کہ جس کا وطنِ عزیز کسی بھی صورت میں متحمل ہو ہی نہیں سکتا، یہی پاکستان کے دشمنوں کا آخری مہرا اور آخری پلان بھی ہے۔


آپ سب کا:-

غلام محمد چوہان۔

۱۳.۰۴.۲۰۲۱.

بدھ، 14 اپریل، 2021

Anchore Haroon Rasheed Ka Mulk Ko Sanaati Taraqi ki Taraf Layjanay Ka Mashwara, ملک کو صنعتی ترقی کی طرف لے جانے کا مشورہ


آخرِشب۔

ملک کو صنعتی ترقی کی طرف لے جانے کا ہارون الرشید عباسی کا مشورہ

ہارون الرشید عباسی کے پروگرام مقابل میں اُنکے ایک تبصرے کے جواب میں چند الفاظ،فقیرِ حقیر کی طرف سے پوری پاکستانی قوم کے نام۔


آپ نے ملک کو صنعتی ترقی کی طرف لے جانے کا مشورہ دیا ہے، ساتھ ہی ساتھ کسی بھی ہنر میں یکتاء اور تعلیم یافتہ بھی، آپکی بات اور مشورہ سر آنکھوں پر، مگر سرکار میری اس ملک میں جمہوری اداروں کی ناقص پالیسیز کی وجہ سے یہاں پر جو انڈسٹری تھی وہ بھی بند ہوچکی یا بیرونِ ملک شفٹ ہو گئی، نئی اب کون لگائے گا؟ ہر طرح کے خوف اور دباؤ کی وجہ سے بھی یہاں سے سرمایہ دار چلا گیا، پیسہ بھی گیا، اتنا گیا کہ اگر واپس ملک میں واپس آجائے تو زر مبادلہ کے ذخائر قرضہ اُتر جانے کے بعد تگنے سے اوپر ہو جائیں گے، آخر ڈالر ملک میں ھے تھا تو باہر گیا، آپ ملکی ترقّی کیلئے تعلیم اور ہنر جو ترجیح قرار دے رہے ہیں، میں اس سے متفق نہیں ہوں۔


غور سے سنیئے اور یہ میرا ایمان ہے کہ ان پڑھ جاھل یا نیم خواندہ اقوام بھی اگر پوری دیانتداری کے ساتھ (ایمانداری نہیں، دیانتداری) اپنی قوم و ملک کو اپنی پہلی ترجیح سمجھ لیں اُسکی ترقّی کیلئے کوشاں ہوں تو وہ ملک اس دور میں بھی ترقّی کی تمام منازل طے کرسکتا ہے، نئے سرے سے پاکستان بھی، مرحوم صدر ایوب خان کے دور حکومت کو ہی دیکھ لیں، جاپان کے بعد ایشیا بھر میں ترقّی کی دوڑ میں ہم دوسرے نمبر پر تھے، آج کہاں ہیں؟ 

جنوبی کوریا جس کو پہلا پانچ سالہ منصوبہ پاکستان کے ایک سابق وزیرِ خزانہ نے بنا کر دیا تھا، جس ملک کے آبی نظام اور برقی نظام (واپڈا) کو دوسرے ملک اسٹڈی کرنے کیلئے آیا کرتے تھے، کراچی کی ترقّی کو مثال بنا کر ملکوں ملکوں بتایا کرتے تھے، اسکی تقلید میں انہوں نے اپنے اپنے ممالک میں ترقّی کا جال بچھایا، آج اس کراچی بلکہ پورے وطنِ عزیز کا کیا حال ہے, اب وہ پاکستان کہاں ہے؟ وہ ترقّی کہاں چلی گئی، رُک کیوں گئی؟ 

تائیوان، سری لنکا، بھارت اور بنگلہ دیش ہم سے معاشی اور صنعتی ترقی میں کہیں آگے ہیں، کیوں؟


ہارون صاحب!


اقوام کو آگے بڑھنے کیلئے مذہب سے بھی کہیں زیادہ دیانتداری کی ضرورت ہوا کرتی ہے، چھوٹا منہ اور بڑی بات کی ہے، مجھے پتہ ہے کہ دیانتداری کو میں مذہب اور عقائد پر ترجیح دی ہے، لیکن یہ سچ ہے، مگر انتہائی کڑوا سچ، آپ بشمول اپنے اور میرے اپنا اپنا جائزہ لیں کہ کیا ھم ایک دیانتدار قوم کے افراد ہیں؟ اُس تعلیم سے کہیں زیادہ وہ جہالت زیادہ اچھی جس میں کسی بھی قوم کا اوڑھنا بچھونا ہی دیانتداری ہو، تعلیم اور ہنر کی اہمیت سے انکار نہیں، ہمارا ہدف دیانتداری ہونا چاہئے، مُجھے اچھی طرح یاد ہے ایک فوجی آمر کے دورِ حکومت میں ہماری نصابی کتب کے سر ورق پر گول دائرے میں "امانت،دیانت، صداقت، شرافت" لکھا ہوا ہوتا تھا،واللہ! آج ہمیں ان چاروں الفاظ کی اس دور سے بھی کہیں زیادہ اشد ضرورت ہے، تعلیم اور ہنر میں یکتاء ھونا میرے لئے ثانوی عمل ہے، یقین جانئے اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہم جہاں آج کھڑے ہیں آئندہ مستقبل قریب میں اقوام کی ترقّی کی فہرست میں اس سے بھی پیچھے کھڑے ہونگے، آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔


خیر اندیش:-


غلام محمد چوہان،

12.04.2021.

بدھ، 12 اگست، 2020

Meri Wafat Kay Baad

حاصلِ مطالعہ ۔ منقول

 میری وفات کے بعد... 

موسم سرما کی ایک انتہائی ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی۔


اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے دوائیں تبدیل کیں مگر میں خلافِ معمول خاموش رہا۔


دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔ جو بیٹا پاکستان میں تھا وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔ چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں دونوں یونیسف کے سروے کے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔


لاہور والی بیٹی کو میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں بے حد مصروف ہے اور بچوں کی وجہ سے خود اس کا آنا بھی مشکل ہے۔

رہے دو لڑکے جو بیرون ملک ہیں انہیں پریشان کرنے کی کوئی تُک نہ تھی. 

میں میری بیوی گھر پر تھے اور ایک ملازم جو شام ڈھلے اپنے گھر چلا جاتا تھا۔


عصر ڈھلنے لگی تو مجھے محسوس ہوا کہ نقاہت کے مارے بات کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ میں نے اپنی پرانی ڈائری نکالی، بیوی کو پاس بٹھا کر رقوم کی تفصیل بتانے لگا جو میں نے وصول کرنا تھیں اور جو دوسروں کو ادا کرنا تھیں۔


 بیوی نے ہلکا سا احتجاج کیا:

 ” یہ تو آپ کی پرانی عادت ہے ذرا بھی کچھ ہو تو ڈائری نکال کر بیٹھ جاتے ہیں“

مگر اس کے احتجاج میں پہلے والا یقین نہیں تھا۔ پھر سورج غروب ہوگیا۔ تاریکی اور سردی دونوں بڑھنے لگیں۔ بیوی میرے لیے سُوپ بنانے کچن میں گئی۔ اس کی غیر حاضری میں مَیں نے چند اکھڑی اکھڑی سانسیں لیں اور........... میری زندگی کا سورج غروب ہو گیا۔


مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں آہستہ آہستہ اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں۔ پھر جیسے ہوا میں تیرنے لگا اور چھت کے قریب جا پہنچا۔

بیوی سُوپ لے کر آئی تو میں دیکھ رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس پر سکتہ طاری ہوا اور پھر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ میں نے بولنے کی کوشش کی. یہ عجیب بات تھی کہ میں سب کچھ دیکھ رہا تھا مگر بول نہیں سکتا تھا۔


لاہور والی بیٹی رات کے پچھلے پہر پہنچ گئی تھی۔ کراچی سے چھوٹی بیٹی اور میاں صبح کی پہلی فلائیٹ سے پہنچ گئے۔

بیٹے تینوں بیرون ملک تھے وہ جلد سے جلد بھی آتے تو دو دن لگ جانے تھے۔ دوسرے دن عصر کے بعد میری تدفین کر دی گئی۔


 شاعر، ادیب، صحافی، سول سرونٹ سب کی نمائندگی اچھی خاصی تھی۔ گاؤں سے بھی تقریباً سبھی لوگ آ گئے تھے۔ ننھیا ل والے گاؤں سے ماموں زاد بھائی بھی موجود تھے۔


لحد میں میرے اوپر جو سلیں رکھی گئی تھیں مٹی ان سے گزر کر اندر

آ گئی تھی۔ بائیں پاؤں کا انگوٹھا جو آرتھرائٹس کا شکار تھا، مٹی کے بوجھ سے درد کر رہا تھا۔

پھر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔

شاید فرشتے آن پہنچے تھے۔ اسی کیفیت میں سوال و جواب کا سیشن ہوا۔


یہ کیفیت ختم ہوئی۔

محسوس ہو رہا تھا کہ چند لمحے ہی گزرے ہیں مگر فرشتوں نے بتایا کہ پانچ برس ہو چکے ہیں تمہیں فوت ہوئے ۔

پھر فرشتوں نے ایک عجیب پیشکش کی:

 ” ہم تمہیں کچھ عرصہ کے لیے واپس بھیج رہے ہیں۔ تم وہاں دنیا میں کسی کو نظر نہیں آؤ گے. گھوم پھر کر اپنے پیاروں کو دیکھ لو،

پھر اگر تم نے کہا تو تمہیں دوبارہ نارمل زندگی دے دیں گے ورنہ واپس آ جانا “

میں نے یہ پیشکش غنیمت سمجھی اور ہاں کر دی۔


پھر ایک مدہوشی کی حالت چھا گئی۔ آنکھ کھلی تو میں اپنی گلی میں کھڑا تھا۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اپنے گھر کی جانب چلا۔ راستے میں کرنل صاحب کو دیکھا۔ گھر سے باہر کھڑے تھے۔ اتنے زیادہ بوڑھے لگ رہے تھے۔ خواجہ صاحب بیگم کے ساتھ واک کرنے نکل رہے تھے۔


 اپنے مکان کے گیٹ پر پہنچ کر میں ٹھٹھک گیا۔ میرے نام کی تختی غائب تھی۔ پورچ میں گاڑی بھی نہیں کھڑی تھی۔ وفات سے چند ہفتے پہلے تازہ ماڈل کی خریدی تھی دھچکا سا لگا۔

گاڑی کہاں ہوسکتی ہے؟

بچوں کے پاس تو اپنی اپنی گاڑیاں تھیں تو پھر میری بیوی جو اب بیوہ تھی، کیا گاڑی کے بغیر تھی؟


دروازہ کھلا تھا۔ میں سب سے پہلے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اپنی لائبریری میں گیا۔ یہ کیا؟

کتابیں تھیں نہ الماریاں

رائٹنگ ٹیبل اس کے ساتھ والی مہنگی کرسی، صوفہ، اعلیٰ مرکزی ملازمت کے دوران جو شیلڈیں اور یادگاریں مجھے ملی تھیں اور الماریوں کے اوپر سجا کر رکھی ہوئی تھیں۔ بے شمار فوٹو البم، کچھ بھی تو وہاں نہ تھا۔


مجھے فارسی کی قیمتی ایران سے چھپی ہوئی کتابیں یاد آئیں، دادا جان کے چھوڑے ہوئے قیمتی قلمی نسخے، گلستان سعدی کا نادر نسخہ جو سونے کے پانی سے لکھا ہوا تھا اور دھوپ میں اور چھاؤں میں الگ الگ رنگ کی لکھائی دکھاتا تھا. 


داداجان اور والد صاحب کی ذاتی ڈائریاں سب غائب تھیں۔ کمرہ یوں لگتا تھا، گودام کے طور پر استعمال ہو رہا تھا. سامنے والی پوری دیوار پر جو تصویر پندرہ ہزار روپے سے لگوائی تھی وہ جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی. 


میں پژمردہ ہوکر لائبریری سے باہر نکل آیا۔ بالائی منزل کا یہ وسیع و عریض لاؤنج بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ یہ کیا؟

اچانک مجھے یاد آیا کہ میں نے چکوال سے رنگین پایوں والے سُوت سے بُنے ہوئے چار پلنگ منگوا کر اس لاؤنج میں رکھے تھے شاعر برادری کو یہ بہت پسند آئے تھے وہ غائب تھے۔


نیچے گراؤنڈ فلور پر آیا، بیوی اکیلی کچن میں کچھ کر رہی تھی۔ میں نے اسے دیکھا۔ پانچ برسوں میں اتنی تبدیل ہو گئی تھی میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کیسے پوچھوں کہ گھٹنوں کے درد کا کیا حال ہے؟

ایڑیوں میں بھی درد محسوس ہوتا تھا۔ دوائیں باقاعدگی سے میسر آرہی تھیں یا نہیں؟

میں اس کے لیے باقاعدگی سے پھل لاتا تھا۔ نہ جانے بچے کیا سلوک کر رہے ہیں؟ 

مگر... میں بول سکتا تھا نہ وہ مجھے دیکھ سکتی تھی۔


اتنے میں فون کی گھنٹی بجی بیوی بہت دیر باتیں کرتی رہی۔ جو اس طویل گفتگو سے میں سمجھا یہ تھا کہ بچے اس مکان کو فروخت کرنا چاہتے تھے۔ ماں نے مخالفت کی کہ وہ کہاں رہے گی۔ بچے بضد تھے کہ ہمارے پاس رہیں گی. 


میری بیوی کو میری یہ نصحیت یاد تھی کہ ڈیرہ اپنا ہی اچھا ہوتا ہے مگر وہ بچوں کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈال رہی تھی۔

گاڑی کا معلوم ہوا کہ بیچی جاچکی تھی۔ بیوی نے خود ہی بیچنے کے لیے کہا تھا کہ اسے ایک چھوٹی آلٹو ہی کافی ہو گی۔


اتنے میں ملازم لاؤنج میں داخل ہوا۔

یہ نوجوان اب ادھیڑ عمر لگ رہا تھا۔

میں اس کا لباس دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ اس نے میری قیمتی برانڈڈ قمیض جو ہانگ کانگ سے خریدی تھی پہنی ہوئی تھی۔ نیچے وہ پتلون تھی جس کا فیبرک میں نے اٹلی سے خریدی تھی. اچھا... تو میرے بیش بہا ملبوسات ملازموں میں تقسیم ہو چکے تھے. 

میں ایک سال لوگوں کی نگاہوں سے غائب رہ کر سب کو دیکھتا رہا۔


ایک ایک بیٹے بیٹی کے گھر جا کر ان کی باتیں سنیں۔ کبھی کبھار ہی ابا مرحوم کا یعنی میرا ذکر آتا وہ بھی سرسری سا۔

ہاں...

زینب، میری نواسی اکثر نانا ابو کا تذکرہ کرتی۔ ایک دن ماں سے کہہ رہی تھی:

” اماں... یہ بانس کی میز کرسی نانا ابو لائے تھےنا جب میں چھوٹی سی تھی اسے پھینکنا نہیں“

ماں نے جواب میں کہا:

” جلدی سے کپڑے بدل کر کھانا کھاؤ پھر مجھے میری سہیلی کے گھر ڈراپ کردینا“


میں شاعروں ادیبوں کے اجتماعات اور نشستوں میں گیا۔ کہیں اپنا ذکر نہ سنا۔ وہ جو بات بات پر مجھے جدید غزل کا ٹرینڈ سیٹر کہا کرتے تھے جیسے بھول ہی تو چکے تھے۔

اب ان کے ملازموں نے میری کتابیں بھی الماری  سے ہٹا دی تھیں۔


ایک چکر میں نے قبرستان کا لگایا۔

میری قبر کا برا حال تھا. گھاس اگی تھی۔ کتبہ پرندوں کی بیٹوں سے اٹا تھا۔ ساتھ والی قبروں کی حالت بھی زیادہ بہتر نہ تھی۔


ایک سال کے جائزے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میری موت سے دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ زرہ بھر بھی نہیں. 

بیوی یاد کر لیتی تھی تاہم بچے پوتے نواسے پوتیاں سب مجھے بھول چکے تھے ۔


ادبی حلقوں کے لیے میں اب تاریخ کا حصہ بن چکا تھا۔ جن بڑے بڑے محکموں اور اداروں کا میں سربراہ رہا تھا وہاں ناموں والے پرانے بورڈ ہٹ چکے تھے۔


دنیا رواں دواں تھی۔ کہیں بھی میری ضرورت نہ تھی۔ گھر میں نہ باہر. پھر تہذیبی، معاشرتی اور اقتصادی تبدیلیاں تیزی سے آ رہی تھیں اور آئے جا رہی تھیں. 


ہوائی جہازوں کی رفتار چار گنا بڑھ چکی تھی۔ دنیا کا سارا نظام سمٹ کر موبائل فون کے اندر آ چکا تھا۔ میں ان جدید ترین موبائلوں کا استعمال ہی نہ جانتا تھا۔


فرض کیجئے،

میں فرشتوں سے التماس کر کے دوبارہ دنیا میں نارمل زندگی گزارنے آ بھی جاتا تو کہیں بھی ویلکم نہ کہا جاتا. بچے پریشان ہو جاتے ، ان کی زندگیوں کے اپنے منصوبے اور پروگرام تھے جن میں میری گنجائش کہیں نہ تھی.


ہو سکتا تھا کہ بیوی بھی کہہ دے کہ تم نے واپس آ کر میرے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ مکان بک چکا،

میں تنہا تو کسی بچے کے پاس رہ لیتی، دو کو اب وہ کہاں سنبھالتے پھریں گے.

دوست تھوڑے بہت باقی بچے تھے۔

وہ بھی اب بیمار اور چل چلاؤ کے مراحل طے کر رہے تھے. میں واپس آتا تو دنیا میں مکمل طور پر اَن فِٹ ہوتا۔ نئے لباس میں پیوند کی طرح۔

جدید بستی میں پرانے مقبرے کی طرح. 


میں نے فرشتے سے رابطہ کیا اور اپنی آخری خواہش بتا دی۔ میں واپس قبر میں جانا چاہتا ہوں.

فرشتہ مسکرایا۔ اس کی بات بہت مختصر اور جامع تھی:

”ہر انسان یہی سمجھتا ہے کہ اس کے بعد جو خلا پیدا ہو گا، وہ کبھی بھرا نہیں جا سکے گا مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ خلا تو کبھی پیدا ہی نہیں ہوتا “

#حاصل مطالعہ#

منگل، 21 جولائی، 2020

Bawajood Qudrat Kay Bhi Kisi ko Maaf Kardena, Naimate Khudawandi

حاصل مطالعہ (منقول)

قدرت اور طاقت ھونے کے باوجود بھی کسی کو معاف کردینا، نعمت خداوندی

ایک عالم اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لئے کھیتوں میں سے گزر رہے تھے۔
چلتے چلتے ایک پگڈنڈی پر ایک بوسیدہ جوتا دکھائی دیا۔ صاف پتہ چل رہا تھا کہ کسی بڑے میاں کا ہے۔ قریب کے  کسی کھیت کھلیان میں مزدوری سے فارغ ہو کر اسے پہن کر گھر کی راہ لیں گے۔ شاگرد نے جنابِ شیخ سے کہا؛ حضور! کیسا رہے گا کہ تھوڑی دل لگی کا سامان کرتے ہیــــں۔ جوتا ادھر ادھر کر کے خود بھی چھپ جاتے ہیــــں۔ وہ بزرگوار آن کر جوتا مفقود پائیں گے تو ان کا ردِ عمل دلچسپی کا باعث ہو گا۔

 شیخ کامل نے کہا؛ بیٹا اپنے دلوں کی خوشیاں دوسروں کی پریشانیوں سے وابستہ کرنا کسی طور بھی پسندیدہ عمل نہیـں۔ بیٹا تم پر اپنے رب کے احسانات ہیــــں۔ ایسی قبیح حرکت سے لطف اندوز ہونے کے بجائے اپنے رب کی ایک نعمت سے تم اس وقت ایک اور طریقے سے خوشیاں اور سعادتیں سمیٹ سکتے ہو۔ اپنے لئے بھی اور اس بیچارے مزدور کے لئے بھی۔ ایسا کرو کہ جیب سے کچھ نقد سکے نکالو اور دونوں جوتوں میں  رکھ دو۔ پھر ہم چھپ کے دیکھیں گے جو ہو گا۔ بلند بخت شاگرد نے تعمیل کی اور استاد و شاگرد دونوں جھاڑیوں کے پیچھے دبک گئے۔

 کام ختم ہوا، بڑے میاں نے آن کر جوتے میں پاؤں رکھا ۔۔۔ تو سکے جو پاؤں سے ٹکرائے تو ایک ہڑبڑاہٹ کے ساتھ جوتا اتارا تو وہ سکے اس میں سے باہر آ گئے۔ ایک عجیب سی سرشاری اور جلدی میں دوسرے جوتے کو پلٹا تو اس میں سے سکے کھنکتے باہر آ گئے۔ اب بڑے میاں آنکھوں کو ملتے ہیــــں، دائیں بائیں نظریں گھماتے ہیــــں۔ یقین ہو جاتا ہے کہ خواب نہیـں، تو آنکھیں  تشکر کے آنسوؤں سے بھر جاتی ہیــــں۔ بڑے میاں سجدے میں گر جاتے ہیــــں۔ استاد و شاگرد دونوں سنتے ہیــــں کہ وہ اپنے رب سے کچھ یوں مناجات کر رہے ہیــــــــں۔

میرے مولا! میں تیرا شکر کیسے ادا کروں، تو میرا کتنا کریم رب ہے۔ تجھے پتہ تھا کہ میری بیوی بیمار ہے، بچے بھی بھوکے ہیــــں، مزدوری بھی مندی جا رہی ہے ۔۔۔ تو نے کیسے میری مدد فرمائی۔ ان پیسوں سے بیمار بیوی کا علاج بھی ہو جائے گا، کچھ دنوں کا راشن بھی آ جائے گا۔ ادھر وہ اسی گریہ و زاری کے ساتھ اپنے رب سے محو مناجات  تھے اور دوسری طرف استاد و شاگرد دونوں کے ملے جلے جذبات اور ان کی آنکھیں بھی آنسوؤں سے لبریز تھیں۔ کچھ دیر کے بعد شاگرد نے دست بوسی کرتے ہوئے عرض کیا؛ استاد محترم! آپ کا آج کا سبق کبھی نہیـں بھول پاؤں گا۔ آپ نے مجھے مقصدِ زندگی اور اصل خوشیاں سمیٹنے کا ڈھنگ بتا دیا ہے۔ شیخ جی نے موقعِ مناسب جانتے ہوئے بات بڑھائی، بیٹا! صرف پیسے دینا ہی عطا نہیں بلکہ باوجود قدرت کے کسی کو معاف کرنا ﻋﻄﺎﺀ ہے۔ مسلمان بھائی بہن کے لئے غائبانہ دعا  ﻋﻄﺎﺀ ہے۔  مسلمان بھائی بہن کی عدم موجودگی میں اس کی عزت کی حفاظت ﻋﻄﺎﺀ ہے۔
یہ تحریر اوروں کو بھی پڑھائیں یہ صدقہ جاریہ ہوگا اور ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو گا .. جزاک اللہ خیر!

کاپی پیسٹ ۔ منقول
copyshare

پیر، 29 جون، 2020

HAQ Kia hay - حق کیا ہے۔؟

منقول - حاصل مطالعہ

حق کیا ہے۔؟

مسلم شدت پسند کہتے ہیں کہ لبرلز کو ختم کرنا حق ہے۔
لبرلز کہتے ہیں کہ دین اسلام اور مسلمانوں پر سنگین تنقید کرنا حق ہے۔
شیعہ کہتے ہیں کچھ اصحابہ کرام کو برا بھلا کہنا اور منع کرنے والوں کو آل بیت کا منکر کہنا حق ہے۔
سنی کہتے ہیں اہل تشیعوں کو انکے اس طرز عمل کی بنیاد پر کافر کہنا قتل کرنا اور گالیاں دینا حق ہے۔
دیوبندی کہتے ہیں ۱۲ ربیع الاول پر جشن منانے والوں اور درباروں پر جانے والوں کو گالیاں دینا حق ہے۔
جبکہ بریلوی کہتے ہیں ایسا کرنے سے منع کرنے والوں کوگالیاں دینا اور منکر کہنا حق ہے۔ 
یہ تمام گروپس فرقے یا کمیونٹیز اپنی اپنی جگہ "حق" ہی کی بات کررہے ہیں تو پھر کریں کیا؟؟
یہاں سے "ریاست اور حکومت" کا کردار شروع ہوتا ہے جب مختلف گروپس کے اپنے اپنے حق سے شرانگیزی ، خانہ جنگی اور لڑائی جھگڑے کا اندیشہ ہو تو حکومت کو ایک لائن بنانی چاہیئے , کُچھ ضابطہ اخلاق بنانے چاہیئیں, ایک قانون بنانا چاہیئے کہ
لبرلز دین اسلام کا مزاق نہیں اڑائیں گے۔
شدت پسند لادین حضرات کے قتل کا فتوی جاری نہیں کریں گے۔
شیعہ حضرات جلیل القدر اصحابہ کو برا نہیں کہیں گے۔
سنی حضرات شیعہ لوگوں کا کافر نہیں کہیں گے۔
۱۲ ربیع پر جائز حدود کو کراس نہیں کیا جائیگا۔
اور اس قانون پر عمل درآمد کرواتے ہوئے کریک ڈاؤں کرنا چاہیئے۔
لیکن یہ کریک ڈاؤن لبرلز اور لادین حضرات تک محدود نہیں رہنا چاہیئے بلکہ ان تک وسعت دینی چاہیئے جو 
آصحابہ کرام کی توہین کرتے ہیں
جو شیعہ کمیونٹی کو قتل کرنے کا درس دیتے ہیں
جو داعش، بوکو حرام، حزب اللہ، پاسداران انقلاب، حماس اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو اپنا رہبر مانتے ہیں۔
جو سپاہ محمد اور لشکر جھنگوی کی بیعت کا کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں۔
اور جو احمدیوں کو پاکستانی ریاست کا شہری ماننے اور سانس لینے کا حق دینے کو بھی تیار نہیں اور اسکا کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں۔
نوٹ : ان تمام حق کہنے والوں کو انکے حال پر نہیں چھوڑا جاسکتا کیونکہ
لبرلز اسلام کی توہین کریں گے تو شدت پسند انہیں گالیاں بھی دیں گے ماریں گے بھی۔
شدت پسندوں کے پرتشدد رویے پر طاقتور لبرلز بدلے میں انہیں بھی ماریں گے۔
شیعہ اصحابہ کرام کو اعلانا گالیاں دیں گے تو سنی ان کے قتل کے فتوی بھی دیں گے اور کچھ عمل بھی کریں گے۔
سنی جب قتل و غارت کریں گے اور یزید کو عزت دیں گے تو طاقتور شیعہ بھی پورا پورا بدلہ لیتے ہوئے انہیں ضرور ماریں گے۔
نتیجتا پورے ملک میں ہر طرف آگ اور قتل و غارت (اور پاکستان اس طرف بڑھ بھی رہا ہے) لہذا ریاست کا فوری اور سخت ایکشن ہماری بڑی ضرورت بن چکا ہے اب جو کام شروع ہوا ہے اللہ کرے کہ یہ اپنے اختتام تک پہنچے کسی سیاسی یا مسلکی مک مکا کا شکار نہ ہوجائے۔
نجم نامہ

اتوار، 21 جون، 2020

Aik Pegham Mulk Dushmano kay Lie

  حاصل مطالعہ

فوج کو لیکچر دینے والے دانشگردوں کے نام

27 دسمبر 1979: افغان فوجی وردیوں میں ملبوس روسی خفیہ ادارے کے جی بی اور جی آر یو کے کمانڈوز اپنے ٹھکانوں سے نکلے اور انہوں نے صدارتی محل سمیت کابل کی اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرکے افغان صدر حفیظ اللہ امین کو قتل کر دیا۔ چند منٹوں کے اندر اندر افغان حکومت بغیر کسی بڑی مزاحمت کے دھڑام سے گر گئی۔

کچھ ہی دیر بعد ریڈیو کابل سے ایک اعلان نشر ہوا جس میں کہا گیا کہ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما ببرک کارمل نئی افغان حکومت کے سربراہ ہوں گے اور روس نے انہی کی ایما پر یہ فوجی آپریشن کیا ہے۔
سویت یونین برف پوش پہاڑوں سے اٹھا افغانستان آگیا صرف اسکا  حدف پاکستان تھا 

اس وقت کے صدر پاکستان نے امریکی صدر کو فون کیا کہ اگر سویت یونین سے اپنے بدلے لینے ہیں تو بتائیے ۔امریکی صدر نے حامی بھری ۔جنرل ضیاء الحق شہید نے کہا ہماری تین شرطیں ہیں پہلی اسلحہ دو گے کہاں استمعال ہوا نہیں پوچھو گے ۔امداد کا کوئی حساب نہیں ہوگا ۔اور پاکستانی  ایٹم بارے خاموش رہو گے۔امریکی مان گئے

اس وقت سرخوں نے بہت شور مچایا وہی الزام لگا امریکی غلامی کا ۔امریکہ فنڈز لینے کا واویلا 
پھر وقت نے دیکھا سویت یونین ٹوٹا اور شہید ضیاء الحق کو مرد مومن کا خطاب ملا اور تنقید کرنے والوں کے حصے میں لعنت آئی۔مشورے دینے والوں کو شرمندگی ہوئی اور بھاشن دینے والے مٹ گئے۔

وقت گررتا گیا

امریکہ میں نائن الیون حملوں کے ڈراموں کے بعد اکتوبر 2001 میں امریکہ  افغانستان میں آ ٹپکا

نائن الیون حملوں کے دوران پاکستان میں فوجی حکومت تھی اور جنرل پرویز مشرف آرمی چیف اور ملک کے صدر بھی تھے۔
افغانستان کے ساتھ طویل سرحد اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک ہونے کی بدولت امریکہ نے پاکستان سے تعاون طلب کیا۔
اس دوران یہ خبریں بھی عام رہیں کہ اُس وقت کے امریکی نائب وزیرِ خارجہ رچرڈ آرمٹیج نے پاکستان کو تعاون نہ کرنے پر 'دھمکی دی کہ بمباری کے ذریعے اسے پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا۔'
اس سے قبل پاکستان امریکہ کا ساتھ افغانستان میں ہی لڑی جانے والی سویت یونین کے خلاف جنگ میں ساتھ دے چکا تھا۔
افغانستان کا پڑوسی ملک ہونے کے باعث امریکہ کو پاکستان کی مدد درکار تھی۔ لہٰذا اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش نے پاکستان سے مدد طلب کی۔
پرویز مشرف نے بھی مختلف مواقعوں پر انٹرویو کے دوران اس دھمکی کی تصدیق کی۔ البتہ رچرڈ آرمٹیج نے 2006 میں امریکی ٹی وی 'این بی سی' نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اس کی تردید کی تھی۔
رچرڈ آرمٹیج نے کہا تھا کہ پاکستان سے صرف یہ کہا گیا تھا کہ کیا وہ امریکہ کے ساتھ ہے یا نہیں؟
پاکستان نے بظاہر اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کی پاکستان میں فوجی حکومت کی مخالف مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے بھرپور مخالفت کی۔

البتہ جنرل پرویز مشرف نے اس فیصلے کو پاکستان کے وسیع تر مفاد میں قرار دیا۔ پرویز مشرف نے کہا تھا کہ "امریکہ سے محاذ آرائی کی صورت میں پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
"افغانستان میں پاکستان کی کامیابی کے پیچھے جنرل مشرف کی مغرب کیلئے دوغلی اور پاکستان کیلئے ناگزیر حکمت عملی تھی ۔11 ستمبر کے بعد امریکی بپھرے ہوئے تھے پوری دنیا ان کے ساتھ سوگ میں مصروف تھی وہ افغانستان ایک حکمت عملی کے تحت آرہے تھے ۔ کیا اس بدمست جنگی مشین کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے ؟ اس وقت امریکیوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ اور بعد میں امریکیوں کو دھوکہ دینے کا فیصلہ دونوں ٹھیک تھے ۔ان فیصلوں کی بھاری قیمت ادا کی گئی ہے لیکن اس جنگ نے دہشت گردی کے بدترین دور میں پاکستانی معیشت کو زندہ رکھا ۔8 اکتوبر کا خوفناک زلزلہ آیا اور دو بدترین سیلاب آئے ۔توانائی کا بدترین بحران رہا لیکن افغان جنگ کی وجہ سے آنے والے امریکی ڈالروں نے پاکستانی معیشت کو بھی دیوالیہ نہیں ہونے دیا ۔امریکی افغانستان میں پھنسے مرے اور اپنی معیشت کو بھی ستیا ناس کروایا
پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ امریکی جنرلز اور سابق خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے برملا کہا کہ پاکستان نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا 
اور پھر مشہور ہوا کہ پاکستان نے امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دی 
تنقید کرنے والوں ،امریکی غلام کہنے والو ۔فنڈز لینے کا طعنہ دینے والوں کے حصے میں پھر لعنت آئی

وقت گزرتا گیا۔۔۔۔۔۔۔

مقبوضہ کشمیر پلوامہ میں حملہ ہوا اپنی عوام کو خاموش کرانے کے لیے بھارتی فوج نے پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستان ایئر فورس کے ایکٹو ہونے اور پیچھا کرنے پر پے رول گرا کر چلتے بنے ۔
پھر پورا 26 فروری کے  یہاں طوفان اٹھا ۔پاک فوج کو بزدلی کے طعنے دیے جانے لگے ۔ لبرلز ،لفافے ،سرخے ،سیاستدان سبھی 
پاک فوج پر بھونکنے لگے
کہا جانے لگا کہ اتنا بجٹ لیتے پھر بھی کچھ نہیں کر رہے۔لنڈے کے دانشور پاک فوج کو مشورے دینے لگے۔موسمی محب وطن پاک فوج پر تنقید کرنے لگے
۔پھر 27 فروری کو ساری دنیا نے دیکھا کہ پاک فوج نے نا صرف لائن آف کنٹرول کراس کیا بلکہ ہندوستانی فوج کا تڑا نکال کر آگئی اور دو ہندوستانی طیارے مار گرائے ایک پائلٹ ہلاک اور ایک گرفتار کیا تب بھی لیکچرز دینے والوں کے حصے میں لعنت آئی

پھر وقت گزرتا گیا۔۔۔۔۔۔۔ 

اور بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی پھر دانش گردوں نے کی لیکچر شروع کر دے ۔اور تو اور چین کی لداخ میں پیش قدمٹ پر بھی فوج کو مشورے دینے شروع ہوگئے ہیں۔
مگر لنڈے کے دانشوروں کو ہر پالیسی بتائی نہیں جاتی ۔آنے والے وقتوں میں کامیابی ہی فوج کی کامیابی پالیسیوں کی گواہی دیتی ہیں
لنڈے کے دانشوروں کو صرف لیکچر جھاڑنے آتے ہیں

مگر ایک بات ہمیشہ کی طرح سن لو یہ پاک فوج ہے ۔یہ بڑھکیں نہیں مارتی یہ پلانگ کرتی ہے اور دشمن کو گھٹنوں پر لا کر کھڑا کرتی ہے۔
یقین نہیں تو دیوار برلن کے ٹکڑوں اور وائیٹ ہاؤس کی دیواروں سے پوچھ لو ۔ابھی نندن سے پوچھ لو
آپریشن ضرب عضب میں ہزاروں عبرت کا نشان بننے والے دہشت گردوں سے پوچھ لو۔

آج کل جہاں دشمن اور اسکے آلہ کار پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں وہیں محب وطن پاکستانی انکا منہ توڑ جواب دینے میں۔ایسے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ واقع ہی عظیم جذبے کے مالک ہیں جو برے سے برے وقت میں بھی افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
مگر اس جنگ میں کچھ  ایسے بھی لوگ سامنے آئے ہیں جو پہلے بظاہر حب الوطنی کا برچار کرتے ہیں مگر آہستہ آہستہ اپنی اصلیت دکھانا شروع ہوجاتے ہیں 

انکا طریقہ واریت نرالا ہے جس کو سمجھے 

سب سے پہلے وہ لوگ قوم پرستی اور حقوق سے شروع کرتے ہیں۔ شروع میں کہتے کہ ہم ریاست اور افواج کے ساتھ ہیں مگر ریاست ہمارے حقوق نہیں دے رہی۔

آہستہ آہستہ یہ لوگ ان وسائل پر بات کرتے ہیں کہ یہ ہمارے علاقے کے ہیں دوسرے صوبے والے انکو کھا ریے۔

پھر کبھی کسی دہشتگرد کی تصویر اپلوڈ کر کے کہتے ہیں کہ آخر ریاست کو سوچنا چاہیے کہ ان طالب علموں نے ہتھیار کیوں اُٹھائے؟!

پھر وہ کہتے کہ فوج پر ہماری جان قربان مگر ہم کچھ جنرلز پر تنقید کریں گے یہ ہمارا حق ہے۔

پھر کہیں گے کہ یہ فوج کے بڑے آفیسرز سکون سے رہ رہے بچارے ہمارے سپاہیوں کی حالت دیکھو 

آج کل ان لوگوں نے نیا طریقہ اپنایا ہے کہ یہ لوگوں دلوں میں زہر بھرنے کے لیے پوسٹ کرتے ہیں کہ فوج کشمیر کے لئے کچھ نہیں کر رہی چین دیکھو کافر ہے پھر بھی وہ لداخ میں گھس گیا۔اگر ایسا ہے تو بھارتی ایجنسیوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف اپنے میڈیا کے زریعے باجوہ ڈاکٹرائن کیمپین کیوں چلوائی۔

کبھی کہیں گے فوج پر یہ الزام لگا ہے کہ پاک فوج کو خود کو اس سے کلئیر کرنا چاہیے۔ 

یہ محب وطن پاکستانیوں کو کہتے ہیں فوج سے ہمیں بھی محبت ہے مگر ہم تمہاری طرح پالشے نہیں 
یہ تھی لوگو کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور خود کو محب وطن کہلوانے والوں کی نشانیاں

ان کو جواب دینے کی صورت میں بوٹ پالشی کا طعنہ دے کر یہ لوگ بھاگ جائیں گے۔ان کو پالشی فوبیا ہو گیا ہے۔

ایسے لوگوں کو پہ پہچانیں ۔یہ آہستہ آہستہ لوگوں کے ذہنوں میں زہر بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا تو جان بوجھ کر یا نادانی میں پہلے انکو پیار سے سمجھائیں
کیونکہ لوگوں کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنا ملک دشمنوں کا راستہ ہموار کرنا ہی ہے۔ہم حالت جنگ میں ہیں 

حب الوطنی کی آڑ میں میٹھے لہجوں میں زہر اگلنے والوں سے ہوشیار رہیے۔

نواب مبین حسن۔


بدھ، 17 جون، 2020

شہنشاه جلال الدین محمّد اکبراوردین الٰہی

 حاصل مطالعہ

شہنشاه جلال الدین محمّد اکبراوردین الٰہی

اکبر دین الٰہی بنانے پر کیوں مجبور ہوا؟ 

منتخب التواریخ علامہ عبدالقادر بدایونی کی مشہور کتاب ہے- موصوف شہنشاه اکبر کے هم عصر ہیں- اور اس کے دربارمیں رہے ہیں- وه اکبر کے بارے میں لکهتے ہیں کہ وه ایک بادشاه تها جو حق کا طالب تها اور اپنے اندر نفیس جوہر رکهتا تها- اکبر اپنی ابتدائی زندگی میں بڑا دیندار اور عبادت گزار تها- اس نے سات عالم صرف نماز کی امامت کے لئے مقرر کر رکهے تهے جن میں ایک خود ملا عبدالقادر بدایونی تهے- وه کہتے ہیں کہ اکبر کی دربار میں پانچوں وقت جماعت کے ساتھ نماز هوتی تهی جس میں بادشاه خود شریک هوتا تها- اکبر جب سفر کے لیے نکلتا تو اس کے ساتھ ایک خاص خیمہ نماز کا هوتا تها جس میں بادشاه جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتا تها-

شہنشاه اکبر کے اس دیندارانہ مزاج کا یہ قدرتی نتیجہ هوا کہ اس کے دربار میں علماء جمع هونے لگے- اکبر کو حدیثیں سننے اور مسائل دین پر گفتگو کرنے سے خاص دلچسپی تهی- اس مقصد کے لئے وه علماء کی صحبتوں میں دیر دیر تک بیٹهتا تها، ملا بدایونی نے لکها ہے کہ اکبر کے گرد جمع علماء کی تعداد ایک سو سے بهی اوپر تک پہنچ گئی تهی- بادشاه کے گرد جمع هونے والے یہ علماء قدرتی طور پر بادشاه کی عنایتوں میں حصہ پانے لگے- بس یہیں سے وه حالات پیدا هوئے جس نے ایک دیندار بادشاه کو بے دین بنا ڈالا- 

ظاہر ہے کہ سو آدمی بیک وقت بادشاه کے قریب نہیں بیٹهہ سکتے تهے- چنانچہ پہلا جهگڑا نشست گاہوں پر شروع هوا- ہر ایک اس کوشش میں رہتا کہ وه بادشاه کے قریب بیٹهے- اب جس کو قریب جگہ نہ ملتی وه جلن میں مبتلا هوتا- اسی طرح بادشاه کے انعامات میں جس کو کم حصہ ملتا وه اس سے حسد کرنے لگتا جس کو اتفاق سے زیاده انعام مل گیا هو-

علماء کا حال یہ هوا کہ وه ایک دوسرے کو گرانے کے لئے ایک دوسرے کی برائیاں کرنے لگے- ملا بدایونی کے الفاظ میں علماء کے گروه سے بہت سی بیہودگی ظاہر هوئی ایک نے دوسرے کے خلاف زبان کی تلوار نکالی، ایک دوسرے کی نفی کی اور تردید میں لگ گیا- ان کا اختلاف یہاں تک بڑها کہ ایک نے دوسرے کو گمراه ثابت کیا- نوبت یہاں تک پہنچی کہ شاہی دربار میں ان علماء کی گردنوں کی رگیں پهول آئیں، آوازیں بلند هوئیں اور زبردست شور برپا هوا-

علماء کی ان نازیبا حرکتوں سے بادشاه کا متاثر هونا فطری تها- اس کو سخت گراں گزرا اس کے بعد  بادشاه نے پہلی کارروائی یہ کی کہ ملا بدایونی کو حکم دیا کہ اس قسم کے نا معقول عالموں کو آئنده بادشاه کی مجلس میں آنے نہ دیں- اس کے باوجود علماء کی حرکتیں بند نہ ہوئیں- ان کی باتیں بادشاه کے لئے ایمانی قوت کے بجائے بدگمانی اور برگشتگی میں اضافہ کا سبب بنتی رہیں- علماء کا یہ حال تها کہ ایک دوسرے کے ضد میں کوئی عالم ایک چیز کو حرام کہتا اور دوسرا اس کو حلال بتاتا- ان چیزوں نے بادشاه کو شک میں ڈال دیا- اس کی حیرانی بڑهتی چلی گئی- یہاں تک کہ اصل مقصد ہی سامنے سے جاتا رہا-

درباری علماء میں سے ایک ملا عبداللہ سلطان پوری تهے- ان کا سرکاری لقب مخدوم الملک تها- انهوں نے مختلف طریقوں سے جو دولت جمع کی تهی اس کا حال ملا بدایونی نے ان الفاظ میں لکها ہے " ان کا انتقال ہوا تو بادشاه کے حکم سے ان کے مکان کا جائزه لیا گیا جو لاہور میں تها - اتنے خزانے اور دفینے ظاہر ہوئے کہ ان خزانوں کے تالوں کو دہم کی کنجیوں سے بهی کهولنا ممکن نہ تها- حتی کے سونے سے بهرے ہوئے چند صندوق مخدوم الملک کے خاندانی قبرستان سے برآمد ہوئے جنهیں مردوں کے بہانے سے زمین میں دفن کیا گیا تها "-

شاه عبدالقدوس گنگوہی کے پوتے ملا عبدالنبی تهے جو اکبر کے زمانہ کے سب سے بڑے عالم سمجهے جاتے تهے- پورے ملک کے خطباء اور ائمہ کے درمیان جاگیر تقسیم کرنے کا انهیں اختیار تها- شہنشاه اکبر ان کا اتنا زیاده احترام کرتا تها کہ ان کی جوتیاں سیدهی کرتا تها- مگر مزکوره مخدوم الملک اور ملا عبدالنبی کے درمیان رقیبانہ کش مکش شروع ہوئی- ایک نے دوسرے کو جاہل اور گمراه ثابت کرنے کے لئے رسالے لکهے- ایک نے دوسرے کے بابت لکها کہ چونکہ انهیں بواسیر ہے اس لئے ان کے پیچهے نماز نا جائز ہے - دوسرے نے لکها کہ تم اپنے باپ کے عاق کئے ہوئے بیٹے ہو اس لئے تمهارے پیچهے نماز جائز نہیں- اس قسم کی لا یعنی بحثوں سے شاہی کیمپ صبح و شام گونجتا رہتا تها-

شہنشاه اکبر ابتداء نہایت دین دار تها اور دینی شخصیتوں سے بڑی عقیدت رکهتا تها- مگر دین کے نمائندوں کی خرافات کو مسلسل دیکهنے کے بعد وه دین سے بیزار ہو گیا اور دینی شخصیتوں سے بهی- علماء کا یہ حال تها کہ جانوروں کی طرح آپس میں لڑتے- ایک عالم ایک فعل کو حرام بتاتا اور دوسرا عالم اسی فعل کو حلال قرار دیتا-

ملا بدایونی لکهتے ہیں :
اکبر اپنے زمانہ کے علماء کو غزالی اور رازی سے بہتر سمجهتا تها- جب اس نے ان کی پست حرکتوں کو دیکها تو حال پر ماضی کو قیاس کر کے سب کا منکر ہو گیا-

اس کے بعد اکبر کے دربار میں علماء کا وقار ختم ہو گیا- ابو الفضل اور فیضی جیسے لوگ دربار شاہی میں اہمیت اختئار کر گئے- اکبر کو علماء کی باتوں کی کوئی پرواه نہیں رہی- ابوالفضل اکبر کے سامنے علماء کا مزاق اڑاتا اور اکبر اس کو سن کر خوش ہوتا- ملا بدایونی کے الفاظ میں : کسی بحث کے درمیان اگر ائمہ مجتہدین کی کوئی بات پیش کی جاتی تو ابوالفضل اس کو نظر انداز کرتے ہوئے کہتا کہ فلاں حلوائی، فلاں کفش دوز اور فلاں چرم ساز کے قول سے تم میرے اوپر حجت قائم کرنا چاہتے ہو-

اسباق تاریخ
مولانا وحیدالدین خان۔


Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...