ہفتہ، 21 نومبر، 2020

Mulki Sayasi Suratehal ka Aik Jaiza

" بسم اللہ الرحمٰن الرحیم"

صدائے درویش


"ملکی سیاسی و انتظامی حالات پر ایک نظر"


جس ملک کے سیاسی ایوانوں اور جلسہ گاہ کے میدانوں میں ملکی مسائل، داخلی معاملات، خارجہ پالیسی، معاشی استحکام، ملکی تعمیر و ترقی، عام بندے کی فلاح و بہبود اور ملکی مستقبل کے بجائے حزبِ اقتدار اور حزب اختلاف ایک دوسرے کی کردار کشی، ٹانگیں کھینچنا، پگڑیاں اچھالنا، سیاسی مخالفین پر انتقامی مقدمات بنانا ہی رہ گیا ہو، اس ملک کے مجموعی سیاسی حالات ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، لاقانونیت، اجارادری اور غلط حکومتی پالیسیز کی بناء پر دولت گردش کرنے کے بجائے کئی دہائیوں سے مخصوص "مافیاز" کے ہاتھوں میں ہو، مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر ہو، لوگ بھوک کے ہاتھوں خودکشیاں کررہے ہوں، ہر سطح پر "کرپشن" اور رشوت ستانی کا دور دورہ ہو، عدالتوں جھوٹی گواہیاں اور انصاف بِکتا ہو، قلم بکتے ہوں، دانشور بِکتا ہو، جہاں صرف پیسہ ہی ترجیح ہو، ملکی مفاد نہیں۔ جس نظام میں "طبقہء اقتادریہ و اشرافیہ" سب ٹھیک جان کر حکومتی ایوانوں میں مزے لوٹ رہے ہوں تو "ایسے سسٹم پر حیف، ایسے نظام پر تف"


ہر طرف عوامی سطح پر بيقینی کی کیفیت ہو، عام شہری خود کو کسی بھی طرح سے محفوظ نہیں سمجھتا ھو، لاقانونیت کا دور دورہ ہو، جس کے ہاتھ جو آیا وہ لے بھاگا ہو، جب سیاستدانوں کی پہلی ترجیح اقتدار اور ذاتی مفادات ہوں، ملکی وسائل سے عام شہری کی فلاح و بہبود کے بجائے ملکی دولت بیرونِ ملک ذاتی اکاؤنٹس پہنچادی ہو تو اس ملک کی سیاسی قیادت پر تین حرف اور "انا للہ وانا الیہ راجعون"


ریاست کی مثال بھی ایک طرح سے گھر کی سی ہوتی ہے، جب سیاستدان اور عوام کی اُسکی جڑیں کھوکھلی کرنا شروع ہو جائیں تو اسکی وہی حالت ہونی ہے جو اس وقت اس ملک کی ہے، ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے اور مستقبلِ قریب میں اس سے نکلتا ھوا نظر نہیں آتا۔ 


لیکن!


یاد رکھیں ہر عروج کو زوال تو بہرحال ھے ھی، دیکھیں جب آتا ہے، کب محب وطن افراد اور سیاسی قوّتیں آگے بڑھ کر اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالتی ہیں اور کھوکھلے نعروں کے بجائے وطنِ عزیز کو اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل سمجھتی ہیں۔ منظر ہوں اس وقت کا اس دن کا، شدّت سے منتظر کہ جب قومی مجرموں کو عدالتوں سے مثالی سزائیں ملیں گی کہ آئندہ کبھی بھی کوئی فرد، افراد یا ادارے ملکی آئین و قوانین کو "موم کی ناک" سمجھ کر ذاتی مفادات کے حصول کے لئے استعمال نہیں کرسکیں گے، جب عام پاکستانی بھی عدالتوں سے فوری انصاف حاصل کر سکے گا، جب عام پاکستانی کے دُکھ، تکالیف اور مسائل کا ملکی قیادت کو بھرپور احساس ہوگا، جب طبقہء اشرافیہ اور آپ شہری میں کسی بھی طرح کا کوئی فرق نہ ہوگا اور جب حاکمِ وقت عام شہری کو جواب دہ ہوگا۔ میں شدّت سے منتظر ہوں اس وقت کا جب وطنِ عزیز صحیح معنوں میں "پاکستان ہو " قائد اعظم اور علامہ سر محمد اقبال کا پاکستان" دیکھیں میرا یہ خواب کب پورا ہوتا ہے یا پورا ہوتا بھی ہے یہ نہیں۔


آپ سب کا:-


غلام محمد چوہان۔

18.11.2020

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...