جمعہ، 11 دسمبر، 2020

Hamara Show Baaz Maashray aur Doulat ki Ghair Munsifana Yaqseem, ہمارا شو باز معاشرہ اور دولت کی غیر مناسب تقسیم

 صدائے درویش

 " ہمارا شو باز معاشرہ اور دولت کی غیر مناسب تقسیم"


افلاس، غربت میں بے توقیری یا پیسے کی بنیاد پر  انسان کا عزت و وقار  در اصل ہماری معاشرتی طبقاتی تقسیم کے پیدا کردہ مسائل ہیں، مفلسی بغیر کسی شک کے انسان کو کفر تک لے جاتی ہے، مفلس کی معاشرے میں عزت اور بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور یہی سب سے بڑی سچائی ہے۔


یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ جس معاشرے کو بھی برباد کرنا ہو اس میں مفلسی ڈال دی جائے تو وہ معاشرہ گراوٹ کی ہر حد کو عبور کرتا چلا جائے گا, مفلسی چاہے معاشی ہو یا معاشرتی، دونوں ہی نقصان دہ ہوا کرتی ہیں۔


علامہ سر محمد اقبال رحمت اللہ کا قول ھے کہ مفلسی "ام الخبائث" ھے۔

اللہ سب کو اس سے محفوظ رکھے، افلاس میں سب سے خطرناک قسم اخلاقی مفلسی ھے کہ اخلاقی طور پر مفلس معاشرے میں پیسہ اور دکھاوا ھی انسانی عزت اور جاہ و جلال کی علامت گردانا جاتا ھے، آج ہم اسی کا بہت ہی بری طرح سے شکار ہیں، جرائم کے تیزی سے بڑھنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔ کوئی زمانہ تھا کہ بڑے کہتے تھے کہ " پیسہ تو کنجروں کے پاس بھی ہوتا ہے" لیکن عزت نہیں۔ 

لیکن! اس دورِ رست خیز میں یہ مثال بھی غلط ثابت ہو چکی، جس کے پاس پیسہ ہے اسی جو جھک کر سلام، مفلس کے مقدر میں دائمی دھکّے۔ کہاں گیا وہ معیار جس میں شرافت ہی عزت و تکریم کی بنیاد ہوا کرتی تھی؟


کسی دور میں دولت کو شو بازی کیلئے نہیں بلکہ خوف سے زمین میں دبا دیا جاتا تھا کہ کسی کو اندازہ تک نہ ہو کہ کسی کے پاس پیسہ ہے یا کوئی مالدار ہے، آج دولت روڈوں، پارکوں اور malls وغیرہ میں سر عام بھنگڑے ڈال رہی ہے تو دوسری طرف افلاس زدہ اور بھوکے لوگ کچرا دانوں تک سے اپنا رزق تلاش کرتے یا بھوکا پیٹ بھرتے نظر آتے ہیں، استغفر اللہ و اللہ و اکبر!


فیصل آباد میں دلہن کو ماں باپ کی طرف سے 11 کلو سونا پہنانا، ملتان میں دولہا کے سونے کے جوتے، گوجرانوالہ میں شادی کی ایک شاہانہ تقریب میں اربوں کا خرچہ یا سمبڑیال کے نزدیک ایک برات میں ڈالرز کی برسات، کسی شادی میں جہیز میں ہر طرح کا مال مویشی دیا جانا یا پھر دولہا کو اسلامی میں قیمتی تحائف اور بنگلہ، گھر کے دوسرے افراد کو گاڑیوں کا دیا جانا، یہ سب کے سب دولت کے بیجاء اسراف اور جھوٹی نمود و نمائش کے ہی زمرے میں آتے ہیں تو دوسری طرف اسلامی احکامات کے خلاف بھی، اسلام میں دولت کا بیجاء اسراف کرنے والوں کو "شیطان کے بھائی" قرار دیا گیا ہے۔ خوشی کے موقع پر بیشک اخراجات کریں لیکن ایک حد تک، تاکہ اس میں نمود و نمائش یا "دکھاوا" بلکل بھی نہ ہو، ڈالرز لوٹتے ہوئے غرباء کی جو چھینا جھپٹی میں حالت ہوئی وائرل شدہ ویڈیو اُسکی بہترین عکاس تھی۔ پیسوں سے کھیلنے والو! خدا کیلئے ہوش کے ناخن لو، دولت کے دکھاوے سے باز آجاؤ۔


ہماری سوسائٹی کا فریضہ ہے کہ افلاس زدہ فرد، افراد یا گروہ کی عزت نفس کو مجروح ہونے سے بچائے، ورنہ اگر بھوک چھین کر کھانے پر مجبور ہو گئی تو بہت بڑا معاشرتی تصادم اور المیہ بھی ہو سکتا ہے کہ طبقہ اشرافیہ اس ٹکراؤ کا متحمل ہو ہی نہیں سکے گا اور نہ ہی افلاس اور بھوک سے متاثرہ گروہ کا مقابلہ کر پائے گا، تاریخ عالم ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔


جی.ایم.  چوہان

10.12.2020.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...