اتوار، 5 جون، 2022

میرے ماضی کی ایک بڑی دلچسپ کہانی, A Great Past Story

 

 ماضی کے جھروکوں سے

میرے ماضی کی ایک بڑی دلچسپ کہانی


میرے والد صاحب نے مُجھے 07th کلاس میں جانے کے بعد اسکول سے ہٹا لیا تھا، کراچی میں میرے پھپی زاد بھائی تھے اُنہوں نے مشورہ دیا تھا کہ پڑھنے لکھے جتنا پڑھ چُکا اب آپ اسے میرے پاس کراچی بھیج دیں میں اسے کوئی نہ کوئی ہنر سیکھا دوں گا، سونے کے ہاتھ ہوجائیں گے تو ساری عمر دعائیں دیگا، مزید پڑھیے کا کچھ بھی فائدہ نہیں، اِس طرح سے میرا تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ تعطل کا شکار ہو گیا اور مُجھے سانگھڑ چھوڑ کر ہنر بننے کیلئے سانگھڑ سے کراچی آنا پڑا تھا۔ بھائی جان کی رہائش تو کھوپرا مل لارنس روڈ کراچی نمبر 03 میں تھی مگر کاروبار میٹھادر کراچی میں تھا۔ 


اُسی دور کی تلخ و شیریں یادیں میں آج آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ صبح اٹھ کر ایک پیالی چائے اور ساتھ میں ایک رس کھا کر بھائی جان کے ساتھ ویسپا پر بیٹھتا اور میٹھادر کے لئے روانہ ہو جاتا تھا، میٹھادر جانے کیلئے بھائی جان جو راستہ اختیار کرتے تھے وہ اُس زمانے کی مشہور ٹمبر مارکیٹ پھر لی مارکیٹ سے ہوتا ہوا ککری گراؤنڈ کے پاس سے ہوتا ہوا دو شیر والا مندر کے پاس اُنکی مارکیٹ تک جاتا تھا۔ کراچی جا کر کام وغیرہ کیا سیکھنا تھا، سارا دن گھر اور چھوٹے بہن بھائیوں اور ماں باپ سے دوری کی وجہ سے رو کر گزرتا اور اپنے کام سکھانے والے استاد (جنکے حوالے مجھے کیا گیا تھا) سے اکثر و بیشتر مار کھاتا رہتا تھا۔ میری عجیب و غریب حالت اور استاد سے مار کھاتا ھوا دیکھ کر کبھی کبھار بھائی جان نے مجھے کہنا کہ جاؤ علاقہ گھوم پھر آؤ، دل بہل جائے گا، مگر گم مت جانا۔ 


اِس طرح سے مُجھے مُجھے کچھ آزادی ملتی اور میں گھومنے پھرنے کے ساتھ ساتھ ککری گراؤنڈ اور لی مارکیٹ کا علاقہ گھومنے کا موقع مل جاتا تھا، ککری گراؤنڈ کے سامنے بانٹوہ میمن خدمت کمیٹی کا دفتر ہوا کرتا تھا آبادی کی کثرت میمن کمیونیٹی پر مشتمل تھی۔ 


لی مارکیٹ سے بھائی جان کی مارکیٹ کی طرف آتے ھوئے ایک دو گلیاں چھوڑ کر ایک گلی میٹھادر بازار کی طرف بھی جاتی تھی، اُسکی گلی کی خاص بات یہ تھی کہ کوئی دو فرلانگ فاصلے کے بعد  سیدھے ہاتھ پر آزادی سے پہلے کا شدہ ویران شدہ "دو شعر والا مندر" بھی ہوا کرتا تھا، مندر کے باہر سنگ مرمر سے بنائے ہوئے دو شیر ہوا کرتے تھے، مندر سے باہر ایستادہ دونوں شیر مُجھے بہت اچھے لگے تھے، مُجھے یوں لگتا تھا کہ دونوں شیر ماضی کی طرح سے اب بھی پرانے مندر کی رکھوالی کر رہے ہوں، میں کبھی کبھار تو گھنٹوں اُن شیروں کے پاس کھڑا اُنہیں حیرت سے دیکھتا رہتا تھا۔ 


یہ 1973ء کی بات ھے، میری وہاں سے 03 ماہ بعد میری وہاں سے کیسے گلو خلاصی ھوئی، یہ بھی بڑی دلچسپ کہانی ھے، ہنر مند تو نہ بن سکا، جیسا تھا ویسا ہی سانگھڑ لوٹ آیا تو مرحومہ والدہ صاحبہ نے مُجھے اپنے گلے سے لگایا اور جی بھر کر روئیں جیسے ہم ایک دوسرے سے صدیوں بعد ملے ہوں، ماں جو تھیں۔ 


سانگھڑ واپس آنے کے بعد تعطل شدہ تعلیمی سلسلہ پھر سے شروع نہ ہو سکا، جس کا آج بھی مُجھے بہت زیادہ دُکھ ہے، بہرحال جو ہونا تھا ھوگیا، ضرور اِس میں بھی کوئی بہتری ہی ہوگی۔ انسان اپنا ماضی نہیں بھولتا، پھر کوئ 30 سال بعد میرا اس طرف جانا ہوا تو اجاڑ مندر کے سامنے ایستادہ دونوں شیر کسی مرد مومن نے توڑ کر اسلام کی بہت بڑی خدمت کردی تھی، مجھے سب کچھ دیکھ کر انتہائی دُکھ ہوا تھا۔ 1973 میں امن و امان کا گہوارہ لیاری ایک طرح سے سب کیلئے خوف و ہراس کی علامت بن چکا تھا، مل جل کر رہتے ہوئے بھائی اور محلّے دار ایک دوسرے سے خوف زدہ تھے، کثرت لیاری چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا چُکی تھی۔


ککری گراؤنڈ کے چاروں طرف لیاری امن کمیٹی کے بڑے بڑے بورڈ ایستادہ تھے اور فضا میں ایک طرح کا خوف سا طاری تھا، سب کچھ بدلا بدلا سا تھا، وہاں کے رہنے والوں کی نظریں تک بھی۔


خیر اندیش:-
جی۔ایم چوہان
05.06.2022

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...