جمعرات، 27 اگست، 2020

Sadqa

صدائے درویش

 کسی کی طرف مسکرا کر دیکھنا بھی صدقۃ ہے

اصل میں ہمارا آج کا سب سے پڑا مسئلہ ہی دولت کا حصول ہے، اسی کے انبار لگا کر ہم خود شانٹ اور محفوظ سمجھتے ہیں۔ اسی کو سکون اور راحت کی اکائی سمجھتے ہیں اور اکائی بھی۔ ہم نے جو پیمانہ اپنے لئے بنا رکھا ہے اسی فارمولے کو ہم سب پر applicable کرتے ہیں۔


یہی وجہ ہے جو ہم چاہتے ہیں ہمارے پاس اتنا پیسہ آ جائے کہ ہم دوسروں میں تقسیم کرکے اسے خوشی فراہم کر سکیں، میرے نزدیک پیسے کا ہونا بہت ضروری ہے کہ ہمارا ہاتھ اُوپر والا ہاتھ ثابت ہو نیچے والا نہیں۔

میں نے پہلی بھی عرض کی تھی کہ "تقوے کی بہترین قسم تقسیم ہے، جمع نہیں" آپ میرے، آپکے اور ہم سب کے آقا و مولیٰ نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ فرمائیں تو آپ سرکار تقسیم کرتے ہی نظر آتے ہیں جمع بلکل بھی نہیں۔ یہی حال آل رسول اور صحابہء (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کا تھا۔ اولیاء کرام کا تھا، یہاں مثال کے طور پر میں #حضرت_میاں_قادری رحمت اللہ علیہ کی بات کروں گا جنہوں نے ایک مغل بادشاہ کی طرف سے زر و جواہر سے بھرے 70 تھال یہ کہہ کر واپس کردئیے تھے کہ فقیر اور دولت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، مجھے انکی کوئی ضرورت نہیں۔ 


فرض کرو اگر ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں تو اللہ رب العزت کی دی ہوئی زبان تو ہے، ہم چند میٹھے بالوں سے ہی کسی کا دل جیت سکتے ہیں، حوصلہ دیکر کسی کی بھی آدھی تکلیف کم کر سکتے ہیں۔


میرے آپکے اور ہم سب کے آقا و مولیٰ کا فرمان زی شاں ہے کہ" کسی کی طرف مسکرا کر دیکھنا بھی صدقۃ ہے" اور اسی طرح سے کسی بھوکے کو کھانا کھلانا بھی صدقہ ھی ھے اور بھی بہت سی مثالیں موجود ھیں۔


اگر اللہ نے اپنے خزانے سے آپکو یا مجھے یا ہم سب کو اتنا مال و ذر عطا کر رکھا ہے تو ہم پر واجب ہے کہ "اُسکے کے دیئے" میں سے  اُنکا حق ضرور نکالیں جو اس کے حقدار اور ضرورت مند ہیں اور انکی امانتیں اُن تک ضرور پہنچائیں یا تقسیم کریں جو آپکے مال و دولت پر اپنا مذہبی حق اور حصّہ رکھتے ہیں، یقین جانئے اگر ہم ایمانداری اور دیانت داری سے ہم زکواۃ ہی ادا کرتے رہیں تو میرا ایمان ہے کہ ملک بھر میں چند ساؤں میں کوئی زکواۃ لینے والا نہیں بچے گا۔ عجیب بات کہ آپ مسکراہٹ یا دل جوئی کا صدقۃ دے رہے ہیں تو کسی بھی طرح کا کوئی پردہ نہیں، اگر آپ ضرورت مندوں کی "مال و ذر" سے مدد کررہے ہیں تو اس طرح سے کہ " دائیں سے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے کہ یہاں عزت نفس کا مسئلہ ہے۔ اللہ ہم سب کو دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے، میرے نزدیک اس سے بڑا کوئی بھی کار خیر نہیں ہے۔


آپ سب کا:-

غلام محمد چوہان۔

24.08.2020

منگل، 25 اگست، 2020

Dr Hameedullah R.A., Pakistan Ka aik Gumnaam Sipahi

 عظیم لوگ 

ایک عظیم شخصیت، ایک عظیم پاکستانی ۔ ڈاکٹر حمیداللہ

ایک ایسا عظیم شخص جس نے 1994ء میں کنگ فیصل ایوارڈ کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرایا کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے لکھا ہے لہذا مجھ پر میرے دین کو خراب نہ کریں.


ایک ایسا عظیم شخص جس نے فرانس کی نیشنیلٹی کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دی کہ مجھے اپنی مٹی اور اپنے وطن سے محبت ہے.


ایک ایسا عظیم شخص جس کے ہاتھ پر 40000 غیر مسلموں نے کلمہ طیبہ پڑھا.


ایک ایسا عظیم شخص جو 22 زبانوں کا ماہر تھا اور 84 سال کی عمر میں آخری زبان تھائی سیکھ لی تھی.


ایک ایسا عظیم شخص جس نے مختلف زبانوں میں 450 کتابیں اور 937 علمی مقالے لکھے. 


ایک ایسا عظیم شخص جو اس قدر علمی مقام رکھنے کے باوجود اپنے برتن اور کپڑے خود دھوتے تھے.


ایک ایسا عظیم شخص جسے 1985 میں پاکستان نے اعلی ترین شہری اعزاز ہلال امتیاز سے نواز تو اعزاز کے ساتھ ملنے والی رقم جو ایک کروڑ روپے بنتی تھی اس رقم کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ تحقیقات اسلامی کو یہ کہتے ہوئے دیا کہ اگر اس فانی دنیا میں یہ اعزاز وصول کیا تو پھر باقی رہنے والی زندگی کے لئے کیا بچے گا.


ایک ایسا عظیم شخص جس نے حدیث کی اولین کتاب جو 58 ہجری میں لکھی گئی تھی جسے صحیفہ ہمام بن منبہ کہا جاتا ہے اس عظیم حدیثی و تاریخی دستاویز کو انہوں نے 1300 سال بعد جرمنی میں برلن لائبریری سے دریافت کیا اور تحقیق کے بعد شائع کرایا.


ایک ایسا عظیم شخص جس نے قرآن مجید کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ و تفسیر لکھا اس شاہکار ترجمے کے بیسوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں.


ایک ایسا عظیم شخص جس نے "تعارف اسلام " کے نام سے ایک شاہکار کتاب لکھی جس کتاب کے دنیا کی 22 زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں.


یہ عظیم انسان یہ نابغہ روزگار شخصیت ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تھی،آپ 1908 میں حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے،

آپ نے 1933ء میں جرمنی کیبون یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد وہیں عربی اور اردو کے استاد مقرر ہوئے.


آپ 1946ء میں اقوام متحدہ میں ریاست حیدرآباد کے نمائندہ (سفیر) مقرر ہوئے۔


1948 میں سقوط حیدر آباد اور انڈیا سے ریاست کے جبری الحاق پر سخت دلبرداشتہ ہوئے اور جلاوطنی کی زندگی اختیار کی اور جلا وطنی کے دوران "حیدرآباد لیبریشن سوسائٹی" کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی.


1950 میں پاکستان کا پہلا قانونی مسودہ بن رہا تھا تو آپ سے رابطہ کیا گیا آپ پاکستان تشریف لائے.


آپ نے 1952 سے 1978 تک ترکی کی مختلف جامعات میں پڑھایا 


1980 میں جامعہ بہاولپور میں طلبہ کو خطبات دیے جنہیں بعد ازاں خطبات بہاولپوری کے نام سے شائع کیا گیا 


یہ عظیم علمی اور فکری شخصیت 17 دسمبر 2002 کو امریکی ریاست فلوریڈا میں انتقال کر گئی.


ڈاکٹر محمد حمیداللہ کہنے کو ایک فرد تنہا لیکن کام کئی جماعتوں سے زیادہ کر گئے،اللہ تعالی انہیں غریق رحمت کرے.


جمع و ترجمہ 

بقلم فردوس جمال !!!

جمعرات، 20 اگست، 2020

Israil kay Bary Me Pakistan Ka Dotok Moqif

 السلام علیکم دوستو!


اس وقت ساری صورت حال اور کچھ ہم سب کے سامنے ہے، یہ لوگ جو میڈیا پر اسرائیل کی حمایت میں بول رہے ہیں ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کر رہے ہیں، یہ میر جعفر اور میر صادق والا رول ادا کر رہے ہیں، نمک حلالی کر رہے ہیں اپنے آقا کی۔ یہ سب ابن الوقت اور پیسے کے پجاری ھیں، وطن، قوم یا مذہب پرست نہیں۔


یہ سب  یاد رکھنے کی باتیں ہیں، بیشک دنیا تبدیل ہونے جا رہی ہے اور ہم عوام کی طرف طرف سے بہترین تبدیلی ہی ہوگی کہ ہم ایسے سیاست دانوں، نام نہاد قوم پرستوں یا مذہبی رہنماؤں کو آئندہ کے لئے بلکل سمجھ جائیں اور ان سے مکمل کنارہ کشی کر لیں کہ جو مٹّی کے وفادار نہیں وہ ہمارے کیسے ہونگے۔


وطن ایمان ھوا کرتاھے۔


صبح بخیر!


آپ سب کا:-

جی۔ایم چوہان۔

19.08.2020

بدھ، 19 اگست، 2020

Indian RAW, Afghan NDS aur Pakistan Kay Mojooda Halaat

 صدائےدرویش

انڈیا "را"، افغان "این ڈی ایس" اور پاکستان کے موجودہ حالات

السلام علیکم میرے دوستو!


میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را" اور اسکی حلیف اور آلہء کار افغان خفیہ ایجنسی "NDS" کے اعلیٰ حکام افغانستان کے صوبہ "کُنڑ" میں دہشتگرد تنظیم " تحریکِ طالبان پاکستان" کے مفرور سرہردہ ممبرز سے ملی ہے کہ سرحد پار سے انکی مدد کر کے وہ پاکستان میں دیشتگردی کی ایک نئی لہر پیدا کر سکیں، اگر ایسا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت بات ہے، میں ایک پاکستانی ہونے کے ناطے اس کی بھرپور مخالفت کرتا ہوں اور میرے جملہ دوست احباب بھی اسکو برا سمجھیں گے۔


قیامِ پاکستان سے اب تک بھارت اب تک پاکستان مخالف پروپیگنڈہ سے باز نہیں آرہا، یہ ایک الگ سوال اور کہانی ہے، اتنا بتاتا جاؤں کے قیامِ پاکستان کے وقت ہندوستان کے مرکزی بینک سے تقسیم ہند کے وقت پاکستان کے حصّے میں آنے والے 75 کروڑ روپئے ملنے تھے، جو کہ اس وقت کی نہرو حکومت نے پاکستان کو ادا کرنے سے صاف انکار کردیا تھا۔ پھر جب نہرو حکومت پاکستان کو اُسکا حصہ نہیں دیتی تو پاکستان احتجاج کرتا ہے، پھر انکار ہونے پر مہاتما گاندھی اس رقم کو ادا کرنے کیلئے "مرن برت" رکھتے ہیں تو حکومتِ ہند 75 کروڑ میں سے 20 کروڑ روپیہ پاکستان کو ادا کرتی ہے، بقیہ 55 کروڑ کا بھارت اب بھی پاکستان کا مقروض ہے جو اب بھی واجب الادا ہے، آج کے حساب سے کر ہم اسے ملٹی پلائی کریں تو یہ رقم اربوں روپیز تک جا پہنچتی ھے، اسی سے ہی ہندو ذہنیت کی بددیانتی کی عکاسی ہوتی ہے۔ مہاتما گاندھی کے مرن برت کی وجہ سے کثیر رقم کا کچھ حصہ پاکستان کو مل تو جاتا ہے مگر مہاتما گاندھی کو اس جرم کی پاداش میں اپنی جان دیکر اُسکا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے، نتھو رام گوکھلے جو کہ RSS کا ممبر تھا اس نے گاندھی جی کو 1948ء میں گولی ماار کر ھلاک کردیا تھا، یہ "آن دی ریکارڈ" باتیں ھیں جو دوست چاہے مطالعہ کرکے میری بات کی تصدیق کر سکتا ہے۔


آئیے اب آج کے ٹاپک پر مزید بات کرتے ہیں، انڈیا اور دنیا بھر کی نامور خفیہ تنظیموں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے پاکستان بھر میں پاکستان بھر میں دہشتگری کی ایک لہر اٹھی تھی، ایک آگ لگی تھی، جس کو الحمدللہ افواج پاکستان اور سولینز نے اپنے لہو کے نذرانے سے بجھا دیا، آفرین ھے اُن لوگوں پر، دھرتی کے بیٹوں اور بیٹیوں پر جنہوں نے جان اپنے وطن کی حفاظت پر وار دی اور تاریخ میں امر ہوگئے، اللہ انکی قربانیوں کو قبول کرے، تمام شہداء اور غازی ہمارے محسن ہیں۔


"خاکم بدہن" اگر وطن عزیز کو ایک بار پھر سے اس آگ میں دھکیلا جاتا ہے تو ہم اللہ کے فضل و کرم سے اُسکا مقابلہ کرنے کو ہمہ وقت تیار ہیں، تھکے نہیں ہیں اور رگوں میں ابھی خون بھی موجود ہے، ہم الحمدللہ بلکل تیار ہیں، ابھی ہمارا جذبہء شوق شہادت ختم نہیں ہوا، آگ کو ایک بار پھر سے ان شاء اللہ العزیز بُجھا دیں گے، پھر سے اپنے لہو کے چراغ جلا دیں گے۔


میرے دوستو!


کلہاڑا درخت کا اس وقت تک کچھ نہیں بگاڑ سکتا جب تک درخت کا ڈنڈا اس میں نہ لگے، تحریک طالبان پاکستان والے بھی ہمارے بھائی ہیں بس دشمن کے بہکاوے میں ہیں، اللہ ہدایت دے۔


آنے والے نازک وقت میں ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟


ہمارا فریضہ ہے ہماری صفوں میں جب تک اور جہاں جہاں بھی "میر جعفر اور میر صادق" اور انکے ہم خیال موجود ہیں، جن کے توسط سے دشمن آسانی سے ہم کو گاہے بگاہے نشانہ بناتا ہی رہتا ہے، ہمیں اس mind set اور اسکے سہولت کاروں کی ہر میدان میں حوصلہ شکنی کرنی اور شکست دینی ہے، سول سوسائٹی میں انکو بے نقاب کرنا ہے کہ آئندہ سے وہ لوگ کلہاڑے کے لئے کارآمد ڈنڈا ثابت نہ ہو سکیں، اگر ایسا ہو گیا تو ہم ایک بار پھر سے چانکیہ کے چیلوں کو شکست فاش دینے میں کامیاب ہو جائیں گے


طالبِ دعا:-

جی۔ایم چوہان

19.08.2020۔

منگل، 18 اگست، 2020

Islam aur Firqa Parasti - FB per aik Coment Kay Jawab Men

صدائے درویش - حالاتِ حاضرہ

ایک دوست کے کمنٹ پردیاگیاجواب 

اسلام اور فرقہ پرستی

میرے معزز دوست!


فرقوں کو تو میں سرے سے مانتا ہی نہیں، کلام الٰہی میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ " اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقوں میں مت بٹو" اس آیۃ مبارکہ کی رو سے اگر ہم فرقہ پرستی کی بات کرتے ہیں تو ہم صریحاً احکامات خدا وندی کے منکرین میں شمار ہوتے ہیں۔ تاھم حدیث پاک ھے کہ ۷۲ فرقے مسلمانوں کے ھونگے تو ھوںگے ھم حدیث پاک کے بھی منکر نہیں ھوسکتے ھاں البتہ ھمیں فرقوں میں بٹنے سے بچنا چاھیئے۔

بد قسمتی سے اس وقت ہم ایک نہیں 72 فرقوں میں تقسیم ہیں اور ہر فرقہ خود کو درست ثابت کرنے کیلئے دوسرے کو واجب القتل تک قرار دیتے یا بد عقیدہ و کافر تک قرار دینے سے بھی بعض نہیں آتا۔


شدّت پسندی اور تھیوکریسی نے ہی ہم کو یا ہماری نئی نسل کو اسلام سے کافی حد تک دور کیا ہے، میں نے ایک کو نہیں ایک سے کہیں زائد فرقوں کے علماء کرام اور اکابرین کو سنا ہے، سب کو اپنی اپنی دُم پر ہی کھڑا پایا ہے، اسلامی تعلیمات یا اسلام کی نشر و اشاعت کیلئے بلکل بھی نہیں۔ مثال کے طور پر ( انتہائی معذرت کےساتھ) آپ اہل حدیث ہیں سو آپکے نزدیک صرف اہل حدیث ہی صحیح مسلمان ہیں باقی سب بد عقائد یا مشرک ہیں، کافر و زندیق ہیں، دوسرے الفاظ میں واجب القتل  بھی۔ تاھم ھمیں فقہ اور فرقے کے فرق کو بھی سمجھنا چاہیئے۔ حنفی، حنبلی، شافعی، مالکی، جعفریہ، یہ سب فقہ ھیں فرقہ نہیں۔


 میں سنی العقیدہ ہوں تو خود کو ھی درست عقائد کا حامل، یہی شیعہ بھی کہتے ہیں، بندہ کس کی مانے کس کی نہ مانے، مجھ سے بندے نے تو بلآخر یہی کہنا ہے کہ عقائد کا معاملہ اللہ کے سپردکرتا ہوں " اپنی قبر اور اپنا عذاب" میں الحمدللہ کسی بھی عقیدے کے حامل مسلمان کی طرف " توتو" کہ کر انگلی نہیں اٹھاتا۔ مجھے ہر برائی کا محور اپنی ذات میں ہی نظر آتا ہے دوسرے میں ہرگز نہیں, ہمیشہ اپنی ہی اصلاح کا قائل ہوں، دوسروں کی نہیں، کہاں تک اور کتنا کامیاب رہا ہوں یہ خالق و مالک ہی جانتا ہے، مجھے تو اسکا بلکل بھی ادراک نہیں ہے۔


اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم سب صبر و تحمل کے ساتھ جینا سیکھیں، رواداری کا راستہ اپنائیں جو کہ ہمارے اسلاف کی پہچان اور وطیرہ تھا۔ عین اسلام بھی تھا۔ میرے دوست اسلام کو سمجھنا ہے تو خود اپنی ذات میں جھانکیں، سنت کا پیروکار ثابت کرنے کیلئے سب سے پہلے خود کو " صادق و امین" کی کسوٹی پر پرکھیں، کیوں کہ میرے، آپکے اور ہم سب کے آقا و مولیٰ نبی رحمت ( صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کی سب سے پہلی اور اہم سنت ہے۔ آپ یا میں یا ہم سب جب خود احتسابی کے عمل سے گزرنا شروع ہو جائیں گے تو آپکو اور مجھے اپنے ہر سوال کا خود اپنے ہی اندر سے ملتا چلا جائے گا،  شرط صرف اندر کے منصف کے ایمانداری کے ساتھ زندہ ہونے اور صحیح سمت میں فیصلہ کرنے کی ہے۔ آزمائش کرکے دیکھ لیں۔


خیر اندیش:-

جی۔ایم چوہان۔

14.08.2020

اتوار، 16 اگست، 2020

Turki Ka Mustaqbil, Usmani Saltanat ka Dobara Qaiyam

صدائےدرویش

ترکی کا مستقبل - عثمانی سلطنت کا دوبارہ قیام

میرے چند دوست ترکی کے مستقبل کے بارے میں اپنی راۓ کا اظہار کر رہے ہیں۔ ترکی کا پھر سے سلطنت عثمانیہ بن جانا تو اب ممکن نہیں، البتہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی بھرپور کوشش ضرور کرے گا، جس کے اب آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ ترکی ایک بار پھر امت مسلمہ کی عجمی شناخت کی قیادت اور بین الاقوامی سطح پر نئے گروپ کی بھرپور نمائندگی کرے گا، میرے خیال میں عربوں کی بٹ دھرمی اور خود غرضی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ 


صد افسوس کہ امت مسلمہ ایک بار پھر شکست ریخت کا شکار ہو گئی ہے۔ اب امت دو حصوں میں تقسیم ہو چکی، جبکہ ہمیں تو اتحاد بین المسلمین کی طرف بڑھنا چاہئے تھا۔


کیا کسی ایک کو اپنا ہادی و رہنما مان کر اُسکی پیروی کرنا ہی بہتر نہیں تھا؟ ہر ایک کا  اپنی اپنی جگہ چودھری اور خان بن جانا بہتر عمل نہیں، اتحاد امت محمدیہ ہی استعماری طاقتوں کو منہ دینے کا واحد حل ہے، تقسیم در تقسیم نہیں،۔ معاہدہ عرب و اسرائیل کسی مسئلے کہ حل نہیں، بلکہ مسلمانوں کیلئے آنے والے وقتوں میں سمِ قتل ثابت ہوگا۔


اسرائیل نے عربوں کو وعدہ تو دے دیا کہ وہ مزید آگے نہیں بڑھے گا، لیکن اس معاہدے کی رو سے اسرائیل اپنے موجودہ نقشے کو تسلیم کرنے والے عربوں سے منوا کر اسے قانونی شکل دے چکا ہے، جو کہ اسرائیل کی بہت بڑی کامیابی ہے۔


یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہودیوں نے اپنی مذہبی شناخت "ہیکل سلیمانی" بیت المقدس میں ہی دوبارہ سے ضرور تعمیر کرنا ہے، جس کیلئے ( خاکم بدہن) مسجد اقصیٰ کا انہدام اُنکے نزدیک سب سے پہلا قدم ہوگا۔


موجودہ عرب-اسرائیل معاہدے کے بعد تمام عرب ممالک کے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہی اُن سب کو اسرائیل کی موجودہ سرحدوں کو تسلیم اور بیت المقدس کو اسرائیل کا آئینی اور قانونی حصّہ بھی لامحالہ تسلیم کرنا پڑے گا۔ اگر مستقبل میں اسرائیل کوئی بھی ایسی مذموم کاروائی کرتا ہے تو تسلیم کرنے والوں کے پاس اس عمل کی مخالفت کرنے کو کوئی جواز باقی نہیں رہے گا، اس کاروائی کو اسرائیل کا اندرونی معاملہ سمجھ کر اسے اسرائیل کا قانونی حق سمجھا جائے گا، یہی اس "امن معاہدے" کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔ واضح رہے کہ یہ معاہدہ ہوتے ہی بیت المقدس کی متنازع حیثیت ختم ہو جائے گی۔ یہ اس معاہدے کا اسرائیل کو سب سے بڑا فائدہ ہوا ہے۔


آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔


آپ سب کا:-

جی۔ایم چوہان۔

16.08.2020


بدھ، 12 اگست، 2020

Meri Wafat Kay Baad

حاصلِ مطالعہ ۔ منقول

 میری وفات کے بعد... 

موسم سرما کی ایک انتہائی ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی۔


اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے دوائیں تبدیل کیں مگر میں خلافِ معمول خاموش رہا۔


دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔ جو بیٹا پاکستان میں تھا وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔ چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں دونوں یونیسف کے سروے کے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔


لاہور والی بیٹی کو میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں بے حد مصروف ہے اور بچوں کی وجہ سے خود اس کا آنا بھی مشکل ہے۔

رہے دو لڑکے جو بیرون ملک ہیں انہیں پریشان کرنے کی کوئی تُک نہ تھی. 

میں میری بیوی گھر پر تھے اور ایک ملازم جو شام ڈھلے اپنے گھر چلا جاتا تھا۔


عصر ڈھلنے لگی تو مجھے محسوس ہوا کہ نقاہت کے مارے بات کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ میں نے اپنی پرانی ڈائری نکالی، بیوی کو پاس بٹھا کر رقوم کی تفصیل بتانے لگا جو میں نے وصول کرنا تھیں اور جو دوسروں کو ادا کرنا تھیں۔


 بیوی نے ہلکا سا احتجاج کیا:

 ” یہ تو آپ کی پرانی عادت ہے ذرا بھی کچھ ہو تو ڈائری نکال کر بیٹھ جاتے ہیں“

مگر اس کے احتجاج میں پہلے والا یقین نہیں تھا۔ پھر سورج غروب ہوگیا۔ تاریکی اور سردی دونوں بڑھنے لگیں۔ بیوی میرے لیے سُوپ بنانے کچن میں گئی۔ اس کی غیر حاضری میں مَیں نے چند اکھڑی اکھڑی سانسیں لیں اور........... میری زندگی کا سورج غروب ہو گیا۔


مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں آہستہ آہستہ اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں۔ پھر جیسے ہوا میں تیرنے لگا اور چھت کے قریب جا پہنچا۔

بیوی سُوپ لے کر آئی تو میں دیکھ رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس پر سکتہ طاری ہوا اور پھر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ میں نے بولنے کی کوشش کی. یہ عجیب بات تھی کہ میں سب کچھ دیکھ رہا تھا مگر بول نہیں سکتا تھا۔


لاہور والی بیٹی رات کے پچھلے پہر پہنچ گئی تھی۔ کراچی سے چھوٹی بیٹی اور میاں صبح کی پہلی فلائیٹ سے پہنچ گئے۔

بیٹے تینوں بیرون ملک تھے وہ جلد سے جلد بھی آتے تو دو دن لگ جانے تھے۔ دوسرے دن عصر کے بعد میری تدفین کر دی گئی۔


 شاعر، ادیب، صحافی، سول سرونٹ سب کی نمائندگی اچھی خاصی تھی۔ گاؤں سے بھی تقریباً سبھی لوگ آ گئے تھے۔ ننھیا ل والے گاؤں سے ماموں زاد بھائی بھی موجود تھے۔


لحد میں میرے اوپر جو سلیں رکھی گئی تھیں مٹی ان سے گزر کر اندر

آ گئی تھی۔ بائیں پاؤں کا انگوٹھا جو آرتھرائٹس کا شکار تھا، مٹی کے بوجھ سے درد کر رہا تھا۔

پھر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔

شاید فرشتے آن پہنچے تھے۔ اسی کیفیت میں سوال و جواب کا سیشن ہوا۔


یہ کیفیت ختم ہوئی۔

محسوس ہو رہا تھا کہ چند لمحے ہی گزرے ہیں مگر فرشتوں نے بتایا کہ پانچ برس ہو چکے ہیں تمہیں فوت ہوئے ۔

پھر فرشتوں نے ایک عجیب پیشکش کی:

 ” ہم تمہیں کچھ عرصہ کے لیے واپس بھیج رہے ہیں۔ تم وہاں دنیا میں کسی کو نظر نہیں آؤ گے. گھوم پھر کر اپنے پیاروں کو دیکھ لو،

پھر اگر تم نے کہا تو تمہیں دوبارہ نارمل زندگی دے دیں گے ورنہ واپس آ جانا “

میں نے یہ پیشکش غنیمت سمجھی اور ہاں کر دی۔


پھر ایک مدہوشی کی حالت چھا گئی۔ آنکھ کھلی تو میں اپنی گلی میں کھڑا تھا۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اپنے گھر کی جانب چلا۔ راستے میں کرنل صاحب کو دیکھا۔ گھر سے باہر کھڑے تھے۔ اتنے زیادہ بوڑھے لگ رہے تھے۔ خواجہ صاحب بیگم کے ساتھ واک کرنے نکل رہے تھے۔


 اپنے مکان کے گیٹ پر پہنچ کر میں ٹھٹھک گیا۔ میرے نام کی تختی غائب تھی۔ پورچ میں گاڑی بھی نہیں کھڑی تھی۔ وفات سے چند ہفتے پہلے تازہ ماڈل کی خریدی تھی دھچکا سا لگا۔

گاڑی کہاں ہوسکتی ہے؟

بچوں کے پاس تو اپنی اپنی گاڑیاں تھیں تو پھر میری بیوی جو اب بیوہ تھی، کیا گاڑی کے بغیر تھی؟


دروازہ کھلا تھا۔ میں سب سے پہلے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اپنی لائبریری میں گیا۔ یہ کیا؟

کتابیں تھیں نہ الماریاں

رائٹنگ ٹیبل اس کے ساتھ والی مہنگی کرسی، صوفہ، اعلیٰ مرکزی ملازمت کے دوران جو شیلڈیں اور یادگاریں مجھے ملی تھیں اور الماریوں کے اوپر سجا کر رکھی ہوئی تھیں۔ بے شمار فوٹو البم، کچھ بھی تو وہاں نہ تھا۔


مجھے فارسی کی قیمتی ایران سے چھپی ہوئی کتابیں یاد آئیں، دادا جان کے چھوڑے ہوئے قیمتی قلمی نسخے، گلستان سعدی کا نادر نسخہ جو سونے کے پانی سے لکھا ہوا تھا اور دھوپ میں اور چھاؤں میں الگ الگ رنگ کی لکھائی دکھاتا تھا. 


داداجان اور والد صاحب کی ذاتی ڈائریاں سب غائب تھیں۔ کمرہ یوں لگتا تھا، گودام کے طور پر استعمال ہو رہا تھا. سامنے والی پوری دیوار پر جو تصویر پندرہ ہزار روپے سے لگوائی تھی وہ جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی. 


میں پژمردہ ہوکر لائبریری سے باہر نکل آیا۔ بالائی منزل کا یہ وسیع و عریض لاؤنج بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ یہ کیا؟

اچانک مجھے یاد آیا کہ میں نے چکوال سے رنگین پایوں والے سُوت سے بُنے ہوئے چار پلنگ منگوا کر اس لاؤنج میں رکھے تھے شاعر برادری کو یہ بہت پسند آئے تھے وہ غائب تھے۔


نیچے گراؤنڈ فلور پر آیا، بیوی اکیلی کچن میں کچھ کر رہی تھی۔ میں نے اسے دیکھا۔ پانچ برسوں میں اتنی تبدیل ہو گئی تھی میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کیسے پوچھوں کہ گھٹنوں کے درد کا کیا حال ہے؟

ایڑیوں میں بھی درد محسوس ہوتا تھا۔ دوائیں باقاعدگی سے میسر آرہی تھیں یا نہیں؟

میں اس کے لیے باقاعدگی سے پھل لاتا تھا۔ نہ جانے بچے کیا سلوک کر رہے ہیں؟ 

مگر... میں بول سکتا تھا نہ وہ مجھے دیکھ سکتی تھی۔


اتنے میں فون کی گھنٹی بجی بیوی بہت دیر باتیں کرتی رہی۔ جو اس طویل گفتگو سے میں سمجھا یہ تھا کہ بچے اس مکان کو فروخت کرنا چاہتے تھے۔ ماں نے مخالفت کی کہ وہ کہاں رہے گی۔ بچے بضد تھے کہ ہمارے پاس رہیں گی. 


میری بیوی کو میری یہ نصحیت یاد تھی کہ ڈیرہ اپنا ہی اچھا ہوتا ہے مگر وہ بچوں کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈال رہی تھی۔

گاڑی کا معلوم ہوا کہ بیچی جاچکی تھی۔ بیوی نے خود ہی بیچنے کے لیے کہا تھا کہ اسے ایک چھوٹی آلٹو ہی کافی ہو گی۔


اتنے میں ملازم لاؤنج میں داخل ہوا۔

یہ نوجوان اب ادھیڑ عمر لگ رہا تھا۔

میں اس کا لباس دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ اس نے میری قیمتی برانڈڈ قمیض جو ہانگ کانگ سے خریدی تھی پہنی ہوئی تھی۔ نیچے وہ پتلون تھی جس کا فیبرک میں نے اٹلی سے خریدی تھی. اچھا... تو میرے بیش بہا ملبوسات ملازموں میں تقسیم ہو چکے تھے. 

میں ایک سال لوگوں کی نگاہوں سے غائب رہ کر سب کو دیکھتا رہا۔


ایک ایک بیٹے بیٹی کے گھر جا کر ان کی باتیں سنیں۔ کبھی کبھار ہی ابا مرحوم کا یعنی میرا ذکر آتا وہ بھی سرسری سا۔

ہاں...

زینب، میری نواسی اکثر نانا ابو کا تذکرہ کرتی۔ ایک دن ماں سے کہہ رہی تھی:

” اماں... یہ بانس کی میز کرسی نانا ابو لائے تھےنا جب میں چھوٹی سی تھی اسے پھینکنا نہیں“

ماں نے جواب میں کہا:

” جلدی سے کپڑے بدل کر کھانا کھاؤ پھر مجھے میری سہیلی کے گھر ڈراپ کردینا“


میں شاعروں ادیبوں کے اجتماعات اور نشستوں میں گیا۔ کہیں اپنا ذکر نہ سنا۔ وہ جو بات بات پر مجھے جدید غزل کا ٹرینڈ سیٹر کہا کرتے تھے جیسے بھول ہی تو چکے تھے۔

اب ان کے ملازموں نے میری کتابیں بھی الماری  سے ہٹا دی تھیں۔


ایک چکر میں نے قبرستان کا لگایا۔

میری قبر کا برا حال تھا. گھاس اگی تھی۔ کتبہ پرندوں کی بیٹوں سے اٹا تھا۔ ساتھ والی قبروں کی حالت بھی زیادہ بہتر نہ تھی۔


ایک سال کے جائزے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میری موت سے دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ زرہ بھر بھی نہیں. 

بیوی یاد کر لیتی تھی تاہم بچے پوتے نواسے پوتیاں سب مجھے بھول چکے تھے ۔


ادبی حلقوں کے لیے میں اب تاریخ کا حصہ بن چکا تھا۔ جن بڑے بڑے محکموں اور اداروں کا میں سربراہ رہا تھا وہاں ناموں والے پرانے بورڈ ہٹ چکے تھے۔


دنیا رواں دواں تھی۔ کہیں بھی میری ضرورت نہ تھی۔ گھر میں نہ باہر. پھر تہذیبی، معاشرتی اور اقتصادی تبدیلیاں تیزی سے آ رہی تھیں اور آئے جا رہی تھیں. 


ہوائی جہازوں کی رفتار چار گنا بڑھ چکی تھی۔ دنیا کا سارا نظام سمٹ کر موبائل فون کے اندر آ چکا تھا۔ میں ان جدید ترین موبائلوں کا استعمال ہی نہ جانتا تھا۔


فرض کیجئے،

میں فرشتوں سے التماس کر کے دوبارہ دنیا میں نارمل زندگی گزارنے آ بھی جاتا تو کہیں بھی ویلکم نہ کہا جاتا. بچے پریشان ہو جاتے ، ان کی زندگیوں کے اپنے منصوبے اور پروگرام تھے جن میں میری گنجائش کہیں نہ تھی.


ہو سکتا تھا کہ بیوی بھی کہہ دے کہ تم نے واپس آ کر میرے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ مکان بک چکا،

میں تنہا تو کسی بچے کے پاس رہ لیتی، دو کو اب وہ کہاں سنبھالتے پھریں گے.

دوست تھوڑے بہت باقی بچے تھے۔

وہ بھی اب بیمار اور چل چلاؤ کے مراحل طے کر رہے تھے. میں واپس آتا تو دنیا میں مکمل طور پر اَن فِٹ ہوتا۔ نئے لباس میں پیوند کی طرح۔

جدید بستی میں پرانے مقبرے کی طرح. 


میں نے فرشتے سے رابطہ کیا اور اپنی آخری خواہش بتا دی۔ میں واپس قبر میں جانا چاہتا ہوں.

فرشتہ مسکرایا۔ اس کی بات بہت مختصر اور جامع تھی:

”ہر انسان یہی سمجھتا ہے کہ اس کے بعد جو خلا پیدا ہو گا، وہ کبھی بھرا نہیں جا سکے گا مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ خلا تو کبھی پیدا ہی نہیں ہوتا “

#حاصل مطالعہ#

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...