صدائے درویش , میرے رفیق/ میرے دوست ,میرا سانگھڑ, عظیم لوگ, ماضی کے جھروکوں سے, میرے قلم سے , میری یادیں، میری ملاقاتیں, یادِ رفتگاں , چھوٹی چھوٹی باتیں/میرے مشاہدات , داستانِ حیات/خود نوشت, حاصل مطالعہ,
بدھ، 30 جون، 2021
جمعہ، 25 جون، 2021
Choti c khwahish,چھوٹی سی خواہش۔
چھوٹی سی خواہش۔
میرا زاتی مشاہدہ ھے کہ اس دور کے بچّے کمال کے سیاستدان، ذہین و فطین، ساتھ ہی ساتھ دانشور، مدبّر اور ماشاء اللّہ معاملہ فہم اور باتوں ہی بیٹوں میں دُور کی کوڑی لینے والے ہوتے ہیں، والدین سے اپنی بات منوانے کا ہنر بھی خوب جانتے ہیں، انہیں ننھے پھولوں کی مسکراہٹ، خوشی اور ضرویات کو پورا کرکے ہی ہمیں قلبی سکون ملا کرتا ہے، بلآخر اولاد ہے جو کہ جانوروں کو بھی پیاری ہوا کرتی ہے، سچی بات تو یہ کہ ہمارے دل کی دنیا بستی ہی انہیں کے دم سے ھے، ھماری پوری کائنات و دولت، ھماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ہمارے بچّے ہی ہوا کرتے ہیں۔ جب میں ان خوبصورت پھولوں کو ہنستا مسکراتا، ضد کرکے کبھی رو کر بھی اپنی بات منواتا دیکھتا ھوں تو بس میری بچوں کو دیکھ کر اللّہ ربّ العزت سے یہی دُعا ہوا کرتی ہے کہ جب وہ "اپنی دُنیا بسائیں" تو اپنے دل کی بستی میں تھوڑی سی جگہ ہمارے لئے بھی ضرور رکھ لیں, ایک چارپائی برابر جگہ، کھڑکی بھر آسمان اور تھوڑی سی توجہ، اس سے زیادہ شائید ہی ہم قناعت پسند لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی، اگر آنے والے وقتوں میں ایسا ممکن ھو جاتا ھے تو سمجھ لیں کہ ہمیں اللّہ کی بخشی ہوئی نعمتوں میں سے ایک بہت ہی بڑی نعمت مل چکی ہوگی۔
طالبِ دعاء اور دُعا گو:-
جی۔ایم چوہان۔
25 جون کی ایک حبس زدہ شام۔
ہفتہ، 19 جون، 2021
Kisidor men, جب علم بکنا شروع ہو جائے وہاں سے ادب خاموشی سے کوچ کرجاتا ہے
جب علم بکنا شروع ہو جائے وہاں سے ادب خاموشی سے کوچ کرجاتا ہے
میرے دوستو!
کسی دور میں علم بیش قیمت سرمایہ ہوا کرتا تھا، لوگ نہ تو علم خرید سکتے تھے اور نہ ہی بیچنے والا علم کی قیمت وصول کرتا تھا نہ ہی استاد جانتا تھا کہ کتنی قیمت وصول کرے، انمول جو تھا اس لئے مفت ہی بانٹا جاتا تھا، صدقہء جاریہ سمجھ کر، کسی دور میں حصولِ علم کیلئے لوگ دور و دراز ممالک کا سفر کیا کرتے تھے، در در کی خاک چھان کر کرتے تھے اور پھر حاصل شدہ سرمایہ کو ضرب دیکر اُسے فی سبیل اللہ تقسیم بھی کیا کرتے تھے، آج علم آپکے dor step پر ہے، موبائل کے ایک ٹچ کی دوری پر ہے، جب دوریاں ختم ھو کر بلکل نزدیکیاں پیدا ہو ہیں تو آسانی سے حاصل شدہ چیز کی اہمیت بھی کم ہوتی چلی جاتی ہے، یہ ناقدری ہے علم کی اور بہتات بھی، علم تو ہے، بحث برائے بحث ہے مگر عمل نہیں۔ کسی زمانے میں پڑھا تھا کہ "زہر کیا ہے؟ تو کسی دانا نے جواب دیا کسی بھی چیز کی کثرت" آج آپ اپنے گرد و نواح پر نظر ڈالیں تو ہمارے معاشرے میں یہ زہر جگہ جگہ پھیلا ہوا ملے گا، یہی وجہ ہے کہ کسی کی بات سن کر اُسے سر خم تسلیم کرکے مان لینے کی رسم بھی ختم ہو گئی، بحث و مباحثہ، دلائل سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش، تعمیری سوچ اور مثبت عمل ندارد، علمی بہتات مگر ادب واحترام ختم۔ للّٰہ خریدے یا بیچے گئے علم سے دوری اختیار کریں۔
اب ھم بد قسمتی سے بہت زیادہ پروفیشنل ھو چکے ہیں، علم سود مند ھو یا ناقص اسے فروخت کرتے ہیں ضرورت مندوں سے منہ مانگی قیمت بھی وصول کرنے کا ہنر جانتے ہیں، یہی وجہ ھے جو تعلیم کا وہ معیار باقی نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا، استاد علم فی سبیل اللّٰہ بانٹا تھا تو شاگرد بھی استاد کی عزت کرتے تھے باپ سے زیادہ عزت و مقام و مرتبہ بھی ہوا کرتا تھا، پھر والدین کے ہاتھ میں دولت کی تلوار آگئی، علم دولت کے بل بوتے پر خریدا جانے لگا، نتیجتاً حصولِ علم کی خواہش اور جستجو طالبِ علم کے ذہن سے نکلتی گئی، والدین بھی اپنی عزت گنوا بیٹھے، علم کی قیمت جو چکائی تھی، علم کو بے توقیر کیا تھا، خود بھی اولاد کی نظر میں ہوتا چلا گیا، اگر علم بیچ کر ہم صرف پیٹ پالنے ایک ہی محدود رہتے تو بہتر تھا آج ہم اپنا علم بیچ کر خاندان پالتے ہیں۔
پرائیویٹ تعلیمی ادارے علم کی قیمت وصول کرکے ہی اُنہیں چلا رہے ہیں، یہ تلخ حقیقت ہے کہ تعلیمی ادارے علم تو بیچتے ہیں لیکن ادب بلکل بھی نہیں، اسکا مطلب یہ ہوا کہ ادب علم سے زیادہ بیش قیمت ہے، بک اسلئے نہیں سکا کہ اب معاشرے میں ادب و احترام کی چنداں ضرورت نہیں رہتی، میرے نزدیک ادب کی اہمیت علم سے زیادہ ہے، اللّٰہ ربّ العزت جس کو بھی چاہے نواز دے، کورے ان پڑھ کو بھی ادب حصولِ علم کا پہلا دروازہ ہے۔ معاشرے میں ایسی ہی صورت حال دیکھ کر آج سے صدیوں پہلے سلطان العارفین حضرت سلطان باہو رحمت اللہ علیہ نے اپنی شاعری میں ہم سب کو متنبہ کر دیا تھا کہ:-
"علم سکھیا پر ادب ناں سکھیا،
کی کرنا علم نوں پڑھ کے ہُو۔"
میرے دوستو!
جب علم بکنا شروع ہو جائے وہاں سے ادب خاموشی سے کوچ کرجاتا ہے، یہی وجہ ہے مدرسہ یا اسکول آج ایک تربیت گاہ نہیں محض کمائی کا مرکز بن کر رہ گئے ہیں۔
مدرسہ ہو یا عام معاشرہ اس میں جب کسی بھی چیز کی بولی لگنا شروع ہو جائے اور حسبِ ضرورت لوگ اُسے خریدنا بھی شروع ہو جائیں تو بہتات ہو جاتی ھے، اہمیت پیسے کی ہوجاتی ہے، ادب و احترام، تہذیب و تمدن کی نہیں، یہی ہمارا اس وقت سب سے بڑا المیہ ہے۔ حضرت بابا بلھے شاہ شاہ نے آج سے کوئی تین سو سال پہلے ہی لوگوں کو آگاہ کرکے "علموں بس کریں او یار" کا نعرہء مستانہ لگا دیا تھا، نتیجتاً بعد از مرگ اس وقت کے علم کے ٹھیکیداروں نے آپکا جنازہ پڑھنے اور اُنہیں اپنے قبرستان میں دفن کرنے دینے سے بھی یکسر انکار کردیا تھا۔ شنید ہے کہ آپ کے جسدِ خاکی کو ہیجڑوں اٹھا کر قصور شہر سے دو کوس کے فاصلے پر رات کے اندھیرے میں لے جاکر دفن کر دیا گیا تھا کیوں کہ آپ کے پاس علم کے ساتھ ساتھ ادب و احترام بھی تھا، علم کے ٹھیکیدار آپکے جسدِ خاکی سے بھی ڈرتے تھے۔
طالبِ دعا اور دعا گو،
جی۔ایم چوہان،
18 جون 2021ء کی ایک تپتی ہوئی دوپہر۔
جمعرات، 10 جون، 2021
The Mughals Tomb, Mirza Abul Hassan Asif Jah
مرزا ابوالحسن آصف جاہ
The Tomb of Asif Khan is a
17th-century Tomb located in Shahdra
Bagh, in the city of Lahore (Punjab, Pakistan). It was built for the Mughal
Commander Mirza Abul Hassan,
who was titled Asif Khan. Asif Khan was brother
of Noor Jahan, and brother-in-law to
the Mughal Emperor Jahangir. Maqbara
(Tomb) Asif Khan is located adjacent to the Jahangir’s Tomb, near the Tomb of
Noor Jahan. and was built in a Central Asian architectural style, and stands in
the center of Charbagh, a Persian-style garden.
Asif Khan was the brother
of Empress Noor Jahan, and father of
Arjumand Bano Begum, who became the
consort of Shah Jahan under the
name Mumtaz Mahal. In 1636, he was
elevated as Khan-e-Khana and commander-in-chief and a year later
became the governor of Lahore. Asif Khan died on 12 June 1641 in a battle
against the forces of rebel Raja Ranjeet
Singh. His tomb was commissioned to be built in the Shahdra Bagh tomb complex in Lahore by Shah Jahan.
Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments
تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...
-
انسان درخت کاٹ رہے ہیں اے میرے دادا! تم ابھی زندہ نہیں لیکن تمہاری سنہری باتیں زندہ ہیں۔ آج مجھے یاد ہے کہ آپ نے کیا کہا تھا کہ انسان درخت...
-
صدائےدرویش نیکی اورگلہِری وی سی ار کا دور ختم ھوا تو سیٹلائٹ ڈش رسیور کا زمانہ آیا، شوق سے گھر میں ڈش لگوائی، یہ وہ زمانہ تھا جب ڈش کو لوئر ...
-
حاصل مطالعہ مہاراج چانکیہ کوٹلیہ چانکیہ جی کسی جنگل میں سے گزر رہے تھے کہ اچانک انکی دھوتی ایک خاردار جھاڑی میں پھنس کر پھٹ گئی، چیلوں نے گ...

























