عصری تقاضےاورپاکستانی سیاست پر اُسکے اثرات۔
میرے دوستو!
میرا ذاتی تجزیہ اور مشاہدہ ھے کہ ھم لوگ پیدا ھی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور بلیک میل کرکے "un due benefits" حاصل کرنے کے لئے ہوئے ہیں، جناب جہانگیر ترین نے عمران خان پر انویسٹمنٹ کی ہے، ہر طرح سے ساتھ دیا ہے، اب خان کو اقتدار ملا ہے تو وہ بینیفٹس بھی تو لے گا، رہی پاور شو کی بات، تو چپڑاسی سے لیکر چیف سیکرٹری، اور ایک عام بی۔ڈی ممبر سے لے کر پرائم منسٹر تک ہر کوئی "Power show" ہی کر رہا ہے کہ جیسے زندگی بھر کبھی اختیارات دیکھے ہی نہ ہوں، یقین جانئے ہم عجیب سی شو باز گروہ کے ہم فرد ہیں، آج ہم ایک دوسرے کیساتھ مخلص ہو جائیں تو آدھے زائید مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے، کیوں کہ سب کے سب ایک دوسرے کو ہر حال میں نیچا دکھانے کیلئے پیدا ہی ہم نے خود کئے ہیں, حالانکہ عصرِ حاضر کا اوّلیں تقاضہ ہے کہ میدانِ سیاست ہو یا معاشی ترقّی کے منصوبے، حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار، عام سول عدالتیں سب کو ہی ملک و قوم کے وسیع تر قومی مفاد میں ایک دوسرے کے ساتھ اس انتہائی بدترین وقت میں کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑا ہونا چاہئے تھا، نہ کہ بدترین مخاصمت۔
سول بیوروکریسی، انتہائی معذرت کے ساتھ کے "عدلیہ" اور مافیاز کی کثرت عمران خان کو صحیح طرح سے کھل کر کام کرنے کا موقع دے ہی نہیں رہی، پروپیگنڈہ ایسا ایسا زہریلا کہ الحفیظ و الامان کہ لوگوں کو ورغلا کر ایسا mind set تیار کردیا جو سرِ عام یہ کہتا پھر رہا ہے کہ عمران خان ووٹ کی طاقت سے نہیں آیا، "خلائی مخلوق" لائی اور وہی اسے سپورٹ بھی کررہی ہے، کورونا اور خان حکومت کی وضع کردہ غلط پالیسیز کی وجہ سے بیروزگاری اور مہنگائی کا ایسا طوفانِ بدتمیزی اٹھا ہے کہ اللہ کی پناہ۔
یہاں صرف حوالے کے طور پر گزشتہ سال چینی کی فاضل پیداوار کو عالمی منڈی میں فروخت کرنے کا حکم کہ جس میں شوگر ملز مالکان کو سرکاری خزانے سے اربوں روپے کی سبسڈی بھی دی گئی، ملک میں چینی کے ساتھ ساتھ آٹے کا بھی مصنوعی بحران پیدا کیا گیا، ایکسپورٹ شدہ چینی کی جگہ بیرونِ ملک سے چینی امپورٹ کرکے کروڑوں روپیس کا زر مبادلہ خرچ کر دیا گیا، اسی طرح سے آٹے کے بحران پر بھی قابو پانے کیلئے جلد بازی میں ایسے اقدامات کئے گئے جن کا تمام فائدہ بھی بل الواسطہ یا بلا واسطہ سرمایہ کاروں کو ہی ہوا، عام بندے جو دھکّے کھانے کیبعد 10کلو کے آٹے کا تھیلا۔ جو بحران پیدا کیا گیا اس سے ایک طرف تو کثیر ذر مبادلہ ضائع ہوا تو دوسری طرف عوام اور ملکی دفاع پر معمور اداروں کے افراد کو یہ جتلایا گیا کہ سب کیا دھرا فوج کا ہی ہے، بغاوت کرو، افسران کو Dis obay کرو، پھر جو جو کچھ بھی ہوا یا PDM کے جلسوں میں اس اتحاد نے کیا یا کہا وہ بھی تلخ حقیقت اور کسی سے بھی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
اس سے پاکستان مخالف قوّتوں کو دو فائدہ حاصل ہوئے ہیں، اس کھینچا تانی میں عمران خان کو اپنے اہداف و ملکی مسائل پر فوکس کرنے ھی نہیں دیا گیا تو دوسری طرف فوج کی پشت پناہی پر آنے والا سمجھ کر عوام میں فوج کی اعلیٰ کمان کے خلاف بدگمانی مزید بڑہائی گیم
اسے کہتے ہیں "ایک تیر سے دو شکار" خان صاحب اپنے لئے ہر قدم پر مسائل خود پیدا کر رھے ھیں، انکو کرکٹ اور سیاست میں فرق کو سمجھنا چاہئے جو فی الوقت کہ بہُت ضروری ہے۔ ڈسکہ کی سیٹ کا ہاتھ سے نکل جانا اس بات کی واضح علامت ہے کہ عوام کے ہاتھ میں جو ووٹ کی طاقت ہے یا اُسکو کو استعمال کرنے کا جو اختیار ہے وہ "ڈسکہ الیکشن" میں خطرے کی گھنٹی کے طور پر وہاں کے ووٹر اسے بجا چکے ھیں۔
جہانگیر ترین صاحب پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، تیسری سیاسی پارٹی کے ظہور پذیر ہونے کے بھی واضح امکانات موجود ہیں جس میں چاروں صوبوں سے اہل اور محب وطن سیاسی قیادت کو بھی آگے لا کر ملک بھر میں سے موروثی سیاست کو بھی شائید ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا جائے گا۔
دعا گو ہوں اللہ جو بھی کرے وہ سب وطنِ عزیز اور عام پاکستانی کے مجموعی مفاد میں ہو ورنہ خانہ جنگی کی سی کیفیت بھی پیدا ھو سکتی ہے کہ جس کا وطنِ عزیز کسی بھی صورت میں متحمل ہو ہی نہیں سکتا، یہی پاکستان کے دشمنوں کا آخری مہرا اور آخری پلان بھی ہے۔
آپ سب کا:-
غلام محمد چوہان۔
۱۳.۰۴.۲۰۲۱.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں