شاہ زاد کا فیس بک اسٹیٹس
ھرقوم قابل احترام ھے ھر قوم ھی بھادر، غیرت مند ھے بس انداز مختلف ھے
ہم سب نے ہی رکھا ہے، تقسیم ہند کے وقت میرا خاندان بھی 17 جانوں کی قربانی دے کر امرتسر سے واگہ تک پہونچا تھا، میں ہمیشہ ہی یہ کہتا ہوں کہ خدا کیلئے پاکستانیت کو فروغ دو اسی میں ہی ملکی بقاء کا مضمر ہے۔
ریاست بہاولپور پاکستان میں شامل ہوتی ہے تو پاکستان کے اُپر Areas کو کراچی تک بذریعہ ریل اور سڑک رسائی حاصل ہوتی ہے، ریاست خیر پور میرس ابھی بغیر کسی شرط و شرائط کے پاکستان کا حصہ بنتی ہے، پھر ریاست قلات بھی، صرف پشتون ہی نہیں باقی ماندہ اقوام بھی پاکستان کی ایسی ہی محسن ہیں جیسے پشتون یا پشتون قبائل۔
اگر ہم صرف پشتونوں کی ہی بات کریں تو یقینی طور پر دوسری اقوام کی دل آزاری نہیں نہیں حق تلفی بھی ہوگی، آپ ریاست بہاولپور کا نقشا دیکھ لیں اگر بہاولپور ریاست پاکستان میں شامل نہ ہوتی تو کراچی اور سندھ پاکستان کے بالائی علاقوں سے کتے ہوئے ہونے تھے۔
سب ہی ہمارے محسن ہیں ہمیں سب کی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہئے، ریکارڈ درست کرلیں مسلم لیگ صرف صوبہ بنگال اور سندھ سے جیتی تھی، پنجاب اور صوبہ سرحد میں تو اکثریت حاصل نہیں ملی تھی, پنجاب میں ملک خضر حیات ٹوانہ کی یونینسٹ پارٹی اور صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان کی حکومت بنی تھی، اس کے باوجود بھی ہم پشتون بھائیوں کی حب الوطنی پر ذرا سا بھی شک نہیں کرسکتے
سب ہی بہادر ہیں، سب ہی مادر وطن کا دفاع کرنا جانتے ہیں، 1948, 1965 1971 یا کارگل جنگ، قوم کے سب بیٹے چاہے وہ پشتون، پنجابی، بلوچ، سندھی مہاجر اور کشمیر/گلگت بلتستان کے رہنے والے ہوں اپنی بحیثیت پاکستانی خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور مادر وطن کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی۔ 1948 میں البتہ پشتون قبائلیوں کو ایک پلاننگ کے تحت ہراول دستے کے طور پر دشمن کے سامنے رکھا گیا تھا، پشت پر پاک آرمی نے سرو سامانِی کے باوجود بھی موجود تھی۔ برہمن ذہنیت پاکستان اور ایسے ہی "لولا لنگڑا" پاکستان کہا تھا، ہم سب نے شانہ بشانہ مل کر اسے مکمل کیا ہے۔
پاکستانیت کو فروغ دو، یہ اسٹیٹس پہلے بھی لگا تھا، نظر انداز کردیا کہ اس پر کمنٹس دینا ہی بیکار ہے، اب آپ نے اسے دوبارہ سے اپلوڈ کیا تو واجب ہو گیا کہ اب اپنا مؤقف بیان کر دیا جائے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں