جمعہ، 24 جولائی، 2020

Babul Islam Sindh Utter, Wichlo aur Laar Sindh

صدائے درویش                             میرا سانگھڑ، سندھ، پاکستان

اُتروچولواورلاڑ سندھ

اّتر سندھ

ہم اگر سندھ کے مزاج کا مطالعہ کریں تو ہم اسے 03 حصوں میں بانٹ کر سمجھ سکتے ہیں، شمالی سندھ کو سندھی زبان میں "اُتر" اور وہاں کے رہنے والوں کو ہم "اترادی" کے نام سے پکارتے ہیں، یہ لوگ چونکہ عام طور پر کم تعلیم یافتہ ہوا کرتے ہیں اور قبائلی نظام کے زیرِ اثر بھی، سو یہ لوگ قدرے "جھگڑالو" ہوتے ہیں، خاندانی دشمنیاں وغیرہ بھی عام ہوتی ہیں، "اُتر" کے اضلاع شکارپور اور جیکب آباد زیادہ مشہور ہیں، شکارپور کو تو مقامی لوگ 12 سرداروں کا شہر کہتے ہیں، کوئی ایک سردار ہوتا تو شائید شکارپور کی بھی سنی جاتی، سندھ کا "پیرس" کہلانے والا شہر شکارپور اب کھنڈر نما ہوچکا ہے۔ "جیکب آباد" سندھ کا سرحدی شہر ہے، سرحدی شہر ہونے کی وجہ سے یہاں کاروبار بہت اچھا ہے، کاروبار کی کثرت "ہندو برادری" کے ہاتھ ہے۔ بلوچستان کے قریب ہونے کی وجہ سے  بلوچی ثقافت اور رہن سہن کے زیر اثر ہے، اگر آپ شکارپور یا جیکب آباد جائیں تو بازاروں میں شہری علاقوں کی طرح مقامی خواتین خرید و فروخت کرتی ہوئی نظر نہیں آئیں گی، صرف مرد حضرات کرتے ہیں۔

لیکن! 

وقت کے ساتھ ساتھ ان میں بھی شعور آ رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ تعلیم کے حصول کے لئے بڑھتا ہوا رجحان بھی۔ ان دونوں اضلاع کے دیہاتیوں کی زندگی بہت کھٹھن ہے، مرد سارا دن ہوٹلوں پر چائے پیتے، گپ شپ لگاتے اور انکی خواتین انتہائی محنتی اور جفا کش کہ سارا دن "کھیتی باڑی" کو سنبھالتی ہیں، ھارپہ کرتی اور شام کو گھر اور بچوں کو بھی۔ 

سکھر اور ڈھرکی کے اضلاع البتہ قدرے بہتر ہیں اور "اُتر" کے لحاظ سے تعلیم کا ratio بھی دیگر شمالی اضلاع کی نسبت بہتر ہے، مگر دریائے سندھ کا کچّہ نزدیک ہونے کی وجہ سے کسی دور میں لوٹ مار اور ڈاکے وغیرہ عام تھے، اب نہیں ہیں۔ سلرا شہداد کوٹ، خیرپور میرس، قنبر علی خان، لاڑکانہ اور ضلع دادو کا شمار بھی اُتر سندھ میں ہی ہوتا ہے، لیکن یہ اضلاع جیکب آباد، شکار پور، سکھر اور گھوٹکی سے مزاج کے اعتبار سے الگ ہیں، شرح خواندگی بھی اچھی ہے اور وہاں کے رہنے والے بھی عقل و شعور کے حامل ہیں، سیاست ہو یا کوئی اور شعبہ ہر فیلڈ میں خود کو منوا رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق لاڑکانہ جب کہ قاضی فیملی کا تعلق (یہ وہی قاضی محمد اکبر ہیں جس نے 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر جی۔ایم سید کو شکست دی تھی).

وچولو سندھ

اب آئیں "وچولو" پر نظر ڈالتے ہیں، نوشہرو فیروز، اور نواب شاہ اور سانگھڑ ضلع کا بھی وچولو میں ہی شمار ہوتا ہے، ( جبکہ سانگھڑ کا مشرقی حصہ صحراءتھر کا حصہ ہے اُسے اچھڑوتھر  کے نام  سے پُکارا جاتا ہے) ضلع نوشہرو فیروز، نواب شاہ، سانگھڑ، میرپور خاص، ٹنڈو الہیار، جام شورو اور حیدرآباد کے اضلاع بھی وچولو میں ہی ہیں، یہاں کا کیلا اور آم ملک اور بیرون ملک بہت پسند کیا جاتا ہے، ایکسپورٹ بھی ہوتا ہے، دیگر زرعی اجناس بھی وافر مقدار میں ہوتی ہیں، دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ کا پانی میٹھا اور قابل کاشت ہے، جبکہ دیگر جگہوں میں نہری نظام سے استفادہ حاصل کیا جاتا ہے۔

کسی دور میں نوشہرو فیروز اور قاضی احمد تعلیم کے لحاظ سے سندھ بھر میں سر فہرست تھے (اب بھی ہیں) ان علاقوں کے سومرو، میمن اور سہتے خود کو ہر میدان میں صرف سندھ ہی نہیں بلکہ پاکستان اور بیروں ملک بھی منوا چکے ہیں، انتہائی ذہین لوگ ہیں۔ کسی دور میں سندھ کی ٪80 نوکریوں پر اسی علاقے کے لوگ ہی براجمان تھے، اب زیادہ تر نوابشاھ کے ہیی, سول نوکریوں میں "زرداری" قوم کی کثرت ھے۔

وچولو کے شہری علاقوں میں شرح تعلیم زیادہ ہے، دیہاتوں میں کم، زرعی زمین اچھی مگر صحرائی علاقوں میں پیداوار کا زیادہ تر انحصار برسات پر ہے 

لاڑ یا لوئر سندھ

لاڑ میں ضلع بدین، ٹھٹہ اور مٹھی کے اضلاع شامل ہیں، مٹھی صحراء تھر پر مشتمل ہے، جبکہ ضلع بدین اور ٹھٹہ کے اضلاع کاشتکاری اور تعلیم کے میدان میں کافی بہتر ہیں، یہاں کا کیلا بھی سندھ کے دیگر علاقوں کی طرح بہت مشہور ہے۔ ضلع ٹھٹھہ میں ہی درهائےسندھ سمندر میں گرتا ہے، آج بھی وہاں مشہور بندر گاہ کیٹی بندر کے اثر موجود ہیں جہاں سے کسی دور میں کیٹی بندر سے سکھر تک دریا کے راستے تجارتی سامان کی نقل و حمل ہوا کرتی تھی۔ مٹھی سارے کا سارا صحرائی علاقہ ہے جس عرف عام میں صحرائے تھر کہتے ہیں۔  صحراء اور سمندر نزدیک ہونے کی وجہ سے لاڑ کے لوگ بہت سادہ لوح اور انکے مزاج میں سمندر اور صحرا کی سی وُسعت ملتی ہے، امن پسند، صلح جو اور مل بانٹ کر کھانے والے ہیں۔ 

کراچی بھی جنوبی سندھ میں ہی ہے، پاکستان اور سندھ کی واحد "بندرگاہ" سندھ کا دار الحکومت اور غریبوں کی ماں بھی۔ کراچی اور کراچی کے لوگوں اور انکے مزاج کو سمجھنے کیلئے الگ سے لکھنے کی ضرورت ہے۔

"اُتر ہو یا وچولو یا لاڑ " ان سب میں جو چیز کامن ہے وہ ھے سندھ کی روایتی "مہمان نوازی" اور باہمی رواداری، ایک دوسرے کا عزت و احترام جس کا ملک بھر شائد ہی کوئی ثانی ہو۔

میرے دوستو!


یہ ہے میرے سندھ میرے "باب السلام" کا تعارف، اُمید ہے ضرور پسند آیا ہوگا۔

میرے شہر اور ضلع سانگھڑ کا تفصیلی تعارف مجھ پر قرض رہا، سانگھڑ "مردان حر" کا ضلع ہے، انتہائی پرامن محبت, رواداری اور بھائی چارے سے رہنے والوں کا شہر بھی۔


احقر العباد:-
غلام محمد چوہان،
21.07.2020

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...