جمعہ، 30 اکتوبر، 2020

Aik Khula Pegham Subkay Naam

 صدائے درویش 


"ملکی سرکردہ اداروں کے سربراہان، تمام سیاستدانوں، مذہبی اور لسانی قیادت اور صحافیوں کے نام کھلا پیغام"


خدا کیلئے موجودہ ملکی حالات کو دیکھیں، ملک دشمنوں کے عزائم کو سمجھیں پھر کچھ لکھیں اور بولیں تو بہتر ہے، سب سے پہلے پاکستان کی سلامتی پھر آپکے کالم اور سیاستدانوں کی تقاریر وغیرہ بھی سن لیں گے، سیاسی، مذہبی اور فوجی قیادت کے لئے ضروری ہے کہ وہ ملکی اور قومی سلامتی کو ہر حال میں مُقدم رکھیں، یقینی بنائیں، جرنلسٹ حضرات بھی اس بات کو اپنی پہلی ترجیح سمجھیں تو بہتر ہے، ورنہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حالات ہم سب کے سامنے ہیں۔


بیشک عمران خان عوام سے کئے ہوئے کسی بھی وعدے پر پورا نہیں اترا، حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں ہی اپنے قومی فریضے کو سمجھیں، ضد، اقتدار اور انا پرستی کسی بھی طرح سے پاکستان اور پاکستانی عوام کے حق میں بہتر نہیں۔ نہ ہی کبھی رہی ہے، سانحہء مشرقی پاکستان مثال ہے۔

پاکستان ہی پہلی اور آخری ترجیح ہونی چاہیے اقتدار کی کرسی نہیں، صحافت بھی ہوتی رہے گی لیکن سب سے پہلی ملک اور ملکی سلامتی، ورنہ سب کے سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے، بھارت کی آئے دن ملنے والی دھمکیوں اور اسکے مکروہ عزائم سے عام پاکستانی اور لیڈرشپ کو ہمہ وقت آگاہی دیتے رہیں کہ کچھ گروہ کیوں بھارت اور اسرائیل کے آلہء کار بن کر ملک میں انارکی پھیلا رھے ھیں۔ صحافی کا یہ سب سے ترجیحی ٹاسک ہونا چاہئے، یہی قلم کی عصمت ہے ورنہ سب کچھ ایک دھوکے کے سواء کچھ بھی نہیں۔


ہم آہستہ آہستہ جس طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں "قلم قبیلے" کا اوّلین فرض ہے کہ عام آدمی اور اہلیانِ سیاست اور مختلف اداروں کی توجہ اس طرف دلاتے چکے جائیں، ورنہ خاکم بدہن "نہ رہے گا بانس اور نہ رہے گی بانسری" مجھ جیسے کم فہم کو اگر اس بات کا ادراک ہے، وطنِ عزیز کی سلامتی کی فکر دامن گیر ہے تو اسی طرح سے اہلِ قلم اور صحافی حضرات کو ہونی چاہئے۔


آج کے پشاور بم دھماکے اور آئے دن الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر انڈین چیلنجز کو سامنے رکھ کر تمام پاکستانی صحافی برادری اور الیکٹرانک/ پرنٹ میڈیا اپنا اپنا کردار ادا کریں کیونکہ عوام کی کثرت انکو ہی سنتی اور "follow" بھی کرتی ہے، یہی وقت کی ضرورت ہے، آج ہی، کل کس نے دیکھا یا دیکھنا ہے۔


اللہ وطن عزیز کی حفاظت اور سلامتی کی خاطر ہر شعبہ زندگی کے فرد، افراد اور گروہوں کو توفیق بخشے کہ ہم متحد اور یکجاء و یک جان ھو جائیں، ایک قوم ہو کر وطن عزیز کی سلامتی کیلئے "اللہ اکبر" کہہ کر اٹھ کھڑے ہوں۔ اللہ ساتھ دینے والا ہے اور ان شاء اللہ ضرور دیگا۔


اکیلی افواج ہی نہیں، اقوام بھی جنگیں لڑا کرتی ہیں، متحد اور یکجاء ھوکر، قومی سلامتی کے ذمّے دار اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ھو کر، جنگِ 1965ء اس کی بہترین مثال ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ نے جو ہمیں "اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم" کی تین تلواریں عطا کی تھیں انہیں استعمال کرنے کا اس سے بہترین وقت اور موقع کبھی بھی نہیں آتے گا، آئیں آگے بڑھیں اور اپنے اپنے حصّے کا فرض آج ہی ادا کرنا شروع ہو جائیں، آج نہیں تو کبھی بھی نہیں کی بنیاد پر۔


طالب دعا:-


آپ سب کا:-

غلام محمد چوہان۔

24.10.2020.

جمعرات، 29 اکتوبر، 2020

Hazrat Eesa A.S. Ki Haysiat wa Muqam

صدائے درویش 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حثیت و مقام

میرے دوستو!

عیسائیوں کی نظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حثیت و مقام کیا ہے، آپ انکی کتب کا مطالعہ کرکے دیکھیں۔ جو اپنے نبی کی عزت و احترام نہیں کرتے وہ ہمارے آقا علیہ السلام کی کیوں کر کریں گے۔

 کسی زمانے میں ایک انگلش فلم دیکھی تھی اس میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کا کردار بھی تھا، فلم کے مطابق آپ نیو یارک کی گلیوں میں بھوکے پیاسے پھر رھے ھوتے ھیں، اس کردار کے مطابق وہاں کے لوگ آپکو پہچانتے تک بھی نہیں، فلم کے سین کے مطابق جب آپ بھوک و پیاس سے بے تاب ہو کر ایک گھر کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں تو ان پر ترس کھا کر ایک "سیاہ فام" عورت انکو کھانے کا ایک ڈبّہ دیتی ھے جس نعوز باللہ "ڈاگ فوڈ" لکھا ہوا تھا۔

 

عیسائی ممالک اور یہودیت کو اسلام سے نفرت ہے، اور آپ علیہ السلام کی ذاتِ با برکت سے بھی۔


کیوں ہے؟ 


آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) دنیا میں آخری نبی کی حثیت سے تشریف لا کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو اللہ کے حکم سے منسوخ فرماتے ہیں ، ہر الہامی مذہب میں شریعت کا یہی اصول ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اسلام صرف مقامی کفر اور بت پرستوں کو ہی نہیں بلکہ یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت کی تعلیمات کو بھی کو چیلنج کرتا ہے، خدا کی وحدانیت کی پرچار کرتا ہے، عیسائیت کے بنیادی عقیدے  "تثلیت" کی بلکل نفی کرتا ہے، اللہ کے "وحدہٗ لاشریک" ہونے کی تعلیم دیتا ھے، یہودیت کو چیلج کرکے تمام انسانوں اور انسانیت کے مساوی ہونے کا کھلا اعلان کرتا ہے۔ آپ تاریخ کا مطالعہ کریں کہ قصور ہمارا بھی ہے، ہم  انکو اسلام کا صحیح چہرہ دِکھا ہی نہیں سکے، اسلام سلامتی اور شخصی آزادی کا نام ہے، آزادی لیکن اخلاقی حدود و قیود کیساتھ۔ اسلام ہی سب سے پہلے انسانوں کے حقوق متعین کرتا ہے، پڑوسیوں، بیویوں، خواتین حتٰی کہ غلاموں تک کے بھی، محمد الرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) دنیا کو "قرآن حکیم" کی صورت میں پہلا مربوط قانون اور زندگی گزارنے کے جملہ طریقے بھی بتاتا ہے، آپ سب دوست نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) کا آخری خطبہء حج ملاحظہ فرمائیں، دنیا بھر کے انسانی حقوق پر بھاری ہے۔ آپ علیہ السلام اللہ کے آخری نبی کے طور اگر اللہ کی وحدانیت کو اوّلین ترجیح سمجھتے ہیں اور اللہ تعالی بھی اُنکے مقام کو اتنا بلند کرتے ہیں کہ جو مقام و مرتبہ کسی نبی کو اس سے پیشتر ملا ہی نہیں تھا۔


آپ ہالینڈ میں "صوفی تحریک" کا مطالعہ کریں، "شہاب نامہ" میں اس تحریک کا مفصّل احوال موجود ہے۔ پورا ویسٹ اسلام فوبیا کا شکار ہے، انکو خدشہ ہے کہ اسلام کہیں مغرب کا سب سے بڑا مذہب نہ ثابت ہو، ہو بھی سکتا ہے اگر ہم اپنے اخلاق و کردار سے خود کو مومن ثابت کر سکیں تو، یہی وہ نکتہ ہے جسے ہم مسلمان دنیا بھر میں خود کو مومن ثابت کرنے میں ناکام ہیں۔


اسلام میں جبر بلکل بھی نہیں ہے، بدقستمی سے ہم مسلمانوں کے دنیا بھر کو اسلام کا ایک ہی رخ دکھایا ہے، جبر جبر اور جبر، جبکہ اسلامی تعلیمات میں تو جبر تم کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔


جہاد تو آخری حربہ ہے، دعوتِ اسلام، جزيہ اور اسلام کی "سپرامیسی" اور اللہ تعالی کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کرو، مملکت کی اطاعت کرو، مملکتِ اسلامیہ "ذمیوں" کی جان، مال و عزت آبرو کی حفاظت کرے گی، اگر یہ نہیں منظور تو لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔


یہی اسلام اور اسلام کا پیغام ہے، اسلام کی اصل روح وحدانیت ہے اور وحدانیت کی روح حُب رسولِ مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو کبھی بھی اللہ رب العزت اور اسکے فرشتے آپ علیہ السلام پر درود و سلام نہ بھیجتے آور مومنین کو بھی اس صالح عمل کی تلقین مت کرتے۔


حُب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) ہی مومن کی میراث ہے، نشانی ہے، جسے کبھی ہم خود اور دنیا بھر کی شیطانی طاقتیں ہمارے دلوں سے نکال دینے پر ہمہ وقت مصروف عمل ہیں، خاکے بنا کر تو اسلام دشمن صرف اپنی اب تک کی کامیابی یا ناکامی کا گراف چیک کرتے رہتے ہیں۔

علامہ اقبال ؒ نے جوابِ شکوہ میں کیا خوب فرمایا ھے:

کی محمد سے وفا تو نے تو ھم تیرَے ھیں
یہ جہاں چیز ھے کیا لوحُ قلم تیرَ ھیں

عشقِ محمدی (صلی اللہ علیہ و آلہِ و اصحابہِ و بارک و سلم) ھی سب کچھ ھے۔ 

آپ سب کا:-


غلام محمد چوہان۔

28.10.2020

جمعہ، 23 اکتوبر، 2020

Khususi Duaon Ka Ehtemam Karen

  صدائے درویش 

خصوصی دعاوں کا اھتِمام کریں

"ہائی بریڈ وار" کی شکل میں سوشل اور الیکٹرانک میڈیا میں منفی قیاس آرائیاں، پروپیگنڈہ اور افواہیں عروج پر ہیں، پاکستانی عوام کو مایوسی اور بلآخر خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ نمازِ جمعہ کے بعد ملکی سلامتی و بقاء کیلئے خصوصی دعائیں کریں۔


ملکی سلامتی کے ادارے فوری نوٹس لیں، ورنہ دیر ہو جاتے گی، یہی وقت ہے ملک کی سلامتی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے، آئین و قانون کے تحت ملے ہوئے اختیارات کو بروئے کار لایا جائے، غیر یقینی کی صورت حال سے ملک کو نکلا جائے۔ ملکی عزت، آزادی، بقاء اور وقار کو ہر قیمت پر بحال کیا جائے تاکہ عام پاکستانی اس گاؤں مگوں کیفیت سے باہر نکل سکے۔


سپریم کورٹ سے اپیل ہے کہ وہ سوشل، الیٹرانک، اور پرنٹ میڈیا پر وفاق اور صوبوں یا اداروں کے ٹکراؤ کی جو کہانیاں، تبصرے اور منفی قیاس آرائیاں چل رہی ہیں اس پر ریاست کی بقاء اور سلامتی کیلئے آئین و قانون سے ملے ہوئے اختیارات کا استعمال کرے، ملک ہے تو سب کچھ ہے، ورنہ کچھ بھی نہیں۔


جی۔ایم چوہان

23.10.2902

منگل، 20 اکتوبر، 2020

Doure Hazir k Askari Taqazy Aur Ham

 صدائے درویش


"حالاتِ حاضرہ، عصری تقاضے اور ہم"


ہمارے لبرل لوگ اور مذہبی عناصر اس ساری بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جن " مسنگ پرسنس" یا دیگر امور کو issue بنا کر یہ سب احتجاج کرتے ہیں، سڑکوں پر نکلتے ہیں، یا حقوقِ نسواں اور شخصی آزادی کے نام یا مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت اور انتشار پھیلاتے ہیں انکا اصل ہدف یا اہداف ہیں کیا، وطنِ عزیز کو غیر مستحکم کرنا، فرض کریں ہم "گمشدہ افراد" کی بازیابی کو ھی لیتے ھیں۔ ہو سکتا ہے کچھ افراد انٹی اسٹیٹ ایکٹیویٹیز کی وجہ سے کسی ادارے کی تحویل میں ھوں، باقی ماندہ ایران، افغانستان اور بھارت میں ہیں جہاں انکو ملک دشمن کارروائیوں میں حصّہ لینے کیلئے بھرپور تربیت دی جاتی ہے، پھر وہ پاکستان میں داخل ہوکر اپنے دیئے گئے اہداف کو نشانہ بناتے ہیں، اب آزادیء نسواں کی بات تو اسکی آڑ میں جو معاشرے میں گند پھیلایا جا رہا ہے یا تحریر و تقریر کی آڑ میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے جو زہر پھیلایا جا رہا ہے وہ بھی اب سب پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے۔


کٹر قدامت پسند نیشنلسٹ دینی جماعتیں، قوم پرست گروہ، لبرلز اور ملکی اور غیر ملکی NGO's سب کے سب بیرونی فنڈنگ پر چلتے ہیں اور اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے ملک میں ہر سطح پر نفرت کا بیج بو رہے ہیں، یقین جانئے اُن سب کا دین و ایمان پیسہ ہے جن میں اس وقت پنجابی اور مہاجر لبرل اور قوم پرست سر فہرست ہیں۔ سندھیوں، بلوچوں اور پٹھانوں کی بھی کچھ قوم پرست تنظیموں کو باہر سے فیڈ کیا جاتا ہے لیکن انکی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا منصوبہ ہو پاکستان کو ہمیشہ غیر مستحکم رکھنا ہے، اگر یہ ملک معاشی استحکام کی طرف بڑھتا ہے تو یقینی طور پر ان ممالک کی عین منشاء اور مفادات کی تکمیل کیلئے کام نہیں کرے گا جو وہ چاہتے ہیں، نیز کمزور پاکستان ہی ہمارے ازلی دشمن بھارت مفاد میں ہے تاکہ امریکہ اور اسرائیل بھارت کو جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ اس سارے کے سارے خطّے میں "کنگ" بنا کر سب ممالک کو دبا کر رکھ سکیں۔ اس وقت خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں Un-declared war جاری ہے اور ملک دشمن قوتیں اسے تب تک جاری رکھیں گی جب تک خدا نخواستہ افواجِ پاکستان De-moral نہیں ہوتیں، یہی ان سب کا اصل ہدف ہے۔ 

روس بھی ابھی تک پاکستان کے ہاتھوں اٹھائی جانے والی ہزیمت کو نہیں بھولا، "One Road One belt" کی مخالفت اس لئے بھی نہیں کر رہا کہ روس کا نظریاتی پارٹنر چین اب وہ کام انجام دینے جا رہا ہے جسےسر انجام دینے کیلئے "سرخ ریچھ" طاقت کے زعم میں مبتلاء ہو کر افغانستان پر چڑھ دوڑا اور چند سالوں میں ہی اپنے ہی حصے بخرے کروا بیٹھا تھا۔ چین اب گرم پانیوں تک رسائی حاصل کررہا ہے جو کہ روس کے بھی مفاد میں ہے۔


اس وقت چین ہی دنیا کا واحد ملک ہے جو معاشی لحاظ سے عالمی استعماری طاقتوں اور نظام (کیپٹلزم) کیلئے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہو رہا ہے، عالمی استعماری نظام کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ آئندہ آنے والے دور میں کوئی بھی دوسری طاقت انکو چیلنج کرے۔


پاکستان بھی اس وقت دوہری چکّی میں پس رہا ہے، اندرونی حالات انتہائی دگرگوں ہیں، اپوزیشن صرف حکومت مخالف ہی نہیں بلکہ عدلیہ اور فوج مخالف بھی ہو چکی ہے اور ببانگ دہل ہر فورم پر اسکا اظہار بھی کر رہی ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستانی سیاسی اور ملٹری قیادت اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے دباؤ میں ہے، فوج اندرونی خلفشار کو کنٹرول کرنے کیلئے آئے دن بقاء وطن کی اس جنگ میں اپنے خون کے نذرانے دے کر نئی تاریخ رقم بھی کر رہی ھے اور چند نا عاقبت اندیش سیاستدانوں اور چند مذہبی گروپس کی تنقید کا نشانہ بھی بن رہی ہے۔ 


میرے دوستو!


اقتدار کی اس جنگ یا رسّہ کشی یا سانڈوں کے ٹکراؤ ( حزبِ اقتدار اور اپوزیشن الائنس) میں عام غریب اور مفلوک الحال طبقہ ہی پس رہا ہے، مہنگائی، اور بدعنوانی کا آکٹوپس پہلے سے کہیں زیادہ پورے ملک کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔ حکومتی ارکان اوروزراء کو شاید وزیرِ اعظم صاحب کی طرف سے ایک ہی ٹاسک ملا ہوا ہے کہ اپنی تمام توپوں کا رخ حزبِ اختلاف اور انکی احتجاجی تحریک کی طرف موڑ کر رکھیں، ملکی انتظامی امور اور عام شہری کی فلاح و بہبود پر کسی بھی طرح کی کوئی توجہ نہ دیں، چناچہ ہر طرح کے کام ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں اور عام بندے کی زندگی اجیرن، یہ ہم سب کیلئے لمحہء فکریہ ہے، اب ہمیں ہماری اپنی بقاء کا چیلنج درپیش ہے۔


ملکی تاریخ کے سب سے اہم منصوبہ "پاک-چین" راہداری پر بھی کام انتہائی سست ہو چکا، یوں لگ رہا ہے کہ جیسے یہ اہم منصوبہ ہمارے آپس کے اختلاف کی بنا پر ہمارے پڑوسی ممالک ایران اور افغانستان منتقل ہو جائے گا، اگر خاکم بدہن ایسا ہوا تو ہم بحیثیت قوم ایک عظیم تاریخی نقصان کر چکے ہونگے۔ یاد رہے کہ پڑوسی ملک ایران چین کے ساتھ چند ماہ پہلے ایک معاہدہ کر چکا اور "بندر چاہ بہار" اپنے وسیع تر قومی مفاد میں بھارت سے واپس لے چکا ہے جو کہ اگر ملک میں یہی رسّہ کشی جاری رہی تو مستقبل قریب میں "گوادر پورٹ" کا نعم البدل ثابت ہو سکتی ہے اور اس کا قوی امکان بھی ہے، اسلام ہے ایرانی قیادت کو جو فائلوں اور اسمبلیوں کی قراردادوں میں الجھے بغیر چند ہی دونوں میں "ایران اور چین" معاہدے پر دستخط کرکے اپنے ملک میں اس پر کام بھی شروع کر چکی ھے۔


شنید ہے کہ چین بھی افغانستان میں سڑکوں اور ریلوے نیٹ ورک کو ایران سے ملانے کیلئے اپنا پیپر ورک مکمل کر چکا ہے تاکہ براستہ افغانستان اور ایران وہ بندر "چاہ بہار" تک اپنی رسائی حاصل کرسکے۔


ہم تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں، افواجِ پاکستان تو ملکی دفاع، سلامتی و بقاء کیلئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے، اب ہماری باری ہے، سیاستدانوں، اعلیٰ افسران اور فرقہء اشرافیہ کی نہیں، صرف ھماری کہ ھمارا اور ھماری نسلوں کا مستقبل اسی ملک سے وابستہ ہے، ہمارا جینا اور مارنا اسی مٹّی سے وابستہ ہے۔


مجھے صدر "ضیاء الحق" مرحوم کے کہے ہوئے الفاظ یاد آ رہے ہیں کہ "ملکی بقاء اور دفاع کیلئے اقوام آگے بڑھ اپنا اپنا حصّہ ڈالا کرتی ہیں، افواج تو صرف اُنکے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑی ہوئی ہوتی ہیں۔


آج وہ وقت آ چکا کہ سول سوسائٹی کا ہر فرد آگے بڑھے اور بقاء و دفاع وطن میں حصّہ ڈال کر اپنا قومی فریضہ انجام دے، ہم کو اس ملک نے کیا نہیں دیا اور ہم نے اس کی بقاء، سالمیت اور تحفّظ کیلئے اب تک کیا کیا ہے؟ 

ملکی سیاستدانوں، اربابِ اختیار اور الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا اینکرس اور تبصرے کرنے والے دانشوروں سے میرا بہت سادہ سا سوال ہے، اگر کسی میں ذرا کا ضمیر زندہ ہوا تو جواب نفی میں آئے گا کہ ہم نے سوائے زبانی جمع خرچ کے اب تک کوئی ایسا کام میں ہی نہیں کہ جس پر ہم سر اٹھا کر فخر کر سکیں۔


میرے دوستو! 


یہی آگے بڑھنے اور مثبت سمت کی طرف قدم اٹھانے کا درست وقت ہے ورنہ آنے والا وقت ہمیں من حیث القوم کبھی بھی معاف نہیں کرے گا، آئیں آگے بڑھیں اور وطنِ عزیز کی نظریاتی اساس اور افواجِ پاکستان کے خلاف جو لوگ سوشل میڈیا پر ٹن دہی سے  کام کررہے ہیں ہم سب اس " ہائبرڈ وار" کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں،


آپکا:-

غلام محمد چوہان۔

19.10.2020

جمعرات، 8 اکتوبر، 2020

Hamara Wajood Aik Virus Say Bhi Kamter

 

آخرِشب

ھمارہ وجودایک وائرس سے بھی کمتر ھے

میرے دوستو!

وائرس سب چھوٹا جاندار ہے، جو کہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ عام خورد بین بھی اسکو نہیں دیکھ سکتی، خاص طرح کی دوربین ہی اسے دیکھ پاتی ھے۔


پوری کائنات میں میرا، آپکا اور ہم سب کا وجود بھی کسی بھی طرح سے ایک وائرس کے برابر بھی نہیں ہے، سات زمینیں اور ساتھ آسمان  وُسعت اتنی کہ ستارے سے دوسرے سیارے يا کہکشاں تک ہزاروں نوری سال کا فاصلہ۔


اس سادہ اور آسان سے پیمانے سے خود کو پرکھ کر دیکھیں تو ہمیں ہمارا وجود ایک " وائرس " سے بھی کم نظر آئے گا، کاش اسکا ادراک وقت کے ہر فرعون ہو جائے۔


انسان بہت مضبوط ہے، توانا ھے، مگر کتنا کمزور کہ آنے والے سانس کا بھی اندازہ نہیں کہ آنا بھی ہے یا نہیں, قدم کا بھی پتہ نہیں اٹھنا بھی ہے یا نہیں، اے انسان تو اترتا کس بات پر ہے؟ تیرا ہے کیا؟ ہر عروج کو زوال ہے، عروج چاہے جوانی، خوبصورتی، بادشاہی یا عزت و اور دولت کا ہو بہر حال اسے زوال ہے۔


سب بڑائیاں صرف اللہ کیلئے ہیں، باقی وہ ہے، دیگر سب کچھ فانی ہے، اتنی بڑی وسیع و عریض کائنات بھی جس میں انسانی وجود ایک باریک سے ذرّے سے بھی کم ہے، تکبّر یا بڑائی کس بات کی؟


اوّل مٹّی آخر مٹّی, مٹّی سچ ہے باقی سب ایک طرح کا نظر کا فریب۔


اللہ رب العزت نے ہمیں دنیا میں زندہ رہنے کی جو مہلت دی ہے، آئیں آج اقرار کریں کہ اسے بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے گزاریں گے، دنیا بھی اچھی اور ان شاء اللہ آخرت بھی۔


اللہ ہم سب کو دنیاوی اور اخروی کامیابیاں عطا فرمائے، سب کیلئے آسانیاں تقسیم کرنے کی ہمت دے، ہمیں اس راستے پر چل نکلنے کی توفیق بخشے جو اسکے پسندیدہ بندوں کا راستہ ہے۔


اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے، ہر رات سونے سے پہلے سب کو معاف کرکے سوئیں، پتہ نہیں سونے کے بعد دوبارہ سے جاگنا بھی ہے یا آج کی رات کی نیند ہمارے لئے ابدی نیند ثابت ہوئی ہے۔


آپ سب کا:-

غلام محمد چوہان۔

03.10.2020

منگل، 6 اکتوبر، 2020

Naiki Aur Gulheri

صدائےدرویش

نیکی اورگلہِری

وی سی ار کا دور ختم ھوا تو سیٹلائٹ ڈش رسیور کا زمانہ آیا، شوق سے گھر میں ڈش لگوائی، یہ وہ زمانہ تھا جب ڈش کو لوئر مڈل کلاس میں سیمبل آف سٹیٹس سمجھا جاتا تھا اور بہت برا بھی۔

گھر کے افراد انڈین چینلز،اور میں شوق سے نیشنل جیوگرافک چنیل یا پھر کوئی غیر ملکی نیوز چنیل دیکھ لیتا تھا یا کبھی کبھار کارٹون وغیرہ بھی۔

ایک مرتبہ ایک انڈین مذہبی چینل دیکھ رہا تھا کہ ایک سادھو صاحب مجلس میں " دھارمک " یعنی مذہبی گفتگو کر رہا تھا، چینل اچھا لگا اور اس بندے کی باتیں بھی۔

اب میرا معمول بن گیا کہ میں صبح ٹھیک 06 بجے اٹھتا اور وہ چینل ٹیون کر کے ہر روز اس صاحب کی بات چیت سننے لگ گیا۔  

امی جی (اللّه انکو کروٹ کروٹ جنّت نصیب کرے) کو صبح صبح وہ چینل مجهے دیکھتے ھوۓ بہت تاؤ آ جایا کرتا تھا، اکثر غصّے سے بولنا بھی شروع ھو جاتیں کہ یہ کیسا بندہ اس گھر میں پیدا ھو گیا کہ آنکھ کھولتے ہی روزانہ مووا برہمن سامنے ھوتا ہے، اکثر انکی بات کو سنی ان سنی کر دیا کرتا تھا، اس جٹا اور تلک دھاری سادھو کی باتیں سنتا رہتا تھا۔

ایک بار اس نے ایک حکایت بیان کی جو مجھ کو بہت پسند آئ، آج میں وہ حکایت اپنے دوستوں کے ساتھ share کرنا چاہوں گا۔

سادھو جی کہنے لگے:-  

" یہ اس سمے کی بات ہے جب مائی سیتا کو راکھشش راون لنکا اٹھا کر لے گیا تو شری رام چندر جی مہراج نے مائی سیتا کو آزاد کروانے کی ٹھانی، تمام ساتھیوں کو کہا کہ سمدر کو بھرنا شروع ھو جاؤ کہ لنکا تک سینا لے کر جانے کا راستہ بنے۔

حکم کی تعمیل هوتی ہے اور ہر جاندار پتھر اٹھا اٹھا کر سمندر میں پھینکنا شروع ھو جاتے ھیں، جس کی جتنی بساط تھی اتنا ہی وزن اٹھا کر 

حکم کا پالن کرتا چلا گیا۔

#ہنومان جی اپنی طاقت مطابق کے پہاڑ ڈالتے چلے جا ھیں تو چیونٹی اپنی حیثیت کے مطابق تعمیل میں جتے ھوئ تھی۔

راوی کہتا ہے کہ وہیں کہیں ایک گلہری بھی یہ سب تماشہ دیکھ رہی تھی، پریشان ھو کر ایک جانور سے پوچھا کہ یہ کیا ھو رہا ہے؟

جانور نے کہا ہٹو بی گلہری کسی کے پاؤں تلے آ کر کچلی نہ جانا یہ تمہارے بس کا روگ نہیں۔

گلہری کی ضد پر جاندار نے بتایا کہ یہ "پن " یعنی نیکی کا کام ھو رہا ہے۔

گلہری نے بھی سوچا کہ اگر"پن" ہے تو اس میں مجهے بھی اپنا حصّہ ضرور ڈالنا چاہئے، کام میں جت گئی جو بساط بھر منہ میں آیا پھینکتی چلی گئی۔

یگ بیت گئے، ایک دن شری شری رام چندر جی کی اچانک گلہری پر نظر پڑ گئی، گلہری کواٹھا کر اپنی  ہتھیلی پر رکھا اور بولے "بی گلہری یہ کیا کر رہی ھو؟

گلہری نے جواب دیا "پن کے کام میں اپنا حصّہ ڈال رہی ھوں مہراج! 

چھوٹے چھوٹے کنکر سمندر میں ڈالتے دیکھ کر (راوی کے مطابق اس سمے جانور بھی بولا کرتے تھے)۔

شری رام چندر جی نے کہا کہ اتنے بڑے اور چھوٹے جاندار سمندر بھر رہے ھیں، تیری ایک کنکری سے کیا ھوگا؟

گلہری بولی مہاراج مجھ میں جتنی ہمّت ہے، جتنی میری بساط ہے میں نیکی کے اس کام میں اپنا حصّہ ڈال رہی ھوں۔

گلہری کی بات سن کر شری رام چندر جی بہت خوش ھوۓ اور پیار سے گلہری کی پشت پر ہاتھ پھیرا، کہا آج جو گلہری کی کمر پر نشان ھیں اور شری رام چندر جی کی انگلیوں کے نشان ھیں۔

بات کو ختم کرتے ھوۓ سادھو بولا " ہے مترو!

گلہری بنو گلہری !

"پن" کے کام کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق حصّہ ڈالتے رھو، اگر اوپر والے کی کبھی نظر پڑ گئی تو بیڑا پار ھو جائے گا۔

حکایت میں share کر چکا، جو اس میں پیغام ہے وہ بھی آپ سب دوستوں کو یقینی طور پر پہنچ چکا ھوگا۔

مجهے یہ بات اس وجہ سے بھی اچھی لگی کہ "علم مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں سے بھی ملے حاصل کرلو۔۔

طالب دعا؛--

جی۔ایم چوھان۔

05.10.2020

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...