بدھ، 14 اپریل، 2021

Anchore Haroon Rasheed Ka Mulk Ko Sanaati Taraqi ki Taraf Layjanay Ka Mashwara, ملک کو صنعتی ترقی کی طرف لے جانے کا مشورہ


آخرِشب۔

ملک کو صنعتی ترقی کی طرف لے جانے کا ہارون الرشید عباسی کا مشورہ

ہارون الرشید عباسی کے پروگرام مقابل میں اُنکے ایک تبصرے کے جواب میں چند الفاظ،فقیرِ حقیر کی طرف سے پوری پاکستانی قوم کے نام۔


آپ نے ملک کو صنعتی ترقی کی طرف لے جانے کا مشورہ دیا ہے، ساتھ ہی ساتھ کسی بھی ہنر میں یکتاء اور تعلیم یافتہ بھی، آپکی بات اور مشورہ سر آنکھوں پر، مگر سرکار میری اس ملک میں جمہوری اداروں کی ناقص پالیسیز کی وجہ سے یہاں پر جو انڈسٹری تھی وہ بھی بند ہوچکی یا بیرونِ ملک شفٹ ہو گئی، نئی اب کون لگائے گا؟ ہر طرح کے خوف اور دباؤ کی وجہ سے بھی یہاں سے سرمایہ دار چلا گیا، پیسہ بھی گیا، اتنا گیا کہ اگر واپس ملک میں واپس آجائے تو زر مبادلہ کے ذخائر قرضہ اُتر جانے کے بعد تگنے سے اوپر ہو جائیں گے، آخر ڈالر ملک میں ھے تھا تو باہر گیا، آپ ملکی ترقّی کیلئے تعلیم اور ہنر جو ترجیح قرار دے رہے ہیں، میں اس سے متفق نہیں ہوں۔


غور سے سنیئے اور یہ میرا ایمان ہے کہ ان پڑھ جاھل یا نیم خواندہ اقوام بھی اگر پوری دیانتداری کے ساتھ (ایمانداری نہیں، دیانتداری) اپنی قوم و ملک کو اپنی پہلی ترجیح سمجھ لیں اُسکی ترقّی کیلئے کوشاں ہوں تو وہ ملک اس دور میں بھی ترقّی کی تمام منازل طے کرسکتا ہے، نئے سرے سے پاکستان بھی، مرحوم صدر ایوب خان کے دور حکومت کو ہی دیکھ لیں، جاپان کے بعد ایشیا بھر میں ترقّی کی دوڑ میں ہم دوسرے نمبر پر تھے، آج کہاں ہیں؟ 

جنوبی کوریا جس کو پہلا پانچ سالہ منصوبہ پاکستان کے ایک سابق وزیرِ خزانہ نے بنا کر دیا تھا، جس ملک کے آبی نظام اور برقی نظام (واپڈا) کو دوسرے ملک اسٹڈی کرنے کیلئے آیا کرتے تھے، کراچی کی ترقّی کو مثال بنا کر ملکوں ملکوں بتایا کرتے تھے، اسکی تقلید میں انہوں نے اپنے اپنے ممالک میں ترقّی کا جال بچھایا، آج اس کراچی بلکہ پورے وطنِ عزیز کا کیا حال ہے, اب وہ پاکستان کہاں ہے؟ وہ ترقّی کہاں چلی گئی، رُک کیوں گئی؟ 

تائیوان، سری لنکا، بھارت اور بنگلہ دیش ہم سے معاشی اور صنعتی ترقی میں کہیں آگے ہیں، کیوں؟


ہارون صاحب!


اقوام کو آگے بڑھنے کیلئے مذہب سے بھی کہیں زیادہ دیانتداری کی ضرورت ہوا کرتی ہے، چھوٹا منہ اور بڑی بات کی ہے، مجھے پتہ ہے کہ دیانتداری کو میں مذہب اور عقائد پر ترجیح دی ہے، لیکن یہ سچ ہے، مگر انتہائی کڑوا سچ، آپ بشمول اپنے اور میرے اپنا اپنا جائزہ لیں کہ کیا ھم ایک دیانتدار قوم کے افراد ہیں؟ اُس تعلیم سے کہیں زیادہ وہ جہالت زیادہ اچھی جس میں کسی بھی قوم کا اوڑھنا بچھونا ہی دیانتداری ہو، تعلیم اور ہنر کی اہمیت سے انکار نہیں، ہمارا ہدف دیانتداری ہونا چاہئے، مُجھے اچھی طرح یاد ہے ایک فوجی آمر کے دورِ حکومت میں ہماری نصابی کتب کے سر ورق پر گول دائرے میں "امانت،دیانت، صداقت، شرافت" لکھا ہوا ہوتا تھا،واللہ! آج ہمیں ان چاروں الفاظ کی اس دور سے بھی کہیں زیادہ اشد ضرورت ہے، تعلیم اور ہنر میں یکتاء ھونا میرے لئے ثانوی عمل ہے، یقین جانئے اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہم جہاں آج کھڑے ہیں آئندہ مستقبل قریب میں اقوام کی ترقّی کی فہرست میں اس سے بھی پیچھے کھڑے ہونگے، آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔


خیر اندیش:-


غلام محمد چوہان،

12.04.2021.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...