#صدائے_درویش
اللّٰہ ربّ العزت کے رحمانی اوصاف
کسی کے بھی عیب پر پردہ ڈالنا اللّٰہ ربّ العزت کے رحمانی اوصاف میں سے ایک وصف ہے، انسان چونکہ اللّٰہ رب العزت کا نائب بھی ہے، جو "First one" کے اوصاف ہیں اُسکے نائب میں بھی ہونے ضروری ہونے ضروری ہیں، لیکن میرا مشاہدہ ھے کہ ھماری کثرت "پردہ پوشی" کا سبق بھول چُکی ھے، جس کا خمیازہ ہم بھگت بھی رہے ہیں، اگر دوسروں کو سرِ عام ننگا کرکے خوش ہوتے ہیں تو ایک قوّت ہمیں بھی ننگا کرنے میں مصروف ہوتی ہے، اللّٰہ رب العزت "فساد فی الارض" کو بلکل نہیں پسند فرماتے۔
40 سے 50 سال پہلے ہماری کثرت کی ترجیح انسان تھا، سو یہی سوچ کر سب کچھ دیکھ کر اکثر خاموشی ہی اختیار کئے رکھتے تھے کہ اللہ رب العزت
"ستّار العیوب" ھیں، میں کون سا اچھا ہوں، اس نے میرے اگر سب کچھ دیکھ کر بھی عیب چھپا رکھیں ہیں تو میں کسی کو کیوں ننگا کروں، یہی اطاعتِ الٰہی اور خوفِ خدا تھا۔ اگر نبی علیہ صلوۃ والسلام کی حیاتِ طیبہ اور اُسوہ حسنہ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک سے زائد واقعات ملے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) نے بہُت سے موقعوں پر پردہ پوشی اور عفو و درگذر سے کام لیا۔ یہاں میں ایک زانیہ (اللّٰہ مجھے معاف کرے کہ یہ لفظ لکھنا پڑا ہے) کی مثال پیش کروں گا جو بارگاہِ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) میں پیش ہوکر اپنے جرم کا اعتراف کرتی ہے، پہلے اور دوسرے اعتراف پر تو آپ اپنا چہرہ مبارک مخالف سمت میں پھیر کر ان سنی کر دیتے ہیں، لیکن جب تیسری بار بھی وہ عام اقرار کرتی ہے تو آپ اس پر "حد" جاری کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ (مفہوم) "تم نے خود پر گواہ ھی اللّٰہ کے رسول کو کر لیا ہے" پھر آپ علیہ السلام نے اسکو سنگسار کرنے کا حکم دے دیا، حُکم پورا بھی ہوا۔ پہلی مثال تھی اللّٰہ تعالیٰ کا خوف, انسان اور انسانیت سے محبّت۔ اگر ہم کسی کی پردہ پوشی کرتے ہیں، عفو و درگذر سے کام لیتے ھیں تو ھم سب کی اپنے آقا و مولیٰ نبیء رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) محبّت کا عملی مظاہرہ بھی کر رہے ہوتے ہیں، یہ ہے عشق یہ ہے محبّت کی معراج کی دوسری مثال ہے، اُسوہ حسنہ کی مکمّل تقلید جس کی بنیاد سچ صرف سچ۔
آئیں اب عصرِ حاضر پر نظر ڈالتے ہیں، سب کچھ دیکھ کر بھی خاموش رہنا تو "من حیث القوم" ہماری کثرت کے مزاج کا حصّہ ہی نہیں، جب تک ہم بات کا "بتنگڑ" نہ بنا لیں گویا سکون ھی نہیں ملتا، ایک کی دس لگا کر آگے بات پہنچاتے ہیں، پردہ پوشی نہیں کرتے، اللّٰہ ہم سب کو توفیق بخشے کہ ہم عیبوں کو تلاش کرکے کسی کی برائیاں کرنے اسے باز آ جائیں، پہلے خود اپنے گریبانوں میں جھانکیں پھر کسی دوسرے کی طرف انگل اٹھائیں تو بہتر ہے۔ اصلاح معاشرہ اس دور میں مشکل عمل ہے، لیکن!
یہ کام ہم سب نے مل کر ہی کرنا ہے، بہتر یہ ہے کہ اس عمل کا آغاز خود اپنی ذات سے کیا جائے، پھر گھر، اولاد اور اگلا اسٹیپ ایسی سوسائٹی کی تشکیل ہو جس کی بنیاد ہی سچائی، خلوص اور صبر و تحمل تحمّل ہو، بُغض، عناد پر نہیں۔
دوستو!
کسی دور میں ہم کسی ایک فرد کو ہم "دانا" سمجھ کر اسکی بات کو پلّے باندھ لیا کرتے تھے، اب نہیں کرتے، تب ہم اور ہمارا معاشرہ سکھ میں بھی تھا, اب ہم سنتے نہیں بلکہ سنا کر ہی دم لیتے ہیں، سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے میدان مار کیا، تفخر رعونت کے ساتھ مغلوب کی طرف دیکھتے ہیں، یہی ہماری کج بختی ہے، ہر برائی کی جڑ ہے۔
کسی دوسرے کی مان لینے کیلئے خود اپنی زات کی مکمّل نفی کرنی پڑتی ہے جو فی زمانہ خاصّہ مشکل کام ہے۔
اللہ ہم سب کو اپنے قول و فعل کے تضاد سے بچائے، ہم سب کو سیدھے راستے کا انتخاب کرکے اس پر چلنے کی بھی توفیق دے، سیدھا راستہ تو کوئی 1400 سال پہلے بتا دیا گیا تھا، صرف ہم نے اس پر عمل پیرا ہونا ہے، اگر ہو جاتے ہیں تو میرا ایمان ہے ہمیں ان شاء اللہ العزیز آسانیاں اور دینی و دنیاوی عزت بھی ملے گی اور ہم مسلمانوں کو دنیا بھر میں وہ مقام بھی حاصل ہوگا جو دیگر اقوام کو حاصل ہے، بس ہمیں اللہ کی رسّی کو پھر سے مضبوطی سے تھامنا ہوگا جس کا حکم کلامِ الٰہی میں ہے، چس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے آخری "خطبہء حج" میں بھی مفصّل طور پر درج ہے، یقینی جانئے اگر ہم نے متحد ہوکر خود کو مومن ثابت کردیا تو فرانس یا دیگر شیطانی طاقتوں میں جرات تک نہیں ہوگی کہ وہ کسی اہلِ ایمان کی طرف انگلی بھی اٹھا سکیں، میرے آقا و مولیٰ یا اصحابِ کبار کی طرف تو دور کی بات ہے۔
آپ سب کا:-
غلام محمد چوہان۔
20.04.2022