#صدائے_درویش.
ہم نہ ہونگے کوئی ہم سا ہوگا
پتہ نہیں ہم شہرت کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی اتنے مصروف کیوں ہو جاتے ہیں کہ پرانے رشتے ناطے, جملہ دوست احباب کیوں بھول جاتے ہیں، یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ یہاں کوئی چیز بھی دائمی نہیں، مدام و دائم اللّہ ربّ العزت کی ذاتِ گرامی ہے، انسان تو کمزور و بے بس ہے، میں یا آپ ایک حقیقت کی طرح دنیا کی کتاب میں ابھی اس وقت موجود ھیں شائید اگلے ہی لمحے نہ ہوں، پیوند خاک ہو جائیں، ماضی کا حصّہ بن جائیں۔ دنیا کی بے ثباتی کو یاد رکھنا ہی دانش مندی ھے۔
خالی ہاتھ آئے تھے خالی ہی لوٹ جانا ہے، عزت، دولت اور شہرت سب یہاں ہی دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، بس سانسوں کی پھرتی ہوئی مالا ٹوٹنے کی دیر ہے صاحب، پھر کیا "قلندر اور کیسا تونگر" سب منوں مٹّی کے نیچے سبھی ایک ہونگے میرے صاحب۔ سب کے سب دانے بکھر جائیں گے، صور قیامت سے پہلے کبھی بھی اکٹھے نہ ہونے تک۔ سب سانسوں کے "آواگون" کا کھیل ہے میرے دوستو، کسی کے نہ ہونے سے کارخانہء حیات رکا نہیں، سب چلتا رہے گا، قارون، فرعون اور شدّاد تک خالی ہاتھ چلے گئے، پھر بھلا ہم کس "کھیت کی مولی" ہیں اگر یقین نہ ہو تو تمام تر سچائیوں اور خلوصِ نیّت کیساتھ ایک چکّر قبرستان کا لگا کر دیکھ لیں "دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی" ہوجائے گا۔
"دائم آباد رہے گی دُنیا،
ہم نہ ہونگے کوئی ہم سا ہوگا"
ایک دوسرے سے بلا تکلّف ملتے جلتے رہیئے رشتوں کو جوڑیئے للّٰہ توڑئیے نہیں، اس سے پہلے کہ ھم ایک دوسرے کو ملتے جلتے رہنے کی خواہش کو دل میں لئے ہی اسی مٹّی کا ڈھیر کا دائمی حصّہ ہو جائیں جس پر رہتے ہوئے ہم اپنے اپنے اندر انانیت کے بت پال رہے ہیں، جس پر ہم اپنے پیاروں کو بھلائے بیٹھے ہیں۔
شب بخیر:-
جی۔ایم چوہان۔
05 جولائی 2021ء
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں