ماضی کے جھروکوں سے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ماضی کے جھروکوں سے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 16 دسمبر، 2022

Chacha Sain Ki Baten

 
ماضی کے دریچوں سے۔

قسط نمبر 04.


دونوں افراد کے چلے جانے کے بعد میں پریشان سا ہوکر بیٹھا ھوا تھا، سگریٹ سلگایا اور ہلکے ہلکے کش لینے لگا، اِس سوچ میں غلطاں تھا کہ بلوچ چائے فروش نے "ڈسوں تھا" یعنی دیکھتے ہیں کہہ دیا تھا، کرتا کیا تھا، اب مزید استفسار بھی غیر ضروری تھا۔ کچھ معمول کے کام نپٹانے کے بعد چاچا سائیں بھی پھر سے میرے پاس آکر بیٹھ گئے، بیڑی نکالی، صاف کی اور سلگا کر مُجھ سے پوچھنے لگے، (آپکو بتاتا چلوں کہ بیڑی پینا بھی ایک فن ھے، بہت نزاکت سے اسے پہلے الٹی طرف سے پھونک مار کر صاف کیا جاتا ھے تاکہ کچا تمباکو منہ میں جا کر منہ میں جا کر کڑواہٹ پیدا مت کرے) پھلجی کب چھوڑی تھی؟ میں نے جواب دیا کافی پہلے میں کوئی 03 سال کا ھونگا، بلوچ چائے فروش کے چہرے پر گہری سنجیدگی اور حیرت کے آثار واضح تھے، کیا پھر تمہارا اس طرف آنا ھوا؟ گویا وہ یہ سوال دہرا کر میری باتوں کا یقین چاہتا تھا۔ تین سال کے بچے کو تو کچھ بھی یاد نہیں ہوتا۔ 

میں کہا مُجھے کافی کچھ یاد ہے، تحیر سے مُجھے دیکھا پھر ہلکی سی گردن ہلا دی، گویا میری بات پر یقین کر چکے تھے۔


پھر دور خلاؤں میں گھورتے ھوئے میں گویا ھوئے، ہاں کسی دور میں یہاں پنجابی آبادگار بہت ہوا کرتے تھے، میں نے دریافت کیا پھر چلے کیوں گئے؟ غور سے مُجھے دیکھا اور کہنے لگے " تم لوگ بھلا کیوں گئے تھے؟" میرا جواب نفی میں تھا، میں نہیں جانتا کیوں چلے گئے تھے۔ خود کلامی کے انداز میں کہنے لگے کچھ پنجابی سندھی جھگڑے میں یہاں سے چلے گئے، کچھ ڈاکو راج کی وجہ سے گئے، کچھ لوگوں کو ڈاکو اٹھا کر بھی لے گئے تھے، کچھ اپنا کاروبار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر چلے گئے، باقی اپنی زمینیں وڈیروں کو " بھگڑن مٹھ" بیچ کر یہاں سے لڈ گئے، اچھے لوگ تھے، محنتی تھے، امن پسند تھے۔ اب میں حیران ہو کر بوڑھے چائے فروش کو دیکھ رہا تھا جو انتہائی سچائی کے ساتھ سب کچھ بیان کرتا چلا جا رہا تھا۔


میں نے پوچھا چاچا سائیں کیا اب بھی کچھ پنجابی آبادگار یہاں ہیں؟ جواب ملا " ہیں مگر چند ایک گھر جو جمالیوں کی وجہ سے ابھی تک یہاں آباد ہیں، گئے نہیں، جمالی ہر اچھے برے وقت پر اُنکا ساتھ دیتے ہیں، اُنکے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں، میں ہمہ تن گوش ہوکر بلوچ چائے فروش کی باتیں سن ہی رہا تھا کہ ہوٹل پر 02 نو عمر لڑکے آگئے، یہی کوئی 10 سے 14 سال تک کی عمر کے ہونگے، کندھوں پر کلہاڑیاں رکھی ہوئی تھیں، مقامی طور پر وہاں کے لوگ رکھا ہی کرتے تھے۔


دونوں نے آتے ہی مُجھ پر ایک طائرانہ سی نظر ڈالی اور پھر بوڑھے بلوچ سے روایتی علیک سلیک کیا، بابا جی نے اُنہیں میری طرف اشارہ کرکے بلوچی میں کچھ کہا جس کا مفہوم تو میں سمجھ ہی گیا تھا، دونوں عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے گویا اُنہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اِس ویران سے بس اسٹاپ پر کوئی اجنبی مسافر پھلجی ولیج جانے کو  اُتر بھی سکتا ھے۔ چائے فروش نے اُنہیں مزید کچھ سمجھایا اور پھر مجھے کہنے لگا، یہ لڑکے میں نے گوٹھ سے منگوائے ہیں کہ تم کو تمہاری جنم بھومی تک لے جائیں گے، میں نے مشکور نظروں سے بابا جی دیکھا تو اُنکے چہرے پر اب شفقت کے ساتھ ساتھ میری کیئر بھی نمایاں تھی، کہنے لگے بس وہاں رکنا نہیں ہے، عصر سے پہلے واپس آ جانا، رات دادو گزارنا، ہاں! یہ لڑکے تم کو یہاں واپس بھی لے آئیں گے۔ 

میں نے تشکر آمیز نظروں سے بوڑھے بلوچ کو دیکھا جو اب محبّت بھرے انداز میں مُجھے دیکھ رہا تھا, میں نے اپنا سفری بیگ کندھے پر لٹکایا، کپڑوں کی شکنیں درست کیں، بلوچ بابا جی سے الوداعی مصافحہ کیا، انکے کھردرے ہاتھ تھام کر مجھے اندازہ ھوا کہ زندگی گزارنا کتنا مشکل عمل ھے۔ جاتے وقت کُتّے کو ہلکا سا پچکارا، اُس نے ہلکی سی دم بلا کر مُجھے الوداع کہا، اور پھر پھلجی ولیج جانے کیلئے ان نوعمر لڑکوں کے ساتھ ھو لیا۔


سڑک پار کرکے ایک بغلی سڑک پر چڑھ گئے جو کسی دور میں وہ سڑک ھوا کرتی تھی جس پر "بگھیو بس سروس" سوار ھو کر میں اپنے والدین کے ساتھ کبھی پھلجی سے دادو اور پھر دادو سے پھلجی ولیج آیا کرتا تھا، سڑک پر چڑھتے ہی ساتھ ہی وہ چھنڈن بھی بہہ رہی تھی جس میں میں اپنے بچپن میں ڈوبنے سے بال بال بچا تھا۔ دونوں لڑکے کندھوں پر روایتی کلہاڑیاں رکھے میرے آگے آگے تھے اور میں انکے پیچھے پیچھے چلتا چلا جا رہا تھا، چھنڈن میں پانی تو تھا مگر بہت ہی کم، دونوں لڑکے ایک دوسرے سے گپ شپ کرتے اور کبھی اُلٹی کلہاڑی زمین پر مارتے اور کبھی قریبی جھاڑی پر کلہاڑی سیدھی مار کر اُسکی دھار چیک کرتے چلے جا رہے تھے۔ دور ایک ٹیلے پر وڈی پھلجی کے آثار بھی نمایاں تھے، جو کبھی زندگی سے بھرپور گوٹھ ھوا کرتی تھی اور میری جنم بھومی بھی۔


جاری ھے۔


جی۔ایم چوہان۔

15.12.2022

ہفتہ، 3 دسمبر، 2022

Halaku Khan Ki Beti Aur Aalim Ka Mukalma

 

ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں  گشت کررہی تھی کہ
  ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔

پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟

جواب آیا:

ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔

اس نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ 
  عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے لا کر حاضر کیا گیا۔

شہزادی مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی:

کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟

عالم:   یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں

شہزادی: کیا تمہارا ایمان نہیں کہ اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟

عالم:  یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔

شہزادی:   تو کیا اللہ نے آ ج ہمیں تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟

عالم:    یقیناً کردیا ہے-

شہزادی:  تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ  خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟

عالم:   نہیں

شہزادی:   کیسے؟

عالم:   تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟

شہزادی:  ہاں دیکھا ہے

عالم:  کیا اس کے ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے اپنے کچھ کتے رکھے ہوتے ہیں؟

شہزادی:   ہاں رکھے ہوتے ہیں۔

عالم:  اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو چھوڑ کو کسی دوسری طرف کو نکل  کھڑی ہوں، اور چرواہے کی سن کر واپس آنے کو تیار ہی نہ ہوں، تو چرواہا کیا  کرتا ہے؟

شہزادی:وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے  تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔

عالم:  وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟
  شہزادی:جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔

عالم نے کہا : تم تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے
  حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہو جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے

اور اس کی اطاعت اور اس کے منہج پر نہیں آجائیں گے، تب تک خدا تمہیں  ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، اور ھماری گردنوں پر مسلط رکھے گا ۔ جب ہم خدا  کے در پر واپس آجائیں گے ،اُس دن تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔

آج پھر وہی حال ہے

آج کتے ہم پر مسلط ہیں

یہودیوں عیساٸیوں، ہندوؤں اور لبرلز کی صورت میں
  اور جب تک ہم واپس نہ آجاٸیں اسلام کی طرف
  تب تک ہم پر مسلط رہیں گے۔۔۔

منگل، 15 نومبر، 2022

جیون ساتھی سے گزشتہ زندگی یا کوئی افئیر شیئر کرنا

 

#بات سےبات۔

جیون ساتھی سے اپنی گزشتہ زندگی یا کوئی افئیر شیئر نہ کرنا

آج فیس بُک پر ایک اسٹیٹس لگا دیکھا جس میں کسی نوجوان لکھاری نے اپنے غیر شادی دوستوں کو تلقین کی تھی کہ وہ شادی کے بعد کبھی بھی اپنے جیون ساتھی سے اپنی گزشتہ زندگی خصوصاً اپنا کوئی افئیر شیئر نہ کرنا، ورنہ بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں گی، چند مثالیں بھی دی تھیں۔ کو کہ وہ ایک مزاحیہ پوسٹ تھی، مگر مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرگئی۔


میرا ذاتی مشاہدہ بھی ہے کہ اکثر خواتین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے جیون ساتھی کی سابقہ زندگی کے بارے میں جان سکیں، کثرت ایسی ہو ٹوہ میں لگی رہتی ھے کہ رسّی کا کوئی سرا مل ہی جائے، کامیاب بھی ھو جاتی ہیں۔ 

میری ذاتی رائے ہے کہ خواتین کو کبھی بھی اس حساس مسئلے پر توجہ مرکوز بھی کرنی چاہیئے، اس سے شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے غلط فہمیاں بھی، یہی وہ نکتہ ھے کہ اگر غلط فہمیاں ایک بار دل میں جڑ پکڑ لیں تو فریقین کا جینا محال ہو جایا کرتا ہے، پھر شک کا پودا تناآور درخت تو بن سکتا ہے، کم نہیں نہیں ھوتا۔ گھریلو زندگی خطرات کا شکار ہو جاتی ہے، خدشات اور غلط فہمیاں گھریلو تو تکار کا سبب بنتی ہیں، ہنستی مسکراتی ھوئی زندگی تکرار کا شکار ھو جاتی ھے، گھر اجڑتے ھوئے بھی دیر نہیں لگتی، علیحدگی تک بھی ہو جایا کرتی ہے۔ اِس حساس معاملے پر فقط خواتین کوئی موارد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا، اکثر مرد حضرات بھی اپنی زندگی کے سابقہ افئیر بڑھا چڑھا کر بیان کرنے میں ذرّہ سی بھی عار نہیں محسوس کرتے، یہیں سے جیون ساتھی کے دل میں پہلے تجسّس پھر شک پروان چڑھنا شروع ھو جاتا ھے، جس کی ابتداء کا تو پتہ ھوتا ھے انتہاء کا بلکل بھی نہیں۔  جو باتیں ہم اپنی بیوی کو فخریہ انداز میں بتا رہے ہوتے ہیں، وہی بات اگر شرم و حیاء کا پردہ چاک کرکے بیوی بتانا شروع ہو جائے تو ہم پر بحیثیت انسان کیا گزرے گی، اندازہ لگانا چنداں مشکل بھی نہیں ہے، لگا بھی سکتے ہیں۔


میں نے کافی عرصہ پہلے کہیں پڑھا تھا کہ "محبّت کے تجربے سے زندگی میں ہر آدم زاد ضرور گزرتا ہے، اِس میں وقت اور صنف کی کوئی قید نہیں، جو ایسا نہ ھونے دعویٰ کرتا ہے یا نفی کرتا ھے وہ جھوٹ بول رہا ہوتا ہے، 

واللہ اعلم بالصواب۔


میرے ایک اچھے دوست جو اب کسی انتہائی مجبوری کی وجہ سے سانگھڑ شہر چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے کینیڈا آباد ہو چُکے ہیں، نام لینا مناسب نہیں، موصوف شہر کے اچھے ماہرِ نفسیات بھی تھے۔ میں روزانہ رات کو انکے پاس جایا کرتا تھا، مختلف موضوعات پر بات بھی ہوتی رہتی تھی اور ڈاکٹر صاحب تکلیف زدہ لوگوں کی مسیحائی بھی کرتے رہتے تھے، اسمِ بمسمّہ تھے، جہاں بھی ہیں خوش رہیں، اُنکے لئے دعا گو ہوں۔ ڈاکٹر صاحب سانگھڑ شہر کے واحد ڈاکٹر تھے جو رات گئے تک مریضوں کو میسر رہتے تھے، ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ۔


ایک بار بات سے بات چلی تو فرمانے لگے "یار چاچا کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ عورت اپنی آخری گرہ کبھی بھی نہیں کھولتی؟" (میری سانگھڑ کی سنگت مُجھے چاچا کے نام سے ہی پکارتی تھی، اب بھی گہرے دوست مُجھے چاچا کہہ کر بلاتے ہیں) میرا جواب نفی میں تھا، کہنے لگے میں فزیشن بھی ہوں اور ماہرِ نفسیات بھی، میں نے نوٹ کیا ہے کہ عورت کبھی بھی اپنے دل کی گہری بات کسی کے بھی شیئر نہیں کرتی، خصوصاً محبّت کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط ہوا کرتی ہے، میں نے بطور ڈاکٹر کے کافی خواتین کا علاج بھی کیا ہے، اللّہ نے مریضوں کو شفاء بھی بخشی، مگر اِس نتیجے پر پہنچا ھوں کہ آپ عورت سے اسکی رضا کے بغیر کچھ بھی نہیں پوچھ سکتے، محبت کے معاملے میں عورت کبھی بھی آخری گانٹھ نہیں کھولتی، آخری سانسوں تک بھی، 

واللہ اعلم بالصواب!


جی۔ایم چوھان

15.11.2022

ہفتہ، 10 ستمبر، 2022

اشفاق احمد صاحب سے ملاقاتیں میرا اثاثہ

 صدائے درویش,ماضی کے جھروکوں سے


اشفاق احمد صاحب سے ملاقاتیں میرا اثاثہ 


 یہ غالباً 1986ء کی بات ھے کہ ملک بھر میں احمد ندیم قاسمی مرحوم کی 75ویں سالگرہ منائی گئی تھی اور سانگھڑ جیسے دور افتادہ مگر مردم خیز خطّے کے ادیبوں اور اردو ادب سے لگاؤ رکھنے والوں کو سالگرہ میں آنے کے دعوت نامے موصول ہوئے تھے تو میں اُس میں شرکت کرنے اپنے دوستوں کیساتھ لاھور آیا تھا، وہیں میری اردو زُبان کی نامور اور سرکردہ ہستیوں سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا تھا۔ وہیں اشفاق احمد خان مرحوم سے سرسری سی ملاقات ھوئی تھی، ملنے کا اشتیاق ظاہر کیا فرمانے لگے جب چاہو آ جائیں۔


بابا جی سے میری چند ملاقاتیں بھی رہیں، بانو آپا اور اشفاق احمد صاحب سے ملاقاتیں میرا اثاثہ ہیں، مُجھے اُن سے کافی فیض بھی حاصل ہوا، میری تحریروں میں دوستوں کا انکا رنگ بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہی ہوگا۔


اس درویش صفت جوڑے کی یہ بہت بڑی خوبی تھی کہ وہ ملنے والے پر کبھی بھی اپنی شخصیت کا رعب نہیں ڈالتے تھے، بات چیت کرتے وقت ملنے والے کو ذرا سا احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ اردو ادب کے کسی نامور یا لیجنڈ شخصیت کے سامنے ہیں، خان صاحب انتہائی سادگی کے ساتھ بلکل ملنے والے کے لیول پر آ کر بات کیا کرتے تھے، اکثر ایسا ہوا کرتا تھا کہ وہ کوئی دس بار سنی ہوئی بات کو بھی سن کر حیرت زدہ ہو جاتا کرتے تھے جیسے کہ وہ بات انکے  لئے بلکل نئی ھو اور وہ ملنے والے کی زبانی پہلے بار سن  رہے ہوں، یہی اُنکی شخصیت کی میرے نزدیک سب سے بڑی خوبی بھی تھی۔ پیار محبّت، شفقت اور ملنساری انکے مزاج کا حصّہ تھی۔ مرکزی اردو بورڈ لاھور کے ڈائریکٹر جنرل بھی تھے، لیکن ملاقات میں کبھی ملنے شائبہ تک بھی نہیں ملتا تھا کہ وہ ڈائریکٹر جنرل کے سامنے ہیں۔ اشفاق احمد خان مرحوم سے میری پہلی ملاقات ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہونے والے پروگرام "تلقین شاہ" سے ہوئی تھی، میرے والد مرحوم وہ پروگرام بہت ہی زوق و شوق سنا کرتے تھے، اسی بہانے سے مجھے بھی انکی فیروز پوری پنجابی سننے کو مل ہی جایا کرتی تھی جب خان صاحب اپنے فرضی ملازم ہدایت اللّہ کو " ہے ہدایتا" کہہ کر بلاتے تھے مجھے لگتا تھا میں ہی وہ ہدایت اللہ ہوں اور وہ مُجھے ہی ڈانٹ کر میری گوشمالی کیا کر رہے ہیں۔


اشفاق احمد خان سے دوسری ملاقات انکی کتاب "سفر در سفر" کا مطالعہ کرنے سے ھوئی، بابا جی کی مجھ پر خاص مہربانی تھی کہ میں جب بھی سندھ سے آتا تو اُن سے ضرور ملا کرتا تھا، وہ مُجھے اپنے قیمتی وقت میں سے کافی سارا وقت دے دیا کرتے تھے، میں اُنہیں اُنکی سخاوت ہی سمجھتا ہُوں، ورنہ میں کہاں اور وہ ہستیاں کہاں۔

پہلی ملاقات ھوئی تو اس دن جمعرات تھی، اس دن بابا جی کا لنگر چلنا تھا، ملاقات کے بعد میں جب میں ان سے اجازت چاہی تو مُسکرا کر فرمانے لگے "منڈیا آج تے جمعرات اے، لنگر کرکے جانا" میری کیا مجال کی انکار کر پاتا۔ لنگر کی بھی اپنی ہی شان تھی، ایک وسیع و عریض حال میں پوری آفیس کے ٹیبل لگے ہوئے تھے، دیگ آئی تو لنگر شروع ہوا، آفیسر سے چوکیدار تک سب کے سب ایک ہی قطار میں بیٹھے ھوئے اور میرے بابا جی لنگر تقسیم کر رھے تھے، آخری پلیٹ تک Serve ہو جانے تک کسی نے بھی کھانا شروع نہی کیا تھا، جب کھانا سب کے آگے رکھ دیا تو فرماتے "بسم اللّٰہ کرو جی" تو سارا اسٹاف لنگر کرنے میں مصروف ہوا، جب تک آخری بندے نے لنگر ختم نہیں کیا اشفاق احمد صاحب نے خود لنگر نہیں کیا، جب سب لنگر کر چکے تو اپنے لئے اپنے ہاتھ سے پلیٹ میں کھانا ڈالا تھا، وہ بھی بہت ہی قلیل سی مقدار میں جیسے کھانے کی صرف رسم ہی پوری کر رھے ھوں۔


میں کتنا اور کہاں تک لکھوں؟ یقین جانیئے اشفاق احمد خان کے بارے میں کچھ لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔


لنگر کے بعد جب اجازت چاہی تو مجھے بیٹھے رہنے کا کہہ کر اپنے A۔P سے فون پر ہلکی آواز میں کچھ کہا، تھوڑی ہی دیر میں اُنکا ڈرائیور چیمبر میں ادب سے داخل ھوا تو ان سے فرمایا کہ " غلام محمد صاحب کو میری گاڑی میں جہاں یہ جانا چاھتے ھیں چھوڑ آؤ" اس طرح سے زہن میں کبھی نہ بھولنے والی ملاقات ختم ھوئی، اب بھی میں مرکزی اردو سائنس بورڈ کے دفتر کے سامنے سے گزرنا ھوتا ھے تو ٹھنڈی سانس کے ساتھ آنکھوں میں نمی تیر جاتی ھے کہ عمارت وہی، شاید اسٹاف تک بھی وہی ھو مگر میرے بابا جی اب اس بلڈنگ میں نہیں ہیں، دُنیا کی بے ثباتی کا شدّت سے احساس بھی ہوتا ہے، بیشک ہم سب نے اپنے خالق حقیقی کی طرح ہی لوٹ جانا ہے۔


غلام محمد چوہان
10.09.2022

پیر، 15 اگست، 2022

جوش و خروش کے ساتھ یومِ آزادی

 

#ماضی کےجھروکوں_سے 

جوش و خروش کے ساتھ یومِ آزادی


ملک بھر میں پورے جوش و خروش کے ساتھ یومِ آزادی منانے کا اعلان مرحوم صدر ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں ہوا تھا، یہ 1981ء کی بات ھے۔ اُن دِنوں آج کی طرح بازاروں میں قومی پرچم دستیاب نہیں ہوا کرتے تھے۔ بنانے پڑتے تھے، یہ اعلان یومِ آزادی سے صرف 02 یا 03 دن پہلے ہوا تھا۔ درزیوں کے پاس بیشمار آرڈرز تھے کہ اُنہیں سر کھجانے تک کی بھی فرصت نہیں تھی، چناچہ مُجھ سمیت لوگوں کی بڑی تعداد میں ملکی قومی پرچم اپنے گھر میں ہی سی کر تیّار کر لئے تھے۔


بہرحال یومِ آزادی بھی آگیا سب نے اپنے اپنے گھروں اور دکانوں پر سبز و سفید پرچموں کی بہار لگائی ہوئی تھی، پرچم بلند کرنے کے لئے بانس کی پتلی چھڑیاں تک بھی نایاب ھو گئ تھیں۔ 

ہمارے شہر میں نارائن داس نامی ایک کھاد کے ڈیلر ھوا کرتے تھے اُنہوں نے بھی اپنی ایجنسی پر سبز ہلالی پرچم لگا رکھا تھا۔ میں بھی اتفاقاً گھومتے پھرتے اُس طرف جا نکلا، چچا نارائن داس بہت زندہ دل انسان تھے، میری ان سے آتے جاتے ملاقات ھوتی بھی رہتی تھی اور ہلکی پھلکی سی گپ شپ بھی۔ چاچے نارائن داس سے باتیں کرتے کرتے میری جھنڈے پر نظر پڑی تو دیکھا کہ جھنڈے کو فضا میں بلند کرنے کے لئے کوئی 03 انچ موٹا بانس لگایا گیا تھا، میں حیرت سے پوچھا، چچا آپ نے جھنڈے کے ساتھ ظلم کیا، اتنا موٹا بانس؟


ہنس کر بولے مُجھے بتائیں کہ جھنڈے میں کتنے رنگ ہیں؟ میں جواب دیا 02، ہرا اور سفید! پھر مسکرا کر گویا ہوئے، سبز رنگ کس کی علامت ہے؟ میرا جواب تھا اس ملک میں اکثریت کی یعنی مسلمانوں کی، پھر بولے سفید رنگ کس کی علامت ھے؟ میرا جواب تھا اقلیتوں کی، پھر بولے میں نے موٹا بانس کون سے حصّے میں ڈالا ہوا ہے؟ میرا جواب تھا سفید میں۔ ہنستے ہوئے بولے میں نے جو بھی کیا ہے اپنے حصّے میں کیا، آپکے سبز حصّے میں نہیں، اب لاجواب ہوکر چاچے نارائن داس کو دیکھنا میری مجبوری تھی، ہنس کر بولے پتلی لکڑی ملی نہیں، جو ملا سو لگا دیا، جھنڈا بھی تو لازمی لگانا تھا۔


غلام محمد چوہان۔

14.08.2022

منگل، 9 اگست، 2022

میدانِ حشر سب کے نامہ اعمال کا حساب, A Dream A Story

  #ماضیکےجھروکوں_سے۔

میدانِ حشر سب کے نامہ اعمال کا حساب

میرے آباء واجداد

میرے دوستو!


میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں اپنے آباء واجداد سے سنے ہوئے قصے کہانیاں آپ سب سے شیئر کرنا شروع کروں گا، سو آج میں آپکے ساتھ پہلی کہانی شیئر کر رہا ہوں۔ یہ کہانی یا روایت مُجھے میرے والدِ مرحوم نے سنائی تھی۔


میرے والدِ گرامی کورے ان پڑھ تھے، کہانی میں ممکن ہے آپکو چند ایسی باتیں بھی ملیں کہ آپ کہیں کہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، لیکن کہانی تو کہانی ہی ہوا کرتی ہے، یہی سمجھ کر اِس میں سے مثبت سوچ کے ساتھ خیر کا پہلو تلاش کرنا ہمارا کم ہے، قِصّہ گو کا نہیں۔


ایک دن والد صاحب نے مجھے کہا:- بیٹا!

روزِ قیامت برپا تھا، سب کے نامہ اعمال کا حساب ہو رہا تھا، اِس طرح کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی۔ حساب کتاب کے بعد کسی بندے کے گناہ اور ثواب برابر ہو گئے، بارگاہِ الٰہی سے ازن ہوا کہ اے میرے بندے، تمہارے گناہ و ثواب تو برابر ہیں، جاؤ اور کسی سے صرف ایک نیکی لے آؤ تو جنّت کا دروازہ تمہارے لئے کھلا ہے، جنّت میں داخل کر دیئے جاؤ گے۔


حکم سن کر وہ بندہ میدانِ حشر میں نکلا اور گھر کے افراد، دوست احباب یعنی سب سے کہا کہ مُجھے صرف ایک نیکی درکار ہے، کوئی دے سکتا ہے؟


سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی تھی، بھلا اُسکی کون سنتا، سب کا جواب نفی میں تھا۔ وہ شخص ایک نیکی کے حصول کیلئے ہر ایک شخص کی منّتیں کر رہا تھا، رو رو کر سب کے سامنے ہاتھ باندھ رہا تھا، مگر نیکی ندارد۔


اسی اثناء میں میدانِ حشر میں ایک سائڈ پر چُپ چاپ ایک شخص کھڑا ھوا تھا، اپنے نامہ اعمال پر شرمندہ بھی تھا، جب اس گنہگار شخص کی اُس حاجت مند بندے پر نظر پڑی تو اسکے پاس گیا اور پوچھا "میرے بھائی کیوں اتنے پریشان پھر رھے ھو، کیا مسئلہ درپیش ہے؟ ضرورت مند نے کہا میرے بھائی میرے گناہ اور ثواب کا حساب برابر ہے، مُجھے جنّت کے حصول کیلئے صرف ایک نیکی درکار ہے، اسی وجہ پریشان حال ہوں، سر گرداں ہوں، سب کی منّتیں کر رہا ہوں کہ کوئی مُجھے ایک نیکی دے دے تو میں جنّت میں داخل ہو سکتا ہوں۔ اس گنہگار شخص نے سوالی کا سوال سنا اور بولا " میرے بھائی میں تو گنہگار بندہ ہوں، میرا حساب ہونے کے بعد میرے سارے نامہ اعمال میں صرف ایک ہی نیکی ہے جو میرے دائیں ہاتھ میں پکڑا دی گئی ہے، بھائی میرے میں تو ویسے ہی دوزخی ہُوں، ایک نیکی مُجھے جہنّم کی آگ سے تو نہیں بچا سکتی، آپ مُجھ سے میری واحد نیکی لے لیں اور اپنا معاملہ سیدھا کریں۔ سوالی نے ہاتھ بڑھا کر اُس گنہگار شخص سے نیکی وصول کی اور شاداں و فرحاں جنّت کے دروازے کی طرف روانہ ہو گیا کہ داروغہ جنّت کو اپنا حساب دیکھا کر جنّت میں داخل ہو جاؤں۔


دوسری طرف اللّہ کی ذاتِ بابرکات سب کچھ دیکھ رہی تھی، جیسے ہی وہ حاجت مند ایک نیکی لے کر پہنچا تو مالک کائنات نے فوراً فرشتوں کو حکم دیا کہ فلاں بن فلاں جو کہ میدانِ حشر میں شرمندہ کھڑا ہوا ہے اُسے لے کر آؤ، حکم کی تعمیل ہوئی اور اس گنہگار کو بارگاہِ الٰہی میں لا کر پیش کر دیا۔ اللّہ ربّ العزت نے اُس گنہگار سے دریافت کیا کہ "اے میرے بندے کیا اِس حاجت مند کو تُونے اپنی ایک نیکی دی ہے؟ جواب ملا ہاں میرے اللّہ! میرے خالق و مالک میرے نامہ اعمال میں ایک ہی نیکی تھی باقی سارا گناہوں کا ڈھیر، میں نے اسے پریشان حال دیکھ اسے اپنا واحد اثاثہ ایک نیکی اِس کے حوالے کردی کہ میں تو جنّت میں جانے سے رہا، کم از کم یہ بندہ تو جنّت کا حقدار ہو، یہی سوچ کر میں نے اسے اپنی نیکی دے دی ہے۔


یہ بات سُن کر بارگاہِ الٰہی کی رحمت جوش میں آئی اور فرمایا اے میرے بندے تونے میرے ایک بندے پر رحم کھایا اُسے نیکی دی، سو میں اس ایک نیکی کے عوض تمہارے سارے گناہ معاف کرتا ہوں، اِس بندے سے پہلے تم جنّت میں داخل ہوگے بعد میں وہ، سو اللّہ کی رحمت کی وجہ سے دونوں ہی جنّت میں داخل ہوگئے۔


یہ کہانی سنا کر والدِ گرامی خاموش ہوگئے، اور ایک عجیب سی مسرّت کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھنے لگ گئے۔ میں کہانی کے شروعات میں ہی عرض کر چُکا کہ کہانی تو کہانی ہی ہوا کرتی ہے، اُس سے سبق حاصل کرنا ہی اصل کمال ہوا کرتا ہے۔


طالبِ دعاء:-

غلام محمد چوہان۔

09.08.2022

منگل، 26 جولائی، 2022

ھمیں جمہوریت نہیں امن انصاف اِستحکام چاھیے

 

#صدائے_درویش 

ھمیں جمہوریت نہیں امن انصاف اِستحکام چاھیے

کبھی ہمارے اجداد کہا کرتے تھے کہ معاشرے میں شرافت ہی عزت کا معیار ہوتی ھے، پیسہ نہیں، پیسہ تو کنجروں کے پاس بھی بہت ہوا کرتا ہے، اب تو یارو اُسکے بلکل الٹ ہو چکا، اب اگر پیسہ کنجر یا کنجر اوصاف کے حامل بھی پاس ہے تو لوگ اُسے جُھک جُھک کر سلام کرتے ہیں، آداب بجا لاتے ہیں، شرافت اب معیار نہیں رہی, شرافت کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ کل یگ ھے دوستو کل یگ۔

******

ہمیں جمہوریت کی چنداں ضرورت نہیں،آپ ملکی تاریخ پڑھ کر دیکھ لیں صرف ڈکٹیٹر شپ ہی اس ملک میں کامیاب رہی ہے اور عین ھمارے مجموعی مزاج کے مطابق بھی۔ مرحوم صدر ایّوب خان نے پاکستان کو معاشی میدان میں مضبوط بنایا تو دوسری طرف مرحوم ضیاء الحق نے دفاعی میدان میں وطنِ عزیز کو ناقابلِ تسخیر، اِس حقیقت سے تو انکار ممکن ہی نہیں۔ اِس وقت ملک میں موجود سارے ماندہ میگا پروجیکٹس مرحوم صدر ایّوب خان کے دورِ حکومت میں ہی بنے یا اُنکی بنیاد رکھی گئی تھی، تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔


آئیں اب جمہوری نظامِ حکومت کے کارناموں پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں، تمام صورتِ حال اظہر من الشمس ہمارے سامنے ہے، دونوں آمروں کے دورِ حکومت میں ڈالرز پاکستان آتے تھے، money loundring سے کبھی بھی باہر نہیں جاتے تھے، مرحوم ایّوب خان کے دورِ اقتدار میں ملک صنعتی میدان میں آگے تھا، PIA، ریلوے، WAPDA دنیا کے دیگر ممالک کے لئے ایک طرح سے مثالی departments تھے، منافع بخش تھے، خسارے میں نہیں۔ بھٹّو مرحوم نے ساری صنعتوں کو قومی تحویل میں لے کر اُنکا ستیہ ناس کردیا، روس کے تعین سے اسٹیل مل تو لگی، مگر اُسکے بعد کے جمہوری ادوار میں اُسکا دیوالیہ نکال کر رکھ دیا گیا، اب بند پڑی ہوئی ہے۔ PIA جو کہ "باکمال لوگ اور لاجواب پرواز" کے نام سے دُنیا کی صفِ اوّل کی قومی ایئر لائن اور ہماری شناخت تھی آج اُسکی صورتِ حال بد ہی نہیں بدترین ہے۔ پھر اسکے بعد ایک فوجی آمر اور اُسکے بعد آنے والے جمہوری ادوار میں جو کچھ بھی ہوا وہ ہم سب کے سامنے ہے، ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اب تک غیر قانونی طور پر اربوں ڈالرز جمہوری ادوار میں ہی ملک سے باہر جا چکے ہیں، مرحوم صدر ایّوب خان یا مرحوم ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں سرمایہ ملک سے باہر جانے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ملک میں سب سے پہلے زرعی اصلاحات کا سہرا بھی ایک فوجی آمر مرحوم ایّوب خان کے سر ہی جاتا ہے، ہم لوگ اچھائیوں کو بھول کر برائیوں کو لئے بیٹھنے کے عادی ہیں، یہ روش بدلنی جوگیم


گزشتہ چند دنوں سے ملک میں کو کچھ ہو رہا تھا وہ الحمدللہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے سے آج اختتام پذیر ہوا اور ایک طرح کی ہیجانی کیفیت بھی۔ جمہوریت اچھا نظامِ حکومت ہے، مگر اُن ممالک کے لئے جو معاشی اور اقتصادی طور پر بہت مضبوط ہوں اور جنکا عدالتی نظام top to bottum اچھا ہی نہیں بلکہ بہترین کہلاتا ہو، اگر اسی طرح سے عدالتی نظام مضبوط اور بااختیار رھنے دیا جائے، بلا امتیاز اور یکساں Accountability سے اگر معاشی اور اقتصادی طور پر ملک مستحکم ھو جائے تو موجودہ جمہوری سسٹم بھی تناور درخت بن کر میٹھا پھل دے سکتا ھے، مگر! اِسکے لئے پوری ایمانداری سے پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری ترجیح ہوگی تو ہی کامیابی حاصل ہوگی، ورنہ زہریلا پھل تو ھم تین دہائیوں سے کھاتے ھی چلے آ رھے ھیں۔

****

موجودہ سیاسی کشمش سے قومی اور صوبائی حکومتوں کے ایوانوں میں پیدا شدہ صورتِ حال دیکھ کر میرے ذہن میں خیال آ رہا ہے کہ تمام اہم اداروں کے دفاتر فوری طور پر شاندار بلڈنگز سے شفٹ کرکے نزدیکی قبرستانوں میں لگا دیے جائیں، شائید قبریں دیکھ کر ہی حضرتِ انسان کو اپنی حیثیت اور دُنیا کی بے ثباتی کا اندازہ ہو پائے اور وہ درست فیصلے کرنا شروع ہو ہی جائیں۔


خدا کا خوف اور آخرت میں اپنے اعمال کی جواب دہی کا خوف تو ذہن سے بلکل نکل چکا، ورنہ جو دھینگا مشتی ہو چکی ہے کبھی بھی نہ ہوتی۔ عین ممکن ھے قبریں دیکھ کر  موت کا خوف طاری ہو انانیت ختم ہو اور ہمارے کرتا دھرتا کچھ ایسے فیصلے بھی کر ہی جائیں جن سے ملک و قوم کی بقاء اور عام پاکستانی کے لئے قدرے زندگی آسان ہو جائے۔ میرے نزدیک تو اب حالات کو سدھارنے کا یہی واحد حل بچا ہے۔

باقی تو اندھیرا ہی اندھیرا ہے، اُمید کی کوئی ہلکی سی کرن بھی نہیں دکھائی دے رہی، مایوسی اور انتہائی یاسیت چھائی ہوئی ہے۔


جی۔ایم چوہان

25.07.2022

اتوار، 5 جون، 2022

میرے ماضی کی ایک بڑی دلچسپ کہانی, A Great Past Story

 

 ماضی کے جھروکوں سے

میرے ماضی کی ایک بڑی دلچسپ کہانی


میرے والد صاحب نے مُجھے 07th کلاس میں جانے کے بعد اسکول سے ہٹا لیا تھا، کراچی میں میرے پھپی زاد بھائی تھے اُنہوں نے مشورہ دیا تھا کہ پڑھنے لکھے جتنا پڑھ چُکا اب آپ اسے میرے پاس کراچی بھیج دیں میں اسے کوئی نہ کوئی ہنر سیکھا دوں گا، سونے کے ہاتھ ہوجائیں گے تو ساری عمر دعائیں دیگا، مزید پڑھیے کا کچھ بھی فائدہ نہیں، اِس طرح سے میرا تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ تعطل کا شکار ہو گیا اور مُجھے سانگھڑ چھوڑ کر ہنر بننے کیلئے سانگھڑ سے کراچی آنا پڑا تھا۔ بھائی جان کی رہائش تو کھوپرا مل لارنس روڈ کراچی نمبر 03 میں تھی مگر کاروبار میٹھادر کراچی میں تھا۔ 


اُسی دور کی تلخ و شیریں یادیں میں آج آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ صبح اٹھ کر ایک پیالی چائے اور ساتھ میں ایک رس کھا کر بھائی جان کے ساتھ ویسپا پر بیٹھتا اور میٹھادر کے لئے روانہ ہو جاتا تھا، میٹھادر جانے کیلئے بھائی جان جو راستہ اختیار کرتے تھے وہ اُس زمانے کی مشہور ٹمبر مارکیٹ پھر لی مارکیٹ سے ہوتا ہوا ککری گراؤنڈ کے پاس سے ہوتا ہوا دو شیر والا مندر کے پاس اُنکی مارکیٹ تک جاتا تھا۔ کراچی جا کر کام وغیرہ کیا سیکھنا تھا، سارا دن گھر اور چھوٹے بہن بھائیوں اور ماں باپ سے دوری کی وجہ سے رو کر گزرتا اور اپنے کام سکھانے والے استاد (جنکے حوالے مجھے کیا گیا تھا) سے اکثر و بیشتر مار کھاتا رہتا تھا۔ میری عجیب و غریب حالت اور استاد سے مار کھاتا ھوا دیکھ کر کبھی کبھار بھائی جان نے مجھے کہنا کہ جاؤ علاقہ گھوم پھر آؤ، دل بہل جائے گا، مگر گم مت جانا۔ 


اِس طرح سے مُجھے مُجھے کچھ آزادی ملتی اور میں گھومنے پھرنے کے ساتھ ساتھ ککری گراؤنڈ اور لی مارکیٹ کا علاقہ گھومنے کا موقع مل جاتا تھا، ککری گراؤنڈ کے سامنے بانٹوہ میمن خدمت کمیٹی کا دفتر ہوا کرتا تھا آبادی کی کثرت میمن کمیونیٹی پر مشتمل تھی۔ 


لی مارکیٹ سے بھائی جان کی مارکیٹ کی طرف آتے ھوئے ایک دو گلیاں چھوڑ کر ایک گلی میٹھادر بازار کی طرف بھی جاتی تھی، اُسکی گلی کی خاص بات یہ تھی کہ کوئی دو فرلانگ فاصلے کے بعد  سیدھے ہاتھ پر آزادی سے پہلے کا شدہ ویران شدہ "دو شعر والا مندر" بھی ہوا کرتا تھا، مندر کے باہر سنگ مرمر سے بنائے ہوئے دو شیر ہوا کرتے تھے، مندر سے باہر ایستادہ دونوں شیر مُجھے بہت اچھے لگے تھے، مُجھے یوں لگتا تھا کہ دونوں شیر ماضی کی طرح سے اب بھی پرانے مندر کی رکھوالی کر رہے ہوں، میں کبھی کبھار تو گھنٹوں اُن شیروں کے پاس کھڑا اُنہیں حیرت سے دیکھتا رہتا تھا۔ 


یہ 1973ء کی بات ھے، میری وہاں سے 03 ماہ بعد میری وہاں سے کیسے گلو خلاصی ھوئی، یہ بھی بڑی دلچسپ کہانی ھے، ہنر مند تو نہ بن سکا، جیسا تھا ویسا ہی سانگھڑ لوٹ آیا تو مرحومہ والدہ صاحبہ نے مُجھے اپنے گلے سے لگایا اور جی بھر کر روئیں جیسے ہم ایک دوسرے سے صدیوں بعد ملے ہوں، ماں جو تھیں۔ 


سانگھڑ واپس آنے کے بعد تعطل شدہ تعلیمی سلسلہ پھر سے شروع نہ ہو سکا، جس کا آج بھی مُجھے بہت زیادہ دُکھ ہے، بہرحال جو ہونا تھا ھوگیا، ضرور اِس میں بھی کوئی بہتری ہی ہوگی۔ انسان اپنا ماضی نہیں بھولتا، پھر کوئ 30 سال بعد میرا اس طرف جانا ہوا تو اجاڑ مندر کے سامنے ایستادہ دونوں شیر کسی مرد مومن نے توڑ کر اسلام کی بہت بڑی خدمت کردی تھی، مجھے سب کچھ دیکھ کر انتہائی دُکھ ہوا تھا۔ 1973 میں امن و امان کا گہوارہ لیاری ایک طرح سے سب کیلئے خوف و ہراس کی علامت بن چکا تھا، مل جل کر رہتے ہوئے بھائی اور محلّے دار ایک دوسرے سے خوف زدہ تھے، کثرت لیاری چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا چُکی تھی۔


ککری گراؤنڈ کے چاروں طرف لیاری امن کمیٹی کے بڑے بڑے بورڈ ایستادہ تھے اور فضا میں ایک طرح کا خوف سا طاری تھا، سب کچھ بدلا بدلا سا تھا، وہاں کے رہنے والوں کی نظریں تک بھی۔


خیر اندیش:-
جی۔ایم چوہان
05.06.2022

بدھ، 25 مئی، 2022

Pehly Zamany k Chor

 *پہلے زمانے کے چور بھی وقت کے فقیہ ہوتے تھے*

۔۔۔۔۔۔

*امام جوزی رحمہ اللہ نے قاضی انطاکیہ کا ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہےکہ وہ ایک دن اپنے کھیتوں کو دیکھنے شہر سے نکلے تو شہر کے باہر ایک چور نے دھر لیا۔چور نے کہا کہ جو کچھ ہے میرے حوالے کردیجئے ورنہ میری طرف سے سخت مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا۔*

*قاضی نے کہا : خدا تیرا بھلا کرے ۔ میں عالم آدمی ہوں اور دین میں اس کی عزت کا حکم دیا گیا ہے ساتھ میں قاضی شہر بھی ہوں لہذا مجھ پر رحم کر۔*

*چور نے کہا :الحمدللہ !ایسا شخص جو بیچارہ فقیر نادار ہو اور اپنا نقصان پورا نہ کرسکے کے بجائے آج ایک ایسے شخص کو اللہ نے میرے قابو میں دیا ہے کہ اگر اس کو میں لوٹ بھی لوں تو شہر واپس جاکر اپنا نقصان پورا کرسکتا ہے ۔*

*قاضی نے کہا :خدا کے بندے تو نےرسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث نہیں سنی کہ دین وہ ہے جسے اللہ نے مقرر کیا اور مخلوق سب اللہ کے بندے ہیں اور سنت وہی ہے جو میرا طریقہ ہے۔ پس جس نے میرا طریقہ چھوڑ کر کوئی بدعت ایجاد کی تو اس پر اللہ کی لعنت ۔*

*تو اے چور !ڈاکے ڈالنا اور لوگوں کو راستے میں لوٹنا یہ بدعت ہے نبی کریم ﷺ کا طریقہ اور دین نہیں ۔میں آپ کا خیر خواہ ہوں آپ کو چوری سے منع کرتا ہوں کہ مبادا نبی کریم ﷺ کی اس لعنت والی وعید میں آپ شامل نہ ہوجائیں ۔*

*چور نے کہا :میری جان! یہ حدیث مرسل ہے (جو شوافع کے ہاں حجت نہیں ) اور بالفرض اس حدیث کو درست بھی مان لیا جایئے تو آپ کا اس ’’چور‘‘ کے بارے میں کیا خیال ہے جو بالکل ’’قلاش‘‘ ہو فاقوں نے اس کے گھر میں ڈیرے ڈال دئے ہو ں اور ایک وقت کے کھانے کا بھی کوئی آسرا نہ ہو؟۔ایسی صورت میں ایسے شخص کیلئے آپ کا مال بالکل پاک و حلال ہے کیونکہ امام مالک رحمہ اللہ نے عبد اللہ ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرمایا کہ دنیا اگر محض خون ہوتی تو مومن کا اس میں سے کھانا حلال ہوتا۔نیز علما کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر آدمی کو اپنے یا اپنے خاندان کے مارے جانے کا خوف ہو تو اس کیلئے دوسرے کا مال حلال ہے۔اور اللہ کی قسم میں اسی حالت سے گزررہا ہوں لہذا شرافت سے سارا مال میرے حوالے کردو۔*

*قاضی نے کہا :اچھا اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو مجھے اپنے کھیتوں میں جانے دو وہاں میرے غلام و خادم نے آج جو اناج بیچا ہوگا اس کا مال میں ان سے لیکر واپس آکر آپ کے حوالے کردیتا ہوں ۔*

*چور نے کہا :ہرگز نہیں آپ کی حالت اس وقت پرندے کی مانند ہے جو ایک دفعہ پنجرے سے نکل گیا پھر اسے پکڑنا مشکل ہے ۔مجھے یقین نہیں کہ ایک دفعہ میرے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد آپ دوبارہ واپس لوٹیں گے۔*

*قاضی نے کہا: میں آپ کو قسم دینے کو تیار ہوں کہ ان شاللہ میں نے جو وعدہ آپ سے کیا ہے اسے پورا کروں گا۔*

*چور نے کہا :مجھے حدیث بیان کی مالک رحمہ اللہ نے انہوں نے نافع رحمہ اللہ سے سنی انہوں نےعبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ :یمین المکرہ* *لاتلزم(مجبور کی قسم کا اعتبار نہیں)*

*اسی طرح قرآن میں بھی ہے الامن اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمان مجبور آدمی زبان سے کلمہ کفر بول سکتا ہے تو مجبوری کی حالت میں جب کلمہ کفر بولنے کی اجازت ہے تو جھوٹی قسم بھی کھائی جاسکتی ہے ۔لہذا فضول بحث سے پرہیز کریں اور جوکچھ ہے آپ کے پاس میرے حوالے کردیں۔*

*قاضی اس پر لاجواب ہوگیا اور اپنی سواری ،مال کپڑے سوائے شلوار کے اس کے حوالے کردیا۔*

*چور نے کہا:شلوار بھی اتار کر دیں۔*

*قاضی نے کہا :اللہ کے بندے نماز کا وقت ہوچکا ہے ۔اور بغیر کپڑوں کے نماز جائز نہیں۔ قرآن کریم میں بھی ہے خذو زینتکم عند کل مسجد (اعراف ،۳۱)اور اس آیت کا معنی تفاسیر میں یہی بیان کیاگیا ہے کہ نماز کے وقت کپڑے پہنے رکھو۔*

*نیز شلوار حوالے کرنے پر میری بے پردگی ہوگی جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ وہ شخص ملعون ہے جو اپنے بھائی کے ستر کو دیکھے۔*

*چور نے کہا: اس کا آپ غم نہ کریں کیونکہ ننگے حالت میں آپ کی نماز بالکل درست ہے کہ مالک رحمہ اللہ نے ہم سے حدیث بیان کی وہ روایت کرتے ہیں نافع رحمہ اللہ سے وہ عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ سے کہ*

*العراۃ یصلون قیاما و یقوم امامھم وسطہم*

*ننگے کھڑے ہوکر نماز پڑھیںاور ان کا امام بیچ میں کھڑاہو۔*

*نیز امام مالک رحمہ اللہ بھی ننگے کی نماز کے جواز کے قائل ہیں مگر ان کا فتوی یہ ہے کہ کھڑے ہوکر نہیں پڑھیں گے بلکہ متفرق متفرق پڑھیں گے اور اتنی دور دور پڑھیں گے کہ ایک دوسرے کے ستر پر نظر نہ پڑے۔جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا فتوی یہ ہے کہ کھڑے ہوکر نہیں بلکہ بیٹھ کر پڑھیں ۔*

*اور ستر پر نظر پڑنے والی جو روایت آپ نے سنائی اول تو وہ سندا درست نہیں اگر مان بھی لیں تو وہ حدیث اس پر محمول ہے کہ کسی کے ستر کو شہوت کی نگاہ سے دیکھاجائے۔ اور فی الوقت ایسی حالت نہیں اور آپ تو کسی صورت میں بھی گناہ گار نہیں کیونکہ آپ حالت* *اضطراری میں ہے خود بے پردہ نہیں ہورہے ہیں بلکہ میں آپ کو مجبور کررہا ہوں ۔لہذا لایعنی بحث مت کریں اور جو کہہ رہاہوں اس پر عمل کریں۔*

*قاضی نے یہ سن کر کہا کہ خدا کی قسم قاضی اور مفتی تو تجھے ہونا چاہئے ہم تو جھگ ماررہے ہیں ۔ جو کچھ تجھے چاہئے لے پکڑ لاحول* *ولاقوۃالاباللہ ۔اور یوں چور سب کچھ لیکر فرار ہوگیا۔*

*(کتاب الاذکیا ،لابن الجوزی ،ص۳۸۹)*

جمعرات، 21 اپریل، 2022

اللّٰہ ربّ العزت کے رحمانی اوصاف

 

#صدائے_درویش 

اللّٰہ ربّ العزت کے رحمانی اوصاف


کسی کے بھی عیب پر پردہ ڈالنا اللّٰہ ربّ العزت کے رحمانی اوصاف میں سے ایک وصف ہے، انسان چونکہ اللّٰہ رب العزت کا نائب بھی ہے، جو "First one" کے اوصاف ہیں اُسکے نائب میں بھی ہونے ضروری ہونے ضروری ہیں، لیکن میرا مشاہدہ ھے کہ ھماری کثرت "پردہ پوشی" کا سبق بھول چُکی ھے، جس کا خمیازہ ہم بھگت بھی رہے ہیں، اگر دوسروں کو سرِ عام ننگا کرکے خوش ہوتے ہیں تو ایک قوّت ہمیں بھی ننگا کرنے میں مصروف ہوتی ہے، اللّٰہ رب العزت "فساد فی الارض" کو بلکل نہیں پسند فرماتے۔ 


40 سے 50 سال پہلے ہماری کثرت کی ترجیح انسان تھا، سو یہی سوچ کر سب کچھ دیکھ کر اکثر خاموشی ہی اختیار کئے رکھتے تھے کہ اللہ رب العزت 

"ستّار العیوب" ھیں، میں کون سا اچھا ہوں، اس نے میرے اگر سب کچھ دیکھ کر بھی عیب چھپا رکھیں ہیں تو میں کسی کو کیوں ننگا کروں، یہی اطاعتِ الٰہی اور خوفِ خدا تھا۔ اگر نبی علیہ صلوۃ والسلام کی حیاتِ طیبہ اور اُسوہ حسنہ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک سے زائد واقعات ملے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) نے بہُت سے موقعوں پر پردہ پوشی اور عفو و درگذر سے کام لیا۔ یہاں میں ایک زانیہ (اللّٰہ مجھے معاف کرے کہ یہ لفظ لکھنا پڑا ہے) کی مثال پیش کروں گا جو بارگاہِ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) میں پیش ہوکر اپنے جرم کا اعتراف کرتی ہے، پہلے اور دوسرے اعتراف پر تو آپ اپنا چہرہ مبارک مخالف سمت میں پھیر کر ان سنی کر دیتے ہیں، لیکن جب تیسری بار بھی وہ عام اقرار کرتی ہے تو آپ اس پر "حد" جاری کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ (مفہوم) "تم نے خود پر گواہ ھی اللّٰہ کے رسول کو کر لیا ہے" پھر آپ علیہ السلام نے اسکو سنگسار کرنے کا حکم دے دیا، حُکم پورا بھی ہوا۔ پہلی مثال تھی اللّٰہ تعالیٰ کا خوف, انسان اور انسانیت سے محبّت۔ اگر ہم کسی کی پردہ پوشی کرتے ہیں، عفو و درگذر سے کام لیتے ھیں تو ھم سب کی اپنے آقا و مولیٰ نبیء رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) محبّت کا عملی مظاہرہ بھی کر رہے ہوتے ہیں، یہ ہے عشق یہ ہے محبّت کی معراج کی دوسری مثال ہے، اُسوہ حسنہ کی مکمّل تقلید جس کی بنیاد سچ صرف سچ۔


آئیں اب عصرِ حاضر پر نظر ڈالتے ہیں، سب کچھ دیکھ کر بھی خاموش رہنا تو "من حیث القوم" ہماری کثرت کے مزاج کا حصّہ ہی نہیں، جب تک ہم بات کا "بتنگڑ" نہ بنا لیں گویا سکون ھی نہیں ملتا، ایک کی دس لگا کر آگے بات پہنچاتے ہیں، پردہ پوشی نہیں کرتے، اللّٰہ ہم سب کو توفیق بخشے کہ ہم عیبوں کو تلاش کرکے کسی کی برائیاں کرنے اسے باز آ جائیں، پہلے خود اپنے گریبانوں میں جھانکیں پھر کسی دوسرے کی طرف انگل اٹھائیں تو بہتر ہے۔ اصلاح معاشرہ اس دور میں مشکل عمل ہے، لیکن! 

یہ کام ہم سب نے مل کر ہی کرنا ہے، بہتر یہ ہے کہ اس عمل کا آغاز خود اپنی ذات سے کیا جائے، پھر گھر، اولاد اور اگلا اسٹیپ ایسی سوسائٹی کی تشکیل ہو جس کی بنیاد ہی سچائی، خلوص اور صبر و تحمل تحمّل ہو، بُغض، عناد پر نہیں۔ 

دوستو! 

کسی دور میں ہم کسی ایک فرد کو ہم "دانا" سمجھ کر اسکی بات کو پلّے باندھ لیا کرتے تھے، اب نہیں کرتے، تب ہم اور ہمارا معاشرہ سکھ میں بھی تھا, اب ہم سنتے نہیں بلکہ سنا کر ہی دم لیتے ہیں، سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے میدان مار کیا، تفخر رعونت کے ساتھ مغلوب کی طرف دیکھتے ہیں، یہی ہماری کج بختی ہے، ہر برائی کی جڑ ہے۔


کسی دوسرے کی مان لینے کیلئے خود اپنی زات کی مکمّل نفی کرنی پڑتی ہے جو فی زمانہ خاصّہ مشکل کام ہے۔

اللہ ہم سب کو اپنے قول و فعل کے تضاد سے بچائے، ہم سب کو سیدھے راستے کا انتخاب کرکے اس پر چلنے کی بھی توفیق دے، سیدھا راستہ تو کوئی 1400 سال پہلے بتا دیا گیا تھا، صرف ہم نے اس پر عمل پیرا ہونا ہے، اگر ہو جاتے ہیں تو میرا ایمان ہے ہمیں ان شاء اللہ العزیز آسانیاں اور دینی و دنیاوی عزت بھی ملے گی اور ہم مسلمانوں کو دنیا بھر میں وہ مقام بھی حاصل ہوگا جو دیگر اقوام کو حاصل ہے، بس ہمیں اللہ کی رسّی کو پھر سے مضبوطی سے تھامنا ہوگا جس کا حکم کلامِ الٰہی میں ہے، چس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے آخری "خطبہء حج" میں بھی مفصّل طور پر درج ہے، یقینی جانئے اگر ہم نے متحد ہوکر خود کو مومن ثابت کردیا تو فرانس یا دیگر شیطانی طاقتوں میں جرات تک نہیں ہوگی کہ وہ کسی اہلِ ایمان کی طرف انگلی بھی اٹھا سکیں، میرے آقا و مولیٰ یا اصحابِ کبار کی طرف تو دور کی بات ہے۔


آپ سب کا:-

غلام محمد چوہان۔

20.04.2022

بدھ، 16 مارچ، 2022

Pakistan Army

 


فوج اور کرپشن!! حقیقت یا افسانہ ....

فوجی ادارے , آمدن اور اخراجات !!

فوج کا احتساب!!


(سب سے پہلے یہ ذہن نشین کیجئے کہ فوج میں کرپشن کا تصور ہی نہیں ہے فوج کے ہر ادارے میں سخت آڈٹ ہوتا ہے اور سخت سزائیں مقرر ہیں.. اب تفصیل ملاحظہ کریں)


پاکستان آرمی کے کاروباری ادارے!


پاکستان آرمی میں چار بڑے ادارے کام کرتے ہیں جن میں آرمی ویلفیئر ٹرسٹ , فوجی فاؤنڈشن , شاہین فاؤنڈیشن , بحریہ فاؤنڈیشن شامل ہیں اور انکے نیچے آرمی کے زیر اختیار مزید چھوٹے ادارے اور کمپنیاں کام کرتی ہیں!


🔹آرمی ویلفیئر ٹرسٹ  کے ادارے !!


نظام پور سیمنٹ 

فارما سوٹیکل 

عسکری سیمنٹ لیمیٹڈ 

عسکری کمرشل بینک 

عسکری جنرل انشورنس کمپنی لمٹیڈ

عسکری لبریکینٹس

آرمی شوگر ملز بدین 

آرمی ویلفیئر شو پروجیکٹ

وولن ملز لاہور

آرمی ويلفيئير رائس لاہور

آرمی اسٹينڈ فارم پروبائباد

آرمی اسٹينڈ فارم بائل گنج

فارم رکبائکنتھ

فارم کھوسکی بدين

رئيل اسٹيٹ لاہور  راولپنڈی کراچی اور  پشاور

آرمی ويلفير ٹرسٹ پلازه راولپنڈی

الغازی ٹريولز

سروسز ٹريولز راولپنڈی

ليزن آفس کراچی اور لاہور

آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کمرشل مارکیٹ پراجیکٹ اور عسکری انفارمیشن سروس کے ادارے شامل ہیں... 


🔹 فوجی فاؤنڈیشن کے ادارے!!


 فوجی شوگر ملز ٹنڈو محمد خان

فوجی شوگر ملز بدين 

فوجی شوگر ملز سانگلاہل

فوجی شوگر ملز کين اينڈيس فارم

فوجی سيريلز

فوجی کارن فليکس

فوجی پولی پروپائلين پروڈکٹس

فائونڈيشن گیس کمپنی

فوجی فرٹیلائيزر کمپنی صادق آباد ڈهرکی

فوجی فرٹیلائيزر انسٹیٹیوٹ

نيشنل آئڈنٹٹی کارڈ پروجيکٹ

فائونڈيشن ميڈيکل کالج

فوجی کبير والا پاور کمپنی اور فوجی سيکيورٹی کمپنی لميٹڈ شامل ہیں...


🔹 شاہین فاؤنڈیشن کے ادارے :

 

شاہین انٹرنیشنل

شاہین کارگو

شاہین ائیرپورٹ سروسز 

شاہین ائیرویز 

شاہین کمپلیکس 

شاہین پی ٹی وی اور شاہین انفارمیشن اور ٹیکنالوجی سسٹم شامل ہیں .....


🔹بحريہ فاؤنڈيشن کے ادارے :


بحریہ يونيورسٹی

فلاحی ٹريڈنگ ايجنسی

بحریہ ٹريول ايجنسی

بحریہ کنسٹرکشن

بحریہ پينٹس

بحریہ ڈيپ سی فشنگ

بحریہ کامپليکس

بحریہ ہاوسنگ 

بحریہ ڈريجنگ 

بحریہ بيکری 

بحریہ شپنگ

بحریہ کوسٹل سروس 

بحریہ کيٹرنگ اينڈ ڈيکوريشن سروس 

بحریہ فارمنگ 

بحریہ ہولڈنگ 

بحریہ شپ بريکنگ 

بحریہ ہاربر سروسز 

بحریہ ڈائيونگ اينڈ سالويج انٹرنيشنل اور بحریہ فائونڈيشن کالج بہاولپور شامل ہیں!!


نوٹ : ان تفصیلات کا سرکاری اعداد و شمار سے کوئی تعلق نہیں ہے!! یہ تمام ادارے لیگل ہیں اور جائز کاروبار کرتے ہیں با قاعدہ ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرواتے ہیں گزشتہ برس 20-2019 میں پاکستان آرمی نے 190 ارب روپے ٹیکس دیا 25.8 ارب انکم, کسٹم اور سیلز ٹیکس دیا جب کہ ان کاروباری اداروں نے 164.239 ارب ٹیکس دیا اور ان میں حاضر سروس فوجی نہیں ہوتے!!


🔵 پاکستان آرمی کو کاروبار کی کیوں ضرورت ہے ؟؟


پاکستان آرمی بلحاظ تعداد دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے اور دونیا کی بہترین افواج میں شامل ہے پاکستانی خفیہ ایجنسیاں دنیا کی پہلی  بہترین ایجنسیاں ہیں تو کیا آپکو لگتا ہے کہ یہ سب سرکاری 17 فیصد بجٹ سے ہو سکتا ہے ؟؟...  پاکستان آرمی کو جو 17 فیصد بجٹ دیا جاتا ہے ان میں سے بھی 47 فیصد آرمی جب کہ باقی ایئر فورس اور نیوی میں تقسیم ہوتا ہے !! پاکستان آرمی حکومتی خزانے پر بوجھ بننے کی بجاۓ نجی کاروبار کرتی ہے لاکھوں ریٹائر فوجیوں اور سویلین افراد کو روزگار دیتی ہے میڈیکل کی بہترین سہولیات دیتی ہے تو کیا برائی ہے اس میں ؟؟ اگر یہ کام حکومت نہیں کر سکتی تو لازمی بات ہے غیر ملکی کمپنیوں کو دے دیا جاتا تو اس میں ہمارا کوئی فائدہ نہیں تھا !!


🔵  پاکستان آرمی کے اخراجات :


پاکستان آرمی کو جو 17 فیصد بجٹ میں سے حصہ ملتا ہے وہ آرمی کی تشکیل اور توازن کا ہوتا ہے جنگ لڑنے کا نہیں ہوتا!  دنیا کی چھٹی بڑی فوج اور پہلے نمبر کی خفیہ ایجنسیاں رکھنے والی فوج ظاہر ہے گھاس تو نہیں کھاۓ گی انکے بھی اخراجات ہیں اور وہ سب اس 17 فیصد میں پورے نہیں ہوتے!!پاکستان آرمی کے کاروباری اداروں سے حاصل شدہ آمدنی سے ہی وہ تمام کام ہوتے ہیں جو بجٹ سے نہیں کیے جا سکتے! جب پاکستان انڈیا کی تقسیم ہوئی تھی تو پاکستان فوجی فاؤنڈیشن کے حصے میں ایک کروڑ روپے آۓ تھے جنکا کفایت شعاری سے استمال کیا گیا تھا اور آج انھیں سے متعدد ادارے کھڑے کیے گئے ہیں !!


آرمی کے کسی یونٹ کے بیرکوں سے لے کر کسی پہاڑی پر بنی چیک پوسٹ تک ایک ایک روپیہ لگا ہوا نظر آتا ہے لاکھوں فوجیوں ریٹائر و حاضر سروس کو میڈیکل کی بہترین سہولیات تعلیم کی بہترین سہولیات جنگ لڑنے کے تمام اخراجات کسی بھی قومی مشن کے اخراجات قدرتی آفات کی صورت میں مدد کے اخراجات اسلحے کی خریداری کے اخراجات خفیہ ایجنسیوں کے اخراجات کسی بھی مصیبت زدہ ملک و قوم کی مدد کے اخراجات غیر ملکی دوروں کے اخراجات کھیلوں  کے اخراجات پریڈ کے اخراجات جدید ترین ٹیکنالوجی میزائلز ایٹمی ہھتیار اور سینکڑوں قسم کے اخراجات شامل ہیں اسی میں سے جنگیں لڑتی ہیں اسی میں سے آپریشن ہوتے ہیں اسی میں سے وطن آباد ہوتے ہیں سرحدیں محفوظ ہوتی ہیں شہدا کے لواحقین کا خیال بھی اسی میں سے رکھا جاتا ہے اور ظاہر ہے یہ 17 فیصد سے تو نہیں ہو سکتا!!!


🔹 پاکستان آرمی کا دیگر افواج سے موازنہ !!


پاکستان آرمی اپنے ایک سپاہی پر سالانہ 12500 ڈالر خرچ کرتی ہے جب کہ بھارت 42000 ڈالر امریکا 392,000 ڈالر اور سعودیہ 371,000 ڈالر خرچ کرتا ہے.. بھارت کا بجٹ پاکستان آرمی سے چھے گنا زیادہ ہے انکا صرف اسلحے کا پیسہ پاکستان آرمی سے دو گنا ہے مگر .. اتنے کم خرچ میں بڑے خرچوں والی فوج امریکا کو دھول چٹانے  والے یہی سپاہی ہیں ازلی دشمن بھارت کو تگنی کا ناچ نچانے والے یہی ہمارے فوجی ہیں سعودیہ کی رکھوالی کرنے والے یہی فوجی  ہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں دنیا کی مظبوط ترین نیٹ ورک رکھنے والی اور تسلیم شدہ ایجنسیاں ہیں اور یہ سب 17 فیصد میں تو نہیں ہوتا !!


🔹 پاکستان آرمی کے پلاٹس  اور اثاثہ جات !!


ایک کمیشن آفیسر جب فوج جوائن کرتا ہے اسے ایک آپشنل فارم دیا جاتا ہے جو کہ پاکستان آرمی کی ہاؤسنگ کی رکنیت کا ہوتا ہے رکنیت لینے والے کو ایک لاکھ کی پیمنٹ کرنی ہوتی ہے اور پھر باقی ماندہ اسکی تنخواہ سے کٹوتی ہوتی رہتی ہے.. جب آفیسر کی سروس 15 سال کے قریب ہو جاتی ہے وہ میجر یا لیفٹیننٹ کرنل بن چکا ہوتا ہے تو وہ تنخواہ میں کٹوتی کے حساب سے تقریباً ایک پلاٹ کا مالک ہو چکا ہوتا ہے اسی طرح پچیس سال سروس کرنے پر وہ برگیڈئیر یا میجر جنرل بنتا ہے تو کچھ زیادہ کا حقدار ہو چکا ہوتا ہے اور یہ مفت میں نہیں انکی تنخواہ سے کٹ چکا ہوتا ہے!!

پاکستان آرمی میں کرنل رینک سے ہر آرمی آفیسر کو سال کے بعد اپنے اثاثے ظاہر کرنے پڑتے ہیں فوجی کمیٹی  ان اثاثوں کا موازنہ گزشتہ سال کے اثاثوں سے کرتی ہے اور اگر اثاثوں میں فرق آ جاۓ تو منی ٹریل مانگا جاتا ہے اور قانون کے مطابق کاروائی ہوتی ہے..... !!!


🔹 فوج میں کرپشن حقیقت یا افسانہ !!


پاکستان آرمی میں کرپشن کا تصور نہیں ہے اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پیسوں کا لین دین براہ راست نہیں ہوتا بلکہ پاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ نامی ایک الگ ادارہ کام کرتا ہے یہی ادارہ تمام فورسز کو مالی ادائگیاں کرتا ہے اور پھر آڈٹ بھی کرتا ہے لہٰذا براہ راست پیسوں کے لین دین نا ہونے کی وجہ سے مالی گڑبڑ کا کرپشن کا تصور ختم ہو جاتا ہے اور جیسا کہ میں نے گزشتہ پیراگراف میں بتایا کہ ہر سال اثاثوں کی تفصیلات طلب ہوتی ہیں لہذا ہر چیز کا چیک اینڈ بیلنس ہونا کرپشن کے خاتمے کی بنیادہ وجہ ہے!!


فوج میں اگر آپ غور کریں تو آپکو ایک ایک انچ پر روپے لگے نظر آئیں گے ..  فوجیوں کا لباس بہترین  اسلحہ و ایمونیشن بہترین  گاڑیاں ہر وقت تیار  ایک منظم بہترین تربیت یافتہ فوج ہر دم ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار  ایک بھرپور نظم و ضبط ... انکی کالونیاں صاف ستھری ہسپتال صاف ستھرے اسکول بہترین ایسے کیسے ممکن ہے پھر ؟؟... ہر کام میں ایک ترتیب طے ہے ایک منظم طریقہ کار طے ہے ہر ایک روپیہ اسکی درست جگہ لگنے سے ہی ایسا ممکن ہے !!

آخری میں ایک بڑی مثال دیتا ہوں !!


جب کسی بھی ملک کی آرمی کرپشن کے بازار گرم کرتی ہے پھر وہ جنگیں نہیں لڑتی وطن کا دفاع نہیں کرتی بلکہ مشکل وقت میں دھڑام سے گرتی ہے کیوں کہ اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہے !! میں نے امریکی و افغانی افواج کی کچھ رپورٹس مطالعہ کیں جنکے مطابق افغان آرمی کاغذات میں تعداد میں زیادہ تھی مگر محاذ پر کم یعنی افغانی جرنیل اور سینئر قیادت امریکا سے زیادہ سپاہیوں کے اخراجات لیتے رہے ہیں جب کہ حقیقت میں اتنے سپاہی تھے ہی نہیں انکی خوراک ٹریننگ و دیگر اخراجات کے ڈالر جیب میں ڈالتے رہے ہیں اور جو موجود  تھے انکی نا ہی ٹریننگ کی نا ہی منظم فورس تیار کی نتیجہ کیا ہوا ؟؟.. امریکی افواج کے جاتے ہیں افغان آرمی تین دن میں کابل چھوڑ کے بھاگ نکلی !!!!


ہر ادارہ اپنے ملازمین کو سہولیات دیتا ہے جیسے بجلی کا محکمہ چند سو فری یونٹس گیس کا محکمہ  کچھ گیس فری اسی طرح آرمی بھی اپنے ملازمین کو چند سہولیات دیتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں !!.........

اتوار، 26 دسمبر، 2021

قائد حضرت قائد اعظم محمّد علی جناح رحمت اللّه علیہ کا یوم ولادت

 قائد حضرت قائد اعظم محمّد علی جناح رحمت اللّه علیہ 

قانون دان، با اصول اؤر با ہمت و دور اندیش سیاست دان اور صادق و امین


آج ہمارے قائد حضرت قائد اعظم محمّد علی جناح رحمت اللّه علیہ کا  یوم ولادت ہے، مجھے یہ کہنے میں ذرّہ بھی شک نہیں کہ آپ ایک بہت بڑے قانون دان، با اصول اؤر با ہمت و دور اندیش سیاست دان اور صادق و امین جیسے اوصاف کے حامل بھی تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد کے واقعات اِس کی بہت بڑی گواہی ہے۔


میرے قائد نے ایک سوال کے جواب میں اپنے قلم کی سیاہی فرش پر چھڑک کر کہا تھا کہ مجھے سیاہی کے ایک چھینٹے جتنا بھی پاکستان بھی ملا تو میں حاصل کروں گا. 

کیوں؟ میری سوچ کے سفر نے مجھ کو یہ نقطہ اس طرح سمجھایا کہ آپ کو بحالت ہوش میرے اور ھم سب کے آقا و مولا نے ہندوستان جانے کا حکم دے کر فرمایا تھا کہ انڈیا واپس جاؤ وہاں کے مسلمانوں کو تمہاری ضرورت ہے اور اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لئے میں آپکے ساتھ ھوں، قلم چھڑک کر ایک ذرّہ برابر بھی پاکستان حاصل کرنا انکی کوئی ضد نہیں بلکہ آقا و مولا کے دیئے ھوۓ حکم کی ھر حالت میں تعمیل کو یقینی بنانا تھا. 


تقسیم ھند کے بعد آپ پاکستان تشریف لائے، مملکت خدا داد کے پہلے گورنر جنرل بنے تو کابینہ کے اجلاس میں ماتحت افراد و افسران اور حکم دیا کہ جو بھی وزیر کابینہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے آئے وہ اپنے گھر سے چائے پی کر آئے، مجھے اور وزراء کو صرف سادہ پانی پیش کیا جائے غریب اور نو زائیدہ مملکت کا خزانہ اس اسراف کا متحمل نہیں ھو سکتا، پھر تاریخ گواہ ہے جب تک آپ اپنےعہدے پر فائز رہے کابینہ کے ھر اجلاس میں سبکو صرف سادہ پانی ہی پیش کیا گیا. بیت المال کے ایک ایک پیسے کو قوم کی امانت سمجھا۔


تنخواہ کا چیک نہ ھونے کے برابر، آپ پاکستان کے وہ واحد سربراہ تھے جنہوں نے اپنی وصیت  میں اپنے تمام اثاثہ جات تک مملکت خدا داد کو وقف کر دیئے اور سرکار نبی پاک کے دربار پر وقار میں سرخ رو ھوۓ. 


قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ پر وہی مکتبہء یا سوچ یہ الزام بھی لگاتی ھے کہ قیامِ پاکستان کے بعد اگر بھارت کی طرح سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو پاکستان کو سربراہ بنا دیا جاتا تو بہتر تھا، قائد اعظم خود بنے، یہ بھی انکی سیاسی غلطی بھی، مخالفین اگر ذرا سی بھی عقل سے سوچیں تو اُنکو اندازہ ہو کہ بھارت ایک سیکولر ریاست تھا، پاکستان نہیں، کیسے ممکن ہوتا کہ ایک نو زائدہ نظریاتی مسلمان ملک کا سربراہ کوئی غیر مسلم ھو۔


یہ تھی امانت، دیانت اور عظیم قائد کی صداقت. اللّه میرے قائد کی روح کو تسکین بخشے، کتنے پریشان ھوتے ھوں گے ملک کی موجودہ حالت کو دیکھ کر، یہ کوئی صاحب درد ہی محسوس کر سکتا ہے، عام پاکستانی یا آج کے نام نہاد سیاست دان ہر گز نہیں...


احقر العباد:-

جی۔ایم چوھان،

25 دسمبر 2021ء

جمعرات، 10 جون، 2021

The Mughals Tomb, Mirza Abul Hassan Asif Jah

مرزا ابوالحسن آصف جاہ



The Tomb of Asif Khan is a 17th-century Tomb located in Shahdra Bagh, in the city of Lahore (Punjab, Pakistan). It was built for the Mughal Commander Mirza Abul Hassan, who was titled Asif Khan. Asif Khan was brother of Noor Jahan, and brother-in-law to the Mughal Emperor Jahangir. Maqbara (Tomb) Asif Khan is located adjacent to the Jahangir’s Tomb, near the Tomb of Noor Jahan. and was built in a Central Asian architectural style, and stands in the center of  Charbagh, a Persian-style garden.

Asif Khan was the brother of Empress Noor Jahan, and father of Arjumand Bano Begum, who became the consort of Shah Jahan under the name Mumtaz Mahal. In 1636, he was elevated as Khan-e-Khana and commander-in-chief and a year later became the governor of Lahore. Asif Khan died on 12 June 1641 in a battle against the forces of rebel Raja Ranjeet Singh. His tomb was commissioned to be built in the Shahdra Bagh tomb complex in Lahore by Shah Jahan.


Abul Hassan Asif Jah

Maqbara (Tomb) Asif Jah

Maqbara (Tomb) Asif Jah


Sarai Akbari Lahore

 Main Entrance Sarai Akbari Lahore

Shahdra Bagh (Chahar Bagh)

Mughlia Art

Darbar Nooruddin Jahangir

Nooruddin Muhammad 



Historical Places of Lahore

Maqbara Jahangir


Pictures of Maqbara Asif Jah
















Qabar Asif Jah

Qabar Asif Jah

Qabar Asif Jah







Maqbara Asif Jah Maintenance in Progress March 2021

Maqbara Asif Jah Maintenance in Progress March 2021

Maqbara Asif Jah Maintenance in Progress March 2021

Maqbara Asif Jah Maintenance in Progress March 2021

Maqbara Asif Jah Lahre

Maqbara (Tomb) Nurjahan Lahre

Maqbara Jahangir

Mumtaz Begum/Mumtaz Mahal (Arjumand Bano)

Noor Jahan

Raja Ranjeet Singh

Ravi River (Deryae Ravi)

Ravi River (Deryae Ravi)

Ravi River (Deryae Ravi)

Shah Jahan

Shah Jahan

ShahJahan-Mumtaz Mehal -1612 


Taj Mahalal Agra

Main Entrance Taj Mahal Agra

Taj Mahal Agra

Taj Mahal Agra

Minar Taj Mahal Agra

 Taj Mahal Agra

Taj Mahal Agra

Taj Mahal Agra

Maqbara Abul Hassan Asif Jah



 

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...