صدائے درویش
"یومِ اقبال اور اقبال کا فلسفہء خودی"
میرے دوستو!
آج 09 نومبر ہے آج کے روز ہی علامہ سر محمد اقبال رحمت اللہ علیہ پاکستانی پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے محلے " چوڑی گراں" میں پیدا ہوئے، زیادہ تفصیلات میں جانا مناسب نہیں کیوں آپ دوست اس کے بارے میں پہلے سے ہی خوب جانتے ہونگے۔
مجھ سے پہلے ہی ہزاروں نہیں لاکھوں اقبال شناس اپنے اپنے انداز میں نذرانہء عقیدت اور آپکی خدمات کو خراج تحسین پیش کر چکے ہونگے اور ان شاء اللہ کرتے ہی رہیں گے، یہ چند الفاظ میری طرف سے بھی، آپکی عظمت کو اسلام کرنے اور آپکے پیغام کو اپنے عام فہم اور سادہ سے انداز میں آپ سب دوستوں تک پنچانے، آپکا قرض اتارنے کیوں کہ آپ شاعر مشرق اور "حکیم الامت" جو ٹھہرے۔
میں آپکے کلام میں موجود "خودی" کے موضوع پر تھوڑی سی بات کرنا پسند کروں گا، آپ رحمت اللہ علیہ نے جس خودی کا ذکر کیا ہے وہ "متکبرانہ خودی" نہیں بلکہ "خودداری" ہے، اگر فرد، افراد، گروہ، قوم یا اقوام میں یہ وصف پیدا ہو جائے تو اسے دنیا کی کوئی قوّت بھی کسی مقام و موقع پر نیچا نہیں دکھا سکتی شکست نہیں دے سکتی، خودداری کی بنیاد ہی "تقویٰ" ہے۔
علامہ سر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے کلام میں " مومن" کی صفت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے،
"ہو حلقہء یاراں تو بریشم کی طرح نرم،
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن۔"
میرے دوستو!
مضمون کی طوالت کی وجہ سے زیادہ لکھنے سے معذور ہوں، زیرِ نظر شعر میں علامہ سر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے جس مقام کا ذکر کیا ہے وہ مقام ہم حاصل کرتی سکتے ہیں، لیکن کس طرح؟
آپ ہی اپنے کلام میں جواب بھی دیتے ہیں۔
سبق پڑھ پھر صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا،
لیتا جاتے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا۔
فلسفہء خودی پر بہت واضح مؤقف:-
"اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی،
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔"
" مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے،
خودی نہ بیچ، فقیری میں نام پیدا کر"
"نہیں تیرا نشیمن قصرِ سُلطانی کے گنبد پر،
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر"
نوجوانوں کے لئے پیغام:-
"عقّابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں،
نظر آتی ہے انکو اپنی منزل آسمانوں میں۔"
ہم سب بڑے ذوق و شوق سے ہر سال "یومِ اقبال" تو مناتے ہیں لیکن صد افسوس کہ کلامِ اقبال رحمت اللہ علیہ کی روح کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
مومن کے خواص پیدا کرنے کیلئے اقبال رحمت اللہ علیہ کا واضح پیغام۔
"کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں،
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں"
اللہ رب العزت ہم سب مسلمانوں کو اقبال رحمت اللہ علیہ کے پیغام کو سمجھنے کی توفیق دے، ایک دن کو مخصوص کرکے بہت بڑی بڑی تقریبات منانے سے کچھ نہیں ہوگا، عمل ضروری ہے، عمل۔
"عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی جہنم بھی،
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے"
"وما توفیقِ الا باللہ"
طلبِ دعا:-
غلام محمد چوہان،
09.11.2020
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں