منگل، 15 نومبر، 2022

جیون ساتھی سے گزشتہ زندگی یا کوئی افئیر شیئر کرنا

 

#بات سےبات۔

جیون ساتھی سے اپنی گزشتہ زندگی یا کوئی افئیر شیئر نہ کرنا

آج فیس بُک پر ایک اسٹیٹس لگا دیکھا جس میں کسی نوجوان لکھاری نے اپنے غیر شادی دوستوں کو تلقین کی تھی کہ وہ شادی کے بعد کبھی بھی اپنے جیون ساتھی سے اپنی گزشتہ زندگی خصوصاً اپنا کوئی افئیر شیئر نہ کرنا، ورنہ بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں گی، چند مثالیں بھی دی تھیں۔ کو کہ وہ ایک مزاحیہ پوسٹ تھی، مگر مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرگئی۔


میرا ذاتی مشاہدہ بھی ہے کہ اکثر خواتین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے جیون ساتھی کی سابقہ زندگی کے بارے میں جان سکیں، کثرت ایسی ہو ٹوہ میں لگی رہتی ھے کہ رسّی کا کوئی سرا مل ہی جائے، کامیاب بھی ھو جاتی ہیں۔ 

میری ذاتی رائے ہے کہ خواتین کو کبھی بھی اس حساس مسئلے پر توجہ مرکوز بھی کرنی چاہیئے، اس سے شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے غلط فہمیاں بھی، یہی وہ نکتہ ھے کہ اگر غلط فہمیاں ایک بار دل میں جڑ پکڑ لیں تو فریقین کا جینا محال ہو جایا کرتا ہے، پھر شک کا پودا تناآور درخت تو بن سکتا ہے، کم نہیں نہیں ھوتا۔ گھریلو زندگی خطرات کا شکار ہو جاتی ہے، خدشات اور غلط فہمیاں گھریلو تو تکار کا سبب بنتی ہیں، ہنستی مسکراتی ھوئی زندگی تکرار کا شکار ھو جاتی ھے، گھر اجڑتے ھوئے بھی دیر نہیں لگتی، علیحدگی تک بھی ہو جایا کرتی ہے۔ اِس حساس معاملے پر فقط خواتین کوئی موارد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا، اکثر مرد حضرات بھی اپنی زندگی کے سابقہ افئیر بڑھا چڑھا کر بیان کرنے میں ذرّہ سی بھی عار نہیں محسوس کرتے، یہیں سے جیون ساتھی کے دل میں پہلے تجسّس پھر شک پروان چڑھنا شروع ھو جاتا ھے، جس کی ابتداء کا تو پتہ ھوتا ھے انتہاء کا بلکل بھی نہیں۔  جو باتیں ہم اپنی بیوی کو فخریہ انداز میں بتا رہے ہوتے ہیں، وہی بات اگر شرم و حیاء کا پردہ چاک کرکے بیوی بتانا شروع ہو جائے تو ہم پر بحیثیت انسان کیا گزرے گی، اندازہ لگانا چنداں مشکل بھی نہیں ہے، لگا بھی سکتے ہیں۔


میں نے کافی عرصہ پہلے کہیں پڑھا تھا کہ "محبّت کے تجربے سے زندگی میں ہر آدم زاد ضرور گزرتا ہے، اِس میں وقت اور صنف کی کوئی قید نہیں، جو ایسا نہ ھونے دعویٰ کرتا ہے یا نفی کرتا ھے وہ جھوٹ بول رہا ہوتا ہے، 

واللہ اعلم بالصواب۔


میرے ایک اچھے دوست جو اب کسی انتہائی مجبوری کی وجہ سے سانگھڑ شہر چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے کینیڈا آباد ہو چُکے ہیں، نام لینا مناسب نہیں، موصوف شہر کے اچھے ماہرِ نفسیات بھی تھے۔ میں روزانہ رات کو انکے پاس جایا کرتا تھا، مختلف موضوعات پر بات بھی ہوتی رہتی تھی اور ڈاکٹر صاحب تکلیف زدہ لوگوں کی مسیحائی بھی کرتے رہتے تھے، اسمِ بمسمّہ تھے، جہاں بھی ہیں خوش رہیں، اُنکے لئے دعا گو ہوں۔ ڈاکٹر صاحب سانگھڑ شہر کے واحد ڈاکٹر تھے جو رات گئے تک مریضوں کو میسر رہتے تھے، ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ۔


ایک بار بات سے بات چلی تو فرمانے لگے "یار چاچا کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ عورت اپنی آخری گرہ کبھی بھی نہیں کھولتی؟" (میری سانگھڑ کی سنگت مُجھے چاچا کے نام سے ہی پکارتی تھی، اب بھی گہرے دوست مُجھے چاچا کہہ کر بلاتے ہیں) میرا جواب نفی میں تھا، کہنے لگے میں فزیشن بھی ہوں اور ماہرِ نفسیات بھی، میں نے نوٹ کیا ہے کہ عورت کبھی بھی اپنے دل کی گہری بات کسی کے بھی شیئر نہیں کرتی، خصوصاً محبّت کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط ہوا کرتی ہے، میں نے بطور ڈاکٹر کے کافی خواتین کا علاج بھی کیا ہے، اللّہ نے مریضوں کو شفاء بھی بخشی، مگر اِس نتیجے پر پہنچا ھوں کہ آپ عورت سے اسکی رضا کے بغیر کچھ بھی نہیں پوچھ سکتے، محبت کے معاملے میں عورت کبھی بھی آخری گانٹھ نہیں کھولتی، آخری سانسوں تک بھی، 

واللہ اعلم بالصواب!


جی۔ایم چوھان

15.11.2022

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...