بدھ، 2 دسمبر، 2020

Naiki Aur Baddi

صدائے درویش

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

نیکی اور بدی کی جنگ اور اسلامی تعلیمات

میرے دوستو!

اگر ہم تاریخ عالم پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ نیکی اوربدی میں صدیوں سے جنگ جاری و ساری ہے، صرف اُسکی شکل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

اگر ہم صرف "ھندو میتھالوجی" کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کل یگ چل رہا ہے، کب سے چل رہا ہے اسکا کسی کو بھی علم نہیں۔ ہندو دھرم کے عقائد کے مطابق کالکی اوتار آئیں گے بدکاروں کے خلاف ہتھیار اٹھا کر انہیں ختم کریں گے تو یہ "کل یگ" ختم ہوگا، ایسا ہی اسلام میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں احادیث مبارکہ اور روایات ملتی ہیں، کب آئیں گے اور مختلف فتنوں کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے، بدی کو شکست دیں گے اور ہر طرف اسلام کا بھر ست دور دورہ ہوگا، شانتی ہی شانتی ہوگی، لیکن کب نزول ہوگا، کچھ علم نہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ شائید اب آپ علیہ السلام کی آمد کا وقت قریب ہے۔


میرے دوستو!


پہلےعرض کر چکا ہوں کہ ازل سے ہی نیکی اور بدی میں جنگ جاری ہے، اب ہم "عصرِ حاضر" پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں وہ کچھ دیکھنے اور سننے کو مل رہا ہے کہ "الحفیظ و الامان۔" کچھ واقعات تو ایسے ہوئے ہیں کہ دیکھ اور سن کر روح کانپ اٹھتی ہے، بیساختہ ذہن میں آتا ہے کہ "ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا" لیکن ویسا ہو چکا ہوتا ہے۔


میں جب اپنے بچپن کے ماحول کو یاد کرکے عصرِ حاضر پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ہر طرح سے زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے، بیساختہ خود سے کہہ اٹھتا ہوں کہ يار وہی دور اچھا تھا، جیسے میں سوچ کر آج سے 50,40 سال پہلے کے دور کو اچھا سمجھتا ہوں، مجھے یاد ہے میرے والدین اور دیگر عزیز و اقارب گئے وقتوں کو بھلےوقت کہہ کر یاد کیا کرتے تھے، اور جس وقت کو میں آج اپنا بہترین وقت سمجھتا ہوں، اسے وہ اسے دورِپرفتن کہا کرتے تھے۔ شائید اُنکے اجداد ہمارے بڑوں کے بھلےوقتوں کو انتہائی بُرا وقت سمجھتے رہے ہوں۔ میرے ایک بہت اچھے ہندو دوست اسے کال کا چکّر" کہا کرتے تھے، شائید ہو بھی۔


حضرت آدم علیہ السلام کے نزول کے بعد جب دنیا میں پہلا قتل ہوتا ہے، بھائی کو بھائی اقلیمہ کی خاطر مار ڈالتا ہے تو یہ کل یگ تب سے ھی شروع ہوگیا تھا جو ہنوز جاری ہے، کب تک جاری رہے گا، کچھ پتہ نہیں کچھ اندازہ نہیں۔


یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ جب بھی برائی اور ظلم استبداد کو کسی بھی قوم میں حد سے زیادہ عروج حاصل ہوا، وہاں اللہ کے نیک بندے، نبی اور اوتار اُترے ہیں، ظلم و ستم اور وقت کے خدائی دعوے کرنے والوں کے خلاف صف آراء ہوتے ہیں شکست دیتے ہیں۔ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) انبیاء کرام کے سلسلے کی آخری کڑی ہیں، آپکی بعثت کے ساتھ ہی اللہ رب العزت کی طرف سے انبیاء کرام کا آنا رُک گیا ہے، یہی ہمارے ایمان کی بنیاد اور عقیدہ ہے۔


آنحضرت کے دنیا سے وصال کے بعد پھر سے جو دنیا خصوصاً عالمِ اسلام کی جو حالت ہوتی ہے اُسے پڑھ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، خصوصاً سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی المرتضیٰ مرتضیٰ کا دورِ خلافت اور پھر سانحہء کربلاء، تفصیل میں جانا ممکن نہیں، آپ سب اصحاب کو سب اندازہ ہوگا کہ تب کیا ہوا، پھر کیا ہوتا چلا گیا اور اب کیا ہو رہا ہے۔


موجودہ حالات میں مجھے اور آپکو جو مسائل اور آسانیاں درپیش ہیں وہ ہمیں اجداد کو نہیں تھیں اور اسی طرح سے جو چیلنجز، آسانیاں اور آرائش ہمیں ہیں وہ آنے والی نسلوں کو نہیں ہونگی، دور جدید کے مسائل آنے والوں کے لئے ہم سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔


جو مذہبی اور اخلاقی اقدار ہمارے اجداد کے دور میں تھیں وہ اب نہیں ہیں، آنے والا وقت کیسا ہوگا، نئی نسل کیا کیا کچھ بھگتے گی، اس کا بھی اندازہ لگانا بہت مشکل سا عمل ہے۔ اندازہ ہے کہ انکی مصروف زندگی میں سے اگر اُنہیں کچھ سوچنے کیلئے فارغ وقت ملا تو وہ ہمارے اس دور کو اچھا وقت کہیں کہ جو ہمارے بڑے وقت گزار گئے وہی اچھا وقت تھا، ہم بُرا وقت گزار رہے ہیں۔ یہی کال کا چکّر ہے اور یہ بھی کہ انسان کسی بھی حال میں خوش نہیں رہتا۔


میرے ساتھیو!


اس وقت جو ہمیں سب سے بڑا سماجی مسئلہ درپیش ہے وہ ہمارا اخلاقی انحطاط ہے، اگر ہم اخلاقیات میں دیگر اقوامِ عالم سے پیچھے رہ جاتے ہیں تو ہم یقینی طور پر مذہبی طور پر بھی سب سے پیچھے رہ جائیں گے کیوں کہ "مذہب اور اخلاق" دونوں ہی لازم و ملزوم ہیں۔


آج کے دور کے حساب سے جو کچھ face کررہے ہیں اُن میں ہمارا اخلاقی طور پر دیوالیہ پن صاف عیاں ہے، آپ پرنٹ میڈیا سے لیکر الیکٹرونک میڈیا اور عام طرزِ زندگی پر نظر ڈالیں تو ہمیں شدّت سے اخلاقیات کی کمی محسوس ہوتی ہے، صرف کمی کی بات کر رہا ہوں ہم مسلمانوں یا ہمارے مشرقی معاشرے سے خدا نخواستہ بلکل ختم ہونے کی ہرگز بات نہیں کر رہا۔ 


میرے بھائیو میرے ساتھیو!


اس دورِپرفتن میں ہم اگر اپنے سماجی و مذہبی اقدار و عقائد اور اخلاقی مسائل کو مزید روبزوال ھونے سے بچا لیں تو یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہوگی، میرا ایمان ہے کہ خطرات صرف مسلمان کو درپیش ہیں اسلام کو نہیں کیونکہ اس دین حق کی حفاظت اللہ رب العزت نے کرنی ہے اور وہ کرے گا بھی، اپنی بقاء یا فناء کا فیصلہ ہمارے ہاتھوں میں ہے، ہم سب پر لازم ہے ک ہم سب خود کو عملی طور پر مومن ہونا ثابت کریں صرف مسلمان نہیں،، میرا آج آپ سب کیلئے آخرِ شب یہی پیغام ہے۔۔


اللہ ہم سب کو کہنے اور کر گزرنے کی عملی توفیق عطا فرمائے۔


طالبِ دعا:-


غلام محمد چوہان۔

27=11=2020.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...