ماضی کے جھروکوں سے
سخی جام داتار پر حاضری
میرے دوستو!
ہر انسان کی زندگی میں کچھ ایسے واقعات و مشاہدات آتے ہیں کہ جن پر جتنا بھی سوچا یا غور کیا جائے انکی سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا ایسا ہونا بھی ممکن ہے، ایک ہی عجیب واقعہ آج یاد آگیا جو آپ سب کے ساتھ شرکرکے مجھے ایک طرح کی خوشی سی بھی محسوس ہو رہی ہے۔
ہمارے ہاں ایک نواحی چک سے ایک خاتون آیا کرتی تھیں، ہاجرہ نام تھا، کافی عمر رسیدہ بھی تھیں، ہم سب اسے مامی ہاجرہ کے نام سے جانتے تھے ( اب دنیا میں نہیں ہیں، اللہ اس مبارک ماہ اور رات کے صدقے اُسکی مغفرت فرمائے۔
ہمارے شہر سانگھڑ سے کچھ فاصلے پر ایک مزار تھا جو " سخی جام داتار" کے نام سے مشہور تھا، اب بھی ہے۔
میں ایک سے زائد بار حاضری کیلئے وہاں جا چکا ہوں، وہاں تک جانے کیلئے واحد ذریعہ " راجہ لائن" پر چلنے والی ٹرین تھی جو ہمیں وہاں تک پہنچاتی تھی، میرے جو سانگھڑ یا گرد و نواح کے دوست احباب ہیں وہ مذکورہ میٹر گیج کی پٹری پر پر چلنے والی ٹرین میں یقینی طور پر سفر اختیار کر چکے ہونگے، یہ چھوٹی لائن جودھ پور کے راجا نے غالباً اس علاقے کو راجستھان سے ملانے اور اس وقت کے حساب سے عوام کو 1921 میں ایک اچھی سفری سہولت بھی دی تھی۔
راجہ لائن سندھ کے مشہور شہروں حیدرآباد، میرپورخاص اور نواب شاہ کو براستہ کھو کھرا پار جودھپور اور جے پور سے ملاتی تھی اور قیام پاکستان سے پہلے اور تقسیم کے بعد یہی لائن علاقے کے لوگوں کے واحد سفری سہولت بھی تھی، اب تو روڈ بن چکے اور راجہ لائن ماضی کا حصّہ بن چکی۔
مذکورہ بالا ریلوے لائن کے میرپور خاص-نواب شاہ سیکشن پر چلنے والی سٹیم انجن سے چلنے والی ٹرین پر سوار ہوکر ہم لوگ جام صاحب جایا کرتے تھے، میرا مقصد حاضری کم اور دھواں اگلتی ہوئی ترین پر سفر کرکے محظوظ ہونا زیادہ ہوا کرتا تھا، حاضری میرے لئے ثانوی حیثیت رکھتی تھی کہ گئے تو حاضری بھی لگا دی اور ٹرین کے سفر کا لطف بھی اٹھا کیا یعنی "ایک لنتھ اور دو کاج"
جام صاحب جانے کیلئے ہمیں جھول (سانگھڑ سے 11 کلو میٹر) دوری پر ایک چھوٹا سا صاف ستھرا ہرا بھرا سے شہر کا سفر اختیار کرنا پڑتا تھا، یہی ہمارے شہر کے نزدیک ترین چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن تھا، سانگھڑ میں ریلوے اسٹیشن نہیں ہوا کرتا تھا، اب بھی نہیں ہے، ہمیں پنجاب کا سفر اختیار کرنے کیلئے سانگھڑ سے 62 کیلومیٹر کا سفر کرکے پہلے نواب شاہ جانا پڑتا ہے پھر جہاں جانا ہو ریل گاڑی۔
بات کی طوالت سے مزید بات نہیں کرتا اصل کہانی اور میرے مشاہدے کی طرف لوٹتا ہوں مَیں اس سارے واقعے کا چشم و دید گواہ بھی ھوں۔۔
مامی ہاجرہ گھر آئی اور اس نے خواہش ظاہر کی کہ میں نے بھی جام صاحب جانا ہی، جب بھی کوئی جائے مجھے کسی بھی طرح سے اطلاع کر دینا میں آجاؤں گی۔
نوچندی اتوار کو وہاں میلے کا سا سماں ہوتا تھا، دور دور سے لوگ حاضری اور زیارت کیلئے وہاں جایا کرتے تھے، اپنی مرادیں مانگا کرتے تھے، والدہ مرحومہ نے میری طرف اشارہ کرکے کہا کہ تیرا بھانجا تو جاتے گا بس نوچندی اتوار کو صبح صبح آ جانا اور حاضری دے آتا۔
مامی ہاجرہ کی کوئی اولادِ نرینہ نہیں تھی، بیٹیاں ہی بیٹیاں تھیں وہ بھی ایک دو نہیں ما شاء اللہ ڈھیر ساری، شاید عمر کے اس حصے میں انکے دل میں بیٹے کی بھی کوئی خواہش موجود تھی۔
نوچندی اتوار کو میں ابھی سو کر اٹھا بھی نہیں تھا کہ مامی ہاجرہ آ پہنچیں، میرے ساتھ جانے کیلئے کچھ اور خواتین اور کچھ اصحاب بھی زیارت کے لیے تیار تھے، ہم لاری اڈّے پہنچے، جھول سے جام صاحب کی ٹکٹ کی اور اٹکتی متکتی ٹرین میں عازم سفر ہوئے، ہماری منزل جام صاحب اسٹیشن تھی، جام صاحب اُترے تو ٹرین نواب شاہ روانہ ہو گئی۔
مزار شریف سے باہر قدیم قبرستان میں دو قبریں تھیں جن کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ دو شہیدوں کی قبریں ہیں، وہاں کے مقامی لوگوں اور عقیدت مندوں کا عقیدہ تھا کہ اگر کوئی انسان ان قبروں کے گرد سانس روک کر 07 چکّر لگا لے تو اسکی ہرطرح کی مراد پوری ہو جاتی ہے، برس ہا برس سے زائرین کے قبروں کے گرد چکر لگانے کی وجہ سے قبروں کے چاروں طرف ایک بیضوی سا دائرہ سا بن چکا تھا، مامی ہاجرہ نے وہاں پہنچ کر پہلے سخی جام ڈاتاد کے روضے پر حاضری دی، دعا مانگی اور پھر اپنی خواہش ظاہر کی کہ میں اپنی مراد حاصل کرنے کیلئے یہاں 07 چکر لگانا چاہتی ہوں، جب زائرین اور وہاں موجود فقراء اور درویشوں نے سنا تو حیران رہ گئے کہ یہ کوشش تو ہزاروں کر چکے کثرت نے ناکامی کا منہ دیکھا، یہ عمر رسیدہ عورت کیسے کرے گی۔
مامی ہاجرہ تو پختہ عزم کر چکی تھیں، جب مجاور نے اسکے کے مضبوط ارادے کو دیکھا تو اسے ویسا کرنے کی اجازت دیدی، مامی کی کو وضو کروایا گیا، درویشوں اور مجاور نے کامیابی کی دعا دی اور اس بلند ہمت کمزور سی خاتون نے سانس روک کر اپنے عمل کا آغاز کیا، خلقت دیکھنے کی تھی، 1,2,6,4,5,6 اور بلآخر 07 واں چکر بھی پورا ہوا، پھر آپ یقین جانئے کہ یُوں لگا کہ جیسے کسی انجانی قوت نے اسے زور سے کئی فیٹ دور اچھال دیا ہو، مامی ہاجرہ دور گر کر کافی دیر تک "مُرغ بسمل" کی طرح تڑپتی رہیں اور زائرین اور دیوانہ وار نعرے لگاتے رہے اور دھمال ڈالتے رہے، جب مامی ہاجرہ کے کچھ اوسان سنبھلے تو اسے وہاں موجود زائرین خواتین نے کامیابی پر مبارک باد دی اور پانی وغیرہ پلایا، یہ 1980-81 کی بات ہے۔
حاضری کے بعد واپس اسٹیشن پہنچے، وہی ٹرین نواب شاہ سے واپس آتی تھی، سوار ہوئے، جھول پھر شام کو سانگھڑ۔
آپ یقین جانئے دو ماہ بعد وہ بنجر زمین آباد اور بار آور ہوتی ہے، حاضری کے 10 ماہ بعد مامی ہاجرہ کی گود میں ایک چاند سا گول مٹول بیٹا موجود تھا، انہوں نے جب عقیقہ کیا تو ہم سب کو بلایا تھا، پھر بیٹا سوا ماہ کا ہوا تو مامی ہاجرہ نے پھر سے رخت سفر باندھا اور جام صاحب کیلئے اپنے نو مولود بچے کا اسلام کرانے سانگھڑ سے جام صاحب تک کا ننگے پاؤں عازم سفر ہوئیں، اب سفر کی قیادت مامی ہاجرہ کر رہی تھیں۔
دوستو!
میں مانتا ہوں کہ طواف صرف کعبہ کا ہی ہے، قبروں پر طواف از روۓ شریعت حرام ہے، منع ہے، لیکن!
جو سب کچھ میری ان گنہگار آنکھوں کے سامنے ہوا کیا وہ محض اتفاق تھا یا کوئی کرامت یا مامی ہاجرہ کا یقین کامل!
فقیر حقیر کو آپ سب کی قیمتی آراء کا شدّت سے انتظار ہے۔
طالب دعا:-
غلام محمد چوہان۔۔
27ویں شب رمضان کریم بمطابق
May 20, 2020
ء
🎆🇵🇰❇️🎉🏝️🌌🕍🕋🕍🌌🏝️🎉❇️🇵🇰🎆🎆🇵🇰❇️🎉🏝️🌌🕍🕋🕍🌌🏝️🎉❇️🇵🇰🎆
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں