صدائے درویش
"ملکی سرکردہ اداروں کے سربراہان، تمام سیاستدانوں، مذہبی اور لسانی قیادت اور صحافیوں کے نام کھلا پیغام"
خدا کیلئے موجودہ ملکی حالات کو دیکھیں، ملک دشمنوں کے عزائم کو سمجھیں پھر کچھ لکھیں اور بولیں تو بہتر ہے، سب سے پہلے پاکستان کی سلامتی پھر آپکے کالم اور سیاستدانوں کی تقاریر وغیرہ بھی سن لیں گے، سیاسی، مذہبی اور فوجی قیادت کے لئے ضروری ہے کہ وہ ملکی اور قومی سلامتی کو ہر حال میں مُقدم رکھیں، یقینی بنائیں، جرنلسٹ حضرات بھی اس بات کو اپنی پہلی ترجیح سمجھیں تو بہتر ہے، ورنہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حالات ہم سب کے سامنے ہیں۔
بیشک عمران خان عوام سے کئے ہوئے کسی بھی وعدے پر پورا نہیں اترا، حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں ہی اپنے قومی فریضے کو سمجھیں، ضد، اقتدار اور انا پرستی کسی بھی طرح سے پاکستان اور پاکستانی عوام کے حق میں بہتر نہیں۔ نہ ہی کبھی رہی ہے، سانحہء مشرقی پاکستان مثال ہے۔
پاکستان ہی پہلی اور آخری ترجیح ہونی چاہیے اقتدار کی کرسی نہیں، صحافت بھی ہوتی رہے گی لیکن سب سے پہلی ملک اور ملکی سلامتی، ورنہ سب کے سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے، بھارت کی آئے دن ملنے والی دھمکیوں اور اسکے مکروہ عزائم سے عام پاکستانی اور لیڈرشپ کو ہمہ وقت آگاہی دیتے رہیں کہ کچھ گروہ کیوں بھارت اور اسرائیل کے آلہء کار بن کر ملک میں انارکی پھیلا رھے ھیں۔ صحافی کا یہ سب سے ترجیحی ٹاسک ہونا چاہئے، یہی قلم کی عصمت ہے ورنہ سب کچھ ایک دھوکے کے سواء کچھ بھی نہیں۔
ہم آہستہ آہستہ جس طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں "قلم قبیلے" کا اوّلین فرض ہے کہ عام آدمی اور اہلیانِ سیاست اور مختلف اداروں کی توجہ اس طرف دلاتے چکے جائیں، ورنہ خاکم بدہن "نہ رہے گا بانس اور نہ رہے گی بانسری" مجھ جیسے کم فہم کو اگر اس بات کا ادراک ہے، وطنِ عزیز کی سلامتی کی فکر دامن گیر ہے تو اسی طرح سے اہلِ قلم اور صحافی حضرات کو ہونی چاہئے۔
آج کے پشاور بم دھماکے اور آئے دن الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر انڈین چیلنجز کو سامنے رکھ کر تمام پاکستانی صحافی برادری اور الیکٹرانک/ پرنٹ میڈیا اپنا اپنا کردار ادا کریں کیونکہ عوام کی کثرت انکو ہی سنتی اور "follow" بھی کرتی ہے، یہی وقت کی ضرورت ہے، آج ہی، کل کس نے دیکھا یا دیکھنا ہے۔
اللہ وطن عزیز کی حفاظت اور سلامتی کی خاطر ہر شعبہ زندگی کے فرد، افراد اور گروہوں کو توفیق بخشے کہ ہم متحد اور یکجاء و یک جان ھو جائیں، ایک قوم ہو کر وطن عزیز کی سلامتی کیلئے "اللہ اکبر" کہہ کر اٹھ کھڑے ہوں۔ اللہ ساتھ دینے والا ہے اور ان شاء اللہ ضرور دیگا۔
اکیلی افواج ہی نہیں، اقوام بھی جنگیں لڑا کرتی ہیں، متحد اور یکجاء ھوکر، قومی سلامتی کے ذمّے دار اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ھو کر، جنگِ 1965ء اس کی بہترین مثال ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ نے جو ہمیں "اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم" کی تین تلواریں عطا کی تھیں انہیں استعمال کرنے کا اس سے بہترین وقت اور موقع کبھی بھی نہیں آتے گا، آئیں آگے بڑھیں اور اپنے اپنے حصّے کا فرض آج ہی ادا کرنا شروع ہو جائیں، آج نہیں تو کبھی بھی نہیں کی بنیاد پر۔
طالب دعا:-
آپ سب کا:-
غلام محمد چوہان۔
24.10.2020.