#صدائے_درویش
ھمیں جمہوریت نہیں امن انصاف اِستحکام چاھیے
کبھی ہمارے اجداد کہا کرتے تھے کہ معاشرے میں شرافت ہی عزت کا معیار ہوتی ھے، پیسہ نہیں، پیسہ تو کنجروں کے پاس بھی بہت ہوا کرتا ہے، اب تو یارو اُسکے بلکل الٹ ہو چکا، اب اگر پیسہ کنجر یا کنجر اوصاف کے حامل بھی پاس ہے تو لوگ اُسے جُھک جُھک کر سلام کرتے ہیں، آداب بجا لاتے ہیں، شرافت اب معیار نہیں رہی, شرافت کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ کل یگ ھے دوستو کل یگ۔
******
ہمیں جمہوریت کی چنداں ضرورت نہیں،آپ ملکی تاریخ پڑھ کر دیکھ لیں صرف ڈکٹیٹر شپ ہی اس ملک میں کامیاب رہی ہے اور عین ھمارے مجموعی مزاج کے مطابق بھی۔ مرحوم صدر ایّوب خان نے پاکستان کو معاشی میدان میں مضبوط بنایا تو دوسری طرف مرحوم ضیاء الحق نے دفاعی میدان میں وطنِ عزیز کو ناقابلِ تسخیر، اِس حقیقت سے تو انکار ممکن ہی نہیں۔ اِس وقت ملک میں موجود سارے ماندہ میگا پروجیکٹس مرحوم صدر ایّوب خان کے دورِ حکومت میں ہی بنے یا اُنکی بنیاد رکھی گئی تھی، تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔
آئیں اب جمہوری نظامِ حکومت کے کارناموں پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں، تمام صورتِ حال اظہر من الشمس ہمارے سامنے ہے، دونوں آمروں کے دورِ حکومت میں ڈالرز پاکستان آتے تھے، money loundring سے کبھی بھی باہر نہیں جاتے تھے، مرحوم ایّوب خان کے دورِ اقتدار میں ملک صنعتی میدان میں آگے تھا، PIA، ریلوے، WAPDA دنیا کے دیگر ممالک کے لئے ایک طرح سے مثالی departments تھے، منافع بخش تھے، خسارے میں نہیں۔ بھٹّو مرحوم نے ساری صنعتوں کو قومی تحویل میں لے کر اُنکا ستیہ ناس کردیا، روس کے تعین سے اسٹیل مل تو لگی، مگر اُسکے بعد کے جمہوری ادوار میں اُسکا دیوالیہ نکال کر رکھ دیا گیا، اب بند پڑی ہوئی ہے۔ PIA جو کہ "باکمال لوگ اور لاجواب پرواز" کے نام سے دُنیا کی صفِ اوّل کی قومی ایئر لائن اور ہماری شناخت تھی آج اُسکی صورتِ حال بد ہی نہیں بدترین ہے۔ پھر اسکے بعد ایک فوجی آمر اور اُسکے بعد آنے والے جمہوری ادوار میں جو کچھ بھی ہوا وہ ہم سب کے سامنے ہے، ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اب تک غیر قانونی طور پر اربوں ڈالرز جمہوری ادوار میں ہی ملک سے باہر جا چکے ہیں، مرحوم صدر ایّوب خان یا مرحوم ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں سرمایہ ملک سے باہر جانے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ملک میں سب سے پہلے زرعی اصلاحات کا سہرا بھی ایک فوجی آمر مرحوم ایّوب خان کے سر ہی جاتا ہے، ہم لوگ اچھائیوں کو بھول کر برائیوں کو لئے بیٹھنے کے عادی ہیں، یہ روش بدلنی جوگیم
گزشتہ چند دنوں سے ملک میں کو کچھ ہو رہا تھا وہ الحمدللہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے سے آج اختتام پذیر ہوا اور ایک طرح کی ہیجانی کیفیت بھی۔ جمہوریت اچھا نظامِ حکومت ہے، مگر اُن ممالک کے لئے جو معاشی اور اقتصادی طور پر بہت مضبوط ہوں اور جنکا عدالتی نظام top to bottum اچھا ہی نہیں بلکہ بہترین کہلاتا ہو، اگر اسی طرح سے عدالتی نظام مضبوط اور بااختیار رھنے دیا جائے، بلا امتیاز اور یکساں Accountability سے اگر معاشی اور اقتصادی طور پر ملک مستحکم ھو جائے تو موجودہ جمہوری سسٹم بھی تناور درخت بن کر میٹھا پھل دے سکتا ھے، مگر! اِسکے لئے پوری ایمانداری سے پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری ترجیح ہوگی تو ہی کامیابی حاصل ہوگی، ورنہ زہریلا پھل تو ھم تین دہائیوں سے کھاتے ھی چلے آ رھے ھیں۔
****
موجودہ سیاسی کشمش سے قومی اور صوبائی حکومتوں کے ایوانوں میں پیدا شدہ صورتِ حال دیکھ کر میرے ذہن میں خیال آ رہا ہے کہ تمام اہم اداروں کے دفاتر فوری طور پر شاندار بلڈنگز سے شفٹ کرکے نزدیکی قبرستانوں میں لگا دیے جائیں، شائید قبریں دیکھ کر ہی حضرتِ انسان کو اپنی حیثیت اور دُنیا کی بے ثباتی کا اندازہ ہو پائے اور وہ درست فیصلے کرنا شروع ہو ہی جائیں۔
خدا کا خوف اور آخرت میں اپنے اعمال کی جواب دہی کا خوف تو ذہن سے بلکل نکل چکا، ورنہ جو دھینگا مشتی ہو چکی ہے کبھی بھی نہ ہوتی۔ عین ممکن ھے قبریں دیکھ کر موت کا خوف طاری ہو انانیت ختم ہو اور ہمارے کرتا دھرتا کچھ ایسے فیصلے بھی کر ہی جائیں جن سے ملک و قوم کی بقاء اور عام پاکستانی کے لئے قدرے زندگی آسان ہو جائے۔ میرے نزدیک تو اب حالات کو سدھارنے کا یہی واحد حل بچا ہے۔
باقی تو اندھیرا ہی اندھیرا ہے، اُمید کی کوئی ہلکی سی کرن بھی نہیں دکھائی دے رہی، مایوسی اور انتہائی یاسیت چھائی ہوئی ہے۔
جی۔ایم چوہان
25.07.2022