صدائے درویش
"لکھاری، تخلیق کار اور اللہ کا باہمی تعلق"
میرے دوستو!
شاعری ہو یا نثر نگاری یا کوئی بھی تخلیقی صنف یا آرٹ، جب تک تخیق کار کا اوپر والے سے رابطہ قائم نہ ہو آمد کا سلسلہ شروع نہ ہوتا، ہزار کوششوں کے باوجود بندہ کچھ بھی نہیں لکھ سکتا یا کوئی تخلیقی عمل گزر سکتا ھے۔
تخلیق کار پر جب ایک خاص طرح کی کیف و مستی طاری ہوتی ہے تو ہی اس پر الہام کی طرح سے اس پر آمد کا آغاز ہونا شروع ہو جاتا ہے تو ھی لکھاری اپنا قلم اٹھاتا ہے اور سنگ تراش اپنا تیشہ۔
اب ایک لکھاری کو کیسے اندازہ ہو کہ وہ اللہ کے پسندیدہ بندو میں شامل ہے، تو اسکا سیدھا سا کلیہ ہے کہ " اگر آپکی تخلیق سے خلق خدا کو انکی بہتری و بقاء کیلئے کوئی منفرد پیغام جا رہا ہے تو سمجھ لیں کہ آپکا شمار بھی اللہ کے پسندیدہ بندوں میں ہو چکا جو خود کو مزید ظاہر کرنے کیلئے آپکا یا کسی بھی تخلیق کار کا انتخاب کر چکا ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے بندوں تک اُسکا الہامی پیغام تک پہنچا سکے، خود کو اللہ کا نائب ثابت کرسکے۔
اس انتخاب کیلئے اللہ رب العزت کے نزدیک مذہب و ملت، رنگ و نسل یا قوم کوئی مسئلہ یا قید نہیں ہوتی " وہ زات پاک، قادر مطلق اس معاملے میں بالکل با اختیار اور بے نیاز ہے، جس پر بھی مہربان ہو جائے، جس کو چاھے اپنے گلے لگا لے۔ اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ مقام و مرتبہ اور عزت و وقار بخش دے، دوستی گانٹھ لے۔ اپنے خاص بندوں کے انتخاب کیلئے "اللہ رب العزت کی رضا شامل حال" ھوتی کہ دنیا بھر میں سے کسی بھی بندے کا
جب چاھے انتخاب کرلے، بندے اور خالق کے مابین اس انتخاب میں کسی بھی طرح منتخب شدہ بندے کا کوئی کمال نہیں ہوتا، سب اُسکی عنایت اور مہربانی سے ہوا کرتا ہے۔
ہاں!
منتخب شدہ بندوں میں "کیف و مستی کے عالم" میں آمد یا الہامی صورت میں ملنے والے پیغامات یا ہدایات کے وصول کرنے کے خواص ضرور موجود ہوتے ہیں کہ وہ اوپر سے ملنے والے signals اور ہدایات کو اپنی تخلیق کردہ صنف کے ذریعے پوری ایمانداری اور دیانتداری سے اللہ کی مخلوق تک پہنچا سکے۔۔
بیشک ہر "تخلیق کار " اللہ کا پسندیدہ بندہ ہوتا ہے کہ جس کی تحریر اور گفتار و کردار اور صناعی سے اللہ کی مخلوق کو اپنی بقاء اور رشد و ہدایت کا راستہ ملتا رھے۔۔ اللہ رب العزت " راز و نیاز" کی باتیں ہر کسی پر منکشف نہیں فرماتے، صرف اپنے پسندیدہ لوگوں اپنے دوستوں اور بہت چھانٹ پھٹک کے بعد اپنے منتخب شدہ افراد سے ہی کیا کرتے ہیں، ہر کسی سے نہیں۔
طالب دعا:-
غلام محمد چوہان،
09.07.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں