منگل، 5 جنوری، 2021

Mulki Dakhli Aur Khitay Ki Badlti Bigarti Suratehal Aur Jalsay Jaloos, Ahtejaji Sayasat Aur Iqtedar Ka Nasha

  صدائے درویش 

" ملکی داخلی صورتِ حال، جلسے جلوس، احتجاجی سیاست اور نشہء اقتدار"


ایک معتبر پاکستانی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت گزشتہ کی دہائیوں سے وطنِ عزیز میں انتشار برپا کرنے کے درپے ہے، داخلی انتشار پھیلا کر ملک میں بے یقینی کی سی کیفیت پیدا کئے ہوئے ہے، ادارے کی طرف سے مصدقہ ثبوت بھی فراہم کئے گئے لیکن مجال ھے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ہو۔


 وائس آف امریکہ (VOA) بھی تصدیق کرچکا کہ بھارت پاکستانی سلامتی کیلئے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے، کروڑوں Face Accounts اور بھارت نواز NGOs/Web Sites بھی کام کررہی ہیں جو ملکی سلامتی و استحکام کے خلاف کئی دہائیوں سے شب و روز برسرِ پیکار ہیں کہ پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے اُسے دنیا بھر، خصوصاً مغربی ممالک اور یورپی یونین میں پاکستان کو ہر طرح سے بدنام کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دے، جس میں اسے خاطر خواہ کامیابی بھی ملی، کلبھوشن یادیو کے نیٹ ورک کا پکڑا جانا ہمارے پاس بہت بڑا ثبوت ہے۔


ملکی صورتِ حال کے پیش نظر ہم سب پاکستانیوں کا فرض تھا کہ ہم سب اپنے اپنے داخلی اختلافات کو بھُلا کر یکجہتی کا مظاہرہ کرتے، دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے متحد ہوجاتے، خارجی سطح پر بھی تمام شواھد مل جانے کیبعد اسے "اقوامِ عالم" میں High light کرکے بھارتی حکومتوں کا مکروہ چہرہ دنیا کو دکھایا جاتا، بھارت کو بھی دنیا بھر میں ہزیمت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا اور اسے اپنے کئے ہوئے پر کم از کم شرمندہ تو ضرور کیا جانا ضروری تھا، لیکن بدقسمتی سے اب تک تو ایسا ہوا  ہی نہیں، وزارتِ خارجہ نے بھی اب تک کسی بھی طرح عالمی سطح پر اس اہم قومی مسئلے کو اجاگر نہیں کیا، باہمی اختلافات سے فراغت تو ملے۔


دنیا بھر میں کورونا کی وباء کی وجہ سے عالمی معیشت ڈانواں ڈول ہے، کڑوروں ملازمین اب تک اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو کر فارغ بیٹھ چکے، لیکن شائید ہماری ڈکشنری میں صبر و سکون اؤر دور اندیشی نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں، حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف آپس میں یوں گھتھم گتھہ ھیں کہ جیسے دونوں کو صرف اقتدار سے ہی ساری دلچسپی ہے، ملکی مسائل یا پاکستانی قوم سے نہیں، کتنی بری ہے ایسی سیاست اور کتنا برا ہے اقتدار کا نشہ، سب کچھ بھلا کر بندے کو وحشی سا بنا دیتا ہے کہ وہ اخلاقیات سمیت ہر چیز کو روندتا ہوا بس مسندِ اقتدار تک پہنچنا ہی اپنا وطیرہ اور مقصدِ حیات بنا لیتا ہے، بھائی کو بھائی مارتا اور باپ کو جیلوں تک میں بھی قید کروا دیتا ہے۔


اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ حزبِ اقتدار ہو یا حزب اختلاف کا قائم  مورچہ، دونوں اطراف مقابلے کا رجحان پایا جاتا ہے، ٹکراؤ کی سی کیفیت پیدا ہو چکی، بيقینی کی سی صورتِ حال ہے کہ کچھ بھی اندازہ نہیں ہو پا رہا کہ آنے والے چند ہفتوں میں کیا ہونے جا رہا ہے یا ہوگا۔ بدقسمتی سے

کوئی فریق بھی ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے، اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ انتہائی خراب حالات کے تناظر میں دونوں فریق ضد کے بجائے حقیقت پسندی سے کام لیتے، ٹکراؤ کی نوبت تک نہ جاتے، آج اگر اقتدار کا هما خان صاحب اینڈ کمپنی کے سر ہے تو آنے والے اوقات میں انکے سر پر بھی بیٹھ سکتا ہے، بیٹھا بھی ہے۔ اگر مجھ جیسا کم عقل و فہم کو اس بات کا ادراک ہے کہ ملک اس وقت داخلی انششار اور ٹکراؤ کا متحمل ہو ہی نہیں سکتا، تو کیا انکو قوتوں ادراک نہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا طویل حصہ ملکی سیاست کی نظر کیا اور اقتدار تک کے بھی مزے لوٹے؟ 

یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ کورونا نے دنیا بھر کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، وطن عزیز بھی اس کی وجہ سے پیدا شدہ مسائل کا بری طرح سے شکار ہے، عام بندہ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے تو دوسری طرف سیاستدان کرسی کو بچانے اور  کیلئے ہر حد کو عبور کرتے چلے جارہے ہیں، آئینی و قانونی اور اخلاقی حدود تک کو بھی، حیف ہے ان سب پر صد حیف، کیا یہ سب بھی تو کہیں دانستہ یا نادانستہ اسی مکروہ ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف تو نہیں جس کیلئے بھارت اب تک پاکستان میں انتشار کی سی کیفیت رکھنے کیلئے اربوں ڈالرز خرچ کرچکا ہے؟ خدا کیلئے قومی سطح کے سیاسی رہنماء اور انکے سیاسی ورکرز، ہر طرح کی اعلیٰ قیادت سے لے کر عام اہلکار اور مزدور و کسان سب سمجھ جائیں کہ یہی وقت ہے کہ ملکی مفادات کو مدِ نظر رکھ کر ہی وطن عزیز میں سیاست کی جائے، عام شہری بھی اسے پیمانے کو مد نظر رکھ کر ہی جلسے جلوسوں اور احتجاج کرنے والوں کا ساتھ دیں، ذاتیات یا شخصیات کو نہیں، اسی میں وطنِ عزیز اور عام پاکستانی کا مفاد ہے۔


عوام الناس کو بھی حقائق کا ادراک ہونا چاہئے، عوام کی طاقت بہت بڑی طاقت ہے، عوام چاہے تو ملک میں انقلاب بھی برپا کر سکتی ہے، اس کیلئے ہمیں اپنے آپ میں پورے خلوص، سچائی اور صدقِ دل کے ساتھ "پاکستانیت" پیدا کرنی ہوگی، مذہب میرے نزدیک ملکی مفاد میں ثانوی حیثیت رکھتا ہے، سب سے پہلے ملک و ملّت کیساتھ وفاداری و جاں نثاری، پھر کچھ اور۔


جملہ سیاستدانوں، بیوروکریسی و اہلکاران عام، عدلیہ و انتظامیہ یعنی ہر شعبہ زندگی کے شخص، اشخاص یا گروہوں کو اسکا ادراک ہونا چاہئے کہ ہمارا سب کچھ ہی اس ملک سے وابستہ ہے، ہماری نسلوں کا بھی، یہی وقت جاگنے کا ہے، اختلافات کا نہیں۔


جمہوریت برائی نہیں ہے، بس ہم سب اسے جس اینگل سے لے رہے ہیں، وہ غلط ہے، دنیا بھر میں اس وقت جمہوری نظام ہی چل رہا ہے، ہمیں بھی عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ہی چلنا پڑے گا، ہم موروثی سیاست یا ملوکیت کے متحمل ہو ہی نہیں سکتے، پاکستان میں ایسا یکساں عادلانہ جمہوری نظام جس میں "جزاء اور سزا" کا تصّور یکساں ہو، دوہرا معیار نہیں۔ حاکمِ وقت یا اہم عہدوں سے لے کر عام اہلکار کو اس بات کا خوف ہو کہ اگر کرسی وردی یا اختیارات کے نشے میں عام شاہراہوں پر جس نے "قانون شکنی کی تو اسے فوری سزا کا سامنا ہوگا، ایسا ہی عام شہری پر بھی واجب ہے۔ آپ جگہ جگہ جو کچھ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں یہ سب ہماری اخلاقی کج روی اور دیوالیہ پن کی وجہ سے ہی ہے، ہر چیز میں اعتدال پسندی ہی اقوام کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے، ورنہ ممکن ہے ہمارے پورے سسٹم کے "شُتر بے مہار" کو کوئی نہ کوئی نکیل ڈالنے والا بھی اٹھ ہی کھڑا ہو۔ مثل مشہور ہے کہ "ہر فرعون را موسیٰ" ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنے اپنے دائروں میں واپس لوٹ آئیں، ملکی آئین و قوانین کی پاسداری کریں۔ ریاست کو اہم سمجھیں، ذاتیات ہو نہیں، بصورتِ دیگر ہر عروج کو زوال تو ہے ہی، یہی قانونِ قدرت ہے۔


حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ایک قول مبارک ہے کہ " کوئی معاشرہ بھی مذہب کے بغیر تو چل سکتا ہے "عدل" کے بغیر نہیں۔ کار سیاست ہو یا عام شعبہ،ء زندگی، ھر میدان میں دور اندیشی، فہم و فراست اور عدل و انصاف سے کام لیجئے، ملک جنّت کا گہوارہ بن جائے گا۔


اس وقت ہم سب مل جل کر پاکستان کو ایک اندھےکنویں کے طرف دھکیل رہے ہیں اور یہی سب کچھ ہمارا پڑوسی ملک اور دیگر شیطانی قوتوں کا اصل ہدف ہے۔


جی۔ایم چوہان

12.12.2920.


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...