#ماضی کےجھروکوں_سے
جوش و خروش کے ساتھ یومِ آزادی
ملک بھر میں پورے جوش و خروش کے ساتھ یومِ آزادی منانے کا اعلان مرحوم صدر ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں ہوا تھا، یہ 1981ء کی بات ھے۔ اُن دِنوں آج کی طرح بازاروں میں قومی پرچم دستیاب نہیں ہوا کرتے تھے۔ بنانے پڑتے تھے، یہ اعلان یومِ آزادی سے صرف 02 یا 03 دن پہلے ہوا تھا۔ درزیوں کے پاس بیشمار آرڈرز تھے کہ اُنہیں سر کھجانے تک کی بھی فرصت نہیں تھی، چناچہ مُجھ سمیت لوگوں کی بڑی تعداد میں ملکی قومی پرچم اپنے گھر میں ہی سی کر تیّار کر لئے تھے۔
بہرحال یومِ آزادی بھی آگیا سب نے اپنے اپنے گھروں اور دکانوں پر سبز و سفید پرچموں کی بہار لگائی ہوئی تھی، پرچم بلند کرنے کے لئے بانس کی پتلی چھڑیاں تک بھی نایاب ھو گئ تھیں۔
ہمارے شہر میں نارائن داس نامی ایک کھاد کے ڈیلر ھوا کرتے تھے اُنہوں نے بھی اپنی ایجنسی پر سبز ہلالی پرچم لگا رکھا تھا۔ میں بھی اتفاقاً گھومتے پھرتے اُس طرف جا نکلا، چچا نارائن داس بہت زندہ دل انسان تھے، میری ان سے آتے جاتے ملاقات ھوتی بھی رہتی تھی اور ہلکی پھلکی سی گپ شپ بھی۔ چاچے نارائن داس سے باتیں کرتے کرتے میری جھنڈے پر نظر پڑی تو دیکھا کہ جھنڈے کو فضا میں بلند کرنے کے لئے کوئی 03 انچ موٹا بانس لگایا گیا تھا، میں حیرت سے پوچھا، چچا آپ نے جھنڈے کے ساتھ ظلم کیا، اتنا موٹا بانس؟
ہنس کر بولے مُجھے بتائیں کہ جھنڈے میں کتنے رنگ ہیں؟ میں جواب دیا 02، ہرا اور سفید! پھر مسکرا کر گویا ہوئے، سبز رنگ کس کی علامت ہے؟ میرا جواب تھا اس ملک میں اکثریت کی یعنی مسلمانوں کی، پھر بولے سفید رنگ کس کی علامت ھے؟ میرا جواب تھا اقلیتوں کی، پھر بولے میں نے موٹا بانس کون سے حصّے میں ڈالا ہوا ہے؟ میرا جواب تھا سفید میں۔ ہنستے ہوئے بولے میں نے جو بھی کیا ہے اپنے حصّے میں کیا، آپکے سبز حصّے میں نہیں، اب لاجواب ہوکر چاچے نارائن داس کو دیکھنا میری مجبوری تھی، ہنس کر بولے پتلی لکڑی ملی نہیں، جو ملا سو لگا دیا، جھنڈا بھی تو لازمی لگانا تھا۔
غلام محمد چوہان۔
14.08.2022