منگل، 1 دسمبر، 2020

Social Media ka Ghalat Istemal

صدائے درویش

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات اور سوشل میڈیا کاغلط استعمال، ھماری ذمہ داریاں


السلام علیکم!


آج میں آپ سب کا زیادہ وقت نہیں لونگا اور نہ ہی کوئی لمبا چوڑا "بھاشن" دینے کا ارادہ ہے، ایک ہی پوائنٹ پر آپ سب سے بات ہوگی، وہ ہے سوشل میڈیا اور اسکا ناجائز استعمال۔ 


آپ سب دوست جانتے ہیں کہ یہ فیس بک کی دنیا ہے جس میں مخلص اور سچّے لوگ یا دوست خال خال ہی ملا کرتے ہیں، ورنہ کثرت ایک سراب کے سوا کچھ بھی نہیں, یہ بھی حقیقت ہے کہ اس فورم کو ایسا بنانے والے بھی ہم خود ہی ہیں، کوئی دوسرا نہیں۔


ہم برصغیر کے لوگ اس سوشل میڈیا کا ناجائز فائدہ بھی خوب اٹھاتے ہیں، فیس بک کے بانی نے کبھی خواب میں بھی اسکا وہ استعمال نہیں سوچا ہوگا جس برے طریقے سے ہم اسکا استعمال کررہے ہیں۔


دیکھا جائے تو فیس بک ایک طرح سے ایک "انٹرٹینمنٹ" پلیٹ فارم ہے، مگر اسکا جس طرح سے ہم استعمال کررہے ہیں وہ بھی ہم سب کے سامنے ہے۔ سارے دن کا تھکا ماندہ انسان جب سوشل میڈیا پر آتا ہے تو اُسے یہاں آکر دوستوں سے مل کر خوش ہونا چاہئے، نہ کہ بھانت بھانت کی بولیاں سن کر ڈسپرس اور افسردہ و پریشان۔


کوئی سیاست کو لئے بیٹھا ہے تو کوئی مذہبی معاملات کو تو کوئی کسی کی ذاتیات کو، ہر کوئی ایک دوسرے کی کردار کشی پر اپنا فریضہ سمجھ کر کمربستہ ہے۔ ہر کوئی خود کو درست اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے کیلئے سردھڑ کی بازی لگانے میں مصروف ہے۔ بات یہاں تک ہی رہتی تو پھر بھی بہتر تھا، اس وقت کثرت ایسی ہے جو اس فورم کو "جنسی تحریک" پیدا کرنے اور لوگوں کو اس طرف مائل کرنے کیلئے بھی سرگرم عمل ہے، لوگوں سے ان باکس میں آکر ایسی باتیں اور تصاویر کیساتھ ساتھ ذاتی ننگی ویڈیوز بھی شئیر کرتے ہیں کہ دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔


دوستو!


اس بات کو یاد رکھیں، ہم اگر ہندو، سکھ، عیسائی یا مسلمان ہیں تو اسکے ساتھ ساتھ ہم " مشرقی لوگ " بھی ہیں، ہماری بھی کچھ روایات ہیں جن میں شرم و حیاء اور حفظ مراتب کا خیال بھی ہے، لوگوں کی کبھی عزتیں ساجھی ہوا کرتی تھیں، آج وہ حالت ہے کہ لوگوں کا مقدس رشتوں سے بھی یقین آٹھ چکا ہے، لوگ اب کسی پر یقین کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے خائف ہیں، ایسا کچھ ہوا بھی ہے کہ بندہ بندے سے خوف زدہ ہو جائے، حقیقت کم اور دھوکا زیادہ ہے، قدم قدم پر دھوکہ، فریب اور چیٹنگ کا سامنا ہو تو کون کسی پر اعتبار کرے گا اور کیوں۔


میرےساتھیو!


دوستی بھی ایک طرح کا مقدّس سا رشتہ ھی ھے، اس میں اگر ھم کسی کے ساتھ دو نمبری یا دھوکہ بازی کریں گے تو تو اس مقدّس رشتے کا بھی وقار مجروح ہوگا، دوست بنیں اور دوست بنائیں، میں اس سے کسی کو بھی منع نہیں کرتا، نہ ہی مجھے کرنا چاہئے، بس دوستی کے نام پر کسی کے بھی ساتھ چیٹنگ مت کریں، خصوصاً خواتین کیساتھ۔ 

خواتین سے بھی ملتمس ہوں کہ وہ بھی کسی ایسی حد کو مت عبور کریں جس سے بعد میں انہیں پچھتاوا ہو۔ 

عزتِ نفس جسے عرفِ عام میں "Self respect" بھی کہتے ہیں اُسکا ضرور خیال رکھیں، اپنی بھی اور دوسروں کی بھی، کیونکہ میرے خیال میں دنیاوی زندگی میں عزت سے بڑھ کر کوئی چیز ہے ہی نہیں، عزت چاہے مرد کی ہو یا کسی خاتون کی وہ عزت ہی ہوا کرتی ہے، اپنی عزت و وقار کو بھی محفوظ رکھیں اور اپنے ان باکس کی تحریم کو بھی، میری آپ سب سے آخرشب یہی التماس ہے۔


آپ سب کا:-

غلام محمد چوہان۔

25.11.2020.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...