صدائے درویش
ھمارے محسن وعظیم مسلم ہیروز اور اکابرین کی کردار کشی کی مہم اور مذموم مقاصد
میرے دوستو!
وطن عزیز میں عرصہء دراز سے ایک طرح کی مہم جاری ہے کہ تمام "مسلم ہیروز اور اکابرین" کو مسلمانوں کے نجات دھندا نہیں یا محسن نہیں، بلکہ ظالم و جابر اور حملہ آور ثابت کیا جائے اور مقامی راجوں اور مہراجوں کو مظلوم اور سچا ثابت کیا جائے، اُنہیں ہی مقامی ہیروز ثابت کیا جائے، یہ بلکل ویسے ہی ہے جیسے "لارنس آف عربیہ" نے عربوں کے دلوں میں مسلم اجتماعیت کے خلاف عرب قومیت کا بیج بو کر انہیں "سلطنتِ عثمانیہ" کے خلاف استعمال کرکے مسلمان یونٹی کی علامت اور مثال اور سینکڑوں سالوں پر محیط مسلم سلطنت کو توڑ کر مسلمانوں کی طرح کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا تھا۔
آج پھر انہیں کے ایجنٹس ہیں جو پاکستان بھر میں متحرک ہو کر پاکستان میں نسل اور قوم پرستی کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں کہ ایک نظریئے کے تحت قائم ہونے والے ملک کو (خاکم بدہن) ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اسے ختم کردیا جاتے۔جو جو اصحاب، گروہ یا تنظیمیں اس مکروہ عمل کا حصّہ ہیں وہ آج ان تمام عرب ممالک کا حشر دیکھ لیں جو ایک ایک کرکے ایک یہودی غاصب ملک اسرائیل کو تسلیم کرتے چلے جا رہے ہیں، اسرائیل کو ہی اب اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں۔
میرے دوستو!
اگر اسلام دنیا بھر میں ایک اکائی کی صورت میں ایشیا، افریقہ اور مشرقی یورپ میں (سلطنتِ عثمانیہ کی طرح) پہلا ہوا ہوتا تو انکو کبھی بھی کبھی ہم سب کے آقا و مولیٰ کی شان کے خلاف گستاخی پر مبنی خاکوں اور کبھی شعائر اسلام کا مذاق اڑانے اور اپنی مذموم و مکروہ ریشہ دوانیوں کو جاری رکھنے کا حوصلہ ھی نہیں ہونا تھا۔
اسلام تو اجتماعیت کا درس دیتا ہے، تقسیم در تقسیم کا نہیں، جو لوگ وطنِ عزیز میں مختلف رُوپ میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کر رہے ہیں وہ سب انہی شیطانی قوتوں کے پیروکار ہیں جنہوں نے "سلطنتِ عثمانیہ" کو توڑ کر ملت اسلامیہ کی طاقت کو توڑا تھا۔ جیتنے بھی ملک طاغوت کے آلہء کار بنے تھے آج اُنکا حشر ہم سب کے سامنے ہے، ایک ایک کرکے سب پکے ہوئے آم کی طرح اسلام اور پاکستان ملک اسرائیل کی جھولی میں گرتے چلے جا رہے ہیں، ہمارے لبرل اور نام نہاد دانشور قوم پرست طبقے کو اللہ سمجھنے کی توفیق دے کہ وہ پاکستان میں مقامی لوگوں کو ہیروز قرار دے رہے ہیں وہ ایسا نہ کریں، یہ مکروہ عمل کسی بھی طرح ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہیں، وہ سب اسی راستے پر چل رہے ہیں جن پر وہ لوگ چلے تھے جنہوں نے بالآخر ذاتی مفادات کو ترجیح دیکر مسلم اتحاد کو توڑ کر ہی دم لیا تھا اور آج کمزور و بے بس ہو کر انہیں "چرنوں" میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں، لیکن آنے والا وقت بتائے گا کہ وہ گھاٹے کا سودا کرچکے ہیں۔
اس مملکت خدا داد اور اپنی آزادی اور اس آزادی کے رکھوالوں کی قدر کیجئے، یہی ہم سب کے بہترین مفاد میں ہے ورنہ ایک بار پھر دائمی غلامی ہمارا مقدر بن سکتی ھے۔
آج آخرِشب کیلئے آپ سب کو میرا یہی حقیر سا پیغام ہے۔
آپ سب کی دعاؤں کا طلبگار:-
غلام محمد چوہان۔
03.12.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں