پیر، 15 اگست، 2022

جوش و خروش کے ساتھ یومِ آزادی

 

#ماضی کےجھروکوں_سے 

جوش و خروش کے ساتھ یومِ آزادی


ملک بھر میں پورے جوش و خروش کے ساتھ یومِ آزادی منانے کا اعلان مرحوم صدر ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں ہوا تھا، یہ 1981ء کی بات ھے۔ اُن دِنوں آج کی طرح بازاروں میں قومی پرچم دستیاب نہیں ہوا کرتے تھے۔ بنانے پڑتے تھے، یہ اعلان یومِ آزادی سے صرف 02 یا 03 دن پہلے ہوا تھا۔ درزیوں کے پاس بیشمار آرڈرز تھے کہ اُنہیں سر کھجانے تک کی بھی فرصت نہیں تھی، چناچہ مُجھ سمیت لوگوں کی بڑی تعداد میں ملکی قومی پرچم اپنے گھر میں ہی سی کر تیّار کر لئے تھے۔


بہرحال یومِ آزادی بھی آگیا سب نے اپنے اپنے گھروں اور دکانوں پر سبز و سفید پرچموں کی بہار لگائی ہوئی تھی، پرچم بلند کرنے کے لئے بانس کی پتلی چھڑیاں تک بھی نایاب ھو گئ تھیں۔ 

ہمارے شہر میں نارائن داس نامی ایک کھاد کے ڈیلر ھوا کرتے تھے اُنہوں نے بھی اپنی ایجنسی پر سبز ہلالی پرچم لگا رکھا تھا۔ میں بھی اتفاقاً گھومتے پھرتے اُس طرف جا نکلا، چچا نارائن داس بہت زندہ دل انسان تھے، میری ان سے آتے جاتے ملاقات ھوتی بھی رہتی تھی اور ہلکی پھلکی سی گپ شپ بھی۔ چاچے نارائن داس سے باتیں کرتے کرتے میری جھنڈے پر نظر پڑی تو دیکھا کہ جھنڈے کو فضا میں بلند کرنے کے لئے کوئی 03 انچ موٹا بانس لگایا گیا تھا، میں حیرت سے پوچھا، چچا آپ نے جھنڈے کے ساتھ ظلم کیا، اتنا موٹا بانس؟


ہنس کر بولے مُجھے بتائیں کہ جھنڈے میں کتنے رنگ ہیں؟ میں جواب دیا 02، ہرا اور سفید! پھر مسکرا کر گویا ہوئے، سبز رنگ کس کی علامت ہے؟ میرا جواب تھا اس ملک میں اکثریت کی یعنی مسلمانوں کی، پھر بولے سفید رنگ کس کی علامت ھے؟ میرا جواب تھا اقلیتوں کی، پھر بولے میں نے موٹا بانس کون سے حصّے میں ڈالا ہوا ہے؟ میرا جواب تھا سفید میں۔ ہنستے ہوئے بولے میں نے جو بھی کیا ہے اپنے حصّے میں کیا، آپکے سبز حصّے میں نہیں، اب لاجواب ہوکر چاچے نارائن داس کو دیکھنا میری مجبوری تھی، ہنس کر بولے پتلی لکڑی ملی نہیں، جو ملا سو لگا دیا، جھنڈا بھی تو لازمی لگانا تھا۔


غلام محمد چوہان۔

14.08.2022

جمعہ، 12 اگست، 2022

پاکستان نے ہمیں سب کچھ دیا, My Pakistan

 #صدائے_درویش۔

وطنِ عزیز کے قیام کی 75ویں سالگرہ

اللّہ اور مُلک خدا داد کا شکر گزار

پاکستان نے ہمیں سب کچھ  دیا

قائم اس سال وطنِ عزیز کے قیام کی 75ویں سالگرہ منانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ لوگوں کی کثرت اکثر یہ کہتی پائی گئی ہے کہ پاکستان نے ہمیں دیا کیا ہے؟ ارے ناشکرے لوگو! ہمیں پاکستان نے کیا نہیں دیا، عزت اور پہچان اپنی جگہ، میں اِس وقت صرف ایک شہر کی مثال دوں گا، وہ ہے شہر لاھور جسے پاکستان کا دل بھی کہا جاتا ہے۔


میں نے لاہور شہر کے بارے میں کسی دور میں پڑھا تھا کہ پورے مال روڈ پر مسلمانوں کی صرف دو بلڈنگز تھیں، تقسیمِ ہند کے بعد جب ہندو آبادی شفٹ ہوئی تو پورا مال روڈ خالی ہوگیا تھا، جھوٹے کلیمز کی بندر بانٹ کے بعد آج مال روڈ ہی مسلمانوں کی ملکیت ہے، شاء عالمی مارکیٹ میں مسلمان تاجر نہ ہونے کے برابر تھے، آج شاہ عالمی مارکیٹ میں ارب پتی تاجر کاروبار کر رہے ہیں، اُن میں کثرت ایسے تاجروں کی ہے جن کے اجداد مارکیٹ میں محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالا کرتے تھے۔ آج اُنکی اولادیں ارب پتی ہیں، ہندو گیا تو تجارت کا میدان خالی، تجارت کے میدان میں کوئی مقابلہ نہیں، سکھ اور ہندو گئے تو لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین چھوڑ گئے، جعلی دستاویزات اور کلیمز سے جن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا وہ چودھری بن بیٹھے، یعنی پاکستان کا معرض وجود میں آنا اور "بلّی بھاگوں چھینکا ٹوٹا" والی بات ہوئی۔ ہندو سکھ گئے تو ہزاروں سرکاری ملازمتیں خالی تھیں، جنہوں نے کبھی کسی دفاتر کا منہ تک نہیں دیکھا تھا وہ سب کے سب اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہوئے اور اُنکے بعد اُنکی اولادیں بھی، میدانِ سیاست بلکل خالی، لوگ آگے بڑھے تو اقتدار کے ایوان اُنکے منتظر تھے، پھر بانی پاکستان کی ناگہانی وفات اور اُنکے دستِ راست لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ملک و قوم کے بہترین مفاد میں سیاست نہیں، آہستہ آہستہ خاندانی بادشاہت کا آغاز ہوا جو اب تک بھی جاری و ساری ہے۔ 


کون کہتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کچھ بھی نہیں دیا؟ جو کہتا ہے وہ کذاب ہے، ناشکرا ہے، اللّہ اور مُلک خدا داد کا شکر گزار نہیں۔


آئیں اب ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ ہم نے اس ملک کو کیا دیا؟ جھوٹ، فریب، دھوکہ اور جگہ جگہ دو نمبری؟ اِس یومِ آزادی پر ہم صرف اتنا ہی سوچ کر اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق جواب دیں کہ ہماری کثرت نے من حیث القوم ہر سطح پر ملک کو سوائے لوٹنے اور کھسوٹنے کے ارضِ پاک کو کچھ بھی نہ دینے کا اقرار ہی کر لیں تو 75ویں سالگرہ کا وطنِ عزیز کو دیا جانے والا سب سے بڑا تحفہ ھوگا۔


غلام محمد چوہان۔
12.08.2022.

منگل، 9 اگست، 2022

میدانِ حشر سب کے نامہ اعمال کا حساب, A Dream A Story

  #ماضیکےجھروکوں_سے۔

میدانِ حشر سب کے نامہ اعمال کا حساب

میرے آباء واجداد

میرے دوستو!


میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں اپنے آباء واجداد سے سنے ہوئے قصے کہانیاں آپ سب سے شیئر کرنا شروع کروں گا، سو آج میں آپکے ساتھ پہلی کہانی شیئر کر رہا ہوں۔ یہ کہانی یا روایت مُجھے میرے والدِ مرحوم نے سنائی تھی۔


میرے والدِ گرامی کورے ان پڑھ تھے، کہانی میں ممکن ہے آپکو چند ایسی باتیں بھی ملیں کہ آپ کہیں کہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، لیکن کہانی تو کہانی ہی ہوا کرتی ہے، یہی سمجھ کر اِس میں سے مثبت سوچ کے ساتھ خیر کا پہلو تلاش کرنا ہمارا کم ہے، قِصّہ گو کا نہیں۔


ایک دن والد صاحب نے مجھے کہا:- بیٹا!

روزِ قیامت برپا تھا، سب کے نامہ اعمال کا حساب ہو رہا تھا، اِس طرح کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی۔ حساب کتاب کے بعد کسی بندے کے گناہ اور ثواب برابر ہو گئے، بارگاہِ الٰہی سے ازن ہوا کہ اے میرے بندے، تمہارے گناہ و ثواب تو برابر ہیں، جاؤ اور کسی سے صرف ایک نیکی لے آؤ تو جنّت کا دروازہ تمہارے لئے کھلا ہے، جنّت میں داخل کر دیئے جاؤ گے۔


حکم سن کر وہ بندہ میدانِ حشر میں نکلا اور گھر کے افراد، دوست احباب یعنی سب سے کہا کہ مُجھے صرف ایک نیکی درکار ہے، کوئی دے سکتا ہے؟


سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی تھی، بھلا اُسکی کون سنتا، سب کا جواب نفی میں تھا۔ وہ شخص ایک نیکی کے حصول کیلئے ہر ایک شخص کی منّتیں کر رہا تھا، رو رو کر سب کے سامنے ہاتھ باندھ رہا تھا، مگر نیکی ندارد۔


اسی اثناء میں میدانِ حشر میں ایک سائڈ پر چُپ چاپ ایک شخص کھڑا ھوا تھا، اپنے نامہ اعمال پر شرمندہ بھی تھا، جب اس گنہگار شخص کی اُس حاجت مند بندے پر نظر پڑی تو اسکے پاس گیا اور پوچھا "میرے بھائی کیوں اتنے پریشان پھر رھے ھو، کیا مسئلہ درپیش ہے؟ ضرورت مند نے کہا میرے بھائی میرے گناہ اور ثواب کا حساب برابر ہے، مُجھے جنّت کے حصول کیلئے صرف ایک نیکی درکار ہے، اسی وجہ پریشان حال ہوں، سر گرداں ہوں، سب کی منّتیں کر رہا ہوں کہ کوئی مُجھے ایک نیکی دے دے تو میں جنّت میں داخل ہو سکتا ہوں۔ اس گنہگار شخص نے سوالی کا سوال سنا اور بولا " میرے بھائی میں تو گنہگار بندہ ہوں، میرا حساب ہونے کے بعد میرے سارے نامہ اعمال میں صرف ایک ہی نیکی ہے جو میرے دائیں ہاتھ میں پکڑا دی گئی ہے، بھائی میرے میں تو ویسے ہی دوزخی ہُوں، ایک نیکی مُجھے جہنّم کی آگ سے تو نہیں بچا سکتی، آپ مُجھ سے میری واحد نیکی لے لیں اور اپنا معاملہ سیدھا کریں۔ سوالی نے ہاتھ بڑھا کر اُس گنہگار شخص سے نیکی وصول کی اور شاداں و فرحاں جنّت کے دروازے کی طرف روانہ ہو گیا کہ داروغہ جنّت کو اپنا حساب دیکھا کر جنّت میں داخل ہو جاؤں۔


دوسری طرف اللّہ کی ذاتِ بابرکات سب کچھ دیکھ رہی تھی، جیسے ہی وہ حاجت مند ایک نیکی لے کر پہنچا تو مالک کائنات نے فوراً فرشتوں کو حکم دیا کہ فلاں بن فلاں جو کہ میدانِ حشر میں شرمندہ کھڑا ہوا ہے اُسے لے کر آؤ، حکم کی تعمیل ہوئی اور اس گنہگار کو بارگاہِ الٰہی میں لا کر پیش کر دیا۔ اللّہ ربّ العزت نے اُس گنہگار سے دریافت کیا کہ "اے میرے بندے کیا اِس حاجت مند کو تُونے اپنی ایک نیکی دی ہے؟ جواب ملا ہاں میرے اللّہ! میرے خالق و مالک میرے نامہ اعمال میں ایک ہی نیکی تھی باقی سارا گناہوں کا ڈھیر، میں نے اسے پریشان حال دیکھ اسے اپنا واحد اثاثہ ایک نیکی اِس کے حوالے کردی کہ میں تو جنّت میں جانے سے رہا، کم از کم یہ بندہ تو جنّت کا حقدار ہو، یہی سوچ کر میں نے اسے اپنی نیکی دے دی ہے۔


یہ بات سُن کر بارگاہِ الٰہی کی رحمت جوش میں آئی اور فرمایا اے میرے بندے تونے میرے ایک بندے پر رحم کھایا اُسے نیکی دی، سو میں اس ایک نیکی کے عوض تمہارے سارے گناہ معاف کرتا ہوں، اِس بندے سے پہلے تم جنّت میں داخل ہوگے بعد میں وہ، سو اللّہ کی رحمت کی وجہ سے دونوں ہی جنّت میں داخل ہوگئے۔


یہ کہانی سنا کر والدِ گرامی خاموش ہوگئے، اور ایک عجیب سی مسرّت کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھنے لگ گئے۔ میں کہانی کے شروعات میں ہی عرض کر چُکا کہ کہانی تو کہانی ہی ہوا کرتی ہے، اُس سے سبق حاصل کرنا ہی اصل کمال ہوا کرتا ہے۔


طالبِ دعاء:-

غلام محمد چوہان۔

09.08.2022

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...