ہفتہ، 10 ستمبر، 2022

اشفاق احمد صاحب سے ملاقاتیں میرا اثاثہ

 صدائے درویش,ماضی کے جھروکوں سے


اشفاق احمد صاحب سے ملاقاتیں میرا اثاثہ 


 یہ غالباً 1986ء کی بات ھے کہ ملک بھر میں احمد ندیم قاسمی مرحوم کی 75ویں سالگرہ منائی گئی تھی اور سانگھڑ جیسے دور افتادہ مگر مردم خیز خطّے کے ادیبوں اور اردو ادب سے لگاؤ رکھنے والوں کو سالگرہ میں آنے کے دعوت نامے موصول ہوئے تھے تو میں اُس میں شرکت کرنے اپنے دوستوں کیساتھ لاھور آیا تھا، وہیں میری اردو زُبان کی نامور اور سرکردہ ہستیوں سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا تھا۔ وہیں اشفاق احمد خان مرحوم سے سرسری سی ملاقات ھوئی تھی، ملنے کا اشتیاق ظاہر کیا فرمانے لگے جب چاہو آ جائیں۔


بابا جی سے میری چند ملاقاتیں بھی رہیں، بانو آپا اور اشفاق احمد صاحب سے ملاقاتیں میرا اثاثہ ہیں، مُجھے اُن سے کافی فیض بھی حاصل ہوا، میری تحریروں میں دوستوں کا انکا رنگ بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہی ہوگا۔


اس درویش صفت جوڑے کی یہ بہت بڑی خوبی تھی کہ وہ ملنے والے پر کبھی بھی اپنی شخصیت کا رعب نہیں ڈالتے تھے، بات چیت کرتے وقت ملنے والے کو ذرا سا احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ اردو ادب کے کسی نامور یا لیجنڈ شخصیت کے سامنے ہیں، خان صاحب انتہائی سادگی کے ساتھ بلکل ملنے والے کے لیول پر آ کر بات کیا کرتے تھے، اکثر ایسا ہوا کرتا تھا کہ وہ کوئی دس بار سنی ہوئی بات کو بھی سن کر حیرت زدہ ہو جاتا کرتے تھے جیسے کہ وہ بات انکے  لئے بلکل نئی ھو اور وہ ملنے والے کی زبانی پہلے بار سن  رہے ہوں، یہی اُنکی شخصیت کی میرے نزدیک سب سے بڑی خوبی بھی تھی۔ پیار محبّت، شفقت اور ملنساری انکے مزاج کا حصّہ تھی۔ مرکزی اردو بورڈ لاھور کے ڈائریکٹر جنرل بھی تھے، لیکن ملاقات میں کبھی ملنے شائبہ تک بھی نہیں ملتا تھا کہ وہ ڈائریکٹر جنرل کے سامنے ہیں۔ اشفاق احمد خان مرحوم سے میری پہلی ملاقات ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہونے والے پروگرام "تلقین شاہ" سے ہوئی تھی، میرے والد مرحوم وہ پروگرام بہت ہی زوق و شوق سنا کرتے تھے، اسی بہانے سے مجھے بھی انکی فیروز پوری پنجابی سننے کو مل ہی جایا کرتی تھی جب خان صاحب اپنے فرضی ملازم ہدایت اللّہ کو " ہے ہدایتا" کہہ کر بلاتے تھے مجھے لگتا تھا میں ہی وہ ہدایت اللہ ہوں اور وہ مُجھے ہی ڈانٹ کر میری گوشمالی کیا کر رہے ہیں۔


اشفاق احمد خان سے دوسری ملاقات انکی کتاب "سفر در سفر" کا مطالعہ کرنے سے ھوئی، بابا جی کی مجھ پر خاص مہربانی تھی کہ میں جب بھی سندھ سے آتا تو اُن سے ضرور ملا کرتا تھا، وہ مُجھے اپنے قیمتی وقت میں سے کافی سارا وقت دے دیا کرتے تھے، میں اُنہیں اُنکی سخاوت ہی سمجھتا ہُوں، ورنہ میں کہاں اور وہ ہستیاں کہاں۔

پہلی ملاقات ھوئی تو اس دن جمعرات تھی، اس دن بابا جی کا لنگر چلنا تھا، ملاقات کے بعد میں جب میں ان سے اجازت چاہی تو مُسکرا کر فرمانے لگے "منڈیا آج تے جمعرات اے، لنگر کرکے جانا" میری کیا مجال کی انکار کر پاتا۔ لنگر کی بھی اپنی ہی شان تھی، ایک وسیع و عریض حال میں پوری آفیس کے ٹیبل لگے ہوئے تھے، دیگ آئی تو لنگر شروع ہوا، آفیسر سے چوکیدار تک سب کے سب ایک ہی قطار میں بیٹھے ھوئے اور میرے بابا جی لنگر تقسیم کر رھے تھے، آخری پلیٹ تک Serve ہو جانے تک کسی نے بھی کھانا شروع نہی کیا تھا، جب کھانا سب کے آگے رکھ دیا تو فرماتے "بسم اللّٰہ کرو جی" تو سارا اسٹاف لنگر کرنے میں مصروف ہوا، جب تک آخری بندے نے لنگر ختم نہیں کیا اشفاق احمد صاحب نے خود لنگر نہیں کیا، جب سب لنگر کر چکے تو اپنے لئے اپنے ہاتھ سے پلیٹ میں کھانا ڈالا تھا، وہ بھی بہت ہی قلیل سی مقدار میں جیسے کھانے کی صرف رسم ہی پوری کر رھے ھوں۔


میں کتنا اور کہاں تک لکھوں؟ یقین جانیئے اشفاق احمد خان کے بارے میں کچھ لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔


لنگر کے بعد جب اجازت چاہی تو مجھے بیٹھے رہنے کا کہہ کر اپنے A۔P سے فون پر ہلکی آواز میں کچھ کہا، تھوڑی ہی دیر میں اُنکا ڈرائیور چیمبر میں ادب سے داخل ھوا تو ان سے فرمایا کہ " غلام محمد صاحب کو میری گاڑی میں جہاں یہ جانا چاھتے ھیں چھوڑ آؤ" اس طرح سے زہن میں کبھی نہ بھولنے والی ملاقات ختم ھوئی، اب بھی میں مرکزی اردو سائنس بورڈ کے دفتر کے سامنے سے گزرنا ھوتا ھے تو ٹھنڈی سانس کے ساتھ آنکھوں میں نمی تیر جاتی ھے کہ عمارت وہی، شاید اسٹاف تک بھی وہی ھو مگر میرے بابا جی اب اس بلڈنگ میں نہیں ہیں، دُنیا کی بے ثباتی کا شدّت سے احساس بھی ہوتا ہے، بیشک ہم سب نے اپنے خالق حقیقی کی طرح ہی لوٹ جانا ہے۔


غلام محمد چوہان
10.09.2022

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...