پیر، 16 نومبر، 2020

Khushhali Kaisay, Akhri Shab

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

صدائے درویش 

آخرشب

خوشحالی کیسے؟

میرے عزیزو میرے دوستو!


ہم نماز ہر میں اللہ تعالیٰ سے آخر میں یہی دعا مانگا کرتے ہیں کہ

 " ربّنا اتنا فی الدنیا حسنہ و فی الآخرۃ حسنہ وقنا عذاب النار۔


میرے دوستو!


میرا ایمان ہے کہ اگر میری، آپکی اور ہم سب کی دنیا بہتر ہے تو یقینی طور پر ہماری آخرت بھی بہتر ہوگی، حیرت ہورہی ہوگی کہ کیسے؟ کیونکہ کثرت تو آخرت کی بہتری کی خواہش مند ہوا کرتی ہے، دنیا کی نہیں۔


ابھی بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔


دوستو!


ہمارے اعمال احسن سے ہی ہماری دنیا بہتر ہوگی، اگر عمل نیک ہیں تو ہمارا ہر قدم بہتری اور انسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے اٹھے گا، دنیاوی زندگی کی بہتری کیلئے ہمارا ہر لحاظ سے تونگر اور خوشحال ہونا پہلی شرط ہے۔ علامہ سر محمد اقبال رحمت اللہ علیہ نے افلاس کو "اُم الخبائث" کہا تھا، مفلسی ذہنی ہو یا معاشی يا معاشرتی انسان کو کفر تک لے جا سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اللہ رب العزت سے آخرت کی بہتری سے پہلے دنیاوی پہتری کی ہی طلب کرتے ہیں، مفلسی سے اللہ کی پناہ طلب کرنا "سنّت رسولِ مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) بھی ہے۔


خوشحالی کیسے؟


بہت باریک سا نقطہ ہے، دنیاوی خوشحالی کے لئے ہمیں اسلامی طرزِ حیات میں "فلسفہء حرام اور حلال" کو سمجھنا ہوگا، کبھی ہم نے کبھی غور کیا کہ جو نوالہ ہم حلق سے نیچے اتار رھے ہیں وہ ہمارے "رزق حلال" سے ہی ہے؟ کہیں اُس لقمے میں ذرا سا بھی حرام تو شامل نہیں، کیا وہ لقمہ کسی کے حلق سے تو نہیں کھینچا گیا، کیا اس لقمے کو حاصل کرنے کیلئے کسی کی حق تلفی تو نہیں کی گئی؟ ہم سیر ہوکر کھا رہے ہیں لیکن ہمارے عزیز و اقارب، دوستوں یا اہلِ محلّہ یا گرد و نواح میں کوئی شخص ایسا تو نہیں جو ایک نوالے کیلئے بھی ترس رہا ہو۔


ہم اللہ سے " صراط مستقیم" پر چلنے کی دعا تو کرتے ہیں، لیکن اس پر صدقِ دل سے عمل پیرا نہیں ہوتے، یہاں ہی وہ سب سے انفرادی اور اجتماعی خوفناک اور تباہ کن خرابی ہے جو ہماری دنیا تو بہتر کرتی ہی ہے مگر آخرت کی دشمن ہے۔


میرے دوستو!


عام زندگی میں جب "سیدھے راستے" پر چلنے کی تیاری کا ارادہ کرتے ہیں تو اسی وقت ہمارا #نفس ہم پر تیزی سے حملہ آور ہوتا ہے، ہمیں اس راستے سے بھٹکانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے جو " صراط مستقیم" ہے، جو اللہ کے نزدیک بہترین اور پسندیدہ راستہ ہے، جس کی پہلی سیڑھی "رزق حلال" کا حصول ہے۔ 


قناعت وہ بہترین ہتھیار ہے جس سے ہم نفس کے شر سے بچ سکتے ہیں، تھوڑے میں راضی رہ کر اپنی زندگی گزار سکتے ہیں، اسے تھوڑے میں سے ہی " تقویٰ" کے ہتھیار سے کسی بھوکے کا پیٹ بھر سکتے ہیں۔ 


میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنی دنیاوی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے آگے مت بڑھیں، کلامِ الٰہی میں فرمان الٰہی کا مفہوم ہے کہ "میں نے اسکو اتنا ہی دیا جتنی س نے کوشش کی" صدق یا اللہ العلمین صدق، لیکن آگے بڑھتے ہوئے صرف اس بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ ہم کسی کو روند کر تو آگے نہیں بڑھ رہے، کسی کی حق تلفی تو نہیں کر رہے، اپنا پیٹ بھرنے کیلئے کسی سے اسکا اور اُسکے بچوں کا نوالہ تو حلق سے نہیں کھینچ رہے؟


اگر اس طرح کے عمل کرکے ترقّی اور خوشحالی کی طرف بڑھ رہے ہیں تو یہی حقوق_Iلعباد کی سیدھی خلاف وری ہے اور اللہ رب العزت کے رزاق ہونے سے صاف انکار بھی، حلال سے جو آپ کما سکتے ہیں ضرور کمائیں لیکن اس کے دیئے ہوئے میں سے اُنکا حصّہ نکلنا مت بھولیں جو اللہ کے دیئے ہوئے میں سے آپ سے لینے کے حقدار ہیں، اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو میں، آپ یا ہم یا سارا معاشرہ سب کے سب قانونِ فطرت کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونگے اور اللہ رب العزت کے قانونِ تقسیم کے بھی, جو حلال طریقے سے ملا ہے اسی شاکر رہیئے، حسبِ توفیق اُسکے دیئے میں سے دینا سیکھئے یہی توکل ہے، سانس کا کیا بھروسہ صاحب! کل کی کیا فکر، یہی تقویٰ ہے میرے دوستو۔


دنیاوی زندگی کو اللہ رب العزت کی سب سے بڑی اور عظیم نعمت سمجھو، دنیا ہی دار العمل ہے، پُل صراط ہے جس پر ہم چل رہے ہیں جو بال سے بھی باریک اور تلوار سے بھی زیادہ تیز ہے۔ جس پر چلتے وقت ہر قدم بہت احتیاط کے ساتھ اٹھانا ہے کہ " جنّت یا دوزخ کی آگ یہیں سے لیکر جائیں گے" ایک بار پھر کہوں گا کہ اگر ہم اس دنیا میں "حلال و حرام" کو سمجھ گئے تو اسلام اور اسلامی تعلیمات و طرزِ حیات کو سمجھ جائیں گے، خدمات کو ترجیح دینگے، عبدادات تو اسلام میں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ 

آخرت تو دنیاوی زندگی اور ہماری امتحان گاہ کا رزلٹ ہے، جو بویا ہوگا وہی وہاں کاٹیں گے بھی، سانس کی ڈوری ٹوٹتے ہی ہمارے سب عمل رک جانے ہیں، پھر روزِ محشر سزاء یا جزاء، جنت یا دوزخ، تیسری چیز تو ہے ہی نہیں، میرے عزیزو! اگر ڈرنا ہے تو اللہ رب العزت کی عطا کردہ اسی زندگی سے ڈریئے، آخرت سے خوف کس بات کا اور کیوں؟


اللہ ہم سب کیلئے آسانیاں پیدا فرمائے اور دوسروں کیلئے آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق دے۔


طالبِ دعا:-


غلام محمد چوہان۔

15.11.2020. 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...