اتوار، 17 مئی، 2020

Sanghar Ki Yaden, Khair Muhammad Anjum.Marhoom

میرے رفیق، میرے دوست.میرے محسن

 ماضی کے جھروکوں سے-یادِ رفتگاں

  

خیر محمد انجم  

خیر محمد انجم سے تعارف

ہر انسانوں کے دوستوں کے گروپ میں ہر بندے کی ایک دوسرے سے کوئی نہ کوئی خوبی یا ایک سے زائد خوبیاں یا خامیاں مشترک ہوا کرتی ہیں تو ہی دوستی قائم ہوتی ہے اور سب ایک سے زائد نہیں بلکل یک جان و دو قالب کی مثال بن جاتے ہیں۔ 
میری سانگھڑ کی سنگت جسے میں اپنی اس تحریر میں "منڈلی" ہی کہوں گا، ہماری منڈلی میں بہت سے نام تھے جن کے مل جانے کے بعد میری سانگھڑ کی منڈلی ایک خوبصورت گلدستے میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ ہر ایک کا الگ الگ ذکر کروں تو میرے سانگھڑ سندھ پاکستان کے دوستوں کے گل دستے کے پھولوں کی فہرست بہت طویل ہوتی چلی جائے گی، میں انشاء اللہ اس گل دستے کے تمام پھولوں کا فرداً فرداً ذکر بھی کروں گا سب سے آپ دوستوں کو متعارف بھی ضرور کرواؤں گا۔
 
ان شاء اللہ! 
کچھ مجھ بچھڑ گئے،  کچھ سے میں بچھڑ گیا، جو بقید حیات ہیں ان کا اور جو پھول ہمیشہ سے بچھڑ کر پیوند خاک ہوئے اُنکا کا بھی، جو ہیں اللہ انکو عمر خضر عطا فرمائے اور جو اب نہیں ہیں اللہ رب العزت اُن سب کی مغفرت فرمائے، اُن سب کی روح کو سکون بخشے۔

آج میں اپنی اس" منڈلی ' کے دوسرے سینئر رکن خیر محمد انجم کا آپ سب دوستوں کے تعارف کروانے کی حقیر سی جسارت کر رہا ہوں، ہمارے گروپ کے سنئیر ممبر کا نام محمد اسمٰعیل احمدانی صاحب تھا،  آپ پیشے کے اعتبار سے سانگھڑ کے معروف وکیل تھے، اگر اُنکا ذکر کرنا چاہوں تو میرے پاس ذخیرہء الفاظ کم پڑتا چلا جائے گا، احمدانی صاحب پاکستان سرائیکی سنگت کے روح رواں اور اسکی بنیاد رکھنے والے افراد میں سے تھے، وہ بہت ھی مہذب شفیق، ملنسار اور علم و ادب دوست انسان تھے، اب ہم میں نہیں رہے، اللہ انکی مغفرت فرمائے انکی روح کو سکون بخشے۔

وکیل صاحب کے بعد ہم سب کے دوست، بھائی، کرم فرما اور ہر معاملے میں ہم سب کی رہنمائی کرنے والے انجم صاحب  تھے۔ مجھ سے بے ادب سے بندے کا خیر محمد انجم صاحب سے میرے بہت ہی پیارے دوست اور بھائی اکبر معصوم صاحب کے توسط سے تعارف ہوا جو خود بھی کمال شخصیت کے حامل ہر فن مولا انسان تھے، گھڑی سازی، شاعری، مصوری، خطاطی پھر Homoeopathic Doctor بنے، الغرض جس فیلڈ میں بھی قدم رکھا اس میں عروج حاصل کرکے پاکستان بھر میں نام و عزت کمائ، اب دنیا میں نہیں ہیں، بخدا مرحوم لکھتا ھوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
"زمیں کھا گئی آسمان کیسے کیسے"

میرا علم و ادب سے تو کوئی براہ راست تعلق تو تھا نہیں، بس اکبر معصوم کے پاس شام کو جا بیٹھتا تھا، اخبار دیکھنی، گپ شپ چائے پینی اور بس۔
وہاں ہی میری سانگھڑ کے نامور اور نابغہء روزگار افراد سے تعارف کا سلسلہ شروع ہوا، ایک دن میں اکبر بھائی کے پاس بیٹھے ہوا تھا تو کہنے لگے "یار کیا آپ آج میرے ساتھ ڈاکخانے چلو گے؟
میں نے کہا کاھے کو؟ تو گویا ھوئے ایسے ہی، پھر گویا ہوئے شام کو " بھائ خیر محمد انجم " کے پاس جانا ہے، میں نے پھر استفسار کیا کہ یہ خیر محمد انجم کون ہیں؟  ایک گھڑی کی سروس فائنل کرتے ہوئے اکبر بھائی نے جواب دیا کہ جاکر خود دیکھ لینا کہ کیسے، کوں اور کیا ہیں، میں نے کہا ٹھیک ہے۔

ہم سب دوست اکثر اکبر معصوم کے دردولت پر ہی اکثر شام کو اکٹھے ہوا کرتے تھے، یہ غالباً کوئی 1985ء کی بات ھے، شام کو اکبر بھائی کے ہاں پہنچا تو وہاں دیگر احباب بھی جمع ہو چکے تھے، پھر ہم سب خراماں خراماں شہدادپور روڈ لیتے ہوئے پوسٹ آفس پہنچے تو انجم صاحب کو خندہ پیشانی کے ساتھ منتظر پایا۔

ہاں بھئی آ گئے؟
 یہ بھائی خیر محمد صاحب کے پہلے الفاظ تھے جن سے میرے کان آشنا ہوئے، شلوار قمیض میں ملبوس، ہاتھ میں کیپسٹن سگریٹ اور کلّے میں ڈبل کٹھہ ظہور راجہ جانی پٹی والا پان، مکمل مشفق اور روایتی مشرقی شخصیت میرے سامنے تھی۔

ڈاکخانے کے چوکیدار "مامے"  نے ( جو کہ بندوق کو نہیں بلکہ بندوق ہمہ وقت موصوف کو سنبھال رہی تھی) 
خیر محمد انجم صاحب کے اردلی کے ساتھ مل کر میدان میں کرسیاں جما رکھی تھیں، جہاں ہم سب براجمان ہوئے۔

 سندھ کی روایت کے مطابق خیر خیریت پوچھنے کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا، انجم صاحب نے پان تھوکا اور دوستوں کے ساتھ شامل گفتگو ہوئے، میں سدا کا خاموش طبع اُن میں کیا بات کرتا، گلوری چباتے ہوئے تھوڑا سا منہ اُوپر کرکے کہ پان ضائع نہ ہو میرا پوچھا کہ " یہ صاحب کوں ہیں؟ اکبر نے جواب دیا کہ یہ غلام محمد ہیں میرے دوست، مزید اگر مجھ میں کوئی "گن" ہوتا تو بتاتے، میری طرف شفقت سے دیکھا ذرا سا مسکراتے اور میں ان کے تئیں انکی محفل اور حلقہء احباب کا رکن تسلیم کر لیا گیا تھا، یہ فیاضی تھی انجم صاحب کی کہ پتھر کی ہیروں سے کیا نسبت، اسی اثناء میں چائے آ چکی تھی اور ساتھ ہی ساتھ انکا اردلی ہاتھ میں ڈاک لیکر جانے والے موٹے اور مضبوط تھیلے بھی، ۔میں نے حیرانگی سے اکبر کی طرف دیکھا کہ انکا مصرف؟
اکبر بھائی ہلکا سا مسکرائے اور کہنے لگے دونوں ٹانگوں پر چڑھا لو کہ سانگھڑ کے جغادری مچھروں سے بچاؤ ہو، میں نے کہا یہ تو بہت موٹے ہیں، اکبر کے بولنے سے پہلے ہی انجم صاحب نے خشمگیں نگاہوں سے مجھے دیکھا جیسے کہہ رہے هوں " پہن لو ورنہ پہنا دیئے جائیں گے" تھیلا پہن لیا گیا، چائے کے بعد گپ شپ کی دوسری نشست شروع ہو چکی تھی اور میری مسلسل خاموشی بھی، یہ میری انجم صاحب سے پہلی ملاقات تھی جو بعد میں معمول کا حصّہ بن گئی۔

خیر محمد صاحب قدیم اساتذہ کرام کی طرز پر بہُت عمدہ شاعری بھی کیا کرتے تھے، پھر دوستوں کی فرمائش پر جدید غزل گوئی کی تو کمال غزلیں لکھ کر دوستوں سے داد پائی، آپ تحت الفظ اور کبھی کبھار ہم دوستوں کے اسرار اور ترنّم سے بھی اپنا کلام سنایا کرتے تھے۔

مشاعرے میں اگر کسی دوست کا کوئی شعر پسند آ جاتا تھا تو بے ساختہ  کہ دیا کرتے " اماں! کیا کہہ رہے ہو بھائی؟" شاعر کو سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ سننے والے کی طرف سے داد مل رہی ہے یا ڈانٹ پڑی ہے۔

میرے شفیق دوست، میرے بھائی خیر محمد صرف دوست ہی نہیں بلکہ ہر طرح سے ہم سب کے دکھ اور سکھ کے ساتھی بھی بھی تھے، دامے، درمے، سخنے میں نے کبھی بھی دوستوں سے پیچھے ہٹتے  نہیں پایا تھا۔

اب ہر شام ڈاکخانے کے نام ہوا کرتی تھی، محفلِ مشاعرہ ہو یا عید شبرات کا تہوار پر دوستوں کے باہمی مل بیٹھنے کی کوئی تقریب، اُسکے روح رواں اور میزبان اکد انجم صاحب ہی ہوا کرتے تھے، یہاں تک کہ سانگھڑ کے مشہور کلاسیکل گائگ "استاد گلزار علی خان" کے ساتھ ایک شام بھی بھائی خیر محمد انجم نے ہی ادیںچ کی  کی تھی۔

انجم صاحب کی ایک عادت جو ہمیں بہت پسند تھی وہ یہ کہ اکیلے کھانا کھانا پسند نہیں کرتے تھے، منتظر رہتے تھے کہ کوئی مہمان یا دوست آئے تو اس کے ساتھ مل کر کھانا کھائیں، اس وجہ سے انہیں اکثر اوقات اتنی لیٹ ہوجاتا کرتی تھی کہ دوپہر کا کھانا رات کو کھاتے تھے، کہا کرتے تھے کہ جب کوئی ساتھ کھانے والا نہ ہو "کھانے کا لطف ہی نہیں آتا" اپنے اسٹاف کیساتھ بہت ہی مشفقانہ رویہ رکھتے تھے۔

انکے ہاں صبح کے ناشتے میں قیمہ پراٹھے بہت لذیذ بنا کرتےتھے اور اکثر ہمیں صبح ناشتے کیلئے دعوت ملتی ہی رہتی تھی، یا کبھی احباب کا جی چاہنا تو فرمائش کا فوری طور پر پورا کرنے کیلئے فوری رضا ماند اور یہ کہ جو دوست نہیں ہیں اُن سب کو بھی آگاہ کر دینا کہ کل صبح کا ناشتہ ڈاکخانے میں کریں، فرمائش پوری کرتے ہوئے کبھی بھی انکے ماتھے اور شکن تک نہیں دیکھی تھی، اسی طرح کسی بھی تہوار پر بیٹھنے کا ہر بہانہ خود تلاش کرتے اور احباب کی خدمات کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں گنواتے تھے، گویا اُنکے کیلئے كار ثواب عظیم ہو۔ آپ سانگھڑ پوسٹ آفس میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ تھے۔
سانگھڑ سے اگلے عہدے پر ترقی پاکر میر پور خاص گئے، وہاں بھی ہم سب کا آنا جانا لگا ہی رہتا تھا۔

میرپورخاص میں دوران ملازمت حالات سازگار نہ ہونے کی بنا پر اس محب وطن پاکستانی، اقبال کے شاہین اور ہر بندے کے ساتھ محبت، عزت اور خلوص کے ساتھ چلنے والے آفیسر نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ حاصل کرکے ثابت کر دیا کہ "دنیا تیرے معیار کے قبل نہیں ہوں مَیں"

میرا چونکہ اُنکے ہاں ادبی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح کا حصّہ نہیں ہوا کرتا تھا، صرف سنتا تھا، اکثر مجھ سے کوئی نہ کوئی احمقانہ حرکات سرزد ھو ھی جاتا کرتی تھی، خوب دانت ڈپٹ پڑتی تھی، جسکا سلسلہ ہنوز جاری ہے، اب بھی کبھی فیس بک پر میری کوئی پوسٹ یا کمنٹس نا پسند لگے تو ڈانٹ موصول ہو جاتی ہے جو کہ میرے لئے سرمایہء صد افتخار ہے۔ 

احقر العباد:-
غلام محمد چوہان
May 16, 2020. 


🎆🇵🇰❇️🎉🏝️🌌🕍🕋🕍🌌🏝️🎉❇️🇵🇰🎆🎆🇵🇰❇️🎉🏝️🌌🕍🕋🕍🌌🏝️🎉❇️🇵🇰🎆

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...