صدائےدرویش
ترکی کا مستقبل - عثمانی سلطنت کا دوبارہ قیام
میرے چند دوست ترکی کے مستقبل کے بارے میں اپنی راۓ کا اظہار کر رہے ہیں۔ ترکی کا پھر سے سلطنت عثمانیہ بن جانا تو اب ممکن نہیں، البتہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی بھرپور کوشش ضرور کرے گا، جس کے اب آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ ترکی ایک بار پھر امت مسلمہ کی عجمی شناخت کی قیادت اور بین الاقوامی سطح پر نئے گروپ کی بھرپور نمائندگی کرے گا، میرے خیال میں عربوں کی بٹ دھرمی اور خود غرضی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔
صد افسوس کہ امت مسلمہ ایک بار پھر شکست ریخت کا شکار ہو گئی ہے۔ اب امت دو حصوں میں تقسیم ہو چکی، جبکہ ہمیں تو اتحاد بین المسلمین کی طرف بڑھنا چاہئے تھا۔
کیا کسی ایک کو اپنا ہادی و رہنما مان کر اُسکی پیروی کرنا ہی بہتر نہیں تھا؟ ہر ایک کا اپنی اپنی جگہ چودھری اور خان بن جانا بہتر عمل نہیں، اتحاد امت محمدیہ ہی استعماری طاقتوں کو منہ دینے کا واحد حل ہے، تقسیم در تقسیم نہیں،۔ معاہدہ عرب و اسرائیل کسی مسئلے کہ حل نہیں، بلکہ مسلمانوں کیلئے آنے والے وقتوں میں سمِ قتل ثابت ہوگا۔
اسرائیل نے عربوں کو وعدہ تو دے دیا کہ وہ مزید آگے نہیں بڑھے گا، لیکن اس معاہدے کی رو سے اسرائیل اپنے موجودہ نقشے کو تسلیم کرنے والے عربوں سے منوا کر اسے قانونی شکل دے چکا ہے، جو کہ اسرائیل کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہودیوں نے اپنی مذہبی شناخت "ہیکل سلیمانی" بیت المقدس میں ہی دوبارہ سے ضرور تعمیر کرنا ہے، جس کیلئے ( خاکم بدہن) مسجد اقصیٰ کا انہدام اُنکے نزدیک سب سے پہلا قدم ہوگا۔
موجودہ عرب-اسرائیل معاہدے کے بعد تمام عرب ممالک کے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہی اُن سب کو اسرائیل کی موجودہ سرحدوں کو تسلیم اور بیت المقدس کو اسرائیل کا آئینی اور قانونی حصّہ بھی لامحالہ تسلیم کرنا پڑے گا۔ اگر مستقبل میں اسرائیل کوئی بھی ایسی مذموم کاروائی کرتا ہے تو تسلیم کرنے والوں کے پاس اس عمل کی مخالفت کرنے کو کوئی جواز باقی نہیں رہے گا، اس کاروائی کو اسرائیل کا اندرونی معاملہ سمجھ کر اسے اسرائیل کا قانونی حق سمجھا جائے گا، یہی اس "امن معاہدے" کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔ واضح رہے کہ یہ معاہدہ ہوتے ہی بیت المقدس کی متنازع حیثیت ختم ہو جائے گی۔ یہ اس معاہدے کا اسرائیل کو سب سے بڑا فائدہ ہوا ہے۔
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
آپ سب کا:-
جی۔ایم چوہان۔
16.08.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں