پیر، 28 ستمبر، 2020

Bayshak aaj ka Insan Khasaray men hay - Part 2

اک چھوٹی بات ۔ صدائے درویش ۔ حالاتِ حاضرہ

بیشک انسان خسارے میں ھے (حصہ دوئم) 

میرے دوستو!


زندگی ایک دائرہ ہے، پہلے سانس سے آخری ہچکی تک، جہاں سے شروع ہوا وہیں پر ختم۔


آئیں آج آخرِ شب یہ عہد کریں کہ ہم دوسروں کیلئے بھی جینے کی شروعات کریں، اپنے لئے تو ہر کوئی جیا ہی کرتا ہے۔


اس دور میں ہم ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے، مشکوک رہنے کے عادی ہو چکے ہیں، خلوص اور محبت کے پھولوں کو بھی ہم مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں، کسی کی بھی محبت بھری مسکراہٹ کو دیکھ کر ڈر سے جاتے ہیں، بیساختہ منہ موڑ لینے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں، زندگی کی اس خوبصورت نعمت سے فرار کو ہی ہم اپنی اوّلین ترجیح سمجھتے ہیں۔ 


میرے ساتھیو! 


اس صورتِ کو پیدا کرنے کے یقینی طور پر پیدا کرنے والے بھی ہم خود ہی ہیں، ہم نے اپنے ہاتھوں سے محبت اور خلوص کو دوسروں کیلئے مشکوک بنایا ہے، اس خوبصورت سے احساس کو اپنی ذاتی منفی حسیات کی تسکین کی تکمیل کرتے رہنے کے مکروہ عمل سے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ محبت، شفقت اور اپنائیت کی ایک مسکراہٹ اس دور میں جرم سمجھی جانے لگی ھے؟

اس دورِ پرفتن میں ہم اگر کسی کی طرف مسکرا کر خلوص اور محبت سے اپنا ہاتھ بڑھائیں تو فریقِ ثانی سہم سا جاتا ہے کہ مسکراہٹ کا مسکراہٹ یا محبت سے جواب دینے کا بھاری خمیازہ نہ بھگتنا پڑ جائے گا، کثرت نے بھگتا بھی ہے۔


میرے دوستو!


آپ سب کو پتہ ہے کہ "صفائی نصف ایمان ہے" یعنی اگر انسان صاف ستھرا ہے تو اسکا آدھا ایمان سلامت ہے، اسی فارمولے کو اپنی عملی زندگی پر اگر لاگو کر کے ہم صرف اپنی نیتیں ہی صاف کرلیں تو باقی ماندہ مراحل بھی طے ہوتے چلے جائیں گے، ہمارا ایمان مکمل ہو جائے گا،  ہمیں کسی کی محبت بھری مسکراہٹ کو مشکوک ہوکر نظر انداز نہیں کرنا پڑے گا، ہم محبت اور خلوص نے نام سے ڈریں یا سہمیں گے نہیں، خوف زدہ نہیں ہونگے، بلکہ بڑھے ہوئے ہاتھ کو ہم مضبوطی سے تھامنے کے عادی ہوتے چلے جائینگے، یہ معجزہ "صفائی نصف ایمان" کو اپنے زندگی کا حصّہ بنانے سے ہی ہوسکتا ہے، جس کی بنیاد ہماری نیّت کا صاف ہونا ہے، صرف نیّت کا۔


کام مشکل ہے مگر ناممکن نہیں، ہم اگر چاہیں تو ایسا ہوجانا ممکن ہے، ھم پھر سے ایک دوسرے پر پھر سے بھروسہ کرنے کو تیار ہوجائیں گے، آدھا ایمان ہی ہماری زندگی کا حصّہ نہیں بنے گا، بلکہ صرف اس عمل سے ہمارا پورا ایمان ہی مکمل اور پاکیزہ ہوتا ہوا ملے گا، آزمائش شرط ہے، جینا آسان ہوجاۓ گا، ہمارا اپنا بھی اور معاشرے کا بھی۔


گھاٹے کا سودا نہیں ہے، آزما کر دیکھ لیں، ہمیں یہی دنیا سماوی جنّت سے زیادہ خوبصورت نظر آنے لگ جائے گی، یہ دنیا بھی آسان اور وہ دنیا بھی۔ اللہ ہمیں کہنے اور کر گزرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے، ہمارے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ میرا ایمان ہے اگر نيّت صاف ہو تو ہر منزل آسان ہوجاتی ہے، یہ میرا کہنا نہیں، ہمارے معاشرتی آداب طے کرنے والوں کا سنہرا قول بھی ہے۔


دعاگو اور طالبِ دعا،

آپ سب کا:-

جی۔ایم چوہان۔

27.09.2020


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...