اتوار، 29 نومبر، 2020

Afwahon ka Bazar Aur Watnay Aziz ki Mushkilaat

 صدائے درویش

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

افواھوں کا بازاراوروطنِ عزیزکی مشکلات

میرے دوستو!


بدقسمتی سے وطنِ عزیز ان دنوں مختلف انواع و اقسام کی افواہوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، کوئی اپنے وی لاگ یا تبصرے میں کچھ کہہ رہا ہے تو کوئی کچھ، کوئی ملکی اندرونی حالت پر بات کررہا ہے تو کوئی پاکستانی خارجہ پالیسی پر تنقید، کوئی ہمیں فوج کے خلاف اُکسا رہا ہے تو کوئی موجودہ حکومت کی داخلی، خارجی اور معاشی ناکامیوں پر، کہیں قوم پرست ایکٹو ہیں تو دوسری طرف کچھ مذہبی رہنما ریاستِ پاکستان کے بجائے مسلکی اور فقہی بنیادوں پر دوسرے ممالک کے حق میں سوشل میڈیا پر زہر اگل رہا ہیں تو کوئی opposition کی طرف سے ریاستی اداروں کی ساکھ کو عام پاکستانی کی نظر میں خراب کرنے اور دفاعی افواج اور عوام کو آمنے سامنے لانے کے ملک دشمن غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا ھے، سب کچھ آپ بھی روزآنہ کی بنیاد پر دیکھتے  ہی ہونگے۔ ہر کوئی اپنا اپنا راگ الاپ رہا ہے، ملک و قوم یا عام پاکستانی کے گھمبیر مسائل کا کسی کو بھی خیال تک بھی نہیں، حکومتِ وقت کو بھی نہیں، شائید انکو اپنے مسائل سے اتنی فرصت تک نہیں کہ وہ عام بندے کیلئے بھی کچھ سوچیں، انکی زندگیاں آسان بنائیں،  کوئی طویل المقاصد "روڈ میپ" دے سکیں تاکہ تیزی کیساتھ بدلتے ہوئے عالمی حالات کا ساتھ دینے کیلئے پاکستانی سیاسی قیادت کوئی " طویل المدّتی" لاہ عمل تیّار کر سکے تاکہ ملک اپنی ذاتی پالیسیوں پر چل کر ملک کی صحیح سمت کا تعین کر سکیں۔


ان بھانت بھانت کی بولیوں کا سب سے زیادہ شکار عام پاکستانی ہے، خواص کو کسی بھی طرح کی کوئی ضرورت ہی نہیں کہ وہ بہترین ملکی مفادات کیلئے کسی بھی طرح کا کوئی کارنامہ ہائے نمایاں سرانجام دے کر آنے والی نسل کو وہ بہتر مستقبل کی ضمانت فراہم کر سکیں، اگر اشرافیہ خوش ہے تو انکے لئے عام بندہ جائے بھاڑ میں, دور رس قومی مفادات کے حامل پروگرامز، پالیسیز اور عام شہری کی بھلائی اور فلاح و بہبود بھی۔


میرے بھائیو!


اس دور میں کچھ خاص لوگوں کے علاوہ ہر پاکستانی "شش و پنج" اور frustration کا شکار ھے کہ پتہ نہیں آنے والا وقت کیا ہوگا اور ہمیں کیسے کیسے رنگ دکھلائے گا۔


ڈپریشن اور فرسٹریشن نے عام بندے کو اس حد تک مایوس اور چڑچڑا کردیا ہے کہ وہ درست بات کو بھی درست سمجھنے کیلئے تیار نہیں، موجودہ حالات نے ہمیں ہر طرح کی بيقینی کا شکار کردیا ہے۔


فقہی، گروہی، فروعی, مسلکی اور سیاسی مسائل پر ہماری کثرت ایک دوسرے سے اُلجھی رہتی ہے، دوستیاں انہی مسائل کی بنا پر دشمنیوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں، جن کے لئے ہم ایک دوسرے سے "دست و گریبان ھر کر ھر اخلاقی حد کو عبور کرتے چلے جا رہے ہیں، وہ سب کے سب تو ایک ہیں، انکے ذاتی مفادات بھی ایک، انکے باہمی جھگڑے ھم سب کیلئے محض دکھاوا ہی ہیں، حقائق اس کے برعکس ہیں۔


میرے دوستو!


یقین جانئے جو جو کچھ ہوتا ہے، جن جن وجوہات کی بنیاد پر ہورہا ہے وہ تو عام شہری کا مسئلہ ہی نہیں نہیں ہے، جان،مال، عزت و وقار کیساتھ جینا اور اپنے بنیادی آئینی حقوق اور ریاست کیساتھ دائمی وفاداری کی بات کرنا ہی ہم سب کیلئے مناسب اور بہترین عمل ہے۔


میرے دوستو!


آج ہم سب آخرِشب میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہم سیاسی اور فقہی مسائل سے اپنے پیاروں کا دل نہیں دکھائیں گے، آپس میں دست و گریبان ہونا چھوڑ دیں گے، عزت و احترام دیں گے اور دوسرے سے اسی کی توقع بھی رکھیں گے، یہی بقاء کا راستہ ہے، کسی بھی طرح کی افواہوں پر بلکل بھی کان نہیں دھریں گے، اپنے اپنے ذاتی اعمال کو درست کرکے پھر اجتماعیت کی طرف بڑھ کر سچائی، ایمانداری، دیانتداری اور ملکی وفاداری پر مشتمل ایک معاشرہ قائم کریں جو کہ ہماری آنے والی نسلوں کیلئے بھی مشعلِ راہ ہو،  ورنہ جو ہونا ہے وہ نوشتہءدیوار ہے۔


آپ سب کا:-


غلام محمد چوہان۔

23.11.2020.

اتوار، 22 نومبر، 2020

Kor Chasham, کورچشم

حاصلِ مطالعہ- منقول 

میرے دوستو!

عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو

آج آخرِشب میں یہ کاپی پیسٹ حاضر خدمت ہے، مجھے امید ہے آپ سب کو بہت پسند آئے گی, یہ کہانی پڑھنے کے بعد مجھے آج کچھ لکھنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی، ایسے لگ رہا ھے جیسے میرے تمام الفاظ اس کہانی کے سامنے گونگے ہو چکے ہیں، اگر بات سمجھ میں آ جائے تو نامعلوم لکھاری کو خراج تحسین پیش کر دیجئے گا۔


طالب دعا:-

غلام محمد چوہان،

17.11.2020.


کورچشم


سنا ہے جس عورت سے آپکی شادی ہوئی تھی وہ بڑی خطرناک عورت تھی، اور آپ نے ڈر کے مارے اسے طلاق دے دی تھی"برگد کے درخت کے نیچے کرسی پر بیٹھے ایک خاموش طبع بوڑھے سے ایک منچلے نے استہزائیہ کہا. ساتھ ہی قریب بیٹھے نوجوانوں کی ٹولی نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو ہنس کردیکھا.


"اللہ بخشے اسے،بہت اچھی عورت تھی." بنا ناراض ہوئے، بغیر غُصّہ کئے بابا جی کی طرف سے ایک مطمئن جواب آیا.

مسکراہٹیں سمٹیں، ایک نوجوان نے ذرا اونچی آواز میں کہا "لیکن بابا جی لوگ کہتے ہیں وہ بڑی خطرناک عورت تھی، کیا نہیں؟ بابا جی کچھ دیر خاموش رہے پھر کہنے لگے.

کہتے تو ٹھیک ہی ہیں، وہ عورت واقعی بہت خطرناک تھی اور حقیقتا میں نے ڈر کے مارے اسے طلاق دی تھی۔


"یہ بات تو مردانگی کے خلاف ہے، عورت سے ڈرنا کہاں کی بہادری ہے؟ نوجوان جوشیلے انداز میں بولا۔


"میں عورت سے نہیں ڈرتا تھا، میں تو "اس" سے ڈرتا تھا جس تک اس کی رسائی تھی، پرسکون جواب۔


جوانوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا.


ایسی عورتوں کو تو.جہنم میں ہونا چاہیئے."لا حولا ولا قوۃ" کہاں آپ جیسا شریف النفس انسان کہاں وہ عورت، اچھا کیا چھوڑ دیا "نوجوان کے لہجے میں غصہ تھا، بوڑھے کی مجسس زندگی کا پٹارا کھل کر سامنے آگیا تھا. 


تجسس ختم ہوا، اب سب باری باری منتشر ہونے لگے. جانے والوں نے عنوان پڑھ لیا تھا، کہانی خود بنانی تھی.جو رہ گئے تھے، وہ وہی تھے جو اصل کہانی جاننا چاہتے تھے۔


میں بھی ایسا ہی سوچتا تھا کہ اسے جہنم میں ہی ہونا چاہیئے تھا، تب ہی میں نے اسے جہنم جیسی زندگی دی تھی"بوڑھی آنکھوں میں اضطراب اترا.


یہ تب کی بات ہے جب میں سرکار کے ہاں سو روپیہ ماہوار پر ملازم ہوا، میری ماں چاہتی تھی کہ میری شادی ہوجائے. رشتہ ڈھونڈا گیا، ایک مونگ پھلی فروش کی بیٹی میری ماں کو پسند آئی، سلیقہ مند، خوبصورت اور ایک دم خاموش طبع. مجھے اس رشتے پر اعتراض تھا کہ وہ ایک مونگ پھلی بیچنے والی کی بیٹی تھی۔ مزدور کی اولاد کو پیٹ کی فکر رہتی ہے، تربیت کی نہیں،بتربیت تو بڑے گھرانوں میں کی جاتی ہے جہاں افلاس آنکھوں کے روشنی چھیننے سے قاصر ہوتا ہے.وہ کیا تربیت دے گی میری اولاد کو؟ لیکن وہ لڑکی میری ماں کو ایسی پسند تھی کہ اماں اس کے علاوہ کسی کا نام نہیں سننا چاہتی تھیں.


پھر وہ بیاہ کر میرے گھر آگئی، رخصتی کے وقت اس کے باپ نے مجھے کہا،

"میری بیٹی سیدھی سادھی ہے، اسے دنیاداری کا کوئی خاص پتا نہیں، اگر کہیں کوئی چوک ہوجائے تو معاف کردینا، یوں ھے بڑے دل والی، اپنے "سائیں"  کو خوش رکھے گی، وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسی میری ماں نے بتایا تھا.سلیقہ مند، سگھڑ اور تابعدار. "بابا جی کی وہی گھسی پٹی بابوں والی داستان ہوگی، یہ سوچ کر دو نوجوان اٹھ کر چلے گئے.


میری باہر دوستوں کے ساتھ صحبت کوئی اچھی نہیں تھی ،ملازمت کے اوقات میں کھانا گھر سے باہر کھاتا، دوستوں میں بیٹھتا، رات گئے تک محفل چلتی پھر گھر جاتا. وہ کیا کھاتی تھی کیا پیتی تھی کس حال میں رہتی تھی مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی.انہی دنوں میری ماں بھی دنیا سے رخصت ہوگئی.


ایک روز میں  جوئے میں بھاری رقم ہار کر جب تھکا ہارا گھر آیا تو کہنے لگی" آپ تو کھانا باہر کھا لیتے ہیں، مجھے بھوک لگتی ہے، ہوسکے تو  ایک ہی بار مہینے کا راشن ڈلوا دیا کیجیئے، روز روز بازار سے خریداری کی صعوبت نہیں اٹھانی پڑے گی. "کیا؟ اس پھونگ پھلی بیچنے والے کی بیٹی کی اتنی اوقات کہ مجھ سے مطالبہ کرسکے؟ مجھے طیش آیا.


ہو ناں تم کسی بہت بڑے باپ کی بیٹی کہ تمہیں پورے مہینے کا راشن اور خرچ چاہیئے، اپنی اوقات دیکھی ہے؟  غصے میں آکر اس پر ہاتھ اٹھایا اور مغلظات بھی بکے، میں نے یہ نہیں سوچ سکا کہ آخر اسے زندہ رہنے کے لئے روٹی تو ہر حال میں چاہیئے تھی۔


وہ جسمانی اعتبار سے کافی کمزور تھی، مار برداشت نہیں کرسکتی تھی، پشیمانی تھی یا کیا وہ دو دن تک بستر پر پڑی رہی. مجھے اس کی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی.


پھر اس نے گھر میں ہی سینا پرونا شروع کردیا، ہاتھ کا ہنر اس کے  کام آیا یوں اس کی روٹی کا انتظام ہوگی، اور میں یہ سوچ کر پہلے سے بھی زیادہ بے پرواہ ہوگیا.


ایک روز ایک ہمسائے نے مجھے روک کر کہا "دن میں جب آپ گھر نہیں ہوتے تو آپ کے گھر سے باتوں کی آوازیں آتی ہیں" میرے سوا میری غیر موجودگی میں کون آتا تھا.جس سے وہ اتنی آواز میں باتیں کرتی تھی؟ غصہ حد سے سوا تھا، بس نہ چلتا تھا کہ اسے جان سے ماردوں، لیکن میں بس ایک موقع کی تاک میں تھا.


ایک رات پچھلے پہر  کسی کے بولنے کی آواز پر میری آنکھ کھلی،  چاندی رات میں صحن میں پڑی ہر شے بالکل واضح طور پر دکھائی دیتی تھی، میں اٹھ کر دروازے تک آیا، اب آواز زیادہ واضح تھی.وہ کہ رہی تھی۔


"سائیں! صبح ایک روٹی کے لئے آٹا گھر میں موجود ہے، وہ ایک روٹی کھا کر چلا جائے گا، یہ سوچے بنا کہ میں سارا دن بھوکی رہوں گی میری روٹی جب تک تیرے ذمے تھی تو عزت سے ملتی تھی، میرے سائیں! تو نے اپنے نائب کے ہاتھ دی تو روٹی کیساتھ بے عزتی اور اذیت بھی ملنے لگی، مجھے اب روٹی تو ہی دے، تیرا بنایا نائب تو خائن نکلا "وہ میری شکایت کررہی تھی"     لیکن کس سے؟؟؟ کون تھا جو اسے روٹی دیتا تھا مجھ سے بھی پہلے؟

میں نے باہر آکر دیکھا وہ صحن کے بیچ چارپائی پر ہاتھ میں سوئی دھاگہ اور فریم لئے خود سے باتیں کررہی تھی. وہاں کوئی بھی نہ تھا، میرے پیروں سے زمین نکل گئی، وہ خدا سے میری شکایت کررہی تھی.وہ اس لمحے مجھے کوئی اور ہی مخلوق لگی، وہ بہت کم بولتی تھی لیکن وہ کس کے ساتھ اتنا بولتی تھی، آج مجھے سمجھ آیا تھا. وہ تو بہت بڑے باپ کی بیٹی تھی.کیسی عورت تھی جو افلاس کے ہوتے بھی "خدا شناس" تھی.میرا جسم خوف سے کانپ رہا تھا.


دن چڑھتے ہی میں نے سامان باندھا اور اسے اس کے باپ کے گھر چھوڑ آیا، سسر نے  طلاق کی وجہ پوچھی تو میں ڈرتے ہوئے کہنے لگا،

" یہ بڑی خطرناک عورت ہے، بڑے دربار میں میری شکایتیں لگاتی ہے. مجھے ڈر ہے کہ بادشاہ کو کسی دن تاؤ آگیا تو میرا حشر نہ کردے "حقیقت یہ تھی کہ میں اس کیساتھ انصاف نہیں کرسکا تھا.


اس کا باپ گھر کی دہلیز پر کھڑا تھا. میرے پلٹنے پر کہنے لگا " میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ اسے دنیاداری نہیں آتی، وہ تو بس "سائیں" کو خوش رکھنا جانتی ہے, اس کی مراد خدا سے تھی اور میں خود کو سمجھا تھا.


جب میں واپس گھر آیا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ رات اس نے یہی تو مانگا تھا، تُو خود مجھے روٹی دے، تیرا نائب تو خائن نکلا اور آج نان نفقے کا اختیار مجھ سے چھین لیا گیا.


میں بے تحاشہ رویا، اس کا سائیں بہت بڑا تھا، اس کی رسائی جس تک تھی وہ تو دوجہانوں  کا رب تھا، وہ جس کی ایک روٹی مجھ پر بھاری تھی وہ اس کے لئے کیا نہیں کرسکتا تھا، میں واقعی ڈر گیا تھا.میں آج بھی ڈرتا ہوں کہیں میرے حق میں اس نے کوئی بددعا نہ کردی ہو.


ٹھیک کہتے ہیں لوگ! کہاں میں کہاں وہ؟ "بوڑھی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی.


میں  "کور چشم" اسے پہچان نہیں سکا، میں نہیں ڈرتا تھا، حالانکہ ڈرنا چاہیئے تھا ،اس کے سائیں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ "عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو" کہانی کے اختتام تک ایک جوان بابا جی کے پاس بیٹھا تھا.

کہانیاں بہت سے لوگ جانتے ہیں لیکن حقیقت تک پہنچنے والا کوئی ایک ہی ہوتا ہے۔

ہفتہ، 21 نومبر، 2020

Mulki Sayasi Suratehal ka Aik Jaiza

" بسم اللہ الرحمٰن الرحیم"

صدائے درویش


"ملکی سیاسی و انتظامی حالات پر ایک نظر"


جس ملک کے سیاسی ایوانوں اور جلسہ گاہ کے میدانوں میں ملکی مسائل، داخلی معاملات، خارجہ پالیسی، معاشی استحکام، ملکی تعمیر و ترقی، عام بندے کی فلاح و بہبود اور ملکی مستقبل کے بجائے حزبِ اقتدار اور حزب اختلاف ایک دوسرے کی کردار کشی، ٹانگیں کھینچنا، پگڑیاں اچھالنا، سیاسی مخالفین پر انتقامی مقدمات بنانا ہی رہ گیا ہو، اس ملک کے مجموعی سیاسی حالات ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، لاقانونیت، اجارادری اور غلط حکومتی پالیسیز کی بناء پر دولت گردش کرنے کے بجائے کئی دہائیوں سے مخصوص "مافیاز" کے ہاتھوں میں ہو، مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر ہو، لوگ بھوک کے ہاتھوں خودکشیاں کررہے ہوں، ہر سطح پر "کرپشن" اور رشوت ستانی کا دور دورہ ہو، عدالتوں جھوٹی گواہیاں اور انصاف بِکتا ہو، قلم بکتے ہوں، دانشور بِکتا ہو، جہاں صرف پیسہ ہی ترجیح ہو، ملکی مفاد نہیں۔ جس نظام میں "طبقہء اقتادریہ و اشرافیہ" سب ٹھیک جان کر حکومتی ایوانوں میں مزے لوٹ رہے ہوں تو "ایسے سسٹم پر حیف، ایسے نظام پر تف"


ہر طرف عوامی سطح پر بيقینی کی کیفیت ہو، عام شہری خود کو کسی بھی طرح سے محفوظ نہیں سمجھتا ھو، لاقانونیت کا دور دورہ ہو، جس کے ہاتھ جو آیا وہ لے بھاگا ہو، جب سیاستدانوں کی پہلی ترجیح اقتدار اور ذاتی مفادات ہوں، ملکی وسائل سے عام شہری کی فلاح و بہبود کے بجائے ملکی دولت بیرونِ ملک ذاتی اکاؤنٹس پہنچادی ہو تو اس ملک کی سیاسی قیادت پر تین حرف اور "انا للہ وانا الیہ راجعون"


ریاست کی مثال بھی ایک طرح سے گھر کی سی ہوتی ہے، جب سیاستدان اور عوام کی اُسکی جڑیں کھوکھلی کرنا شروع ہو جائیں تو اسکی وہی حالت ہونی ہے جو اس وقت اس ملک کی ہے، ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے اور مستقبلِ قریب میں اس سے نکلتا ھوا نظر نہیں آتا۔ 


لیکن!


یاد رکھیں ہر عروج کو زوال تو بہرحال ھے ھی، دیکھیں جب آتا ہے، کب محب وطن افراد اور سیاسی قوّتیں آگے بڑھ کر اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالتی ہیں اور کھوکھلے نعروں کے بجائے وطنِ عزیز کو اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل سمجھتی ہیں۔ منظر ہوں اس وقت کا اس دن کا، شدّت سے منتظر کہ جب قومی مجرموں کو عدالتوں سے مثالی سزائیں ملیں گی کہ آئندہ کبھی بھی کوئی فرد، افراد یا ادارے ملکی آئین و قوانین کو "موم کی ناک" سمجھ کر ذاتی مفادات کے حصول کے لئے استعمال نہیں کرسکیں گے، جب عام پاکستانی بھی عدالتوں سے فوری انصاف حاصل کر سکے گا، جب عام پاکستانی کے دُکھ، تکالیف اور مسائل کا ملکی قیادت کو بھرپور احساس ہوگا، جب طبقہء اشرافیہ اور آپ شہری میں کسی بھی طرح کا کوئی فرق نہ ہوگا اور جب حاکمِ وقت عام شہری کو جواب دہ ہوگا۔ میں شدّت سے منتظر ہوں اس وقت کا جب وطنِ عزیز صحیح معنوں میں "پاکستان ہو " قائد اعظم اور علامہ سر محمد اقبال کا پاکستان" دیکھیں میرا یہ خواب کب پورا ہوتا ہے یا پورا ہوتا بھی ہے یہ نہیں۔


آپ سب کا:-


غلام محمد چوہان۔

18.11.2020

پیر، 16 نومبر، 2020

Khushhali Kaisay, Akhri Shab

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

صدائے درویش 

آخرشب

خوشحالی کیسے؟

میرے عزیزو میرے دوستو!


ہم نماز ہر میں اللہ تعالیٰ سے آخر میں یہی دعا مانگا کرتے ہیں کہ

 " ربّنا اتنا فی الدنیا حسنہ و فی الآخرۃ حسنہ وقنا عذاب النار۔


میرے دوستو!


میرا ایمان ہے کہ اگر میری، آپکی اور ہم سب کی دنیا بہتر ہے تو یقینی طور پر ہماری آخرت بھی بہتر ہوگی، حیرت ہورہی ہوگی کہ کیسے؟ کیونکہ کثرت تو آخرت کی بہتری کی خواہش مند ہوا کرتی ہے، دنیا کی نہیں۔


ابھی بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔


دوستو!


ہمارے اعمال احسن سے ہی ہماری دنیا بہتر ہوگی، اگر عمل نیک ہیں تو ہمارا ہر قدم بہتری اور انسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے اٹھے گا، دنیاوی زندگی کی بہتری کیلئے ہمارا ہر لحاظ سے تونگر اور خوشحال ہونا پہلی شرط ہے۔ علامہ سر محمد اقبال رحمت اللہ علیہ نے افلاس کو "اُم الخبائث" کہا تھا، مفلسی ذہنی ہو یا معاشی يا معاشرتی انسان کو کفر تک لے جا سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اللہ رب العزت سے آخرت کی بہتری سے پہلے دنیاوی پہتری کی ہی طلب کرتے ہیں، مفلسی سے اللہ کی پناہ طلب کرنا "سنّت رسولِ مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) بھی ہے۔


خوشحالی کیسے؟


بہت باریک سا نقطہ ہے، دنیاوی خوشحالی کے لئے ہمیں اسلامی طرزِ حیات میں "فلسفہء حرام اور حلال" کو سمجھنا ہوگا، کبھی ہم نے کبھی غور کیا کہ جو نوالہ ہم حلق سے نیچے اتار رھے ہیں وہ ہمارے "رزق حلال" سے ہی ہے؟ کہیں اُس لقمے میں ذرا سا بھی حرام تو شامل نہیں، کیا وہ لقمہ کسی کے حلق سے تو نہیں کھینچا گیا، کیا اس لقمے کو حاصل کرنے کیلئے کسی کی حق تلفی تو نہیں کی گئی؟ ہم سیر ہوکر کھا رہے ہیں لیکن ہمارے عزیز و اقارب، دوستوں یا اہلِ محلّہ یا گرد و نواح میں کوئی شخص ایسا تو نہیں جو ایک نوالے کیلئے بھی ترس رہا ہو۔


ہم اللہ سے " صراط مستقیم" پر چلنے کی دعا تو کرتے ہیں، لیکن اس پر صدقِ دل سے عمل پیرا نہیں ہوتے، یہاں ہی وہ سب سے انفرادی اور اجتماعی خوفناک اور تباہ کن خرابی ہے جو ہماری دنیا تو بہتر کرتی ہی ہے مگر آخرت کی دشمن ہے۔


میرے دوستو!


عام زندگی میں جب "سیدھے راستے" پر چلنے کی تیاری کا ارادہ کرتے ہیں تو اسی وقت ہمارا #نفس ہم پر تیزی سے حملہ آور ہوتا ہے، ہمیں اس راستے سے بھٹکانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے جو " صراط مستقیم" ہے، جو اللہ کے نزدیک بہترین اور پسندیدہ راستہ ہے، جس کی پہلی سیڑھی "رزق حلال" کا حصول ہے۔ 


قناعت وہ بہترین ہتھیار ہے جس سے ہم نفس کے شر سے بچ سکتے ہیں، تھوڑے میں راضی رہ کر اپنی زندگی گزار سکتے ہیں، اسے تھوڑے میں سے ہی " تقویٰ" کے ہتھیار سے کسی بھوکے کا پیٹ بھر سکتے ہیں۔ 


میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنی دنیاوی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے آگے مت بڑھیں، کلامِ الٰہی میں فرمان الٰہی کا مفہوم ہے کہ "میں نے اسکو اتنا ہی دیا جتنی س نے کوشش کی" صدق یا اللہ العلمین صدق، لیکن آگے بڑھتے ہوئے صرف اس بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ ہم کسی کو روند کر تو آگے نہیں بڑھ رہے، کسی کی حق تلفی تو نہیں کر رہے، اپنا پیٹ بھرنے کیلئے کسی سے اسکا اور اُسکے بچوں کا نوالہ تو حلق سے نہیں کھینچ رہے؟


اگر اس طرح کے عمل کرکے ترقّی اور خوشحالی کی طرف بڑھ رہے ہیں تو یہی حقوق_Iلعباد کی سیدھی خلاف وری ہے اور اللہ رب العزت کے رزاق ہونے سے صاف انکار بھی، حلال سے جو آپ کما سکتے ہیں ضرور کمائیں لیکن اس کے دیئے ہوئے میں سے اُنکا حصّہ نکلنا مت بھولیں جو اللہ کے دیئے ہوئے میں سے آپ سے لینے کے حقدار ہیں، اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو میں، آپ یا ہم یا سارا معاشرہ سب کے سب قانونِ فطرت کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونگے اور اللہ رب العزت کے قانونِ تقسیم کے بھی, جو حلال طریقے سے ملا ہے اسی شاکر رہیئے، حسبِ توفیق اُسکے دیئے میں سے دینا سیکھئے یہی توکل ہے، سانس کا کیا بھروسہ صاحب! کل کی کیا فکر، یہی تقویٰ ہے میرے دوستو۔


دنیاوی زندگی کو اللہ رب العزت کی سب سے بڑی اور عظیم نعمت سمجھو، دنیا ہی دار العمل ہے، پُل صراط ہے جس پر ہم چل رہے ہیں جو بال سے بھی باریک اور تلوار سے بھی زیادہ تیز ہے۔ جس پر چلتے وقت ہر قدم بہت احتیاط کے ساتھ اٹھانا ہے کہ " جنّت یا دوزخ کی آگ یہیں سے لیکر جائیں گے" ایک بار پھر کہوں گا کہ اگر ہم اس دنیا میں "حلال و حرام" کو سمجھ گئے تو اسلام اور اسلامی تعلیمات و طرزِ حیات کو سمجھ جائیں گے، خدمات کو ترجیح دینگے، عبدادات تو اسلام میں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ 

آخرت تو دنیاوی زندگی اور ہماری امتحان گاہ کا رزلٹ ہے، جو بویا ہوگا وہی وہاں کاٹیں گے بھی، سانس کی ڈوری ٹوٹتے ہی ہمارے سب عمل رک جانے ہیں، پھر روزِ محشر سزاء یا جزاء، جنت یا دوزخ، تیسری چیز تو ہے ہی نہیں، میرے عزیزو! اگر ڈرنا ہے تو اللہ رب العزت کی عطا کردہ اسی زندگی سے ڈریئے، آخرت سے خوف کس بات کا اور کیوں؟


اللہ ہم سب کیلئے آسانیاں پیدا فرمائے اور دوسروں کیلئے آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق دے۔


طالبِ دعا:-


غلام محمد چوہان۔

15.11.2020. 

ہفتہ، 14 نومبر، 2020

Akhri shab, LOC Per Bharti Ishtial Angezian Aur Barhti hoi Bharti Dehshatgardi

صدائےدرویش
آخرِشب

 لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ

میرے دوستو!


 آئے دن ہمیں الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر ہمیں ایسی اندوہناک خبریں ملتی رہتی ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ، کبھی وحشیانہ گولہ باری سے کئی بیگناہ شہری شہادت کا درجہ پاتے ہیں، بہت سے زخمی اور ہمیشہ کیلئے معذور بھی ہو جاتے ہیں تو کبھی پاک آرمی کے جوان و افسران وطن کی حفاظت پر اپنی جان نچھاور کرتے رہتے ہیں، پاکستان جوابی کاروائی بھی کرتا ہے، انکے مورچوں کو نشانہ بھی بناتا ہے، دشمن کو منہ توڑ جواب بھی دیتا ہے۔ لیکن بھارتی فوج کی طرح کنٹرول لائن کے اُس پار جہاں ناجائز بھارتی قبضہ ہے وہاں سول آبادی پر کبھی بھی فائرنگ اور گولا باری نہیں کرتا۔


ایسا کیوں ہے:-


 لائن یا لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف کشمیری مسلمان آباد ہیں جس وجہ سے پاک فوج کسی بھی طرح کا جارحانہ اقدام نہیں اٹھاتی کیوں کہ اس طرف بھی مسلمان ہی آباد ہیں اور لائن آف کنٹرول کے اُس پار بھی مسلمان کشمیری ہی آباد ہیں۔ جب کہ انڈین آرمی کو اس کی کوئی پرواہ نہیں، لائن آف کنٹرول کے اس یا اس پار اگر کوئی شہید یا زخمی ہوتا ہے تو وہ مسلمان ہی ہوگا۔


جموں کی سرحد پر بھارت لائن آف کنٹرول پر جارحیت کیوں نہیں کرتا، کیوں کہ لائن کے اُس پار لائن اف کنٹرول پر کثرت کیساتھ بھارتی سکھ یا ہندو آباد ہیں۔ مسلمان نہیں۔


اللہ بھارتی ظلم اور بربریت کے خلاف ڈٹے ہوئے کشمیری حرّیت پسندوں کی کوششوں کو کامیابی عطا فرمائے جو اپنے وطن کی آزادی کیلئے اپنی جان ، مال اور عزت و آبرو کی قربانیاں دیکر ایک تاریخ رقم کررہے ہے۔ ہم سب کی دعا ہے کہ ہمارے کشمیری بھائی، بہنوں اور بچوں کو اپنی امان میں رکھے اور جلد از جلد اُنکے لئے بھی آزادی کا سورج طلوع ہو۔ ہم سب پاکستانی کشمیریوں کی مورال سپورٹ کرتے ہیں اور ان شاء اللہ اسی طرح سے کرتے بھی رہیں گے۔ کیوں کہ دنیا بھر کے مسلمان اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) کے فرمان کے مطابق "جسدِ واحد" کی طرح ہیں، جسم کا کوئی بھی حصّہ تکلیف میں ہو تو اسکی تکلیف کو سارا جسم محسوس کرتا ہے۔


میری دعا ہے کہ دیگر مسلمان ممالک کی حکومتوں کو بھی ایسا سوچنے اور غاصب بھارتی حکومت پر اپنا دباؤ بڑھانے کی توفیق دے، انکے ساتھ مل کر رنگ رلیاں منانے کی نہیں۔


آمین یارب العالمین!


آپ سب کا:-


غلام محمد چوہان۔

13.11.2020

Iqbal Day 2020, یومِ اقبال اور اقبال کا فلسفہء خودی

صدائے درویش


"یومِ اقبال اور اقبال کا فلسفہء خودی"


میرے دوستو!


آج 09 نومبر ہے آج کے روز ہی علامہ سر محمد اقبال رحمت اللہ علیہ پاکستانی پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے محلے " چوڑی گراں" میں پیدا ہوئے، زیادہ تفصیلات میں جانا مناسب نہیں کیوں آپ دوست اس کے بارے میں پہلے سے ہی خوب جانتے ہونگے۔


مجھ سے پہلے ہی ہزاروں نہیں لاکھوں اقبال شناس اپنے اپنے انداز میں نذرانہء عقیدت اور آپکی خدمات کو خراج تحسین پیش کر چکے ہونگے اور ان شاء اللہ کرتے ہی رہیں گے، یہ چند الفاظ میری طرف سے بھی، آپکی عظمت کو اسلام کرنے اور آپکے پیغام کو اپنے عام فہم اور سادہ سے انداز میں آپ سب دوستوں تک پنچانے، آپکا قرض اتارنے کیوں کہ  آپ شاعر مشرق اور "حکیم الامت" جو ٹھہرے۔


میں آپکے کلام میں موجود "خودی" کے موضوع پر تھوڑی سی بات کرنا پسند کروں گا، آپ رحمت اللہ علیہ نے جس خودی کا ذکر کیا ہے وہ "متکبرانہ خودی" نہیں بلکہ "خودداری" ہے، اگر فرد، افراد، گروہ، قوم یا اقوام میں یہ وصف پیدا ہو جائے تو اسے دنیا کی کوئی قوّت بھی کسی مقام و موقع پر نیچا نہیں دکھا سکتی شکست نہیں دے سکتی، خودداری کی بنیاد ہی "تقویٰ" ہے۔


علامہ سر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے کلام میں " مومن" کی صفت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے،


"ہو حلقہء یاراں تو بریشم کی طرح نرم،

رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن۔"


میرے دوستو!


مضمون کی طوالت کی وجہ سے زیادہ لکھنے سے معذور ہوں، زیرِ نظر شعر میں   علامہ سر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے جس مقام کا ذکر کیا ہے وہ مقام ہم حاصل کرتی سکتے ہیں، لیکن کس طرح؟

آپ ہی اپنے کلام میں جواب بھی دیتے ہیں۔


سبق پڑھ پھر صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا،

لیتا جاتے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا۔


فلسفہء خودی پر بہت واضح مؤقف:-


"اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی،

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔"


" مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے،

خودی نہ بیچ، فقیری میں نام پیدا کر"


"نہیں تیرا نشیمن قصرِ سُلطانی کے گنبد پر،

تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر"


نوجوانوں کے لئے پیغام:-


"عقّابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں،

نظر آتی ہے انکو اپنی منزل آسمانوں میں۔"


ہم سب بڑے ذوق و شوق سے ہر سال "یومِ اقبال" تو مناتے ہیں لیکن صد افسوس کہ کلامِ اقبال رحمت اللہ علیہ کی روح کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔


مومن کے خواص پیدا کرنے کیلئے اقبال رحمت اللہ علیہ کا واضح پیغام۔


"کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں،

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں"


اللہ رب العزت ہم سب مسلمانوں کو اقبال رحمت اللہ علیہ کے پیغام کو سمجھنے کی توفیق دے، ایک دن کو مخصوص کرکے بہت بڑی بڑی تقریبات منانے سے کچھ نہیں ہوگا، عمل ضروری ہے، عمل۔


"عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی جہنم بھی،

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے"


"وما توفیقِ الا باللہ"


طلبِ دعا:-

غلام محمد چوہان،

09.11.2020

پیر، 9 نومبر، 2020

Ahle Maghrib Muslims Kay Jazbaat say Khailna Band Kron

 صدائے درویش


"عید میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) کے پر مسرّت موقع پر دنیا بھر کیلئے ایک پیغام"


محمّد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) تبلیغِ دِین کیلئے طائف تشریف لے جاتے ہیں، كفار اور منافقین آپ علیہ صلوۃ والسلام پر اتنے پتھر برساتے ہیں کہ آپ کے نعلین مبارک آپ کے مقدّس لہُو سے بھر جاتے ہیں، اپنے محبوب کی بیحرمتی دیکھ کر غضب الہٰی جوش میں آتا ہے، حضرت جبرئیل امین تشریف لاتے ہیں کہ اے اللّٰہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) آپ حکم فرمائیں، اللہ کے حکم سے ابھی اس ہستی کو ہی صفحہِ ہستی سے مٹا دیتے ہیں۔


آپ فرماتے ہیں نہیں، ہوسکتا ہے "اہلِ طائف" کی نسلوں میں سے ہی کوئی ایمان کے آئے۔


مکّہ پاک میں ایک کافر بڑھیا آپ علیہ صلوۃ والسلام پر روزآنہ جسمِ اطہر پر غلاظت پھینکی ہے، جب چند دن نہیں پھینکی تو آپ اُسکا دریافت فرماتے ہیں تو پتہ چلتا ہے وہ بڑھیا بیمار ہے، آپ اُسکی عیادت کو جاتے ہیں, یہ ہیں ہمارے نبی رحمت۔


فتحِ مکّہ کے وقت آپ علیہ صلوۃ والسلام لشکرِ اسلام کو ہدایت فرماتے ہیں کہ مکہ میں داخل کے وقت کسی بچے، بوڑھے، خواتین پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے، باغات ویران نہ کئے جائیں، کسی کی کسی بھی طرح کی املاک کو نقصان نہ پہنچا جائے، یاد رہے کہ آپ مکّہ مکرمہ میں ایک فاتح کے طور پر داخل ہوئے تھے، دنیا بھر میں فاتحین اپنے مفتوحہ علاقوں پر جس طرح ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑا کرتے تھے تاریخ کے اوراق میں سب کچھ ایک سیاہ باب کی طرح محفوظ ہیں۔


قربان جائیں ہم اپنے آقا و مولیٰ پر، آپ نے ہر موقع پر خود کو "رحمت اللعالمین ثابت کیا، کتنے واقعات بیان کروں، اک عمر درکار ہے آپکی تعریف و اوصاف بیان کرنے کیلئے۔


اسلام دشمنو!


جو قوم راستے کے پتھر اور کانٹوں کو بھی ہٹانے کو کار ثواب سمجھتی ہو، وہ دہشتگرد اور دنیا کے امن کے لئے کیسے مستقل خطرہ ثابت ہو سکتی ہے؟


مسلمانوں پر زندگی تنگ کرنے والو میرے سوال کا جواب دو، جب یورپ جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا اس دور میں دنیا بھر کی فلاح و بہبود کیلئے علم و دانش اور تحقیق و ایجادات کے میدان میں کس قوم کے عظیم فرزندوں نے سب چراغ جلائے تھے جس سے تم سب آج تک فوائد اٹھا رہے ہو، کیا وہ محمدی نہیں تھے، اُمتِ مسلمہ سے تعلق نہیں تھا، کیا وہ سب پُرامن نہیں تھے؟


دنیا بھر میں انسانیت اور انسانیت کے علمبردارو سنو!


ہم مسلمان اس رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) کی اُمت ہیں جس نے آج سے 1400 سال پہلے غلاؤں تک کے حقوق بھی متعین کر دیئے تھے۔


ہم امن پسند مسلمانوں کو عالمی امن کیلئے خطرہ ثابت کرنے والو مجھے جواب دو کہ " جنگِ عظیم اوّل و دوئم " کی شروعات کسی اسلامی ملک سے شروع ہوئی تھی یا دنیا بھر کیلئے یہ آگ تم سب نے خود بھڑکائی تھی؟

کیا 07 سمندر پار سے دنیا کے ممالک کی آزادی اور خود مختاری کو ہم سلب کرتے ہیں

کیا مختلف الزامات کی آڑ میں دنیاء اسلام پر چڑھ دوڑنے کیلئے "نیٹو افواج" ہماری ہیں؟


جواب ہے ہماری نہیں سب کی سب تمہاری ہیں، سنو! جارحیت پسند تم ہو، دہشتگرد تم ہو، مسلمان یا اُمتِ رسولِ عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) نہیں۔


یقینی طور پر تم سب کے پاس میری کسی بھی بات کا کوئی جواب نہیں ہے۔


ہمارے جذبات سے کھیلنا بند کرو، یاد رکھو ہم مسلمان اگر اپنی کچھ خود ساختہ خامیوں اور قابو پالیں تو ہم " من حیث القوم" تم  سے کہیں زیادہ بہتر اور مُہذب بھی ہیں, 


غلام محمد چوہان۔

30.10.2020.

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...