صدائےرویش
ہماری فطری جلد بازی اور بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات
دوستو!
کل ہمیں ضلع شیخوپورہ سے ریلوے لیول کراسنگ پر ایک اندوہناک ٹریفک حادثے کی اطلاع ملی جس میں بہت سی قیمتی جانوں کا زیاں ہوگیا، ٹرین کی آمد کی وجہ سے پھاٹک تو بند تھا، مگر پھاٹک سے کوئی ایک فرلانگ کے فاصلے پر وہاں کی مقامی آبادی نے ایک اور لیول کراسنگ بھی بنا رکھا تھا کہ اگر ٹرین کی آمد کی وجہ سے روڈ پر موجود پھاٹک بند ہو تو ہم بغلی level crossing کو استعمال کرکے ریلوے لائن پار کر جائیں تاکہ انتظار کی زحمت سے بچا جا سکے۔
کل والا حادثہ بھی اسی ریلوے لیول کراسنگ پر پیش آیا، پھاٹک بند ہونے سے پہلے سکھ زائرین کی دو بسیں ریلوے لائن پاس کر چکی تھیں، جب تیسری بس وہاں پہنچتی ہے تو پھاٹک بند پا کر بس ڈرائیور اس بدقسمت بس کو مذکورہ بالا level crossing کی طرف موڑتا اور انتظار کرنے کی بجائے "جلد از جلد" ریلوے لائن عبور کرنے کی کوشش کرتا ہے نتیجتاً لاہور سے کراچی جانے والی تیز رفتار "شاہ حسین ایکسپریس" کی زد میں آ جاتا ہے، پھر جو ہوا وہ خبروں کی زینت بن چکا ہے، کاش وہ "کبھی بھی نہ ہونے" سے چند لمحے انتظار کرلیتا, ڈرائیور کی جلدبازی نے اسکی جان سمیت کتنی قیمتی جانے لیں ھم سب کے سامنے ہے، کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
میں تو اکثر لاہور کی شاہراہوں پر نکلتا ہی رہتا ہوں اور آئے دن سڑکوں کے کنارے ایسے جان لیوا حادثات دیکھتا رہتا ہوں جن میں کئی بار انسانی جانوں کا زیاں بھی ہو جاتا ہے، ورنہ ہاتھ، پاؤں یا ٹانگوں کا ٹوٹ جانا تو عام سی بات ہے، موٹر سائیکل والا کار کو پیچھے چھوڑنا چاہتا ہے تو کار سوار دوسرے کار سوار کو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم کس کو اتنی جلد بازی سے Defeat کرنا چاہتے ہیں، پتہ نہیں ھمیں کس بات کی جلدی ہوتی ھے، کیوں ھم چند لمحات کو اپنی جان سے زیادہ اہم اور قیمتی سمجھتے ہیں، چوٹ لگ جانے کے بعد پہلے تو ہم آپس میں ہی سرراہ دست گریبان ہوتے اور ایک دوسرے کی "ماں_بہن" ایک کرتے ہیں پھر دو دہائی ماہ بستر پر تو گزارنا تو گوارا کر لیتے ہیں لیکن صد افسوس کہ تیز رفتاری اور جلد بازی سے باز آکر صبر و سکون سے گاڑی چلانے کی کوشش نہیں کرتے، عادت نہیں بناتے اپنی اور دوسروں کی بقاء کیلئے "تھوڑا انتظار" کرنا نہیں سیکھتے۔ اگر آپ کبھی ٹریفک جام کے مناظر دیکھیں، ہر کسی کو جلدی ھوتی ھے کہ وہ کوئ "کھانچہ" بنا کر نکل جائے باقی جائیں جہنّم میں، نتیجہ بدترین ٹریفک جام اور پھر تمام گاڑیوں کے بے صبری سے بجتے ہوئے ہارن کہ اللہ کی امان۔ " کیا مہذب اقوام کا یہی وطیرہ ہوا کرتا ہے؟
میرے دوستو!
آپ جب بھی اپنی سواری پر روڈ پر نکلیں تو ہمیشہ یاد رکھیں " آپ اپنے اور اپنے پیاروں کیلئے چند لمحوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں" آپکی جلد بازی کسی بیگناہ اور گھر کے واحد کفیل کی جان بھی کے سکتی ہے، خدا کیلئے احتیاط برتیں، خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچا کر انہیں زندہ رہنے کا حق دیں"
خدا کیلئے! کبھی نہ ہونے سے تھوڑا سا انتظار کر لینا کہیں بہتر ہے، انسان قیمتی ہیں لمحات نہیں۔ صبر اور سکون کے ساتھ شاہراہوں پر گاڑی لے کر نکلیں اور تحمل مزاج ہوتے ہوئے اور ملکی ٹریفک قوانین پر عمل کرکے اپنے بہترین شہری ہونے کا ثبوت دیں تو ہم سب کیلئے بہترین عمل ہے۔
احقر العباد:-
غلام محمد چوہان۔
03.07.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں