صدائے درویش . آخرِشب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
آج کا انسان دانشمند یا اناپرست خودغرض
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ!
میرے دوستو!
ہمارے اس معاشرے کی بہت بڑی خرابی ہے کہ یہاں ھر کوئی خود کو عقلِ کل سمجھتا ہے، دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ ہمیشہ خود کو تھوڑا احمق، نکمّا اور بے عقل ھی رہنے دیا جائے یا سمجھا جائے تو بہتر ہے، بھرے برتن میں کوئی نادان ہی پانی ڈالتا ہے، پانی کم ہوکر جب تک زمین وتّر پر نہ آجائے تو وہ فصل پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتی، بہترین بیج بھی اس میں پھینک دیا جائے تو ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر طلب صادق ہے تو خود کو خالی سمجھنا سیکھ لیں ورنہ آگے بڑھنے کا سفر رُک سکتا ہے، نیا پانی ڈالتا اور پیالہ پیالہ بھر کسی کے کام آتا رہے، کسی کی پیاس بجھاتا رھے تو مٹکے میں موجود پانی کا پانی کبھی بھی باسی نہیں ھوتا، اسے کائی نہیں لگتی قابلِ استعمال رہتا ہے، نجس نہیں سمجھا جاتا، مٹکا ہمیشہ بھرا اور پاک و صاف رہتا ہے۔
خالی رہنا سیکھ لیں، بھرا ہوا نہیں، عاجزی و انکساری ہی پھلدار ہونے کی نشانی ہے، کانٹے دار درخت پر پھول تو لگ سکتے ہیں، پھل نہیں۔
کیا کبھی کسی دوست نے اُجاڑ کوئیں دیکھے ہیں؟
جب تک کنواں پانی تقسیم کرتا رہے پاک و صاف سمجھا جاتا ہے، علم و دانش اور دولت بھی ایک طرح سے پانی کا کنواں ہی ہوا کرتی ہے، اسے بانٹتے رہنا ہی بہترین عمل ہے، فیض جاری ہی رہنا چاہئے، اگر بانٹنے کا عمل رُک جائے تو کنواں غیر آباد ہوجاتا ہے، بلآخر سوکھ کر ہمیشہ کیلئے ختم ھوجاتا ھے ۔
دوسروں کے دُکھ بانٹنا سیکھئے، یہی انسانیت ہے، عبادت ہے، محبّت ہے، اور بہترین توشہء آخرت بھی،
آج آخرِشب میں فقیر کی پٹاری میں یہی چند الفاظ ہیں، زندگی بخیر، مزید باتیں پھر سہی۔
طالبِ دعا:-
غلام محمد چوہان۔
26.11.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں