پیر، 18 جنوری، 2021

Pakistan Aur Fasad Fil Arz Ki Ahamiat, فسا د فی الارض اور پاکستان، بیرونی فنڈنگ

 صدائےدرویش

فسا د فی الارض اور پاکستان، بیرونی فنڈنگ

السلام علیکم دوستو!

الحمدللہ! پاکستان اور پاکستان سے باہر میرے کافی دوست ہیں جن سے رابطہ رہتا ہے، خصوصاً پڑوسی ملک بھارت میں مقیم بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب کے، اکثر اوقات ان سب سے مختلف ٹاپکس پر تبادلہء خیال بھی رھتا ھے، میں نے محسوس کیا ھے کہ انسانوں کی کثرت صلح جو ہے، امن پسند ہے، رواداری، بھائی چارے اور آپس میں محبت کیساتھ مل جل کر رھنا پسند کرتے ھیں، جنگ و جدل ہرگز نہیں۔ بہت کم افراد ایسے ہیں جو فساد فی الارض ہیں،یا نفرت پسند ہیں،یا خود کو دوسروں سے ممتاز سمجھتے ہیں، جن میں کثرت انتہاء سیاست دانوں اور شیطان کے پیروکار انسان نما مذہبی جنونیوں اور لبرلز کی ہے کہ جن کی منشاء ہی اقتدار ہے، اُسکے بعد کچھ حصّہ ایسے ممالک کے میڈیا کا بھی جو نت نئی خبر بریک کرنے کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں، حقائق کو اپنی ریٹنگ بڑھانے کیلئے توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات اور دولت کے لئے مختلف روپدھار کے، فلاح و بہبود کے نام پر سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، آپس میں نفرتیں پیدا کرکے دست و گریبان کرتے ہیں،  بیرونی آقائوں کے اشارے اورآشیربادکے ساتھ ۔ 


ایسے گروپس کی تعداد تقریباً ہر ملک میں ہے، کہیں کم اور کہیں زیادہ اور کہیں تو بہت ہی زیادہ، مذہبی انتہاء پسند اور سیاست دان ہی ان چینلز کو فنڈنگ بھی کرتے ہیں اور پروموٹ بھی، عام بندے یا شہری کی فلاح و بہبود نہیں۔


کسی بھی طرح کے منفی عمل کا جنون بندے کو تباہی کے دہانے تک لے جاتا ہے اور بلآخر بنی نوع انسان کی تباہی کا موجب بھی ثابت ہوا کرتا ہے، تاریخ عالم ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔


یہ جدید دور ہے، جنگوں کے روایتی طریقے نہیں رہے، بدل چکے ہیں، اس میں سب سے سرِ فہرست انتہاء پسندی اور مذہبی جنونیت ہے، پھر کچھ اقوام کے توسیع پسندانہ عزائم، اپنی بہتری کیلئے دوسروں کے وسائل پر قبضہ وغیرہ بھی اسی کا حصّہ ہے، نیز کچھ اسلحہ فروخت کرنے والے امیر ممالک بھی اس طرح کے گروپس یا سیاست دانوں کو دنیا بھر میں پروموٹ کرتے رہتے ہیں تاکہ انکا کاروبار بھی اور عیاشیاں  بھی چلتی رہیں، ذاتی بہتری کیلئے کوئی پوری دنیا کے امن و سکون کو داؤ پر لگا دے، یہ کہاں کی دانشمندی ہے، اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک کے سربراہان اور اسلحہ سازوں کو بھی اس بات کا مکمّل ادراک ہونا چاہئے کہ جس آگ کو وہ مسلسل ہوا دے رہے ہیں وہ کسی بھی وقت اُنکے ملک اور انکی محفوظ پناہگاہوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ کورونا وائرس کو بطور جراثیمی ہتھیار کے چاہے کسی بھی ملک نے استعمال کیا ہو مجھے اس بحث میں نہیں جانا، متاثر تو ساری دنیا ہی ہوئی ہے۔ جس طرح سے امریکہ جنگِ عظیم دوئم میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر بنی نوع انسان کا مجرم ہے ویسے ہی کورونا وائرس کو پھیلانے والا بھی مجرم ٹھہرایا جائے گا۔


اللہ رب العزت کی تخلیق یہ زمین اب تک کی تحقیق کے مطابق کائنات بھر میں قدرت کی صناعی کا بہترین نمونہ ہے، ہر چیز balanced ہے، سوائے چند فیصد اقوام اور ممالک کے جنہوں نے اللہ کی اس بہترین تخلیق کو $imbalanced بنا کر رکھا ہوا ہے، صرف ذاتی اناء کی تسکین کیلئے اقوامِ عالم کے دشمن بنے بیٹھے ہیں، یہ چند فیصد اقوام یا ممالک کس قدر ظالم ہیں انکا مجھے اور آپ سب کو بھی اندازہ ہونا ضروری ہے۔


میرے دوستو!

یہ کرہ ارض صرف ہمارا ہی مسکن نہیں، اللہ کی اس مخلوق کا بھی ہے جن پر بنی نوع انسان کو فضیلت دی گئی، انسان کو افضل بنایا گیا، بہترین طور پر تخلیق کرکے اسے اللہ نے فرشتوں سے سجدہء تعظیمی بھی کروایا، شیطان جو کہ عبادت گزاری کی وجہ سے عزازیل" کے مقام پر تھا اُسے بھی راندہء درگاہ کیا، مردود کیا اور آدم علیہ السلام کو اپنا نائب کیا۔


اب آدم زاد پر واجب ہے کہ وہ اپنی خاطر نہ سہی، اللہ کی دوسری مخلوق کی خاطر اس خوبصورت تخلیق کو جہنّم میں مت بدلے، چرند، پرند اور درند اُنکا بھی اس زمین پر اتنا ہی حق ہے جتنا آدم زاد کا، ہم جہاں جہاں بھی ہیں اللہ کی اس عظیم تخلیق اس دھرتی کی بقاء کیلئے اپنا اپنا یہ سمجھ کر ہی حصّہ ڈالیں کہ ہم "اشرف المخلوقات ہیں، یقین جانئے جانوروں سے دنیا کی بقاء کو کسی بھی طرح کا خطرہ نہیں، صرف صرف اس دو ٹنگی مخلوق آدم زاد سے ہے، آئیں آگے بڑھیں اور انسان کے ہاتھوں بنی نوع انسان اور ہر زی روح کو محفوظ رکھنے کا عزم کریں، وحشت اور بربریت کو شکست دیں، محبت امن و سلامتی کو پروموٹ کریں اور کرہ ارض کو، اپنی اس جنّت کو اپنی آنے والی نسلوں کیلئے بھی محفوظ مسکن بنانے کا اعادہ کریں، اسی میں ہماری بہتری ہے، نسلِ انسانی اور ہر جاندار کی بھی جن پر حضرت انسان کو اشرف کیا گیا، یہی اسلامی تعلیمات کا نچوڑ اور عین اسلام ھے۔


آپ سب کا:-

جی ایم چوہان

16.01.2021

کی ایک یخ بستہ شب۔

منگل، 5 جنوری، 2021

Mulki Dakhli Aur Khitay Ki Badlti Bigarti Suratehal Aur Jalsay Jaloos, Ahtejaji Sayasat Aur Iqtedar Ka Nasha

  صدائے درویش 

" ملکی داخلی صورتِ حال، جلسے جلوس، احتجاجی سیاست اور نشہء اقتدار"


ایک معتبر پاکستانی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت گزشتہ کی دہائیوں سے وطنِ عزیز میں انتشار برپا کرنے کے درپے ہے، داخلی انتشار پھیلا کر ملک میں بے یقینی کی سی کیفیت پیدا کئے ہوئے ہے، ادارے کی طرف سے مصدقہ ثبوت بھی فراہم کئے گئے لیکن مجال ھے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ہو۔


 وائس آف امریکہ (VOA) بھی تصدیق کرچکا کہ بھارت پاکستانی سلامتی کیلئے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے، کروڑوں Face Accounts اور بھارت نواز NGOs/Web Sites بھی کام کررہی ہیں جو ملکی سلامتی و استحکام کے خلاف کئی دہائیوں سے شب و روز برسرِ پیکار ہیں کہ پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے اُسے دنیا بھر، خصوصاً مغربی ممالک اور یورپی یونین میں پاکستان کو ہر طرح سے بدنام کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دے، جس میں اسے خاطر خواہ کامیابی بھی ملی، کلبھوشن یادیو کے نیٹ ورک کا پکڑا جانا ہمارے پاس بہت بڑا ثبوت ہے۔


ملکی صورتِ حال کے پیش نظر ہم سب پاکستانیوں کا فرض تھا کہ ہم سب اپنے اپنے داخلی اختلافات کو بھُلا کر یکجہتی کا مظاہرہ کرتے، دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے متحد ہوجاتے، خارجی سطح پر بھی تمام شواھد مل جانے کیبعد اسے "اقوامِ عالم" میں High light کرکے بھارتی حکومتوں کا مکروہ چہرہ دنیا کو دکھایا جاتا، بھارت کو بھی دنیا بھر میں ہزیمت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا اور اسے اپنے کئے ہوئے پر کم از کم شرمندہ تو ضرور کیا جانا ضروری تھا، لیکن بدقسمتی سے اب تک تو ایسا ہوا  ہی نہیں، وزارتِ خارجہ نے بھی اب تک کسی بھی طرح عالمی سطح پر اس اہم قومی مسئلے کو اجاگر نہیں کیا، باہمی اختلافات سے فراغت تو ملے۔


دنیا بھر میں کورونا کی وباء کی وجہ سے عالمی معیشت ڈانواں ڈول ہے، کڑوروں ملازمین اب تک اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو کر فارغ بیٹھ چکے، لیکن شائید ہماری ڈکشنری میں صبر و سکون اؤر دور اندیشی نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں، حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف آپس میں یوں گھتھم گتھہ ھیں کہ جیسے دونوں کو صرف اقتدار سے ہی ساری دلچسپی ہے، ملکی مسائل یا پاکستانی قوم سے نہیں، کتنی بری ہے ایسی سیاست اور کتنا برا ہے اقتدار کا نشہ، سب کچھ بھلا کر بندے کو وحشی سا بنا دیتا ہے کہ وہ اخلاقیات سمیت ہر چیز کو روندتا ہوا بس مسندِ اقتدار تک پہنچنا ہی اپنا وطیرہ اور مقصدِ حیات بنا لیتا ہے، بھائی کو بھائی مارتا اور باپ کو جیلوں تک میں بھی قید کروا دیتا ہے۔


اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ حزبِ اقتدار ہو یا حزب اختلاف کا قائم  مورچہ، دونوں اطراف مقابلے کا رجحان پایا جاتا ہے، ٹکراؤ کی سی کیفیت پیدا ہو چکی، بيقینی کی سی صورتِ حال ہے کہ کچھ بھی اندازہ نہیں ہو پا رہا کہ آنے والے چند ہفتوں میں کیا ہونے جا رہا ہے یا ہوگا۔ بدقسمتی سے

کوئی فریق بھی ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے، اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ انتہائی خراب حالات کے تناظر میں دونوں فریق ضد کے بجائے حقیقت پسندی سے کام لیتے، ٹکراؤ کی نوبت تک نہ جاتے، آج اگر اقتدار کا هما خان صاحب اینڈ کمپنی کے سر ہے تو آنے والے اوقات میں انکے سر پر بھی بیٹھ سکتا ہے، بیٹھا بھی ہے۔ اگر مجھ جیسا کم عقل و فہم کو اس بات کا ادراک ہے کہ ملک اس وقت داخلی انششار اور ٹکراؤ کا متحمل ہو ہی نہیں سکتا، تو کیا انکو قوتوں ادراک نہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا طویل حصہ ملکی سیاست کی نظر کیا اور اقتدار تک کے بھی مزے لوٹے؟ 

یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ کورونا نے دنیا بھر کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، وطن عزیز بھی اس کی وجہ سے پیدا شدہ مسائل کا بری طرح سے شکار ہے، عام بندہ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے تو دوسری طرف سیاستدان کرسی کو بچانے اور  کیلئے ہر حد کو عبور کرتے چلے جارہے ہیں، آئینی و قانونی اور اخلاقی حدود تک کو بھی، حیف ہے ان سب پر صد حیف، کیا یہ سب بھی تو کہیں دانستہ یا نادانستہ اسی مکروہ ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف تو نہیں جس کیلئے بھارت اب تک پاکستان میں انتشار کی سی کیفیت رکھنے کیلئے اربوں ڈالرز خرچ کرچکا ہے؟ خدا کیلئے قومی سطح کے سیاسی رہنماء اور انکے سیاسی ورکرز، ہر طرح کی اعلیٰ قیادت سے لے کر عام اہلکار اور مزدور و کسان سب سمجھ جائیں کہ یہی وقت ہے کہ ملکی مفادات کو مدِ نظر رکھ کر ہی وطن عزیز میں سیاست کی جائے، عام شہری بھی اسے پیمانے کو مد نظر رکھ کر ہی جلسے جلوسوں اور احتجاج کرنے والوں کا ساتھ دیں، ذاتیات یا شخصیات کو نہیں، اسی میں وطنِ عزیز اور عام پاکستانی کا مفاد ہے۔


عوام الناس کو بھی حقائق کا ادراک ہونا چاہئے، عوام کی طاقت بہت بڑی طاقت ہے، عوام چاہے تو ملک میں انقلاب بھی برپا کر سکتی ہے، اس کیلئے ہمیں اپنے آپ میں پورے خلوص، سچائی اور صدقِ دل کے ساتھ "پاکستانیت" پیدا کرنی ہوگی، مذہب میرے نزدیک ملکی مفاد میں ثانوی حیثیت رکھتا ہے، سب سے پہلے ملک و ملّت کیساتھ وفاداری و جاں نثاری، پھر کچھ اور۔


جملہ سیاستدانوں، بیوروکریسی و اہلکاران عام، عدلیہ و انتظامیہ یعنی ہر شعبہ زندگی کے شخص، اشخاص یا گروہوں کو اسکا ادراک ہونا چاہئے کہ ہمارا سب کچھ ہی اس ملک سے وابستہ ہے، ہماری نسلوں کا بھی، یہی وقت جاگنے کا ہے، اختلافات کا نہیں۔


جمہوریت برائی نہیں ہے، بس ہم سب اسے جس اینگل سے لے رہے ہیں، وہ غلط ہے، دنیا بھر میں اس وقت جمہوری نظام ہی چل رہا ہے، ہمیں بھی عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ہی چلنا پڑے گا، ہم موروثی سیاست یا ملوکیت کے متحمل ہو ہی نہیں سکتے، پاکستان میں ایسا یکساں عادلانہ جمہوری نظام جس میں "جزاء اور سزا" کا تصّور یکساں ہو، دوہرا معیار نہیں۔ حاکمِ وقت یا اہم عہدوں سے لے کر عام اہلکار کو اس بات کا خوف ہو کہ اگر کرسی وردی یا اختیارات کے نشے میں عام شاہراہوں پر جس نے "قانون شکنی کی تو اسے فوری سزا کا سامنا ہوگا، ایسا ہی عام شہری پر بھی واجب ہے۔ آپ جگہ جگہ جو کچھ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں یہ سب ہماری اخلاقی کج روی اور دیوالیہ پن کی وجہ سے ہی ہے، ہر چیز میں اعتدال پسندی ہی اقوام کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے، ورنہ ممکن ہے ہمارے پورے سسٹم کے "شُتر بے مہار" کو کوئی نہ کوئی نکیل ڈالنے والا بھی اٹھ ہی کھڑا ہو۔ مثل مشہور ہے کہ "ہر فرعون را موسیٰ" ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنے اپنے دائروں میں واپس لوٹ آئیں، ملکی آئین و قوانین کی پاسداری کریں۔ ریاست کو اہم سمجھیں، ذاتیات ہو نہیں، بصورتِ دیگر ہر عروج کو زوال تو ہے ہی، یہی قانونِ قدرت ہے۔


حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ایک قول مبارک ہے کہ " کوئی معاشرہ بھی مذہب کے بغیر تو چل سکتا ہے "عدل" کے بغیر نہیں۔ کار سیاست ہو یا عام شعبہ،ء زندگی، ھر میدان میں دور اندیشی، فہم و فراست اور عدل و انصاف سے کام لیجئے، ملک جنّت کا گہوارہ بن جائے گا۔


اس وقت ہم سب مل جل کر پاکستان کو ایک اندھےکنویں کے طرف دھکیل رہے ہیں اور یہی سب کچھ ہمارا پڑوسی ملک اور دیگر شیطانی قوتوں کا اصل ہدف ہے۔


جی۔ایم چوہان

12.12.2920.


Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...