صدائے درویش
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حثیت و مقام
میرے دوستو!
عیسائیوں کی نظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حثیت و مقام کیا ہے، آپ انکی کتب کا مطالعہ کرکے دیکھیں۔ جو اپنے نبی کی عزت و احترام نہیں کرتے وہ ہمارے آقا علیہ السلام کی کیوں کر کریں گے۔
کسی زمانے میں ایک انگلش فلم دیکھی تھی اس میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کا کردار بھی تھا، فلم کے مطابق آپ نیو یارک کی گلیوں میں بھوکے پیاسے پھر رھے ھوتے ھیں، اس کردار کے مطابق وہاں کے لوگ آپکو پہچانتے تک بھی نہیں، فلم کے سین کے مطابق جب آپ بھوک و پیاس سے بے تاب ہو کر ایک گھر کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں تو ان پر ترس کھا کر ایک "سیاہ فام" عورت انکو کھانے کا ایک ڈبّہ دیتی ھے جس نعوز باللہ "ڈاگ فوڈ" لکھا ہوا تھا۔
عیسائی ممالک اور یہودیت کو اسلام سے نفرت ہے، اور آپ علیہ السلام کی ذاتِ با برکت سے بھی۔
کیوں ہے؟
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) دنیا میں آخری نبی کی حثیت سے تشریف لا کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو اللہ کے حکم سے منسوخ فرماتے ہیں ، ہر الہامی مذہب میں شریعت کا یہی اصول ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اسلام صرف مقامی کفر اور بت پرستوں کو ہی نہیں بلکہ یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت کی تعلیمات کو بھی کو چیلنج کرتا ہے، خدا کی وحدانیت کی پرچار کرتا ہے، عیسائیت کے بنیادی عقیدے "تثلیت" کی بلکل نفی کرتا ہے، اللہ کے "وحدہٗ لاشریک" ہونے کی تعلیم دیتا ھے، یہودیت کو چیلج کرکے تمام انسانوں اور انسانیت کے مساوی ہونے کا کھلا اعلان کرتا ہے۔ آپ تاریخ کا مطالعہ کریں کہ قصور ہمارا بھی ہے، ہم انکو اسلام کا صحیح چہرہ دِکھا ہی نہیں سکے، اسلام سلامتی اور شخصی آزادی کا نام ہے، آزادی لیکن اخلاقی حدود و قیود کیساتھ۔ اسلام ہی سب سے پہلے انسانوں کے حقوق متعین کرتا ہے، پڑوسیوں، بیویوں، خواتین حتٰی کہ غلاموں تک کے بھی، محمد الرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) دنیا کو "قرآن حکیم" کی صورت میں پہلا مربوط قانون اور زندگی گزارنے کے جملہ طریقے بھی بتاتا ہے، آپ سب دوست نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) کا آخری خطبہء حج ملاحظہ فرمائیں، دنیا بھر کے انسانی حقوق پر بھاری ہے۔ آپ علیہ السلام اللہ کے آخری نبی کے طور اگر اللہ کی وحدانیت کو اوّلین ترجیح سمجھتے ہیں اور اللہ تعالی بھی اُنکے مقام کو اتنا بلند کرتے ہیں کہ جو مقام و مرتبہ کسی نبی کو اس سے پیشتر ملا ہی نہیں تھا۔
آپ ہالینڈ میں "صوفی تحریک" کا مطالعہ کریں، "شہاب نامہ" میں اس تحریک کا مفصّل احوال موجود ہے۔ پورا ویسٹ اسلام فوبیا کا شکار ہے، انکو خدشہ ہے کہ اسلام کہیں مغرب کا سب سے بڑا مذہب نہ ثابت ہو، ہو بھی سکتا ہے اگر ہم اپنے اخلاق و کردار سے خود کو مومن ثابت کر سکیں تو، یہی وہ نکتہ ہے جسے ہم مسلمان دنیا بھر میں خود کو مومن ثابت کرنے میں ناکام ہیں۔
اسلام میں جبر بلکل بھی نہیں ہے، بدقستمی سے ہم مسلمانوں کے دنیا بھر کو اسلام کا ایک ہی رخ دکھایا ہے، جبر جبر اور جبر، جبکہ اسلامی تعلیمات میں تو جبر تم کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔
جہاد تو آخری حربہ ہے، دعوتِ اسلام، جزيہ اور اسلام کی "سپرامیسی" اور اللہ تعالی کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کرو، مملکت کی اطاعت کرو، مملکتِ اسلامیہ "ذمیوں" کی جان، مال و عزت آبرو کی حفاظت کرے گی، اگر یہ نہیں منظور تو لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔
یہی اسلام اور اسلام کا پیغام ہے، اسلام کی اصل روح وحدانیت ہے اور وحدانیت کی روح حُب رسولِ مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو کبھی بھی اللہ رب العزت اور اسکے فرشتے آپ علیہ السلام پر درود و سلام نہ بھیجتے آور مومنین کو بھی اس صالح عمل کی تلقین مت کرتے۔
حُب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) ہی مومن کی میراث ہے، نشانی ہے، جسے کبھی ہم خود اور دنیا بھر کی شیطانی طاقتیں ہمارے دلوں سے نکال دینے پر ہمہ وقت مصروف عمل ہیں، خاکے بنا کر تو اسلام دشمن صرف اپنی اب تک کی کامیابی یا ناکامی کا گراف چیک کرتے رہتے ہیں۔
علامہ اقبال ؒ نے جوابِ شکوہ میں کیا خوب فرمایا ھے:
کی محمد سے وفا تو نے تو ھم تیرَے ھیںیہ جہاں چیز ھے کیا لوحُ قلم تیرَ ھیں
عشقِ محمدی (صلی اللہ علیہ و آلہِ و اصحابہِ و بارک و سلم) ھی سب کچھ ھے۔
آپ سب کا:-
غلام محمد چوہان۔
28.10.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں