"حاصل مطالعہ"
ذراسوچئے
صبر، شکرگزاری، سکون، انسانیت۔ یا غصہ، جنون، حسد ۔
فرض کیجئے آپ چائے کا کپ ہاتھ میں لئے کھڑے ہیں اور کوئی آپ کو دھکّا دے دیتا ہے، تو کیا ہوتا ہے۔ آپ کے کپ سے چائے چھلک جاتی ہے۔ اگر آپ سے پوچھا جائے کہ آپ کے کپ سے چائے کیوں چھلکی تو آپ کا جواب ہوگا کیونکہ فلاں نے مُجھے دھکّا دیا۔
غلط جواب:-
درست جواب یہ ہے کہ آپ کے کپ میں چائے تھی اسی لئے چھلکی, آپ کے کپ سے وہی چھلکے گا جو اس میں ہے۔
اسی طرح جب زندگی میں ہمیں دھکّے لگتے ہیں، لوگوں کے رویوں سے تو اس وقت ہماری اصلیت ہی چھلکتی ہے۔
آپ کا اصل اس وقت تک سامنے نہیں آتا جب تک آپ کو کوئی دھکّا نہ لگے۔
تو دیکھنا یہ ہے کہ جب آپ کو دھکّا لگا تو کیا چھلکا؟
صبر، خاموشی، شکرگزاری، رواداری، سکون، انسانیت۔
یا
غصہ، کڑواہٹ، جنون، حسد، نفرت، حقارت۔
چن لیجئے کہ ہمیں اپنے کردار کو کس چیز سے بھرنا ہے، فیصلہ ہمارے اختیار میں ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں