صدائےدرویش
نیکی اورگلہِری
وی سی ار کا دور ختم ھوا تو سیٹلائٹ ڈش رسیور کا زمانہ آیا، شوق سے گھر میں ڈش لگوائی، یہ وہ زمانہ تھا جب ڈش کو لوئر مڈل کلاس میں سیمبل آف سٹیٹس سمجھا جاتا تھا اور بہت برا بھی۔
گھر کے افراد انڈین چینلز،اور میں شوق سے نیشنل جیوگرافک چنیل یا پھر کوئی غیر ملکی نیوز چنیل دیکھ لیتا تھا یا کبھی کبھار کارٹون وغیرہ بھی۔
ایک مرتبہ ایک انڈین مذہبی چینل دیکھ رہا تھا کہ ایک سادھو صاحب مجلس میں " دھارمک " یعنی مذہبی گفتگو کر رہا تھا، چینل اچھا لگا اور اس بندے کی باتیں بھی۔
اب میرا معمول بن گیا کہ میں صبح ٹھیک 06 بجے اٹھتا اور وہ چینل ٹیون کر کے ہر روز اس صاحب کی بات چیت سننے لگ گیا۔
امی جی (اللّه انکو کروٹ کروٹ جنّت نصیب کرے) کو صبح صبح وہ چینل مجهے دیکھتے ھوۓ بہت تاؤ آ جایا کرتا تھا، اکثر غصّے سے بولنا بھی شروع ھو جاتیں کہ یہ کیسا بندہ اس گھر میں پیدا ھو گیا کہ آنکھ کھولتے ہی روزانہ مووا برہمن سامنے ھوتا ہے، اکثر انکی بات کو سنی ان سنی کر دیا کرتا تھا، اس جٹا اور تلک دھاری سادھو کی باتیں سنتا رہتا تھا۔
ایک بار اس نے ایک حکایت بیان کی جو مجھ کو بہت پسند آئ، آج میں وہ حکایت اپنے دوستوں کے ساتھ share کرنا چاہوں گا۔
سادھو جی کہنے لگے:-
" یہ اس سمے کی بات ہے جب مائی سیتا کو راکھشش راون لنکا اٹھا کر لے گیا تو شری رام چندر جی مہراج نے مائی سیتا کو آزاد کروانے کی ٹھانی، تمام ساتھیوں کو کہا کہ سمدر کو بھرنا شروع ھو جاؤ کہ لنکا تک سینا لے کر جانے کا راستہ بنے۔
حکم کی تعمیل هوتی ہے اور ہر جاندار پتھر اٹھا اٹھا کر سمندر میں پھینکنا شروع ھو جاتے ھیں، جس کی جتنی بساط تھی اتنا ہی وزن اٹھا کر
حکم کا پالن کرتا چلا گیا۔
#ہنومان جی اپنی طاقت مطابق کے پہاڑ ڈالتے چلے جا ھیں تو چیونٹی اپنی حیثیت کے مطابق تعمیل میں جتے ھوئ تھی۔
راوی کہتا ہے کہ وہیں کہیں ایک گلہری بھی یہ سب تماشہ دیکھ رہی تھی، پریشان ھو کر ایک جانور سے پوچھا کہ یہ کیا ھو رہا ہے؟
جانور نے کہا ہٹو بی گلہری کسی کے پاؤں تلے آ کر کچلی نہ جانا یہ تمہارے بس کا روگ نہیں۔
گلہری کی ضد پر جاندار نے بتایا کہ یہ "پن " یعنی نیکی کا کام ھو رہا ہے۔
گلہری نے بھی سوچا کہ اگر"پن" ہے تو اس میں مجهے بھی اپنا حصّہ ضرور ڈالنا چاہئے، کام میں جت گئی جو بساط بھر منہ میں آیا پھینکتی چلی گئی۔
یگ بیت گئے، ایک دن شری شری رام چندر جی کی اچانک گلہری پر نظر پڑ گئی، گلہری کواٹھا کر اپنی ہتھیلی پر رکھا اور بولے "بی گلہری یہ کیا کر رہی ھو؟
گلہری نے جواب دیا "پن کے کام میں اپنا حصّہ ڈال رہی ھوں مہراج!
چھوٹے چھوٹے کنکر سمندر میں ڈالتے دیکھ کر (راوی کے مطابق اس سمے جانور بھی بولا کرتے تھے)۔
شری رام چندر جی نے کہا کہ اتنے بڑے اور چھوٹے جاندار سمندر بھر رہے ھیں، تیری ایک کنکری سے کیا ھوگا؟
گلہری بولی مہاراج مجھ میں جتنی ہمّت ہے، جتنی میری بساط ہے میں نیکی کے اس کام میں اپنا حصّہ ڈال رہی ھوں۔
گلہری کی بات سن کر شری رام چندر جی بہت خوش ھوۓ اور پیار سے گلہری کی پشت پر ہاتھ پھیرا، کہا آج جو گلہری کی کمر پر نشان ھیں اور شری رام چندر جی کی انگلیوں کے نشان ھیں۔
بات کو ختم کرتے ھوۓ سادھو بولا " ہے مترو!
گلہری بنو گلہری !
"پن" کے کام کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق حصّہ ڈالتے رھو، اگر اوپر والے کی کبھی نظر پڑ گئی تو بیڑا پار ھو جائے گا۔
حکایت میں share کر چکا، جو اس میں پیغام ہے وہ بھی آپ سب دوستوں کو یقینی طور پر پہنچ چکا ھوگا۔
مجهے یہ بات اس وجہ سے بھی اچھی لگی کہ "علم مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں سے بھی ملے حاصل کرلو۔۔
طالب دعا؛--
جی۔ایم چوھان۔
05.10.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں