صدائے درویش
"حالاتِ حاضرہ، عصری تقاضے اور ہم"
ہمارے لبرل لوگ اور مذہبی عناصر اس ساری بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جن " مسنگ پرسنس" یا دیگر امور کو issue بنا کر یہ سب احتجاج کرتے ہیں، سڑکوں پر نکلتے ہیں، یا حقوقِ نسواں اور شخصی آزادی کے نام یا مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت اور انتشار پھیلاتے ہیں انکا اصل ہدف یا اہداف ہیں کیا، وطنِ عزیز کو غیر مستحکم کرنا، فرض کریں ہم "گمشدہ افراد" کی بازیابی کو ھی لیتے ھیں۔ ہو سکتا ہے کچھ افراد انٹی اسٹیٹ ایکٹیویٹیز کی وجہ سے کسی ادارے کی تحویل میں ھوں، باقی ماندہ ایران، افغانستان اور بھارت میں ہیں جہاں انکو ملک دشمن کارروائیوں میں حصّہ لینے کیلئے بھرپور تربیت دی جاتی ہے، پھر وہ پاکستان میں داخل ہوکر اپنے دیئے گئے اہداف کو نشانہ بناتے ہیں، اب آزادیء نسواں کی بات تو اسکی آڑ میں جو معاشرے میں گند پھیلایا جا رہا ہے یا تحریر و تقریر کی آڑ میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے جو زہر پھیلایا جا رہا ہے وہ بھی اب سب پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے۔
کٹر قدامت پسند نیشنلسٹ دینی جماعتیں، قوم پرست گروہ، لبرلز اور ملکی اور غیر ملکی NGO's سب کے سب بیرونی فنڈنگ پر چلتے ہیں اور اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے ملک میں ہر سطح پر نفرت کا بیج بو رہے ہیں، یقین جانئے اُن سب کا دین و ایمان پیسہ ہے جن میں اس وقت پنجابی اور مہاجر لبرل اور قوم پرست سر فہرست ہیں۔ سندھیوں، بلوچوں اور پٹھانوں کی بھی کچھ قوم پرست تنظیموں کو باہر سے فیڈ کیا جاتا ہے لیکن انکی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا منصوبہ ہو پاکستان کو ہمیشہ غیر مستحکم رکھنا ہے، اگر یہ ملک معاشی استحکام کی طرف بڑھتا ہے تو یقینی طور پر ان ممالک کی عین منشاء اور مفادات کی تکمیل کیلئے کام نہیں کرے گا جو وہ چاہتے ہیں، نیز کمزور پاکستان ہی ہمارے ازلی دشمن بھارت مفاد میں ہے تاکہ امریکہ اور اسرائیل بھارت کو جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ اس سارے کے سارے خطّے میں "کنگ" بنا کر سب ممالک کو دبا کر رکھ سکیں۔ اس وقت خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں Un-declared war جاری ہے اور ملک دشمن قوتیں اسے تب تک جاری رکھیں گی جب تک خدا نخواستہ افواجِ پاکستان De-moral نہیں ہوتیں، یہی ان سب کا اصل ہدف ہے۔
روس بھی ابھی تک پاکستان کے ہاتھوں اٹھائی جانے والی ہزیمت کو نہیں بھولا، "One Road One belt" کی مخالفت اس لئے بھی نہیں کر رہا کہ روس کا نظریاتی پارٹنر چین اب وہ کام انجام دینے جا رہا ہے جسےسر انجام دینے کیلئے "سرخ ریچھ" طاقت کے زعم میں مبتلاء ہو کر افغانستان پر چڑھ دوڑا اور چند سالوں میں ہی اپنے ہی حصے بخرے کروا بیٹھا تھا۔ چین اب گرم پانیوں تک رسائی حاصل کررہا ہے جو کہ روس کے بھی مفاد میں ہے۔
اس وقت چین ہی دنیا کا واحد ملک ہے جو معاشی لحاظ سے عالمی استعماری طاقتوں اور نظام (کیپٹلزم) کیلئے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہو رہا ہے، عالمی استعماری نظام کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ آئندہ آنے والے دور میں کوئی بھی دوسری طاقت انکو چیلنج کرے۔
پاکستان بھی اس وقت دوہری چکّی میں پس رہا ہے، اندرونی حالات انتہائی دگرگوں ہیں، اپوزیشن صرف حکومت مخالف ہی نہیں بلکہ عدلیہ اور فوج مخالف بھی ہو چکی ہے اور ببانگ دہل ہر فورم پر اسکا اظہار بھی کر رہی ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستانی سیاسی اور ملٹری قیادت اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے دباؤ میں ہے، فوج اندرونی خلفشار کو کنٹرول کرنے کیلئے آئے دن بقاء وطن کی اس جنگ میں اپنے خون کے نذرانے دے کر نئی تاریخ رقم بھی کر رہی ھے اور چند نا عاقبت اندیش سیاستدانوں اور چند مذہبی گروپس کی تنقید کا نشانہ بھی بن رہی ہے۔
میرے دوستو!
اقتدار کی اس جنگ یا رسّہ کشی یا سانڈوں کے ٹکراؤ ( حزبِ اقتدار اور اپوزیشن الائنس) میں عام غریب اور مفلوک الحال طبقہ ہی پس رہا ہے، مہنگائی، اور بدعنوانی کا آکٹوپس پہلے سے کہیں زیادہ پورے ملک کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔ حکومتی ارکان اوروزراء کو شاید وزیرِ اعظم صاحب کی طرف سے ایک ہی ٹاسک ملا ہوا ہے کہ اپنی تمام توپوں کا رخ حزبِ اختلاف اور انکی احتجاجی تحریک کی طرف موڑ کر رکھیں، ملکی انتظامی امور اور عام شہری کی فلاح و بہبود پر کسی بھی طرح کی کوئی توجہ نہ دیں، چناچہ ہر طرح کے کام ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں اور عام بندے کی زندگی اجیرن، یہ ہم سب کیلئے لمحہء فکریہ ہے، اب ہمیں ہماری اپنی بقاء کا چیلنج درپیش ہے۔
ملکی تاریخ کے سب سے اہم منصوبہ "پاک-چین" راہداری پر بھی کام انتہائی سست ہو چکا، یوں لگ رہا ہے کہ جیسے یہ اہم منصوبہ ہمارے آپس کے اختلاف کی بنا پر ہمارے پڑوسی ممالک ایران اور افغانستان منتقل ہو جائے گا، اگر خاکم بدہن ایسا ہوا تو ہم بحیثیت قوم ایک عظیم تاریخی نقصان کر چکے ہونگے۔ یاد رہے کہ پڑوسی ملک ایران چین کے ساتھ چند ماہ پہلے ایک معاہدہ کر چکا اور "بندر چاہ بہار" اپنے وسیع تر قومی مفاد میں بھارت سے واپس لے چکا ہے جو کہ اگر ملک میں یہی رسّہ کشی جاری رہی تو مستقبل قریب میں "گوادر پورٹ" کا نعم البدل ثابت ہو سکتی ہے اور اس کا قوی امکان بھی ہے، اسلام ہے ایرانی قیادت کو جو فائلوں اور اسمبلیوں کی قراردادوں میں الجھے بغیر چند ہی دونوں میں "ایران اور چین" معاہدے پر دستخط کرکے اپنے ملک میں اس پر کام بھی شروع کر چکی ھے۔
شنید ہے کہ چین بھی افغانستان میں سڑکوں اور ریلوے نیٹ ورک کو ایران سے ملانے کیلئے اپنا پیپر ورک مکمل کر چکا ہے تاکہ براستہ افغانستان اور ایران وہ بندر "چاہ بہار" تک اپنی رسائی حاصل کرسکے۔
ہم تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں، افواجِ پاکستان تو ملکی دفاع، سلامتی و بقاء کیلئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے، اب ہماری باری ہے، سیاستدانوں، اعلیٰ افسران اور فرقہء اشرافیہ کی نہیں، صرف ھماری کہ ھمارا اور ھماری نسلوں کا مستقبل اسی ملک سے وابستہ ہے، ہمارا جینا اور مارنا اسی مٹّی سے وابستہ ہے۔
مجھے صدر "ضیاء الحق" مرحوم کے کہے ہوئے الفاظ یاد آ رہے ہیں کہ "ملکی بقاء اور دفاع کیلئے اقوام آگے بڑھ اپنا اپنا حصّہ ڈالا کرتی ہیں، افواج تو صرف اُنکے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑی ہوئی ہوتی ہیں۔
آج وہ وقت آ چکا کہ سول سوسائٹی کا ہر فرد آگے بڑھے اور بقاء و دفاع وطن میں حصّہ ڈال کر اپنا قومی فریضہ انجام دے، ہم کو اس ملک نے کیا نہیں دیا اور ہم نے اس کی بقاء، سالمیت اور تحفّظ کیلئے اب تک کیا کیا ہے؟
ملکی سیاستدانوں، اربابِ اختیار اور الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا اینکرس اور تبصرے کرنے والے دانشوروں سے میرا بہت سادہ سا سوال ہے، اگر کسی میں ذرا کا ضمیر زندہ ہوا تو جواب نفی میں آئے گا کہ ہم نے سوائے زبانی جمع خرچ کے اب تک کوئی ایسا کام میں ہی نہیں کہ جس پر ہم سر اٹھا کر فخر کر سکیں۔
میرے دوستو!
یہی آگے بڑھنے اور مثبت سمت کی طرف قدم اٹھانے کا درست وقت ہے ورنہ آنے والا وقت ہمیں من حیث القوم کبھی بھی معاف نہیں کرے گا، آئیں آگے بڑھیں اور وطنِ عزیز کی نظریاتی اساس اور افواجِ پاکستان کے خلاف جو لوگ سوشل میڈیا پر ٹن دہی سے کام کررہے ہیں ہم سب اس " ہائبرڈ وار" کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں،
آپکا:-
غلام محمد چوہان۔
19.10.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں