بدھ، 27 مئی، 2020

Ashfaq Ahmed Khan say Aik Nishist, Aik Safar Aik Mulaqat

ماضی کے جھروکوں سے

اشفاق احمد خان سے ایک ملاقات


میرے دوستو!

یہ 1987 کے موسم بہار کا ذکر ہے، میرا اپنے دوست کے ساتھ لاھور کا پروگرام بنا۔

طاہر ادیب میرا اور ھمارا پیارا سا دوست، روانگی ہوئی، سانگھڑ سے نوابشاہ پھر ریل سے لاھور۔

وکٹوریہ ہوٹل شب بسری ہوئی، طاہر بھائی کو ھم اپنی تمام دوستوں کی "نانی امّاں" بھی کہ سکتے ھیں۔

رات ھوئ تو بات سے بات نکلی طاہر بھائی سے کہا  میں کہ اشفاق احمد خان سے ملنے کی خواہش لئے سانگھڑ سے چلا ھوں حسب عادت تھوڑا سا سوچا اور 
گویا ھوۓ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں دیکھتے ھیں۔ 

اس زمانے میں ملک میں PTCL کا راج تھا، اٹھے باہر نکلے  کاؤنٹر سے ایک کال کی اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگے، تیاری پھڑ بئی!

عرض کی بابا جی کہاں؟ یاد طاہر بھائی کو تب بھی بابا جی کہتا تھا، اب بھی کہتا ھوں۔

بولے اشفاق احمد صاحب کے ہاں۔

ابھی؟

جواب ملا نہیں کل صبح 10 بجے، یاد رہے کہ طاہر بھائی کی خان صاحب سے بھی یاد اللّه تھی۔

اچانک خوشی ملی،
رات بھر خوشی کے مارے نیند نہیں آئ، جیسے کہ صبح عید ھو۔

جلد ہی اٹھ گیا کہ جیسے سویا ھی نہیں، ناشتہ، آٹو رکشا اور کچھ دیر میں مرکزی اردو سائنس بورڈ لاھور۔
پرچی بھیجی فوری بلاوا آ گیا جیسے خان صاحب خود ھمارے ہی منتظر ھوں۔
 ۔۔۔
خان صاحب کے آفس میں داخل ھوۓ تو مطلوب طالب کے سامنے تھا، سرخ و سپیڈ چہرہ، سفید خشخشی سی داڑھی، نور سے بھاری ہوئی، ملیشیا کا جوڑا، سفید آف ویسٹ کوٹ۔

دیکھتے ہی مسکراتے ھوۓ ہاتھ پھیلائے اگے بڑھے جیسے ھم دونوں کو ہاتھوں ہاتھ لے رہے ھوں (سبحان اللّه )

سادہ سا دفتر سادہ ماحول، جیسے کسی معمولی سے افسر کا روم ھو کسی ڈائریکٹر جنرل کا نہیں۔ گلے ملے، بیٹھنے کو کہا۔
فون پر P.A سے کہا کہ کوئی ڈسٹرب نہ کرے میرے سندھ سے مہمان آئے ھیں، کوئی خاص فون آئے تو ملا دینا۔

خیرخیریت کے باد طاہر بھائی نے تعارف کروایا، میری حثیت ہی کیا تھی خان صاحب کے سامنے، حیرت سے فرمایا "اچھا جی" بہت خوشی ہوئی چوھان صاحب سے مل کر، یہ میرے بابا جی کی انکساری تھی۔

پھر کچھ ادھر ادھر کی، ھماری ھر بات کو اس طرح سے سن رہے تھے جیسے سب کچھ پہلی بار سن رہے ھوں، کمال حیرت کے ساتھ۔

خان صاحب تعارفی بات چیت میں اپنا لیول مہارت کے ساتھ ھمارے لیول کے برابر بلکہ اس سے بھی کہیں نیچے لا چکے تھے، جیسے ھم ہی سب کچھ ھوں خان صاحب کچھ بھی نہیں۔
یہ انکی فیاضی کی انتہاء تھی۔

بات سے بات چلی خان صاحب سنتے رہے خوش ھوتے رہے، یوں لگ رہا تھا جیسے عظیم بندہ خان صاحب نہیں ھم ھوں، ھمیں شرف ملاقات نہیں بخشا بلکہ ھم سے مل کر خوش ھو رہے ھوں، یہ بھی انکی کمال ظرفی ہی تھی۔

چائے آئ، پی تو گپ شپ کا نیا دور چلا،
طاہر بھائی نے کہا،
یار جو پوچھنا ہے خان صاحب سے پوچھو ناں؟

جھجکتے جھجگتے کچھ پوچھا تو جواب ملنا شروع ھوا،
یقین جانئے فضا میں پھول ہی پھول بکھر رہے تھے ایک انمول سی خوشبو کے احساس کے ساتھ۔

جاری ہے ۔۔

طالب دعا:-
غلام ۔محمد چوہان۔۔
 
September 28, 2018
ء

🎆🇵🇰❇️🎉🏝️🌌🕍🕋🕍🌌🏝️🎉❇️🇵🇰🎆🎆🇵🇰❇️🎉🏝️🌌🕍🕋🕍🌌🏝️🎉❇️🇵🇰🎆

جمعرات، 21 مئی، 2020

Sakhi Jaam Daatar Darbar Per Hazri Mannat

ماضی کے جھروکوں سے

 سخی جام داتار پر حاضری 


میرے دوستو!

ہر انسان کی زندگی میں کچھ ایسے واقعات و مشاہدات آتے ہیں کہ جن پر جتنا بھی سوچا یا غور کیا جائے انکی سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا ایسا ہونا بھی ممکن ہے، ایک ہی عجیب واقعہ آج یاد آگیا جو آپ سب کے ساتھ شرکرکے مجھے ایک طرح کی خوشی سی بھی محسوس ہو رہی ہے۔

ہمارے ہاں ایک نواحی چک سے ایک خاتون آیا کرتی تھیں، ہاجرہ نام تھا، کافی عمر رسیدہ بھی تھیں، ہم سب اسے مامی ہاجرہ کے نام سے جانتے تھے ( اب دنیا میں نہیں ہیں، اللہ اس مبارک ماہ اور رات کے صدقے اُسکی مغفرت فرمائے۔

ہمارے شہر سانگھڑ سے کچھ فاصلے پر ایک مزار تھا جو " سخی جام داتار" کے نام سے مشہور تھا، اب بھی ہے۔
میں ایک سے زائد بار حاضری کیلئے وہاں جا چکا ہوں، وہاں تک جانے کیلئے واحد ذریعہ " راجہ لائن" پر چلنے والی ٹرین تھی جو ہمیں وہاں تک پہنچاتی تھی، میرے جو سانگھڑ یا گرد و نواح کے دوست احباب ہیں وہ مذکورہ میٹر گیج کی پٹری پر پر چلنے والی ٹرین میں یقینی طور پر سفر اختیار کر چکے ہونگے، یہ چھوٹی لائن جودھ پور کے راجا نے غالباً اس علاقے کو راجستھان سے ملانے اور اس وقت کے حساب سے عوام کو 1921 میں ایک اچھی سفری سہولت بھی دی تھی۔

راجہ لائن سندھ کے مشہور شہروں حیدرآباد، میرپورخاص اور نواب شاہ کو براستہ کھو کھرا پار جودھپور اور جے پور سے ملاتی تھی اور قیام پاکستان سے پہلے اور تقسیم کے بعد یہی لائن علاقے کے لوگوں کے واحد سفری سہولت بھی تھی، اب تو روڈ بن چکے اور راجہ لائن ماضی کا حصّہ بن چکی۔

مذکورہ بالا ریلوے لائن کے میرپور خاص-نواب شاہ سیکشن پر چلنے والی سٹیم انجن سے چلنے والی ٹرین پر سوار ہوکر ہم لوگ جام صاحب جایا کرتے تھے، میرا مقصد حاضری کم اور دھواں اگلتی ہوئی ترین پر سفر کرکے محظوظ ہونا زیادہ ہوا کرتا تھا، حاضری میرے لئے ثانوی حیثیت رکھتی تھی کہ گئے تو حاضری بھی لگا دی اور ٹرین کے سفر کا لطف بھی اٹھا کیا یعنی "ایک لنتھ اور دو کاج"

جام صاحب جانے کیلئے ہمیں جھول (سانگھڑ سے 11 کلو میٹر) دوری پر ایک چھوٹا سا صاف ستھرا ہرا بھرا سے شہر کا سفر اختیار کرنا پڑتا تھا، یہی ہمارے شہر کے نزدیک ترین چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن تھا، سانگھڑ میں ریلوے اسٹیشن نہیں ہوا کرتا تھا، اب بھی نہیں ہے، ہمیں پنجاب کا سفر اختیار کرنے کیلئے سانگھڑ سے 62 کیلومیٹر کا سفر کرکے پہلے نواب شاہ جانا پڑتا ہے پھر جہاں جانا ہو ریل گاڑی۔

بات کی طوالت سے مزید بات نہیں کرتا اصل کہانی اور میرے مشاہدے کی طرف لوٹتا ہوں مَیں اس سارے واقعے کا چشم و دید گواہ بھی ھوں۔۔

مامی ہاجرہ گھر آئی اور اس نے خواہش ظاہر کی کہ میں نے بھی جام صاحب جانا ہی، جب بھی کوئی جائے مجھے کسی بھی طرح سے اطلاع کر دینا میں آجاؤں گی۔

نوچندی اتوار کو وہاں میلے کا سا سماں ہوتا تھا، دور دور سے لوگ حاضری اور زیارت کیلئے وہاں جایا کرتے تھے، اپنی مرادیں مانگا کرتے تھے، والدہ مرحومہ نے میری طرف اشارہ کرکے کہا کہ تیرا بھانجا تو جاتے گا بس نوچندی اتوار کو صبح صبح آ جانا اور حاضری دے آتا۔

مامی ہاجرہ کی کوئی اولادِ نرینہ نہیں تھی، بیٹیاں ہی بیٹیاں تھیں وہ بھی ایک دو نہیں ما شاء اللہ ڈھیر ساری، شاید عمر  کے اس حصے میں انکے دل میں بیٹے کی بھی کوئی خواہش موجود تھی۔

نوچندی اتوار کو میں ابھی سو کر اٹھا  بھی نہیں تھا کہ مامی ہاجرہ آ پہنچیں، میرے ساتھ جانے کیلئے کچھ اور خواتین اور کچھ اصحاب بھی زیارت کے لیے تیار تھے، ہم لاری اڈّے پہنچے، جھول سے جام صاحب کی ٹکٹ کی اور اٹکتی متکتی ٹرین میں عازم سفر ہوئے، ہماری منزل جام صاحب اسٹیشن تھی، جام صاحب اُترے تو ٹرین نواب شاہ روانہ ہو گئی۔

مزار شریف سے باہر قدیم قبرستان میں دو قبریں تھیں جن کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ دو شہیدوں کی قبریں ہیں، وہاں کے مقامی لوگوں اور عقیدت مندوں کا عقیدہ تھا کہ اگر کوئی انسان ان قبروں کے گرد سانس روک کر 07 چکّر لگا لے تو اسکی ہرطرح کی مراد پوری ہو جاتی ہے، برس ہا برس سے زائرین کے قبروں کے گرد چکر لگانے کی وجہ سے قبروں کے چاروں طرف ایک بیضوی سا دائرہ سا بن چکا تھا، مامی ہاجرہ نے وہاں پہنچ کر پہلے سخی جام ڈاتاد کے روضے پر حاضری دی، دعا مانگی اور پھر اپنی خواہش ظاہر کی کہ میں اپنی مراد حاصل کرنے کیلئے یہاں 07 چکر لگانا چاہتی ہوں، جب زائرین اور وہاں موجود فقراء اور درویشوں نے سنا تو حیران رہ گئے کہ یہ کوشش تو ہزاروں کر چکے کثرت نے ناکامی کا منہ دیکھا، یہ عمر رسیدہ عورت کیسے کرے گی۔

مامی ہاجرہ تو پختہ عزم کر چکی تھیں، جب مجاور نے اسکے کے مضبوط ارادے کو دیکھا تو اسے ویسا کرنے کی اجازت دیدی، مامی کی کو وضو کروایا گیا، درویشوں اور مجاور نے کامیابی کی دعا دی اور اس بلند ہمت کمزور سی خاتون نے سانس روک کر اپنے عمل کا آغاز کیا، خلقت دیکھنے کی تھی، 1,2,6,4,5,6 اور بلآخر 07 واں چکر بھی پورا ہوا، پھر آپ یقین جانئے کہ یُوں لگا کہ جیسے کسی انجانی قوت نے اسے زور سے کئی فیٹ دور اچھال دیا ہو، مامی ہاجرہ دور گر کر کافی دیر تک "مُرغ بسمل" کی طرح تڑپتی رہیں اور زائرین اور دیوانہ وار نعرے لگاتے رہے اور دھمال ڈالتے رہے، جب مامی ہاجرہ کے کچھ اوسان سنبھلے تو اسے وہاں موجود زائرین خواتین نے کامیابی پر مبارک باد دی اور پانی وغیرہ پلایا، یہ 1980-81 کی بات ہے۔

حاضری کے بعد واپس اسٹیشن پہنچے، وہی ٹرین نواب شاہ سے واپس آتی تھی، سوار ہوئے، جھول پھر شام کو سانگھڑ۔

آپ یقین جانئے دو ماہ بعد وہ بنجر زمین آباد اور بار آور ہوتی ہے، حاضری کے 10 ماہ بعد مامی ہاجرہ کی گود میں ایک چاند سا گول مٹول بیٹا موجود تھا، انہوں نے جب عقیقہ کیا تو ہم سب کو بلایا تھا، پھر بیٹا سوا ماہ کا ہوا تو مامی ہاجرہ نے پھر سے رخت سفر باندھا اور جام صاحب کیلئے اپنے نو مولود بچے کا اسلام کرانے سانگھڑ سے جام صاحب تک کا ننگے پاؤں عازم سفر ہوئیں، اب سفر کی قیادت مامی ہاجرہ کر رہی تھیں۔

دوستو!

میں مانتا ہوں کہ طواف صرف کعبہ کا ہی ہے، قبروں پر طواف از روۓ شریعت حرام ہے، منع ہے، لیکن!
جو سب کچھ میری ان گنہگار آنکھوں کے سامنے ہوا کیا وہ محض اتفاق تھا یا کوئی کرامت یا مامی ہاجرہ کا یقین کامل!

فقیر حقیر کو آپ سب کی قیمتی آراء کا شدّت سے انتظار ہے۔

طالب دعا:-
غلام محمد چوہان۔۔
27ویں شب رمضان کریم بمطابق 
May 20, 2020
ء

🎆🇵🇰❇️🎉🏝️🌌🕍🕋🕍🌌🏝️🎉❇️🇵🇰🎆🎆🇵🇰❇️🎉🏝️🌌🕍🕋🕍🌌🏝️🎉❇️🇵🇰🎆

اتوار، 17 مئی، 2020

Sanghar Ki Yaden, Khair Muhammad Anjum.Marhoom

میرے رفیق، میرے دوست.میرے محسن

 ماضی کے جھروکوں سے-یادِ رفتگاں

  

خیر محمد انجم  

خیر محمد انجم سے تعارف

ہر انسانوں کے دوستوں کے گروپ میں ہر بندے کی ایک دوسرے سے کوئی نہ کوئی خوبی یا ایک سے زائد خوبیاں یا خامیاں مشترک ہوا کرتی ہیں تو ہی دوستی قائم ہوتی ہے اور سب ایک سے زائد نہیں بلکل یک جان و دو قالب کی مثال بن جاتے ہیں۔ 
میری سانگھڑ کی سنگت جسے میں اپنی اس تحریر میں "منڈلی" ہی کہوں گا، ہماری منڈلی میں بہت سے نام تھے جن کے مل جانے کے بعد میری سانگھڑ کی منڈلی ایک خوبصورت گلدستے میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ ہر ایک کا الگ الگ ذکر کروں تو میرے سانگھڑ سندھ پاکستان کے دوستوں کے گل دستے کے پھولوں کی فہرست بہت طویل ہوتی چلی جائے گی، میں انشاء اللہ اس گل دستے کے تمام پھولوں کا فرداً فرداً ذکر بھی کروں گا سب سے آپ دوستوں کو متعارف بھی ضرور کرواؤں گا۔
 
ان شاء اللہ! 
کچھ مجھ بچھڑ گئے،  کچھ سے میں بچھڑ گیا، جو بقید حیات ہیں ان کا اور جو پھول ہمیشہ سے بچھڑ کر پیوند خاک ہوئے اُنکا کا بھی، جو ہیں اللہ انکو عمر خضر عطا فرمائے اور جو اب نہیں ہیں اللہ رب العزت اُن سب کی مغفرت فرمائے، اُن سب کی روح کو سکون بخشے۔

آج میں اپنی اس" منڈلی ' کے دوسرے سینئر رکن خیر محمد انجم کا آپ سب دوستوں کے تعارف کروانے کی حقیر سی جسارت کر رہا ہوں، ہمارے گروپ کے سنئیر ممبر کا نام محمد اسمٰعیل احمدانی صاحب تھا،  آپ پیشے کے اعتبار سے سانگھڑ کے معروف وکیل تھے، اگر اُنکا ذکر کرنا چاہوں تو میرے پاس ذخیرہء الفاظ کم پڑتا چلا جائے گا، احمدانی صاحب پاکستان سرائیکی سنگت کے روح رواں اور اسکی بنیاد رکھنے والے افراد میں سے تھے، وہ بہت ھی مہذب شفیق، ملنسار اور علم و ادب دوست انسان تھے، اب ہم میں نہیں رہے، اللہ انکی مغفرت فرمائے انکی روح کو سکون بخشے۔

وکیل صاحب کے بعد ہم سب کے دوست، بھائی، کرم فرما اور ہر معاملے میں ہم سب کی رہنمائی کرنے والے انجم صاحب  تھے۔ مجھ سے بے ادب سے بندے کا خیر محمد انجم صاحب سے میرے بہت ہی پیارے دوست اور بھائی اکبر معصوم صاحب کے توسط سے تعارف ہوا جو خود بھی کمال شخصیت کے حامل ہر فن مولا انسان تھے، گھڑی سازی، شاعری، مصوری، خطاطی پھر Homoeopathic Doctor بنے، الغرض جس فیلڈ میں بھی قدم رکھا اس میں عروج حاصل کرکے پاکستان بھر میں نام و عزت کمائ، اب دنیا میں نہیں ہیں، بخدا مرحوم لکھتا ھوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
"زمیں کھا گئی آسمان کیسے کیسے"

میرا علم و ادب سے تو کوئی براہ راست تعلق تو تھا نہیں، بس اکبر معصوم کے پاس شام کو جا بیٹھتا تھا، اخبار دیکھنی، گپ شپ چائے پینی اور بس۔
وہاں ہی میری سانگھڑ کے نامور اور نابغہء روزگار افراد سے تعارف کا سلسلہ شروع ہوا، ایک دن میں اکبر بھائی کے پاس بیٹھے ہوا تھا تو کہنے لگے "یار کیا آپ آج میرے ساتھ ڈاکخانے چلو گے؟
میں نے کہا کاھے کو؟ تو گویا ھوئے ایسے ہی، پھر گویا ہوئے شام کو " بھائ خیر محمد انجم " کے پاس جانا ہے، میں نے پھر استفسار کیا کہ یہ خیر محمد انجم کون ہیں؟  ایک گھڑی کی سروس فائنل کرتے ہوئے اکبر بھائی نے جواب دیا کہ جاکر خود دیکھ لینا کہ کیسے، کوں اور کیا ہیں، میں نے کہا ٹھیک ہے۔

ہم سب دوست اکثر اکبر معصوم کے دردولت پر ہی اکثر شام کو اکٹھے ہوا کرتے تھے، یہ غالباً کوئی 1985ء کی بات ھے، شام کو اکبر بھائی کے ہاں پہنچا تو وہاں دیگر احباب بھی جمع ہو چکے تھے، پھر ہم سب خراماں خراماں شہدادپور روڈ لیتے ہوئے پوسٹ آفس پہنچے تو انجم صاحب کو خندہ پیشانی کے ساتھ منتظر پایا۔

ہاں بھئی آ گئے؟
 یہ بھائی خیر محمد صاحب کے پہلے الفاظ تھے جن سے میرے کان آشنا ہوئے، شلوار قمیض میں ملبوس، ہاتھ میں کیپسٹن سگریٹ اور کلّے میں ڈبل کٹھہ ظہور راجہ جانی پٹی والا پان، مکمل مشفق اور روایتی مشرقی شخصیت میرے سامنے تھی۔

ڈاکخانے کے چوکیدار "مامے"  نے ( جو کہ بندوق کو نہیں بلکہ بندوق ہمہ وقت موصوف کو سنبھال رہی تھی) 
خیر محمد انجم صاحب کے اردلی کے ساتھ مل کر میدان میں کرسیاں جما رکھی تھیں، جہاں ہم سب براجمان ہوئے۔

 سندھ کی روایت کے مطابق خیر خیریت پوچھنے کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا، انجم صاحب نے پان تھوکا اور دوستوں کے ساتھ شامل گفتگو ہوئے، میں سدا کا خاموش طبع اُن میں کیا بات کرتا، گلوری چباتے ہوئے تھوڑا سا منہ اُوپر کرکے کہ پان ضائع نہ ہو میرا پوچھا کہ " یہ صاحب کوں ہیں؟ اکبر نے جواب دیا کہ یہ غلام محمد ہیں میرے دوست، مزید اگر مجھ میں کوئی "گن" ہوتا تو بتاتے، میری طرف شفقت سے دیکھا ذرا سا مسکراتے اور میں ان کے تئیں انکی محفل اور حلقہء احباب کا رکن تسلیم کر لیا گیا تھا، یہ فیاضی تھی انجم صاحب کی کہ پتھر کی ہیروں سے کیا نسبت، اسی اثناء میں چائے آ چکی تھی اور ساتھ ہی ساتھ انکا اردلی ہاتھ میں ڈاک لیکر جانے والے موٹے اور مضبوط تھیلے بھی، ۔میں نے حیرانگی سے اکبر کی طرف دیکھا کہ انکا مصرف؟
اکبر بھائی ہلکا سا مسکرائے اور کہنے لگے دونوں ٹانگوں پر چڑھا لو کہ سانگھڑ کے جغادری مچھروں سے بچاؤ ہو، میں نے کہا یہ تو بہت موٹے ہیں، اکبر کے بولنے سے پہلے ہی انجم صاحب نے خشمگیں نگاہوں سے مجھے دیکھا جیسے کہہ رہے هوں " پہن لو ورنہ پہنا دیئے جائیں گے" تھیلا پہن لیا گیا، چائے کے بعد گپ شپ کی دوسری نشست شروع ہو چکی تھی اور میری مسلسل خاموشی بھی، یہ میری انجم صاحب سے پہلی ملاقات تھی جو بعد میں معمول کا حصّہ بن گئی۔

خیر محمد صاحب قدیم اساتذہ کرام کی طرز پر بہُت عمدہ شاعری بھی کیا کرتے تھے، پھر دوستوں کی فرمائش پر جدید غزل گوئی کی تو کمال غزلیں لکھ کر دوستوں سے داد پائی، آپ تحت الفظ اور کبھی کبھار ہم دوستوں کے اسرار اور ترنّم سے بھی اپنا کلام سنایا کرتے تھے۔

مشاعرے میں اگر کسی دوست کا کوئی شعر پسند آ جاتا تھا تو بے ساختہ  کہ دیا کرتے " اماں! کیا کہہ رہے ہو بھائی؟" شاعر کو سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ سننے والے کی طرف سے داد مل رہی ہے یا ڈانٹ پڑی ہے۔

میرے شفیق دوست، میرے بھائی خیر محمد صرف دوست ہی نہیں بلکہ ہر طرح سے ہم سب کے دکھ اور سکھ کے ساتھی بھی بھی تھے، دامے، درمے، سخنے میں نے کبھی بھی دوستوں سے پیچھے ہٹتے  نہیں پایا تھا۔

اب ہر شام ڈاکخانے کے نام ہوا کرتی تھی، محفلِ مشاعرہ ہو یا عید شبرات کا تہوار پر دوستوں کے باہمی مل بیٹھنے کی کوئی تقریب، اُسکے روح رواں اور میزبان اکد انجم صاحب ہی ہوا کرتے تھے، یہاں تک کہ سانگھڑ کے مشہور کلاسیکل گائگ "استاد گلزار علی خان" کے ساتھ ایک شام بھی بھائی خیر محمد انجم نے ہی ادیںچ کی  کی تھی۔

انجم صاحب کی ایک عادت جو ہمیں بہت پسند تھی وہ یہ کہ اکیلے کھانا کھانا پسند نہیں کرتے تھے، منتظر رہتے تھے کہ کوئی مہمان یا دوست آئے تو اس کے ساتھ مل کر کھانا کھائیں، اس وجہ سے انہیں اکثر اوقات اتنی لیٹ ہوجاتا کرتی تھی کہ دوپہر کا کھانا رات کو کھاتے تھے، کہا کرتے تھے کہ جب کوئی ساتھ کھانے والا نہ ہو "کھانے کا لطف ہی نہیں آتا" اپنے اسٹاف کیساتھ بہت ہی مشفقانہ رویہ رکھتے تھے۔

انکے ہاں صبح کے ناشتے میں قیمہ پراٹھے بہت لذیذ بنا کرتےتھے اور اکثر ہمیں صبح ناشتے کیلئے دعوت ملتی ہی رہتی تھی، یا کبھی احباب کا جی چاہنا تو فرمائش کا فوری طور پر پورا کرنے کیلئے فوری رضا ماند اور یہ کہ جو دوست نہیں ہیں اُن سب کو بھی آگاہ کر دینا کہ کل صبح کا ناشتہ ڈاکخانے میں کریں، فرمائش پوری کرتے ہوئے کبھی بھی انکے ماتھے اور شکن تک نہیں دیکھی تھی، اسی طرح کسی بھی تہوار پر بیٹھنے کا ہر بہانہ خود تلاش کرتے اور احباب کی خدمات کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں گنواتے تھے، گویا اُنکے کیلئے كار ثواب عظیم ہو۔ آپ سانگھڑ پوسٹ آفس میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ تھے۔
سانگھڑ سے اگلے عہدے پر ترقی پاکر میر پور خاص گئے، وہاں بھی ہم سب کا آنا جانا لگا ہی رہتا تھا۔

میرپورخاص میں دوران ملازمت حالات سازگار نہ ہونے کی بنا پر اس محب وطن پاکستانی، اقبال کے شاہین اور ہر بندے کے ساتھ محبت، عزت اور خلوص کے ساتھ چلنے والے آفیسر نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ حاصل کرکے ثابت کر دیا کہ "دنیا تیرے معیار کے قبل نہیں ہوں مَیں"

میرا چونکہ اُنکے ہاں ادبی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح کا حصّہ نہیں ہوا کرتا تھا، صرف سنتا تھا، اکثر مجھ سے کوئی نہ کوئی احمقانہ حرکات سرزد ھو ھی جاتا کرتی تھی، خوب دانت ڈپٹ پڑتی تھی، جسکا سلسلہ ہنوز جاری ہے، اب بھی کبھی فیس بک پر میری کوئی پوسٹ یا کمنٹس نا پسند لگے تو ڈانٹ موصول ہو جاتی ہے جو کہ میرے لئے سرمایہء صد افتخار ہے۔ 

احقر العباد:-
غلام محمد چوہان
May 16, 2020. 


🎆🇵🇰❇️🎉🏝️🌌🕍🕋🕍🌌🏝️🎉❇️🇵🇰🎆🎆🇵🇰❇️🎉🏝️🌌🕍🕋🕍🌌🏝️🎉❇️🇵🇰🎆

Mera Ideal Apni Duty ka Aik Paband Shakhs, Bachpan ki Aik Yaad

ماضی کے جھروکوں سے

 بچپن میں میرا آئیڈیل ۔ اپنی دھن میں مگن ڈیوٹی کا پابند

ہمارے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر  گلی کی نکڑ پر مونسپالتی کی طرف سے ایک بڑا سا لیمپ لگا ہوا کرتا تھا جو ہمارے محلے میں رات کو روشنی کا واحد ذریعہ ہوا کرتا تھا۔ روز شام کو چترو نامی بندہ آیا کرتا تھا، میلی کیچت پینٹ اور اُوپر ویسی ہی شرٹ جسے شاید دوسرا سوٹ لیتے وقت ہی چترو وہ سوٹ ضائع کرتا ہوگا، ویسے ہی میل اؤر تیل سے اتے بال کہ شاید مُدّتوں سے کبھی نہایا تک نہ ھو۔ 

ایک ہاتھ میں مٹی کے تیل کا کپّہ، دوسرے میں ایک میل اور تیل آلودہ چھوٹی سی سیڑھی جسے وہ دیوار سے لگا کر پورے انہماک سے لیپ کے شیشے صاف کرنا،، اُسکی بتی کو تھوڑا سا باہر نکل کر اس لیمپ میں اندازے سے اتنا ہی مٹی کا تیل ڈالنا کہ فجر تک لیمپ جلتا رہے، صفائی کے ساتھ ساتھ بیڑی کے کش اور ساتھ ھی گچراتی بولی میں کچھ زیر لب گنگناتے بھی رہنا، جسے میں سمجھنے کی کوشش کے باوجود بھی نہیں سمجھ پتہ تھا، پھر دیا سلائی دکھا کر اسے روشن کرنا، میں شام کو اکثر " چترو" کا انتظار کیا کرتا تھا، اسے  آنے والے گھپ اندھیرے میں معمولی سی روشنی بکھیرتے میں سوچا کرتا تھا کہ میں بھی بڑا ہو کر "چترو" ہی بنوں گا، مجھے اس بات کا اقرار کرنے میں کسی بھی طرح کی کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ "چترو بھنگی" میرا بچپن کا آئیڈیل تھا جو کہ نہ صرف اپنی ڈیوٹی کاپابند بلکہ اپنی دنیا میں مگن لوگوں کیلیئے رات کے اندھیرے میں اُجالا کرتاتھا۔

پتہ نہیں میں کبھی اس جیسا بڑا آدمی بن بھی پاؤں گا کہ نہیں؟

احقر العباد:-
غلام محمد چوہان۔
May 08, 2020


Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...