پیر، 27 جولائی، 2020

Insan Ki Zindagi, Taqdeer Aur Tadbeer ka Khail

حاصل مطالعہ ۔ منقول

انسان کی زندگی ۔ تقدیر اور تدبیر کا کھیل


انسان کی زندگی اس جہان میں دو چیزوں پر مربوط ہے. ایک تقدیر دوسرا تدبیر. تقدیر اپنا کھیل کھیل رہی جس سے انسان بلکل آگاہ نہیں ہے, جبکہ تدبیر انسان کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے. 

تقدیر ایک ایسی در پردہ فلم ہے جو ازل سے چل رہی ہے, جس کو بدلنا ممکن نہیں ہے, جبکہ تدبیر انسان کے بس میں ہے, انسان اپنی تدبیر سے تقدیر سے مکمل طور پر لڑ تو نہیں سکتا لیکن خود کو تقدیر کے مطابق ڈھال ضرور سکتا ہے. 

مثال کے طور پر تقدیر ساری انسانی حیات میں اپنے رنگ دکھاتی ہے, تقدیر کے پہہ میں انسان کو کبھی مخلص ہونا پڑتا ہے, کبھی منافق, کبھی خود غرض کبھی محبت ,کبھی نفرت, کہیں نشیب کہیں فراض, غرض تقدیر ایک جیسی نہیں رہ سکتی, ہر پل بدلتی چیز ہے. 

دنیا میں آج کل بے چینی اور شکایات کی ایک ہی بڑی وجہ بتائی جاتی ہے,کہ انسان نے انسان کا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے, خودغرضی عروج پر ہے وغیرہ وغیرہ. میرے نزدیک ایسا کچھ نہیں ہے, میرا زاتی تجربہ ہے کہ انسان جب ایک ماحول میں خود کو فٹ نہیں کرپاتا تو اس کے لبوں پہ شکایات کے انبار لگ جاتے ہیں, اسے ہر کوئی قصور وار لگتا ہے, لیکن جب وہی ماحول راس آجاتا ہے تو سب کچھ الٹ ہوجاتا ہے, ویسے بھی وہی کچھ نظر آتا ہے جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں, ہم اپنے مرضی کا سوچنے کے ماہر ہیں. 

میرے نزدیک جو فلم(تدبیر)  ہمارے بس میں ہے, اس کو اپنی مرضی سے چلائیں, بجائے ہمہ وقت ایک جیسا رہنے کے کسی کی نظروں میں اچھے رہیں, کسی کی نظروں میں برے, کسی کی نظر میں منافق, کسی کی سانسوں کی دشواری تو کسی کی زندگی. 

تاکہ جب قسمت اپنا کھیل کھیلے تو جواں مردی سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں اور لبوں پر مسکراہٹ ہو کیوں کہ اپ کیلیے کچھ نیا نہیں تھا. 
کم سے کم اس معاشرے کیلیے کچھ ایسا ضرور کریں جو تھوڑا ہٹ کے ہو, کسی کی امید بنیں اور اس لیول پر بنیں کہ جب کوئی اپ کے بارے سوچے تو تھوڑے لمحے کیلیے وہ دنیاوی فکر سے آزاد ہوجائے اور خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرے….

فیضان اے چوہان کی وال سے۔

جمعہ، 24 جولائی، 2020

Babul Islam Sindh Utter, Wichlo aur Laar Sindh

صدائے درویش                             میرا سانگھڑ، سندھ، پاکستان

اُتروچولواورلاڑ سندھ

اّتر سندھ

ہم اگر سندھ کے مزاج کا مطالعہ کریں تو ہم اسے 03 حصوں میں بانٹ کر سمجھ سکتے ہیں، شمالی سندھ کو سندھی زبان میں "اُتر" اور وہاں کے رہنے والوں کو ہم "اترادی" کے نام سے پکارتے ہیں، یہ لوگ چونکہ عام طور پر کم تعلیم یافتہ ہوا کرتے ہیں اور قبائلی نظام کے زیرِ اثر بھی، سو یہ لوگ قدرے "جھگڑالو" ہوتے ہیں، خاندانی دشمنیاں وغیرہ بھی عام ہوتی ہیں، "اُتر" کے اضلاع شکارپور اور جیکب آباد زیادہ مشہور ہیں، شکارپور کو تو مقامی لوگ 12 سرداروں کا شہر کہتے ہیں، کوئی ایک سردار ہوتا تو شائید شکارپور کی بھی سنی جاتی، سندھ کا "پیرس" کہلانے والا شہر شکارپور اب کھنڈر نما ہوچکا ہے۔ "جیکب آباد" سندھ کا سرحدی شہر ہے، سرحدی شہر ہونے کی وجہ سے یہاں کاروبار بہت اچھا ہے، کاروبار کی کثرت "ہندو برادری" کے ہاتھ ہے۔ بلوچستان کے قریب ہونے کی وجہ سے  بلوچی ثقافت اور رہن سہن کے زیر اثر ہے، اگر آپ شکارپور یا جیکب آباد جائیں تو بازاروں میں شہری علاقوں کی طرح مقامی خواتین خرید و فروخت کرتی ہوئی نظر نہیں آئیں گی، صرف مرد حضرات کرتے ہیں۔

لیکن! 

وقت کے ساتھ ساتھ ان میں بھی شعور آ رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ تعلیم کے حصول کے لئے بڑھتا ہوا رجحان بھی۔ ان دونوں اضلاع کے دیہاتیوں کی زندگی بہت کھٹھن ہے، مرد سارا دن ہوٹلوں پر چائے پیتے، گپ شپ لگاتے اور انکی خواتین انتہائی محنتی اور جفا کش کہ سارا دن "کھیتی باڑی" کو سنبھالتی ہیں، ھارپہ کرتی اور شام کو گھر اور بچوں کو بھی۔ 

سکھر اور ڈھرکی کے اضلاع البتہ قدرے بہتر ہیں اور "اُتر" کے لحاظ سے تعلیم کا ratio بھی دیگر شمالی اضلاع کی نسبت بہتر ہے، مگر دریائے سندھ کا کچّہ نزدیک ہونے کی وجہ سے کسی دور میں لوٹ مار اور ڈاکے وغیرہ عام تھے، اب نہیں ہیں۔ سلرا شہداد کوٹ، خیرپور میرس، قنبر علی خان، لاڑکانہ اور ضلع دادو کا شمار بھی اُتر سندھ میں ہی ہوتا ہے، لیکن یہ اضلاع جیکب آباد، شکار پور، سکھر اور گھوٹکی سے مزاج کے اعتبار سے الگ ہیں، شرح خواندگی بھی اچھی ہے اور وہاں کے رہنے والے بھی عقل و شعور کے حامل ہیں، سیاست ہو یا کوئی اور شعبہ ہر فیلڈ میں خود کو منوا رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق لاڑکانہ جب کہ قاضی فیملی کا تعلق (یہ وہی قاضی محمد اکبر ہیں جس نے 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر جی۔ایم سید کو شکست دی تھی).

وچولو سندھ

اب آئیں "وچولو" پر نظر ڈالتے ہیں، نوشہرو فیروز، اور نواب شاہ اور سانگھڑ ضلع کا بھی وچولو میں ہی شمار ہوتا ہے، ( جبکہ سانگھڑ کا مشرقی حصہ صحراءتھر کا حصہ ہے اُسے اچھڑوتھر  کے نام  سے پُکارا جاتا ہے) ضلع نوشہرو فیروز، نواب شاہ، سانگھڑ، میرپور خاص، ٹنڈو الہیار، جام شورو اور حیدرآباد کے اضلاع بھی وچولو میں ہی ہیں، یہاں کا کیلا اور آم ملک اور بیرون ملک بہت پسند کیا جاتا ہے، ایکسپورٹ بھی ہوتا ہے، دیگر زرعی اجناس بھی وافر مقدار میں ہوتی ہیں، دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ کا پانی میٹھا اور قابل کاشت ہے، جبکہ دیگر جگہوں میں نہری نظام سے استفادہ حاصل کیا جاتا ہے۔

کسی دور میں نوشہرو فیروز اور قاضی احمد تعلیم کے لحاظ سے سندھ بھر میں سر فہرست تھے (اب بھی ہیں) ان علاقوں کے سومرو، میمن اور سہتے خود کو ہر میدان میں صرف سندھ ہی نہیں بلکہ پاکستان اور بیروں ملک بھی منوا چکے ہیں، انتہائی ذہین لوگ ہیں۔ کسی دور میں سندھ کی ٪80 نوکریوں پر اسی علاقے کے لوگ ہی براجمان تھے، اب زیادہ تر نوابشاھ کے ہیی, سول نوکریوں میں "زرداری" قوم کی کثرت ھے۔

وچولو کے شہری علاقوں میں شرح تعلیم زیادہ ہے، دیہاتوں میں کم، زرعی زمین اچھی مگر صحرائی علاقوں میں پیداوار کا زیادہ تر انحصار برسات پر ہے 

لاڑ یا لوئر سندھ

لاڑ میں ضلع بدین، ٹھٹہ اور مٹھی کے اضلاع شامل ہیں، مٹھی صحراء تھر پر مشتمل ہے، جبکہ ضلع بدین اور ٹھٹہ کے اضلاع کاشتکاری اور تعلیم کے میدان میں کافی بہتر ہیں، یہاں کا کیلا بھی سندھ کے دیگر علاقوں کی طرح بہت مشہور ہے۔ ضلع ٹھٹھہ میں ہی درهائےسندھ سمندر میں گرتا ہے، آج بھی وہاں مشہور بندر گاہ کیٹی بندر کے اثر موجود ہیں جہاں سے کسی دور میں کیٹی بندر سے سکھر تک دریا کے راستے تجارتی سامان کی نقل و حمل ہوا کرتی تھی۔ مٹھی سارے کا سارا صحرائی علاقہ ہے جس عرف عام میں صحرائے تھر کہتے ہیں۔  صحراء اور سمندر نزدیک ہونے کی وجہ سے لاڑ کے لوگ بہت سادہ لوح اور انکے مزاج میں سمندر اور صحرا کی سی وُسعت ملتی ہے، امن پسند، صلح جو اور مل بانٹ کر کھانے والے ہیں۔ 

کراچی بھی جنوبی سندھ میں ہی ہے، پاکستان اور سندھ کی واحد "بندرگاہ" سندھ کا دار الحکومت اور غریبوں کی ماں بھی۔ کراچی اور کراچی کے لوگوں اور انکے مزاج کو سمجھنے کیلئے الگ سے لکھنے کی ضرورت ہے۔

"اُتر ہو یا وچولو یا لاڑ " ان سب میں جو چیز کامن ہے وہ ھے سندھ کی روایتی "مہمان نوازی" اور باہمی رواداری، ایک دوسرے کا عزت و احترام جس کا ملک بھر شائد ہی کوئی ثانی ہو۔

میرے دوستو!


یہ ہے میرے سندھ میرے "باب السلام" کا تعارف، اُمید ہے ضرور پسند آیا ہوگا۔

میرے شہر اور ضلع سانگھڑ کا تفصیلی تعارف مجھ پر قرض رہا، سانگھڑ "مردان حر" کا ضلع ہے، انتہائی پرامن محبت, رواداری اور بھائی چارے سے رہنے والوں کا شہر بھی۔


احقر العباد:-
غلام محمد چوہان،
21.07.2020

منگل، 21 جولائی، 2020

Bawajood Qudrat Kay Bhi Kisi ko Maaf Kardena, Naimate Khudawandi

حاصل مطالعہ (منقول)

قدرت اور طاقت ھونے کے باوجود بھی کسی کو معاف کردینا، نعمت خداوندی

ایک عالم اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لئے کھیتوں میں سے گزر رہے تھے۔
چلتے چلتے ایک پگڈنڈی پر ایک بوسیدہ جوتا دکھائی دیا۔ صاف پتہ چل رہا تھا کہ کسی بڑے میاں کا ہے۔ قریب کے  کسی کھیت کھلیان میں مزدوری سے فارغ ہو کر اسے پہن کر گھر کی راہ لیں گے۔ شاگرد نے جنابِ شیخ سے کہا؛ حضور! کیسا رہے گا کہ تھوڑی دل لگی کا سامان کرتے ہیــــں۔ جوتا ادھر ادھر کر کے خود بھی چھپ جاتے ہیــــں۔ وہ بزرگوار آن کر جوتا مفقود پائیں گے تو ان کا ردِ عمل دلچسپی کا باعث ہو گا۔

 شیخ کامل نے کہا؛ بیٹا اپنے دلوں کی خوشیاں دوسروں کی پریشانیوں سے وابستہ کرنا کسی طور بھی پسندیدہ عمل نہیـں۔ بیٹا تم پر اپنے رب کے احسانات ہیــــں۔ ایسی قبیح حرکت سے لطف اندوز ہونے کے بجائے اپنے رب کی ایک نعمت سے تم اس وقت ایک اور طریقے سے خوشیاں اور سعادتیں سمیٹ سکتے ہو۔ اپنے لئے بھی اور اس بیچارے مزدور کے لئے بھی۔ ایسا کرو کہ جیب سے کچھ نقد سکے نکالو اور دونوں جوتوں میں  رکھ دو۔ پھر ہم چھپ کے دیکھیں گے جو ہو گا۔ بلند بخت شاگرد نے تعمیل کی اور استاد و شاگرد دونوں جھاڑیوں کے پیچھے دبک گئے۔

 کام ختم ہوا، بڑے میاں نے آن کر جوتے میں پاؤں رکھا ۔۔۔ تو سکے جو پاؤں سے ٹکرائے تو ایک ہڑبڑاہٹ کے ساتھ جوتا اتارا تو وہ سکے اس میں سے باہر آ گئے۔ ایک عجیب سی سرشاری اور جلدی میں دوسرے جوتے کو پلٹا تو اس میں سے سکے کھنکتے باہر آ گئے۔ اب بڑے میاں آنکھوں کو ملتے ہیــــں، دائیں بائیں نظریں گھماتے ہیــــں۔ یقین ہو جاتا ہے کہ خواب نہیـں، تو آنکھیں  تشکر کے آنسوؤں سے بھر جاتی ہیــــں۔ بڑے میاں سجدے میں گر جاتے ہیــــں۔ استاد و شاگرد دونوں سنتے ہیــــں کہ وہ اپنے رب سے کچھ یوں مناجات کر رہے ہیــــــــں۔

میرے مولا! میں تیرا شکر کیسے ادا کروں، تو میرا کتنا کریم رب ہے۔ تجھے پتہ تھا کہ میری بیوی بیمار ہے، بچے بھی بھوکے ہیــــں، مزدوری بھی مندی جا رہی ہے ۔۔۔ تو نے کیسے میری مدد فرمائی۔ ان پیسوں سے بیمار بیوی کا علاج بھی ہو جائے گا، کچھ دنوں کا راشن بھی آ جائے گا۔ ادھر وہ اسی گریہ و زاری کے ساتھ اپنے رب سے محو مناجات  تھے اور دوسری طرف استاد و شاگرد دونوں کے ملے جلے جذبات اور ان کی آنکھیں بھی آنسوؤں سے لبریز تھیں۔ کچھ دیر کے بعد شاگرد نے دست بوسی کرتے ہوئے عرض کیا؛ استاد محترم! آپ کا آج کا سبق کبھی نہیـں بھول پاؤں گا۔ آپ نے مجھے مقصدِ زندگی اور اصل خوشیاں سمیٹنے کا ڈھنگ بتا دیا ہے۔ شیخ جی نے موقعِ مناسب جانتے ہوئے بات بڑھائی، بیٹا! صرف پیسے دینا ہی عطا نہیں بلکہ باوجود قدرت کے کسی کو معاف کرنا ﻋﻄﺎﺀ ہے۔ مسلمان بھائی بہن کے لئے غائبانہ دعا  ﻋﻄﺎﺀ ہے۔  مسلمان بھائی بہن کی عدم موجودگی میں اس کی عزت کی حفاظت ﻋﻄﺎﺀ ہے۔
یہ تحریر اوروں کو بھی پڑھائیں یہ صدقہ جاریہ ہوگا اور ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو گا .. جزاک اللہ خیر!

کاپی پیسٹ ۔ منقول
copyshare

جمعرات، 16 جولائی، 2020

Kia Kutta Najis Hay

( میری ڈائری سے ایک اقتباس )

 کیا کتا نجس ھے؟


فقیر حقیر اج کل ایک پوسٹ پر ھونے والی بحث کو فالو کر رہا ھے، اور اپنی رائے بھی دینے کی کوشش بھی کی۔

اب الگ سے پوسٹ لگا رہا ھوں کہ تمام دوستوں کے سامنے اپنا موقف بیان کر سکوں، اس پوسٹ کو اصلاحی پوسٹ ھی سمجھا جاوے۔
اسلام کہتا ھے نجس ھے تو بلکل نجس ھی ھے، اس میں دو رائے ھو ہی نہیں سکتیں۔

کسی زمانے میں فقیر حقیر نے کسی درویش کی ایک حکائیت پڑہا تھی کہ اگر کتے میں پائے جانے والے پانچ خواص"  کسی انسان میں پیدا ھو جائیں تو 'ولی کامل' کے درجے پر فائز ھو جاتا ھے، ان میں کتے کا مالک سے وفاداری اور صبر سر فہرست ہیں، جن سے خاکسار سو فیصد متفق ھے۔

اب مسئلہ یہ کہ کچھ لوگ مثال کے طور پر کہتے ھیں کہ میں فلاں کا کتا ھوں تو یہ اسکی اندھی عقیدت اور وفاداری کی علامت ھے، مزید کچھ اور نہیں خود کو کتے کے برابر سمجھنا بہتر عمل تو نہیں، لیکن عشق و محبت اور عقیدت میں یہ کوئ بڑی بات نہیں، سب جائز ھوا کرتا ہے۔ انسان ہہرحال انسان اور اشرف المخلوقات بھی ھے، تو اسی مثالیں بھی اشرف ھی ھونگی۔

جہاں تک میری ناقص عقل نے کام کرتی ھے کہ کتا نجس کیوں ٹھہرا؟ تو فقیر حقیر نے یہ نتیجہ اخز کیا کہ " کتا اپنے ہم جنس پر بلا وجہ بھونکتے سے باز نہیں اتا "  مالک سے کچھ مل جائے تو اکیلا کھاتا ھے، کسی کو اپنے ساتھ شریک نہیں کرتا۔

دوسرے "ھم جنس" کے پاس اگر کچھ کھانے کو ہو تو بھرے پیٹ کے باوجود بھی اس پر جھپٹتا ھے, بھونکتا ہے اور چھین لینے کیلئے جھپٹتا ہے۔

کسی اور زرائع سے بہتر خوراک ملنا شروع جائے تو پرانے مالک کے ساتھ بیوفائ کرتے ھوئے بھی دیر نہیں کرتا، اگر کہیں سے کچھ نہ ملے تو مالک کا دروازہ بھی نہیں بھی نہیں چھوڑتا، مرنا قبول کر لیتا ہے، یہ بھی ایک طرح کا کُتّے کا فطری تضاد ہے۔

"فقیر پر بلایا وجہ بھونکتا ھے"

اسکی یہی خامیاں  اس کو نجس ٹھہراتی ھیں، باوجود بہت سی خوبیوں کے۔

ائیے اب ھم سب اپنے اپنے گریبان میں جھانکتے ھیں، کیا ھم سب ان جملہ برائیوں کے حامل نہیں؟ 

میرا جواب "ہاں" میں ہے۔

سوال یہ ھے کہ ہم صرف  " کتے" کو ھی مطعئون کیوں کرتے ھیں؟ نجس سمجھتے ہیں، اپنے اندر کے کُتّے کو برا کیوں نہیں سمجھتے؟

ھم پنے اندر موجود حرص وطمع کے سینکڈون کتے کیوں باندھے ہوئے ھین؟ نکال باھر کیوں نہیں پھینکتے!

کیا ہم "کتوں" سے بھی زیادہ نچس نہیں؟ 
ا
اللہ رب العزت کا نائب اور اشرف المخلوقات کہلانا آسان کام نہیں ہے۔

اس پوسٹ/ اسٹیٹس خاکسار کو اپ سب دوستوں کی رائے درکار ھے۔

" سب کا بھلا سب کی خیر "

خوش رہیں اور دوسروں کی خوشیوں کو اپنی خوشیاں سمجھیں، دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کریں، اپنے لئے تو جانور بھی جیتے ہیں۔ میرے نزدیک یہی انسانیت ھے، یہی مزہب ھے، اسلام ھے اور اسلامی تعلیمات کا اصل نچوڑ بھی!

طالب دعا:-
غ۔م چوھان
15.07.2019

بدھ، 15 جولائی، 2020

Raiseenia, A mix Famus Dish

حاصل مطالعہ ۔ منقول

 رائسینیا کی مشہور ڈش! . RAISEENIA

میں نے ویٹر کی توجہ ڈش نمبر 65 کی طرف مبذول کرائی اور مسکرا کر پوچھا ”یہ کیسی رہے گی“ ویٹر نے جھک کر مینو کارڈ دیکھا اور مسکرا کر بولا ” یہ رائسینیا ہے‘ یہ ہمارے ریستوران کی مشہور ترین ڈش ہے‘ یہ آپ کےلئے پرفیکٹ رہے گی“ وہ اس کے بعد سیدھا ہوا اور نہایت شستہ انگریز میں ڈش کے اجزاءاور اس کی تیاری کے مراحل پر روشنی ڈالنے لگا‘
اس نے بتایا ڈش کے چاول برازیل کے قدرتی کھیتوں میں قدرتی کھاد میں پروان چڑھتے ہیں‘ زیرہ چین کے دور دراز علاقوں سے منگوایا جاتا ہے‘ دھنیا‘ دالیں اور نمک انڈیا سے لایا جاتا ہے‘ یہ سارے اجزاءفرانس کے نیم گرم چشموں کے پانی میں دھوئے جاتے ہیں‘ یہ جاپانی مٹی کی ہانڈی میں ڈالے جاتے ہیں‘ ان میں ملائیشیا کا کوکونٹ آئل ملایا جاتا ہے‘ ڈش کو ہلکی آنچ پر پکایا جاتا ہے اور یہ کھانا آخر میں برطانوی پلیٹ میں ڈال کر میرے سامنے رکھا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔میں اس نجیب الطرفین ڈش کے پس منظر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا‘ مجھے محسوس ہوا میں نے ڈش نمبر65 پر انگلی رکھ کر اپنی زندگی کا بہترین فیصلہ کیا‘ میں نے مینو کارڈ فولڈ کر کے ویٹر کے حوالے کیا‘ لمبی سانس لی اور کرسی کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا‘ ریستوران گاہکوں سے بھرا ہوا تھا‘ میں لوگوں کو کھانا کھاتے‘ گپ شپ کرتے اور قہقہے لگاتے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا‘ میرا آرڈر بیس منٹ میں تیار ہونا تھا‘ میں یہ وقت دائیں بائیں دیکھ کر گزارتا رہا‘ میں نے بڑی مشکل سے وقت پورا کیا‘ مجھے آخر میں دو ویٹر اپنی طرف آتے دکھائی دیئے‘ ایک نے چاندی کی بڑی سی ٹرے اٹھائی ہوئی تھی اور دوسرا میرے آرڈر کو پروٹوکول دے رہا تھا‘ پروٹوکول آفیسر نے مسکرا کر میری طرف دیکھا‘
میرے سامنے پڑی پلیٹ اٹھائی‘ جگہ بنائی‘ نہایت عزت کے ساتھ ٹرے میں رکھی پلیٹ اٹھائی اور میرے سامنے رکھ دی‘ میں اشتیاق کے عالم میں پلیٹ پر جھک گیا‘ دونوں ویٹرز نے مسکرا کر میری طرف دیکھا ”انجوائے یور میل سر“ کہا اور لیفٹ رائیٹ کرتے ہوئے واپس چلے گئے‘ میری پلیٹ کے ایک کونے میں کھیرے کی دو قاشیں پڑی تھیں‘
اس سے ایک انچ کے فاصلے پر سبز دھنیے کی چٹنی تھی اور اس چٹنی سے دو انچ کے فاصلے پر چار چمچ کے برابر چاولوں کی ڈھیری تھی‘ میں نے چھری کے ساتھ وہ ڈھیری کھولی‘ چاولوں سے کانٹا بھرا‘ وہ کانٹا منہ میں ڈالا اور ساتھ ہی میری ہنسی نکل گئی‘ اللہ جھوٹ نہ بلوائے وہ رائسینیا پھیکی کھچڑی تھا اور میں کھچڑی کی ان چار چمچوں کےلئے بیس منٹ انتظار کرتا رہا تھا‘ میں نے لمبا سانس لیا‘ کھیرے کی قاش منہ میں رکھی‘
کوکا کولا کا لمبا گھونٹ بھرا‘ کھچڑی (معذرت چاہتا ہوں) رائسینیا کو زہر مار کیا اور ویٹر کو بل لانے کا اشارہ کر دیا‘ و ہ بل کی بجائے ڈیزرٹس کا مینو کارڈ لے آیا اور مجھے انوکھی انوکھی سویٹ ڈشز چیک کرنے کا مشورہ دینے لگا‘ میں نے نہایت شائستگی کے ساتھ معذرت کر لی‘ وہ مایوس ہو کر واپس گیا اور بل لے آیا‘ میں نے بل کو غور سے دیکھا‘
مجھے کوکا کولا کا ایک گلاس پانچ سو روپے میں پڑا اور چار چمچ پھیکی کھچڑی اڑھائی ہزار روپے میں‘ بل میں سروس چارجز اور جی ایس ٹی بھی شامل تھا‘ یہ سب ملا کر پونے چار ہزار روپے بن گئے ‘ میں نے پے منٹ کی اور اپنی سیٹ سے اٹھ گیا‘ ریستوران کے آدھے عملے نے مجھے جھک کر رخصت کیا‘ باوردی دربان نے دروازہ کھولا‘ میری گاڑی پورچ میں آ گئی‘ میں گاڑی میں بیٹھ گیا‘ ریستوران کا بیرونی عملہ بھی میرے سامنے جھک گیا‘ مجھے بڑی عزت کے ساتھ روانہ کیا گیا۔
میں راستے میں سوچنے لگا‘ پونے چار ہزار روپے میں چار چمچ کھچڑی‘ کیا یہ ظلم نہیں؟ہاں یہ ظلم تھا لیکن میں اپنی فطرت کے برعکس اس ظلم پر خاموش رہاں‘ کیوں؟ یہ میرا دوسرا سوال تھا‘ میں منہ پھٹ آدمی ہوں‘ میں کسی بھی فورم پر کوئی بھی بات کہہ سکتا ہوں لیکن میں اس ریستوران میں یہ ظلم چپ چاپ کیوں سہہ گیا؟ میں کھوجتا رہا یہاں تک کہ وجہ کا سرا میرے ہاتھ میں آگیا‘ یہ سب ریستوران کی مارکیٹنگ کا کمال تھا‘
مارکیٹنگ کھچڑی کو دنیا کی بہترین اور مہنگی ڈش بھی بنا سکتی ہے اور اس ڈش کی زد میں آنے والے مظلوموں کے منہ پر ٹیپ بھی لگا سکتی ہے اور مظلوم کے پاس ظلم سہنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچتا‘ میری ہنسی نکل گئی‘ مجھے ہنسنا چاہیے بھی تھا‘ میں بھول گیا تھا ہم مارکیٹنگ کی اس ایج میں زندہ ہیں جس میں ٹیلی ویژن کا اشتہار یہ فیصلہ کرتا ہے مجھے کون سا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا چاہیے‘
مجھے کس کمپنی کی چائے‘ دودھ‘ چینی‘ انڈے‘ شیمپو‘ صابن‘ ڈٹرجنٹ پاﺅڈر‘ پانی‘ فریج اور اے سی خریدنا چاہیے اور مجھے کس موٹر سائیکل پر بیٹھ کر زیادہ فرحت محسوس ہو گی وغیرہ وغیرہ‘ یہ مارکیٹنگ ہے جو کھچڑی کو رائسینیا‘ آلو کے چپس کو فرنچ فرائز‘ چھلی کو کارن سٹک‘ لسی کو یوگرٹ شیک اور برف کے گولے کو آئس بال بنا دیتی ہے‘ کمپنی اپنی مارکیٹنگ کے زور پر دس روپے کی چیز ہزار روپے میں فروخت کرتی ہے اور گاہک کو اعتراض کی جرا¿ت تک نہیں ہوتی‘
میں یہ بھی بھول گیا تھا‘ یہ مارکیٹنگ صرف کمپنیوں تک محدود نہیں ہوتی‘ مارکیٹنگ کی ضرورت انسانوں اور ملکوں کو بھی ہوتی ہے مثلاً آپ اسامہ بن لادن‘ صدام حسین‘ کرنل قذافی کی مثال لے لیں‘یہ چاروں مارکیٹنگ کا تازہ ترین ثبوت ہیں‘ امریکا نے دس سال اسامہ بن لادن‘ صدام حسین اور کرنل قذافی کی نیگیٹو مارکیٹنگ کی‘ یہ ان تینوں کو سولائزیشن کےلئے عظیم خطرہ ثابت کرتا رہا یہاں تک کہ پوری دنیا نے انہیں ولن تسلیم کر لیا‘
آپ بھارت کی مثال بھی لے لیجئے‘ بھارت ممالک کی مارکیٹنگ کا خوفناک ثبوت ہے‘ بھارت کے نیشنل ڈیٹا سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں 2016ءمیں سب سے زیادہ بم دھماکے بھارت میں ہوئے‘
بھارت کی دس ریاستوں چھتیس گڑھ‘ مغربی بنگال‘ مقبوضہ کشمیر‘ کیرالہ‘ منی پور‘ اڑیسہ‘ تامل ناڈو‘ آندھیرا پردیش‘ پنجاب اور ہریانہ میں پچھلے سال 337 بم دھماکے ہوئے‘ یہ تعداد 2015ءکے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ تھی‘ 2015ءمیں بھارت میں 268 دھماکے ہوئے تھے ‘ عراق 2016ءمیں دوسرے نمبر پر رہا ‘وہاں 221 دھماکے ہوئے‘ پاکستان کا نمبر تیسرا تھا
یہاں 161 دھماکے ہوئے جبکہ افغانستان 132 دھماکوں کے ساتھ چوتھے‘ ترکی 92 دھماکوں کے ساتھ پانچویں اور تھائی لینڈ 71 دھماکوں کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہا‘ بھارت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں دس برسوں سے ہر سال اوسطاً 227 دھماکے ہوتے ہیں لیکن آپ کمال دیکھئے بھارت اس کے باوجود ”شائننگ انڈیا“ ہے ‘ یہ دنیا میں سیاحت‘ موسیقی‘ فلم‘ انڈسٹری اور سپورٹس کا بڑا مرکز ہے‘
وہاں کامن ویلتھ گیمز بھی ہوتی ہیں‘ ورلڈ کپ بھی اور آئی پی ایل بھی‘ بھارت میں میچز کے دوران پورا صوبہ فوج کے حوالے کر دیا جاتا ہے لیکن کوئی انڈیا کی طرف انگلی نہیں اٹھاتا جبکہ تیسرے نمبر پر ہونے باوجود دنیا پاکستان کو خطرناک ترین ملک سمجھتی ہے‘ یہاں 8 سال سے کرکٹ اور سیاحت بند ہیں‘ دنیا کے خوف کا یہ عالم ہے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے نمائندے دوبئی میں بیٹھ کر پاکستانی حکام سے میٹنگ کرتے ہیں۔
یہ کیا ہے اور یہ کیوں ہے؟ ہم نے کبھی سوچا‘ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ بم دھماکوں کے باوجود کیوں شائننگ ہے اور ہم تیسرے نمبر پر ہونے کے باوجود دنیا کا خطرناک ترین ملک کیوں ہیں؟ میرا خیال ہے ہم مارکیٹنگ میں مار کھا رہے ہیں‘ ہمارا پرسیپشن خراب ہے‘ہمیں ہرحال میں مارکیٹنگ کی اچھی ٹیم چاہیے‘ ایک ایسی ٹیم جو ہماری کھچڑی کو رائسینیا بنا دے……!

منقول

جمعرات، 9 جولائی، 2020

Adeeb, Takhleeqar Aur Talluqe Ellahi

صدائے درویش

"لکھاری، تخلیق کار اور اللہ کا باہمی تعلق"

میرے دوستو!

شاعری ہو یا نثر نگاری یا کوئی بھی تخلیقی صنف یا آرٹ، جب تک تخیق کار کا اوپر والے سے رابطہ قائم نہ ہو آمد کا سلسلہ شروع نہ ہوتا، ہزار کوششوں کے باوجود بندہ کچھ بھی نہیں لکھ سکتا یا کوئی تخلیقی عمل گزر سکتا ھے۔
تخلیق کار پر جب ایک خاص طرح کی کیف و مستی طاری ہوتی ہے تو ہی اس پر الہام کی طرح سے اس پر آمد کا آغاز ہونا شروع ہو جاتا ہے تو ھی لکھاری اپنا قلم اٹھاتا ہے اور سنگ تراش اپنا تیشہ۔

اب ایک لکھاری کو کیسے اندازہ ہو کہ وہ اللہ کے پسندیدہ بندو میں شامل ہے، تو اسکا سیدھا سا کلیہ ہے کہ " اگر آپکی تخلیق سے خلق خدا کو انکی بہتری و بقاء کیلئے کوئی منفرد پیغام جا رہا ہے تو سمجھ لیں کہ آپکا شمار بھی اللہ کے پسندیدہ بندوں میں ہو چکا جو خود کو مزید ظاہر کرنے کیلئے آپکا یا کسی بھی تخلیق کار کا انتخاب کر چکا ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے بندوں تک اُسکا الہامی پیغام تک پہنچا سکے، خود کو اللہ کا نائب ثابت کرسکے۔

اس انتخاب کیلئے اللہ رب العزت کے نزدیک مذہب و ملت، رنگ و نسل یا قوم کوئی مسئلہ یا قید نہیں ہوتی " وہ زات پاک، قادر مطلق اس معاملے میں بالکل با اختیار اور بے نیاز ہے، جس پر بھی مہربان ہو جائے، جس کو چاھے اپنے گلے لگا لے۔ اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ مقام و مرتبہ اور عزت و وقار بخش دے، دوستی گانٹھ لے۔ اپنے خاص بندوں کے انتخاب کیلئے "اللہ رب العزت کی رضا شامل حال" ھوتی کہ دنیا بھر میں سے کسی بھی بندے کا
 جب چاھے انتخاب کرلے، بندے اور خالق کے مابین اس انتخاب میں کسی بھی طرح منتخب شدہ بندے کا کوئی کمال نہیں ہوتا، سب اُسکی عنایت اور مہربانی سے ہوا کرتا ہے۔ 

ہاں!

منتخب شدہ بندوں میں "کیف و مستی کے عالم" میں آمد یا الہامی صورت میں ملنے والے پیغامات یا ہدایات کے وصول کرنے کے خواص ضرور موجود ہوتے ہیں کہ وہ اوپر سے ملنے والے signals اور ہدایات کو اپنی تخلیق کردہ صنف کے ذریعے پوری ایمانداری اور دیانتداری سے اللہ کی مخلوق تک پہنچا سکے۔۔

بیشک ہر "تخلیق کار " اللہ کا پسندیدہ بندہ ہوتا ہے کہ جس کی تحریر اور گفتار و کردار اور صناعی سے اللہ کی مخلوق کو اپنی بقاء اور رشد و ہدایت کا راستہ ملتا رھے۔۔ اللہ رب العزت " راز و نیاز" کی باتیں ہر کسی پر منکشف نہیں فرماتے، صرف اپنے پسندیدہ لوگوں اپنے دوستوں اور بہت چھانٹ پھٹک کے بعد اپنے منتخب شدہ افراد سے ہی کیا کرتے ہیں، ہر کسی سے نہیں۔

طالب دعا:-

غلام محمد چوہان،
09.07.2020

منگل، 7 جولائی، 2020

Allah Taala ki Subsay Khubsoorst Naimat Maan

 یادِ رفتگاں

 اللہ کی سب سے خوبصورت نعمت "ماں" کے نام


ماں کتنا پیارا لفظ ہے، صرف تین الفاظ دنیا بھر کی محبّت اور نعمتوں پر بھاری ھیں۔ 
میری ماں (اللّه انکو کروٹ کروٹ جنّت نصیب کرے) سب بہن بھائیوں کے لئے صبر و استقامت اور ایثار و محبّت کا پیکر اور مثال تھیں، باپ کا سایہ هم سب بہں بھائیوں کے سر سے کمسنی میں ہی اٹھ گیا تھا، پھر "ماں" نے ھمیں باپ بن کر بلکہ مرد بن کر پالا اور قدم قدم پر ہمیں سنبھالا اور ہماری حفاظت کی، باپ کی کمی محسوس تک نہ ھونے دی۔ ماں جس نے ھمارے باپ کی زندگی میں کبھی گھر سے باہر قدم نہیں نکالا تھا ھمارے لئے اپنی زات کی مکمل نفی کرکے لوگوں کے گھروں کے برتن تک بھی مانجھے، جھاڑو پوچا تک کیا پھر جو بھی ملا اپنے بچوں کو لا دیا۔

جس گھر کا آنگن والد صاحب کی زندگی میں عزیز و آقارب اور ملنے ملانے والوں سے بھرا ھوتا تھا وہ سب ایسے غائب ھوۓ کہ جیسے تھے ہی نہیں۔
لمبی کہانی ہے کیا اور کتنا بتاؤں۔
امّی کی مجھے پیار سے "کاکا" کہ کر بلایا کرتی تھیں اور وفات تک میں انکے نزدیک انکا کاکا ہی رہا، ماں کی نظروں میں جیسے میں بڑا ھوا ہی نہ تھا۔

بڑھاپے میں ماں کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی، چلتی پھرتی ماں چارپائی کا مستقل حصّہ بن گئی۔ چارپائی پر ماں کا حوصلہ دیدنی تھا، کسی نے بھی پوچھا کہ طبیعت کیسے ہے ؟ جواب ملا بالکل ٹھیک ھوں، اللّه کا شکر ہے، نہ کوئی شکوہ نہ کوئی شکایت۔

میرے کمرے کے ساتھ ماں کا کمرہ تھا، رات کو کبھی کبھی کسی چیز کی ضرورت ھوتی آواز دے لیا کرتی تھیں، مگر ایسا کم ہی ھوتا تھا کہ رات کو ماں نے کسی کو تکلیف دی هو ، یہ الفاظ خود کہا کرتی تھیں کہ آواز دینے سے بچوں کی نیند خراب ھوگی ، سارا دن کے تھکے ہارے ھوتے ھیں کیا رات کو آرام بھی نہ کریں؟

کثرت سگریٹ نوشی کی بنا پر اکثر رات کو مجھے کھانسی آ جایا کرتی تھی، اب  بھی آتی ہے۔کھانسی کی آواز سنتے ہی تڑپ کر ماں کی آواز سنائی دیتی تھی، "کاکا کھنگدا کیوں ایں؟ طبیعت تے ٹھیک اے؟ بتانے پر کہنا کہ بیٹا زیادہ سگرٹاں ناں پیا کر جس میں انکی محبت آمیز ڈانٹ بھی شامل ہوا کرتی تھی، "کاکا" صبح اپنی دوا ضرور لانا۔

یہ ایک چھوٹی سی بات اور ماں کی کیئر اس وقت معمولی سی لگتی تھی مگر اب مجھے بہت اھم لگتی ہے، کھانسی اب بھی آتی ہے، رات کو اب بھی جاگتا ھوں لیکن کھانسنے پر وہ آواز نہیں آتی کہ  "کاکا کھنگدا کیوں ایں؟ دوا لینی سی"
اس وقت ماں کی کمی دنیا بھر نعمتوں سے ذیادہ اھم لگتی ہے، بے اختیار آنسو رواں هو جاتے ھیں، پھر یہ لفظ یاد آتے ھیں کہ "ماں باپ کی کمی کو دنیا بھر کی نعمتیں مل کر بھی پورا نہیں کر سکتیں۔۔ 

اللہ میرے والدین کو اپنی خاص جوار رحمت میں جگہ دے، انکی روح کو سکون بخشے ( آمین یارب العالمین).

غلام محمد چوہان،
05.07.2020

ہفتہ، 4 جولائی، 2020

Hamari Fitri Jaldbazi aur Nateeja

صدائےرویش

ہماری فطری جلد بازی اور بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات

دوستو!

کل ہمیں ضلع شیخوپورہ سے ریلوے لیول کراسنگ پر ایک اندوہناک  ٹریفک حادثے کی اطلاع ملی جس میں بہت سی قیمتی جانوں کا زیاں ہوگیا، ٹرین کی آمد کی وجہ سے پھاٹک تو بند تھا، مگر پھاٹک سے کوئی ایک فرلانگ کے فاصلے پر وہاں کی مقامی آبادی نے ایک اور لیول کراسنگ بھی بنا رکھا تھا کہ اگر ٹرین کی آمد کی وجہ سے روڈ پر موجود پھاٹک بند ہو تو ہم بغلی level crossing کو استعمال کرکے ریلوے لائن پار کر جائیں تاکہ انتظار کی زحمت سے بچا جا سکے۔

کل والا حادثہ بھی اسی ریلوے لیول کراسنگ پر پیش آیا، پھاٹک بند ہونے سے پہلے سکھ زائرین کی دو بسیں ریلوے لائن پاس کر چکی تھیں، جب تیسری بس وہاں پہنچتی ہے تو پھاٹک بند پا کر بس ڈرائیور اس بدقسمت بس کو مذکورہ بالا level crossing کی طرف موڑتا اور انتظار کرنے کی بجائے "جلد از جلد" ریلوے لائن عبور کرنے کی کوشش کرتا ہے  نتیجتاً لاہور سے کراچی جانے والی تیز رفتار "شاہ حسین ایکسپریس" کی زد میں آ جاتا ہے، پھر جو ہوا وہ خبروں کی زینت بن چکا ہے، کاش وہ "کبھی بھی نہ ہونے" سے چند لمحے انتظار کرلیتا, ڈرائیور کی جلدبازی نے اسکی جان سمیت کتنی قیمتی جانے لیں ھم سب کے سامنے ہے، کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

میں تو اکثر لاہور کی شاہراہوں پر نکلتا ہی رہتا ہوں اور آئے دن سڑکوں کے کنارے ایسے جان لیوا حادثات دیکھتا رہتا ہوں جن میں کئی بار انسانی جانوں کا زیاں بھی ہو جاتا ہے، ورنہ ہاتھ، پاؤں یا ٹانگوں کا ٹوٹ جانا تو عام سی بات ہے، موٹر سائیکل والا کار کو پیچھے چھوڑنا چاہتا ہے تو کار سوار دوسرے کار سوار کو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم کس کو اتنی جلد بازی سے Defeat کرنا چاہتے ہیں، پتہ نہیں ھمیں کس بات کی جلدی ہوتی ھے، کیوں ھم چند لمحات کو اپنی جان سے زیادہ اہم اور قیمتی سمجھتے ہیں، چوٹ لگ جانے کے بعد پہلے تو ہم آپس میں ہی سرراہ دست گریبان ہوتے اور ایک دوسرے کی "ماں_بہن" ایک کرتے ہیں پھر دو دہائی ماہ بستر پر تو گزارنا تو گوارا کر لیتے ہیں لیکن صد افسوس کہ تیز رفتاری اور جلد بازی سے باز آکر صبر و سکون سے گاڑی چلانے کی کوشش نہیں کرتے، عادت نہیں بناتے اپنی اور دوسروں کی بقاء کیلئے "تھوڑا انتظار" کرنا نہیں سیکھتے۔ اگر آپ کبھی ٹریفک جام کے مناظر دیکھیں، ہر کسی کو جلدی ھوتی ھے کہ وہ کوئ "کھانچہ" بنا کر نکل جائے باقی جائیں جہنّم میں، نتیجہ بدترین ٹریفک جام اور پھر تمام گاڑیوں کے بے صبری سے بجتے ہوئے ہارن کہ اللہ کی امان۔ " کیا مہذب اقوام کا یہی وطیرہ ہوا کرتا ہے؟

 میرے دوستو!

 آپ جب بھی اپنی سواری پر روڈ پر نکلیں تو ہمیشہ یاد رکھیں " آپ اپنے اور اپنے پیاروں کیلئے چند لمحوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں" آپکی جلد بازی کسی بیگناہ اور گھر کے واحد کفیل کی جان بھی کے سکتی ہے، خدا کیلئے احتیاط برتیں، خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچا کر انہیں زندہ رہنے کا حق دیں"

خدا کیلئے! کبھی نہ ہونے سے تھوڑا سا انتظار کر لینا کہیں بہتر ہے، انسان قیمتی ہیں لمحات نہیں۔ صبر اور سکون کے ساتھ شاہراہوں پر گاڑی لے کر نکلیں اور تحمل مزاج  ہوتے ہوئے اور ملکی ٹریفک قوانین پر عمل کرکے اپنے بہترین شہری ہونے کا ثبوت دیں تو ہم سب کیلئے بہترین عمل ہے۔

احقر العباد:-

غلام محمد چوہان۔
03.07.2020

جمعرات، 2 جولائی، 2020

Neil Armstrong


چاند پر پہلا قدم رکھنے والا نیل آرمسٹرانگ مسلمان ہو گیا؟

بیس سالہ مارک جو پیشہ ور حجام تھا بیٹھے بٹھائے عجیب مصیبت میں گرفتار ہو گیا۔ ایک مشہور امریکی شخصیت نے اس سے بال کٹوائے. مارک نے چپکے سے بال سنبھال کر رکھ لیے، اور لگے ہاتھوں 3 ہزار امریکی ڈالرز میں بیچ کھائے. خبر اخبار میں بھی چھپ گئ اور اس سنکی بڈھے نیل آرمسٹرانگ تک بھی پہنچ گئ جس کے بال تھے. حجام کو کورٹ میں گھسیٹا، پیسے برامد کروائے اور ایک چرچ کو صدقہ کر دیے.

آرمسٹرانگ عجیب شخص تھا، کمال کا عاجز. 1994 میں اس نے آٹوگراف دینے بند کر دیے. یہاں تک کہ دستاویزات پر سائن کرنے بھی چھوڑ دیے. اس لیے کہ اس کے دستخط ہزاروں ڈالرز میں فروخت ہونے لگے تھے. اور وہ نہیں چاھتا تھا کہ اسے مقدس بنا کرپیسے بٹورے جایئں یا لوگوں کولوُٹا جائے۔ وہ اپنی تصویر اور نام تو کجا، اپنا کوئی قول بھی آخر دم تک فروخت کرنے کو تیار نہ ہوا۔ اس کا ایک قول بہت مشہور ہوا۔ اور اسی قول کو جب ایک مشہور ٹی وی چینل نے اپنے پروگرام کا سلوگن بنایا تو یہ اس چینل کو بھی عدالت لے گیا۔ بھاری جرمانہ وصول کرکے ساری رقم اس سکول کو دے دی جہاں سے اس نے کبھی خلاؤں میں اڑنے کی تربیت حاصل کی تھی. نیل آرم اسٹرانگ کا چاند کی سطح سے نشر ہونیوالا یہ قول آج بھی اس کی عاجزی کی کا گواہ ہے. انسان کا یہ ایک چھوٹا سا قدم، نوع انسانی کے لیے ایک بہت بڑی جست ہے۔

نیل آرمسٹرانگ 5 اگست 1930 کو امریکی ریاست  اہایو میں پیدا ہوا. خلاباز بننے سے پہلے وہ امریکی بحریہ میں آفیسر تھا. اس نے کورین وار بھی لڑی - بحریہ سے ریٹائر ہو کراس نے پرڈیو یونیورسٹی اوہایو سے ٹیسٹ پائلٹ کی ڈگری حاصل کی- اور نیشنل ایڈوائزری کمیٹی برائے ایروناٹکس میں خدمات انجام دیتا رہا- 1962 میں اس نے ناسا میں شمولیت اختیار کی۔ اپنی قابلیت اور محنت کے بل بوتے پر وہ 1966 میں خلا میں سفر کرنے والا پہلا انسان بن گیا. 1969 میں اس نے اس سے بھی بڑی جست لگائ اور اپالو 11 مشن کی قیادت کرتے ہوئے چاند پر قدم رکھنے والا پہلا انسان بن گیا- اس نے ایک ساتھی خلاباز کیساتھ اڑھائ گھنٹے چاند پر مختلف تحقیقات کیں. اپالو 2 اس کا آخری خلائ سفر تھا. لیکن تاریخ نے اس کا نام زمین سے دور خلا میں تیرتے کسی اجرام فلکی پر پہلا قدم رکھنے والے انسان کے طور پر محفوظ کر لیا۔!

صدر رچرڈ نکسن نے اسے پریزیڈنٹ  میڈل آف فریڈم سے نوازا- ناسا سے ریٹائرڈ ہو کر اس نے مختلف نوکریاں کیں. وہ مختلف کمپنیوں میں ترجمان کے طور پر تعینات رہا اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کا رکن بھی رہا. لیکن اس نے کہیں بھی اپنے نام کو دنیاوی شہرت کےلیے استعمال نہیں کیا.

کیا یہ سب ایک مومن کے خواص نہین ھیں؟

خبر شائع ہوئ کہ 1980 کے اوائل میں نیل آرمسٹرانگ مصر کے دورے پر گیا. صبح سویرے ہوٹل کے بستر پر اس نے اذان کی آواز سنی۔ وہ اٹھ کر بالکونی میں آ گیا اور ویٹر سے پوچھا یہ کیسی آواز تھی؟ ویٹر نے بتایا یہ مسلمانوں کی "Prayer call " ہے. آرمسٹرانگ کے منہ سے بے اختیار نکلا. What a spacy sound. اس کے ان الفاظ کا ترجمہ کرتے وقت میڈیا نے اپنا ایمانی جذبہ بھی شامل کر دیا. مصر، انڈونیشیا, ملائشیا سے ہوتی ہوئ یہ خبر پاکستان میں بھی مشہور ہوئ کہ نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر پوری اذان سنی، اور مصر جا کر اسلام قبول کر لیا۔

مفتیان کرام کی کچھ تعداد جو چاند پر آرمسٹرانگ کے قدم کو یہود و نصارا کی سازش سمجھتی تھی، نہ صرف چاند کی تسخیر پر اسلامی کتابوں سے ثبوت ڈھونڈ لائ، بلکہ نیل آرمسٹرانگ کو مساجد کے خطبوں میں بھی سراہا جانے لگا. بعد میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک مختصر بیان جاری کیا:

 ہم خدائے واحد کی عبادت کرنے والے مذہب اسلام کی قدر کرتے ہیں لیکن اس خبر کی تردید بھی کرتے ہیں کہ مشہور خلاباز نیل آرمسٹرانگ نے اسلام قبول کیا ہے 

اس پر ایک امریکی اخبار نے چبھتا ہوا تبصرہ کیا کہ مسلمان کسی غیر مسلم خلاباز کو کلمہ پڑھانے کی بجائے پہلے مسلم خلاباز پیدا کریں. پھر چاند پر جاکر اذان دیں.

نیل آرمسٹرانگ 2012 کو 82 سال کی عمر میں  فوت ہوا. کیا عجیب دیانتدار شخص تھا. شہرت اس کے پیچھے بھاگتی رہی اور وہ شہرت سے دور رہا! اگر ہم ہوتے تو چاند سے ویڈیو beپر اپنی سیاسی جماعت کا اعلان کرتے اور واپس آکر "بابا چاند والا" کا آستانہ بنا کر اگلی نسلوں کے نام 
ہمیشہ کی عیش و عشرت لکھ جاتے۔

# کاپی پیسٹ #

بدھ، 1 جولائی، 2020

Ham Islam Aur Corona Virus - ہم، اسلام اور کرونا وائرس

 صدائے درویش

 ہم، اسلام اور کرونا وائرس

میرے دوستو!

کرونا وائرس کے پس منظر میں مجھے ایک حدیث شریف کا مفہوم یاد آرہا ہے وہ میں آج آپ سب کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔

 " ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے پاس پریشانی کے عالم میں آیا اور عرض کی " یا رسول اللہ!
میں دور دراز سے آپکو ملنے آیا تھا، مگر میری اونٹنی ہم گئی ہے،  جہاں میں نے اسے چھوڑ تھا وہ اب وہاں نہیں ہے۔ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کیا تم نے اونٹنی کا " گھٹنا باندھا تھا؟

جواب ملا " نہیں" صرف توکل کی تھی!

آپ نے فرمایا!

پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھو، پھر توکل اختیار کرو!

اسلام دین فطرت ہے، اس حدیث شریف میں ہمیں فطری تقضوں کا ہی درس ملتا ہے، آج کل خطرناک وباء  کرونا وائرس کی صورت میں پھیلی ہوئی ہے اور پوری دنیا اپنی جدید ترین تحقیق اور طبّی سہولیات کی دستیابی کے باوجود اس وباء کے سامنے بلکل بے بس نظر آ رہی ہے، اٹلی اس کی سب سے عمدہ مثال ہے۔

یہ اسٹیٹس لگانے کا میرا مقصد ہی یہی ہے کہ ہم کو من حیث القوم اس سے بچاؤ اور روک تھام کیلئے ہمیں فوری طور پر کیا کرنا چاہئے، دوستو! اس میں سب سے پہلے ہمیں اونٹ کا گھٹنا باندھنا ہوگا، یعنی تمام حفاظتی تدبیر بھی اختیار کریں، پھر اللہ پر توکل اختیار کریں, پھر جو اللہ کی رضا اس پر سر خم تسلیم!

تقدیر و تدبیر کے معاملے میں ہم بے بس ضرور ہیں، لیکن!

قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ بھی ہے کہ " نے (اسکو) اتنا ہی دیا جس نے اکوشش کی، صفائی کو بھی نصف ایمان اسلام نے کہا ہے دنیا کے کسی اور مذہب میں جتنا صفائی پر زور اسلام دیتا ہے دنیا کے کسی بھی مذہب میں نہیں کہ صفائی کو "نصف ایمان" کا درجہ دیا گیا ہو۔

کرونا وائرس کا فی زمانہ کسی بھی طرح کا علاج ممکن نہیں نہ ہی کوئی ایسی ویکسین بنی ہے جس سے بنی نوع انسان کیلئے اس سے بچاؤ ممکن ہو، 

البتہ! 

حفاظتی تدابیر جیسا کہ مندرجہ بلا حدیث شریف مفہوم بھی ہے، اس پر ٪100 سختی کے ساتھ عمل کرکے ہم اس موذی مرض سے نہ صرف بچ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کیلئے بھی خطرہ ثابت نہیں ہو سکتے، یاد رکھیں! "صفائی نصف ایمان ہے" ہے اور یہی اس وقت اس موزی اور خطرناک وباء کا حل اور ممکنہ حد تک بچاؤ کا واحد راستہ بھی۔

اس موضوع پر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر حکومت اور ڈاکٹر صاحبان وقتاً فوقتاً ہدایات جاری کر رہے ہیں، ہمارا اوّلیں فریضہ ہے کہ ہم اس پر عمل کرکے خود، اپنے پیاروں اور معاشرے کو اسکا شکار ہونے سے بچا سکیں۔

یہی تدبیر اور صفائی نصف ایمان کا مفہوم بھی ہے، ہم اور آپ من حیث القوم  پوری کوشش کریں پھر نتائج اللہ رب العزت پر چھوڑ دیں، میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی محنت کو کبھی بھی ضائع نہیں فرماتے۔

فی زمانہ چین اس بات کی بہت عمدہ مثال ہے جو انپی کوششوں سے اس موزی وائرس کو خبروں کے مطابق شکست دے چکا ہے۔

خدا کیلئے اپنی اور اپنے پیاروں اور مخلوق خدا کی حفاظت کیلئے جملہ احتیاطی  تدابیر " حقوق العباد" سمجھ کر اختیار کریں، ٹو ان شاء اللہ ہم مل جل کر اس موزی وباء پر دوست ملک چین کی طرح بہت جلد قابو پا لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

عرض آخر کہ استغفار کا ورد کریں توبہ کریں کہ من حیث القوم کوئی ایسی خرابی نہیں جو اس وقت ہم میں موجود نہ ہو، ہو سکتا ہے کہ یہ وباء سے کہیں زیادہ اللہ رب العزت عزت کی طرف سے بطور تنبیہ سزا کی ہی کوئی صورت نہ ہو۔

اللہ رب العزت ہمارے آقا و مولیٰ کے صدقے وسیلے اور طفیل ہم سب اور ساری بنی نوع انسان پر اپنا کرم فرمائیے۔

(آمین یا رب العالمین).

طالب دعا:-
جے۔ایم چوہان
March 22, 2020


🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🕋🇵🇰🇵🇰🇵🇰🕋🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...