منگل، 7 جولائی، 2020

Allah Taala ki Subsay Khubsoorst Naimat Maan

 یادِ رفتگاں

 اللہ کی سب سے خوبصورت نعمت "ماں" کے نام


ماں کتنا پیارا لفظ ہے، صرف تین الفاظ دنیا بھر کی محبّت اور نعمتوں پر بھاری ھیں۔ 
میری ماں (اللّه انکو کروٹ کروٹ جنّت نصیب کرے) سب بہن بھائیوں کے لئے صبر و استقامت اور ایثار و محبّت کا پیکر اور مثال تھیں، باپ کا سایہ هم سب بہں بھائیوں کے سر سے کمسنی میں ہی اٹھ گیا تھا، پھر "ماں" نے ھمیں باپ بن کر بلکہ مرد بن کر پالا اور قدم قدم پر ہمیں سنبھالا اور ہماری حفاظت کی، باپ کی کمی محسوس تک نہ ھونے دی۔ ماں جس نے ھمارے باپ کی زندگی میں کبھی گھر سے باہر قدم نہیں نکالا تھا ھمارے لئے اپنی زات کی مکمل نفی کرکے لوگوں کے گھروں کے برتن تک بھی مانجھے، جھاڑو پوچا تک کیا پھر جو بھی ملا اپنے بچوں کو لا دیا۔

جس گھر کا آنگن والد صاحب کی زندگی میں عزیز و آقارب اور ملنے ملانے والوں سے بھرا ھوتا تھا وہ سب ایسے غائب ھوۓ کہ جیسے تھے ہی نہیں۔
لمبی کہانی ہے کیا اور کتنا بتاؤں۔
امّی کی مجھے پیار سے "کاکا" کہ کر بلایا کرتی تھیں اور وفات تک میں انکے نزدیک انکا کاکا ہی رہا، ماں کی نظروں میں جیسے میں بڑا ھوا ہی نہ تھا۔

بڑھاپے میں ماں کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی، چلتی پھرتی ماں چارپائی کا مستقل حصّہ بن گئی۔ چارپائی پر ماں کا حوصلہ دیدنی تھا، کسی نے بھی پوچھا کہ طبیعت کیسے ہے ؟ جواب ملا بالکل ٹھیک ھوں، اللّه کا شکر ہے، نہ کوئی شکوہ نہ کوئی شکایت۔

میرے کمرے کے ساتھ ماں کا کمرہ تھا، رات کو کبھی کبھی کسی چیز کی ضرورت ھوتی آواز دے لیا کرتی تھیں، مگر ایسا کم ہی ھوتا تھا کہ رات کو ماں نے کسی کو تکلیف دی هو ، یہ الفاظ خود کہا کرتی تھیں کہ آواز دینے سے بچوں کی نیند خراب ھوگی ، سارا دن کے تھکے ہارے ھوتے ھیں کیا رات کو آرام بھی نہ کریں؟

کثرت سگریٹ نوشی کی بنا پر اکثر رات کو مجھے کھانسی آ جایا کرتی تھی، اب  بھی آتی ہے۔کھانسی کی آواز سنتے ہی تڑپ کر ماں کی آواز سنائی دیتی تھی، "کاکا کھنگدا کیوں ایں؟ طبیعت تے ٹھیک اے؟ بتانے پر کہنا کہ بیٹا زیادہ سگرٹاں ناں پیا کر جس میں انکی محبت آمیز ڈانٹ بھی شامل ہوا کرتی تھی، "کاکا" صبح اپنی دوا ضرور لانا۔

یہ ایک چھوٹی سی بات اور ماں کی کیئر اس وقت معمولی سی لگتی تھی مگر اب مجھے بہت اھم لگتی ہے، کھانسی اب بھی آتی ہے، رات کو اب بھی جاگتا ھوں لیکن کھانسنے پر وہ آواز نہیں آتی کہ  "کاکا کھنگدا کیوں ایں؟ دوا لینی سی"
اس وقت ماں کی کمی دنیا بھر نعمتوں سے ذیادہ اھم لگتی ہے، بے اختیار آنسو رواں هو جاتے ھیں، پھر یہ لفظ یاد آتے ھیں کہ "ماں باپ کی کمی کو دنیا بھر کی نعمتیں مل کر بھی پورا نہیں کر سکتیں۔۔ 

اللہ میرے والدین کو اپنی خاص جوار رحمت میں جگہ دے، انکی روح کو سکون بخشے ( آمین یارب العالمین).

غلام محمد چوہان،
05.07.2020

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...