حاصل مطالعہ
مہاراج چانکیہ کوٹلیہ
چانکیہ جی کسی جنگل میں سے گزر رہے تھے کہ اچانک انکی دھوتی ایک خاردار جھاڑی میں پھنس کر پھٹ گئی، چیلوں نے گرو جی کی دھوتی آزاد کرائی تو چانکیہ جی اپنے چیلوں سے مخاطب ھو کر کہنے لگے:--
بالکو!
کہیں سے کافی سارا گڑ لاؤ!
آگیا کا پالن ھوا، گڑ دے دیا گیا،
اب چیلے حیران اور متجسس کھڑے تھے کہ گرو مہاراج جھاڑی کے ساتھ کیا سلوک کرتے کیا ھیں۔
چانکیہ جی نے اس جھاڑی کی جڑیں کھود کر ننگی کیں اور گڑ گھول کر اسکی جڑوں میں ڈالا اور بغیر کوئی بات کیئے اپنی منزل کو روانہ ھو گئے۔
کچھ دنوں بعد اسی راہ سے واپسی ہوئی تو اپنے شاگردوں سے گویا ھوۓ،
بالکو!
کیا تم کو یاد ہے کہ کچھ دن پہلے ایک جھاڑی نے میری دھوتی پھاڑی تھی؟
سب یک زبان بولے " جی مہراج یاد ہے "
پھر چانکیہ جی اپنے چیلوں کو لے کر اس جھاڑی کے قریب پوھنچے تو دیکھا کہ جڑوں میں گڑ ڈالنے کی وجہ سے ساری جھاڑی میٹھی ھو چکی تھی اور ہر طرح کے حشرات الارض کو چپک کر کھانے میں مصروف اور جھاڑی کو صفحہ ہستی سے ختم کر رہے تھے۔
وہاں چانکیہ کوٹلیہ نے ایک مشہور جملہ کہا:--
" جو گڑ دینے سے مرسکتا ھو اسے زہر دینے کی کوئی ضرورت نہیں "
ارتھ شاستر سے انتخاب:
احقر العباد :--
جی۔ایم چوھان۔
March 03, 2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں