آخرِشب
ھمارہ وجودایک وائرس سے بھی کمتر ھے
میرے دوستو!
وائرس سب چھوٹا جاندار ہے، جو کہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ عام خورد بین بھی اسکو نہیں دیکھ سکتی، خاص طرح کی دوربین ہی اسے دیکھ پاتی ھے۔
پوری کائنات میں میرا، آپکا اور ہم سب کا وجود بھی کسی بھی طرح سے ایک وائرس کے برابر بھی نہیں ہے، سات زمینیں اور ساتھ آسمان وُسعت اتنی کہ ستارے سے دوسرے سیارے يا کہکشاں تک ہزاروں نوری سال کا فاصلہ۔
اس سادہ اور آسان سے پیمانے سے خود کو پرکھ کر دیکھیں تو ہمیں ہمارا وجود ایک " وائرس " سے بھی کم نظر آئے گا، کاش اسکا ادراک وقت کے ہر فرعون ہو جائے۔
انسان بہت مضبوط ہے، توانا ھے، مگر کتنا کمزور کہ آنے والے سانس کا بھی اندازہ نہیں کہ آنا بھی ہے یا نہیں, قدم کا بھی پتہ نہیں اٹھنا بھی ہے یا نہیں، اے انسان تو اترتا کس بات پر ہے؟ تیرا ہے کیا؟ ہر عروج کو زوال ہے، عروج چاہے جوانی، خوبصورتی، بادشاہی یا عزت و اور دولت کا ہو بہر حال اسے زوال ہے۔
سب بڑائیاں صرف اللہ کیلئے ہیں، باقی وہ ہے، دیگر سب کچھ فانی ہے، اتنی بڑی وسیع و عریض کائنات بھی جس میں انسانی وجود ایک باریک سے ذرّے سے بھی کم ہے، تکبّر یا بڑائی کس بات کی؟
اوّل مٹّی آخر مٹّی, مٹّی سچ ہے باقی سب ایک طرح کا نظر کا فریب۔
اللہ رب العزت نے ہمیں دنیا میں زندہ رہنے کی جو مہلت دی ہے، آئیں آج اقرار کریں کہ اسے بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے گزاریں گے، دنیا بھی اچھی اور ان شاء اللہ آخرت بھی۔
اللہ ہم سب کو دنیاوی اور اخروی کامیابیاں عطا فرمائے، سب کیلئے آسانیاں تقسیم کرنے کی ہمت دے، ہمیں اس راستے پر چل نکلنے کی توفیق بخشے جو اسکے پسندیدہ بندوں کا راستہ ہے۔
اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے، ہر رات سونے سے پہلے سب کو معاف کرکے سوئیں، پتہ نہیں سونے کے بعد دوبارہ سے جاگنا بھی ہے یا آج کی رات کی نیند ہمارے لئے ابدی نیند ثابت ہوئی ہے۔
آپ سب کا:-
غلام محمد چوہان۔
03.10.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں