صدائےدرویش
فسا د فی الارض اور پاکستان، بیرونی فنڈنگ
السلام علیکم دوستو!
الحمدللہ! پاکستان اور پاکستان سے باہر میرے کافی دوست ہیں جن سے رابطہ رہتا ہے، خصوصاً پڑوسی ملک بھارت میں مقیم بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب کے، اکثر اوقات ان سب سے مختلف ٹاپکس پر تبادلہء خیال بھی رھتا ھے، میں نے محسوس کیا ھے کہ انسانوں کی کثرت صلح جو ہے، امن پسند ہے، رواداری، بھائی چارے اور آپس میں محبت کیساتھ مل جل کر رھنا پسند کرتے ھیں، جنگ و جدل ہرگز نہیں۔ بہت کم افراد ایسے ہیں جو فساد فی الارض ہیں،یا نفرت پسند ہیں،یا خود کو دوسروں سے ممتاز سمجھتے ہیں، جن میں کثرت انتہاء سیاست دانوں اور شیطان کے پیروکار انسان نما مذہبی جنونیوں اور لبرلز کی ہے کہ جن کی منشاء ہی اقتدار ہے، اُسکے بعد کچھ حصّہ ایسے ممالک کے میڈیا کا بھی جو نت نئی خبر بریک کرنے کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں، حقائق کو اپنی ریٹنگ بڑھانے کیلئے توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات اور دولت کے لئے مختلف روپدھار کے، فلاح و بہبود کے نام پر سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، آپس میں نفرتیں پیدا کرکے دست و گریبان کرتے ہیں، بیرونی آقائوں کے اشارے اورآشیربادکے ساتھ ۔
ایسے گروپس کی تعداد تقریباً ہر ملک میں ہے، کہیں کم اور کہیں زیادہ اور کہیں تو بہت ہی زیادہ، مذہبی انتہاء پسند اور سیاست دان ہی ان چینلز کو فنڈنگ بھی کرتے ہیں اور پروموٹ بھی، عام بندے یا شہری کی فلاح و بہبود نہیں۔
کسی بھی طرح کے منفی عمل کا جنون بندے کو تباہی کے دہانے تک لے جاتا ہے اور بلآخر بنی نوع انسان کی تباہی کا موجب بھی ثابت ہوا کرتا ہے، تاریخ عالم ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
یہ جدید دور ہے، جنگوں کے روایتی طریقے نہیں رہے، بدل چکے ہیں، اس میں سب سے سرِ فہرست انتہاء پسندی اور مذہبی جنونیت ہے، پھر کچھ اقوام کے توسیع پسندانہ عزائم، اپنی بہتری کیلئے دوسروں کے وسائل پر قبضہ وغیرہ بھی اسی کا حصّہ ہے، نیز کچھ اسلحہ فروخت کرنے والے امیر ممالک بھی اس طرح کے گروپس یا سیاست دانوں کو دنیا بھر میں پروموٹ کرتے رہتے ہیں تاکہ انکا کاروبار بھی اور عیاشیاں بھی چلتی رہیں، ذاتی بہتری کیلئے کوئی پوری دنیا کے امن و سکون کو داؤ پر لگا دے، یہ کہاں کی دانشمندی ہے، اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک کے سربراہان اور اسلحہ سازوں کو بھی اس بات کا مکمّل ادراک ہونا چاہئے کہ جس آگ کو وہ مسلسل ہوا دے رہے ہیں وہ کسی بھی وقت اُنکے ملک اور انکی محفوظ پناہگاہوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ کورونا وائرس کو بطور جراثیمی ہتھیار کے چاہے کسی بھی ملک نے استعمال کیا ہو مجھے اس بحث میں نہیں جانا، متاثر تو ساری دنیا ہی ہوئی ہے۔ جس طرح سے امریکہ جنگِ عظیم دوئم میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر بنی نوع انسان کا مجرم ہے ویسے ہی کورونا وائرس کو پھیلانے والا بھی مجرم ٹھہرایا جائے گا۔
اللہ رب العزت کی تخلیق یہ زمین اب تک کی تحقیق کے مطابق کائنات بھر میں قدرت کی صناعی کا بہترین نمونہ ہے، ہر چیز balanced ہے، سوائے چند فیصد اقوام اور ممالک کے جنہوں نے اللہ کی اس بہترین تخلیق کو $imbalanced بنا کر رکھا ہوا ہے، صرف ذاتی اناء کی تسکین کیلئے اقوامِ عالم کے دشمن بنے بیٹھے ہیں، یہ چند فیصد اقوام یا ممالک کس قدر ظالم ہیں انکا مجھے اور آپ سب کو بھی اندازہ ہونا ضروری ہے۔
میرے دوستو!
یہ کرہ ارض صرف ہمارا ہی مسکن نہیں، اللہ کی اس مخلوق کا بھی ہے جن پر بنی نوع انسان کو فضیلت دی گئی، انسان کو افضل بنایا گیا، بہترین طور پر تخلیق کرکے اسے اللہ نے فرشتوں سے سجدہء تعظیمی بھی کروایا، شیطان جو کہ عبادت گزاری کی وجہ سے عزازیل" کے مقام پر تھا اُسے بھی راندہء درگاہ کیا، مردود کیا اور آدم علیہ السلام کو اپنا نائب کیا۔
اب آدم زاد پر واجب ہے کہ وہ اپنی خاطر نہ سہی، اللہ کی دوسری مخلوق کی خاطر اس خوبصورت تخلیق کو جہنّم میں مت بدلے، چرند، پرند اور درند اُنکا بھی اس زمین پر اتنا ہی حق ہے جتنا آدم زاد کا، ہم جہاں جہاں بھی ہیں اللہ کی اس عظیم تخلیق اس دھرتی کی بقاء کیلئے اپنا اپنا یہ سمجھ کر ہی حصّہ ڈالیں کہ ہم "اشرف المخلوقات ہیں، یقین جانئے جانوروں سے دنیا کی بقاء کو کسی بھی طرح کا خطرہ نہیں، صرف صرف اس دو ٹنگی مخلوق آدم زاد سے ہے، آئیں آگے بڑھیں اور انسان کے ہاتھوں بنی نوع انسان اور ہر زی روح کو محفوظ رکھنے کا عزم کریں، وحشت اور بربریت کو شکست دیں، محبت امن و سلامتی کو پروموٹ کریں اور کرہ ارض کو، اپنی اس جنّت کو اپنی آنے والی نسلوں کیلئے بھی محفوظ مسکن بنانے کا اعادہ کریں، اسی میں ہماری بہتری ہے، نسلِ انسانی اور ہر جاندار کی بھی جن پر حضرت انسان کو اشرف کیا گیا، یہی اسلامی تعلیمات کا نچوڑ اور عین اسلام ھے۔
آپ سب کا:-
جی ایم چوہان
16.01.2021
کی ایک یخ بستہ شب۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں