صدائے درویش
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
افواھوں کا بازاراوروطنِ عزیزکی مشکلات
میرے دوستو!
بدقسمتی سے وطنِ عزیز ان دنوں مختلف انواع و اقسام کی افواہوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، کوئی اپنے وی لاگ یا تبصرے میں کچھ کہہ رہا ہے تو کوئی کچھ، کوئی ملکی اندرونی حالت پر بات کررہا ہے تو کوئی پاکستانی خارجہ پالیسی پر تنقید، کوئی ہمیں فوج کے خلاف اُکسا رہا ہے تو کوئی موجودہ حکومت کی داخلی، خارجی اور معاشی ناکامیوں پر، کہیں قوم پرست ایکٹو ہیں تو دوسری طرف کچھ مذہبی رہنما ریاستِ پاکستان کے بجائے مسلکی اور فقہی بنیادوں پر دوسرے ممالک کے حق میں سوشل میڈیا پر زہر اگل رہا ہیں تو کوئی opposition کی طرف سے ریاستی اداروں کی ساکھ کو عام پاکستانی کی نظر میں خراب کرنے اور دفاعی افواج اور عوام کو آمنے سامنے لانے کے ملک دشمن غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا ھے، سب کچھ آپ بھی روزآنہ کی بنیاد پر دیکھتے ہی ہونگے۔ ہر کوئی اپنا اپنا راگ الاپ رہا ہے، ملک و قوم یا عام پاکستانی کے گھمبیر مسائل کا کسی کو بھی خیال تک بھی نہیں، حکومتِ وقت کو بھی نہیں، شائید انکو اپنے مسائل سے اتنی فرصت تک نہیں کہ وہ عام بندے کیلئے بھی کچھ سوچیں، انکی زندگیاں آسان بنائیں، کوئی طویل المقاصد "روڈ میپ" دے سکیں تاکہ تیزی کیساتھ بدلتے ہوئے عالمی حالات کا ساتھ دینے کیلئے پاکستانی سیاسی قیادت کوئی " طویل المدّتی" لاہ عمل تیّار کر سکے تاکہ ملک اپنی ذاتی پالیسیوں پر چل کر ملک کی صحیح سمت کا تعین کر سکیں۔
ان بھانت بھانت کی بولیوں کا سب سے زیادہ شکار عام پاکستانی ہے، خواص کو کسی بھی طرح کی کوئی ضرورت ہی نہیں کہ وہ بہترین ملکی مفادات کیلئے کسی بھی طرح کا کوئی کارنامہ ہائے نمایاں سرانجام دے کر آنے والی نسل کو وہ بہتر مستقبل کی ضمانت فراہم کر سکیں، اگر اشرافیہ خوش ہے تو انکے لئے عام بندہ جائے بھاڑ میں, دور رس قومی مفادات کے حامل پروگرامز، پالیسیز اور عام شہری کی بھلائی اور فلاح و بہبود بھی۔
میرے بھائیو!
اس دور میں کچھ خاص لوگوں کے علاوہ ہر پاکستانی "شش و پنج" اور frustration کا شکار ھے کہ پتہ نہیں آنے والا وقت کیا ہوگا اور ہمیں کیسے کیسے رنگ دکھلائے گا۔
ڈپریشن اور فرسٹریشن نے عام بندے کو اس حد تک مایوس اور چڑچڑا کردیا ہے کہ وہ درست بات کو بھی درست سمجھنے کیلئے تیار نہیں، موجودہ حالات نے ہمیں ہر طرح کی بيقینی کا شکار کردیا ہے۔
فقہی، گروہی، فروعی, مسلکی اور سیاسی مسائل پر ہماری کثرت ایک دوسرے سے اُلجھی رہتی ہے، دوستیاں انہی مسائل کی بنا پر دشمنیوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں، جن کے لئے ہم ایک دوسرے سے "دست و گریبان ھر کر ھر اخلاقی حد کو عبور کرتے چلے جا رہے ہیں، وہ سب کے سب تو ایک ہیں، انکے ذاتی مفادات بھی ایک، انکے باہمی جھگڑے ھم سب کیلئے محض دکھاوا ہی ہیں، حقائق اس کے برعکس ہیں۔
میرے دوستو!
یقین جانئے جو جو کچھ ہوتا ہے، جن جن وجوہات کی بنیاد پر ہورہا ہے وہ تو عام شہری کا مسئلہ ہی نہیں نہیں ہے، جان،مال، عزت و وقار کیساتھ جینا اور اپنے بنیادی آئینی حقوق اور ریاست کیساتھ دائمی وفاداری کی بات کرنا ہی ہم سب کیلئے مناسب اور بہترین عمل ہے۔
میرے دوستو!
آج ہم سب آخرِشب میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہم سیاسی اور فقہی مسائل سے اپنے پیاروں کا دل نہیں دکھائیں گے، آپس میں دست و گریبان ہونا چھوڑ دیں گے، عزت و احترام دیں گے اور دوسرے سے اسی کی توقع بھی رکھیں گے، یہی بقاء کا راستہ ہے، کسی بھی طرح کی افواہوں پر بلکل بھی کان نہیں دھریں گے، اپنے اپنے ذاتی اعمال کو درست کرکے پھر اجتماعیت کی طرف بڑھ کر سچائی، ایمانداری، دیانتداری اور ملکی وفاداری پر مشتمل ایک معاشرہ قائم کریں جو کہ ہماری آنے والی نسلوں کیلئے بھی مشعلِ راہ ہو، ورنہ جو ہونا ہے وہ نوشتہءدیوار ہے۔
آپ سب کا:-
غلام محمد چوہان۔
23.11.2020.