ماضی کے جھروکوں سے
بچپن میں میرا آئیڈیل ۔ اپنی دھن میں مگن ڈیوٹی کا پابند
ہمارے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر گلی کی نکڑ پر مونسپالتی کی طرف سے ایک بڑا سا لیمپ لگا ہوا کرتا تھا جو ہمارے محلے میں رات کو روشنی کا واحد ذریعہ ہوا کرتا تھا۔ روز شام کو چترو نامی بندہ آیا کرتا تھا، میلی کیچت پینٹ اور اُوپر ویسی ہی شرٹ جسے شاید دوسرا سوٹ لیتے وقت ہی چترو وہ سوٹ ضائع کرتا ہوگا، ویسے ہی میل اؤر تیل سے اتے بال کہ شاید مُدّتوں سے کبھی نہایا تک نہ ھو۔
ایک ہاتھ میں مٹی کے تیل کا کپّہ، دوسرے میں ایک میل اور تیل آلودہ چھوٹی سی سیڑھی جسے وہ دیوار سے لگا کر پورے انہماک سے لیپ کے شیشے صاف کرنا،، اُسکی بتی کو تھوڑا سا باہر نکل کر اس لیمپ میں اندازے سے اتنا ہی مٹی کا تیل ڈالنا کہ فجر تک لیمپ جلتا رہے، صفائی کے ساتھ ساتھ بیڑی کے کش اور ساتھ ھی گچراتی بولی میں کچھ زیر لب گنگناتے بھی رہنا، جسے میں سمجھنے کی کوشش کے باوجود بھی نہیں سمجھ پتہ تھا، پھر دیا سلائی دکھا کر اسے روشن کرنا، میں شام کو اکثر " چترو" کا انتظار کیا کرتا تھا، اسے آنے والے گھپ اندھیرے میں معمولی سی روشنی بکھیرتے میں سوچا کرتا تھا کہ میں بھی بڑا ہو کر "چترو" ہی بنوں گا، مجھے اس بات کا اقرار کرنے میں کسی بھی طرح کی کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ "چترو بھنگی" میرا بچپن کا آئیڈیل تھا جو کہ نہ صرف اپنی ڈیوٹی کاپابند بلکہ اپنی دنیا میں مگن لوگوں کیلیئے رات کے اندھیرے میں اُجالا کرتاتھا۔
پتہ نہیں میں کبھی اس جیسا بڑا آدمی بن بھی پاؤں گا کہ نہیں؟
احقر العباد:-
غلام محمد چوہان۔
May 08, 2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں