جمعہ، 11 دسمبر، 2020

Hamara Show Baaz Maashray aur Doulat ki Ghair Munsifana Yaqseem, ہمارا شو باز معاشرہ اور دولت کی غیر مناسب تقسیم

 صدائے درویش

 " ہمارا شو باز معاشرہ اور دولت کی غیر مناسب تقسیم"


افلاس، غربت میں بے توقیری یا پیسے کی بنیاد پر  انسان کا عزت و وقار  در اصل ہماری معاشرتی طبقاتی تقسیم کے پیدا کردہ مسائل ہیں، مفلسی بغیر کسی شک کے انسان کو کفر تک لے جاتی ہے، مفلس کی معاشرے میں عزت اور بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور یہی سب سے بڑی سچائی ہے۔


یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ جس معاشرے کو بھی برباد کرنا ہو اس میں مفلسی ڈال دی جائے تو وہ معاشرہ گراوٹ کی ہر حد کو عبور کرتا چلا جائے گا, مفلسی چاہے معاشی ہو یا معاشرتی، دونوں ہی نقصان دہ ہوا کرتی ہیں۔


علامہ سر محمد اقبال رحمت اللہ کا قول ھے کہ مفلسی "ام الخبائث" ھے۔

اللہ سب کو اس سے محفوظ رکھے، افلاس میں سب سے خطرناک قسم اخلاقی مفلسی ھے کہ اخلاقی طور پر مفلس معاشرے میں پیسہ اور دکھاوا ھی انسانی عزت اور جاہ و جلال کی علامت گردانا جاتا ھے، آج ہم اسی کا بہت ہی بری طرح سے شکار ہیں، جرائم کے تیزی سے بڑھنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔ کوئی زمانہ تھا کہ بڑے کہتے تھے کہ " پیسہ تو کنجروں کے پاس بھی ہوتا ہے" لیکن عزت نہیں۔ 

لیکن! اس دورِ رست خیز میں یہ مثال بھی غلط ثابت ہو چکی، جس کے پاس پیسہ ہے اسی جو جھک کر سلام، مفلس کے مقدر میں دائمی دھکّے۔ کہاں گیا وہ معیار جس میں شرافت ہی عزت و تکریم کی بنیاد ہوا کرتی تھی؟


کسی دور میں دولت کو شو بازی کیلئے نہیں بلکہ خوف سے زمین میں دبا دیا جاتا تھا کہ کسی کو اندازہ تک نہ ہو کہ کسی کے پاس پیسہ ہے یا کوئی مالدار ہے، آج دولت روڈوں، پارکوں اور malls وغیرہ میں سر عام بھنگڑے ڈال رہی ہے تو دوسری طرف افلاس زدہ اور بھوکے لوگ کچرا دانوں تک سے اپنا رزق تلاش کرتے یا بھوکا پیٹ بھرتے نظر آتے ہیں، استغفر اللہ و اللہ و اکبر!


فیصل آباد میں دلہن کو ماں باپ کی طرف سے 11 کلو سونا پہنانا، ملتان میں دولہا کے سونے کے جوتے، گوجرانوالہ میں شادی کی ایک شاہانہ تقریب میں اربوں کا خرچہ یا سمبڑیال کے نزدیک ایک برات میں ڈالرز کی برسات، کسی شادی میں جہیز میں ہر طرح کا مال مویشی دیا جانا یا پھر دولہا کو اسلامی میں قیمتی تحائف اور بنگلہ، گھر کے دوسرے افراد کو گاڑیوں کا دیا جانا، یہ سب کے سب دولت کے بیجاء اسراف اور جھوٹی نمود و نمائش کے ہی زمرے میں آتے ہیں تو دوسری طرف اسلامی احکامات کے خلاف بھی، اسلام میں دولت کا بیجاء اسراف کرنے والوں کو "شیطان کے بھائی" قرار دیا گیا ہے۔ خوشی کے موقع پر بیشک اخراجات کریں لیکن ایک حد تک، تاکہ اس میں نمود و نمائش یا "دکھاوا" بلکل بھی نہ ہو، ڈالرز لوٹتے ہوئے غرباء کی جو چھینا جھپٹی میں حالت ہوئی وائرل شدہ ویڈیو اُسکی بہترین عکاس تھی۔ پیسوں سے کھیلنے والو! خدا کیلئے ہوش کے ناخن لو، دولت کے دکھاوے سے باز آجاؤ۔


ہماری سوسائٹی کا فریضہ ہے کہ افلاس زدہ فرد، افراد یا گروہ کی عزت نفس کو مجروح ہونے سے بچائے، ورنہ اگر بھوک چھین کر کھانے پر مجبور ہو گئی تو بہت بڑا معاشرتی تصادم اور المیہ بھی ہو سکتا ہے کہ طبقہ اشرافیہ اس ٹکراؤ کا متحمل ہو ہی نہیں سکے گا اور نہ ہی افلاس اور بھوک سے متاثرہ گروہ کا مقابلہ کر پائے گا، تاریخ عالم ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔


جی.ایم.  چوہان

10.12.2020.

جمعہ، 4 دسمبر، 2020

ھمارے محسن وعظیم مسلم ہیروز اور اکابرین کی کردار کشی کی مہم اور مذموم مقاصد

 صدائے درویش

ھمارے محسن وعظیم مسلم ہیروز اور اکابرین کی کردار کشی کی مہم اور مذموم مقاصد

میرے دوستو!

وطن عزیز میں عرصہء دراز سے ایک طرح کی مہم جاری ہے کہ تمام "مسلم ہیروز اور اکابرین" کو مسلمانوں کے نجات دھندا نہیں یا محسن نہیں، بلکہ ظالم و جابر اور حملہ آور ثابت کیا جائے اور مقامی راجوں اور مہراجوں کو مظلوم اور سچا ثابت کیا جائے، اُنہیں ہی مقامی ہیروز ثابت کیا جائے، یہ بلکل ویسے ہی ہے جیسے "لارنس آف عربیہ" نے عربوں کے دلوں میں مسلم اجتماعیت کے خلاف عرب قومیت کا بیج بو کر انہیں "سلطنتِ عثمانیہ" کے خلاف استعمال کرکے مسلمان یونٹی کی علامت اور مثال اور سینکڑوں سالوں پر محیط مسلم سلطنت کو توڑ کر مسلمانوں کی طرح کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا تھا۔


آج پھر انہیں کے ایجنٹس ہیں جو پاکستان بھر میں متحرک ہو کر پاکستان میں نسل اور قوم پرستی کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں کہ ایک نظریئے کے تحت قائم ہونے والے ملک کو (خاکم بدہن) ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اسے ختم کردیا جاتے۔جو جو اصحاب، گروہ یا تنظیمیں اس مکروہ عمل کا حصّہ ہیں وہ آج ان تمام عرب ممالک کا حشر دیکھ لیں جو ایک ایک کرکے ایک یہودی غاصب ملک اسرائیل کو تسلیم کرتے چلے جا رہے ہیں، اسرائیل کو ہی اب اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں۔ 


میرے دوستو!


اگر اسلام دنیا بھر میں ایک اکائی کی صورت میں ایشیا، افریقہ اور مشرقی یورپ میں (سلطنتِ عثمانیہ کی طرح) پہلا ہوا ہوتا تو انکو کبھی بھی کبھی ہم سب کے آقا و مولیٰ کی شان کے خلاف گستاخی پر مبنی خاکوں اور کبھی شعائر اسلام کا مذاق اڑانے اور اپنی مذموم و مکروہ ریشہ دوانیوں کو جاری رکھنے کا حوصلہ ھی نہیں ہونا تھا۔


اسلام تو اجتماعیت کا درس دیتا ہے، تقسیم در تقسیم کا نہیں، جو لوگ وطنِ عزیز میں مختلف رُوپ میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کر رہے ہیں وہ سب انہی شیطانی قوتوں کے پیروکار ہیں جنہوں نے "سلطنتِ عثمانیہ" کو توڑ کر ملت اسلامیہ کی طاقت کو توڑا تھا۔ جیتنے بھی ملک طاغوت کے آلہء کار بنے تھے آج اُنکا حشر ہم سب کے سامنے ہے، ایک ایک کرکے سب پکے ہوئے آم کی طرح اسلام اور پاکستان ملک اسرائیل کی جھولی میں گرتے چلے جا رہے ہیں، ہمارے لبرل اور نام نہاد دانشور قوم پرست طبقے کو اللہ سمجھنے کی توفیق دے کہ وہ پاکستان میں مقامی لوگوں کو ہیروز قرار دے رہے ہیں وہ ایسا نہ کریں، یہ مکروہ عمل کسی بھی طرح ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہیں، وہ سب اسی راستے پر چل رہے ہیں جن پر وہ لوگ چلے تھے جنہوں نے بالآخر ذاتی مفادات کو ترجیح دیکر مسلم اتحاد کو توڑ کر ہی دم لیا تھا اور آج کمزور و بے بس ہو کر انہیں "چرنوں" میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں، لیکن آنے والا وقت بتائے گا کہ وہ گھاٹے کا سودا کرچکے ہیں۔


اس مملکت خدا داد اور اپنی آزادی اور اس آزادی کے رکھوالوں کی قدر کیجئے، یہی ہم سب کے بہترین مفاد میں ہے ورنہ ایک بار پھر دائمی غلامی ہمارا مقدر بن سکتی ھے۔


آج آخرِشب کیلئے آپ سب کو میرا یہی حقیر سا پیغام ہے۔


آپ سب کی دعاؤں کا طلبگار:-


غلام محمد چوہان۔

03.12.2020

جمعرات، 3 دسمبر، 2020

Baba Bullayh Shah ki Aik Hidayat Aik Waqia

 حاصلِ مطالعہ۔

بابا بّلھے شاہ کی ایک حکایت ایک واقعہ ایک حقیقت

ایک دن ایک جٹ بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا-

کہنے لگا "دنیا داری زیادہ نہیں جانتا، عشق حقیقی سمجھنا ہے-"

بابا جی نے کہا " یہ بتاؤ کے دنیا میں سب سے زیادہ محبت کس سے کرتے ہو؟"


جواب دیا-


"اپنی بھینس سے کرتا ہوں-"

بابا جی نے کہا-

"آج سے تمھارا سبق یہی ہے کہ اسے دیکھتے رہو، چھ مہینے تک-"

بندہ خوش ہوگیا-


چھ مہینے کے بعد حاضر ہوا تو بابا جی نے پوچھا کہ "کون؟"

اس نے کہا "جٹ"-


بابا جی نے پھر حکم کیا کیا-

جاؤ اور چھ مہینے بعد آنا-


جس دن وہ بابا جی کو ملنے آیا تو دروازے سے سر ٹکرا کر واپس ہو جاتا اندر نہیں جا رہا تھا-


بابا جی نے اس سے پوچھا-

"بھائی! اندر کیوں نہیں آتے؟"

کہنے لگا-


"بابا جی! اندر کیسے آؤں، میرے دونوں سینگ اس دروازے میں پھنس جاتے ہیں-"


بابا جی نے ہنستے ہوئے کہا-


"جاؤ! آج تمھارا سبق پورا ہوا-


"رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھا ہوئی"


عشق حقیقی یہی ہے کہ اپنی ذات کی نفی ہو جائے.

22.11.2820

Aqal k Andhay Aandhay ajkay Log

صدائے درویش . آخرِشب

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

آج کا انسان دانشمند یا اناپرست خودغرض


السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ!

میرے دوستو!


ہمارے اس معاشرے کی بہت بڑی خرابی ہے کہ یہاں ھر کوئی خود کو عقلِ کل سمجھتا ہے، دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ ہمیشہ خود کو تھوڑا احمق، نکمّا اور بے عقل ھی رہنے دیا جائے یا سمجھا جائے تو بہتر ہے، بھرے برتن میں کوئی نادان ہی پانی ڈالتا ہے، پانی کم ہوکر جب تک زمین وتّر پر نہ آجائے تو وہ فصل پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتی، بہترین بیج بھی اس میں پھینک دیا جائے تو ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر طلب صادق ہے تو خود کو خالی سمجھنا سیکھ لیں ورنہ آگے بڑھنے کا سفر رُک سکتا ہے، نیا پانی ڈالتا اور پیالہ پیالہ بھر کسی کے کام آتا رہے، کسی کی پیاس بجھاتا رھے تو مٹکے میں موجود پانی کا پانی کبھی بھی باسی نہیں ھوتا، اسے کائی نہیں لگتی قابلِ استعمال رہتا ہے، نجس نہیں سمجھا جاتا، مٹکا ہمیشہ بھرا اور پاک و صاف رہتا ہے۔


خالی رہنا سیکھ لیں، بھرا ہوا نہیں، عاجزی و انکساری ہی پھلدار ہونے کی نشانی ہے، کانٹے دار درخت پر پھول تو لگ سکتے ہیں، پھل نہیں۔


کیا کبھی کسی دوست نے اُجاڑ کوئیں دیکھے ہیں؟


جب تک کنواں پانی تقسیم کرتا رہے پاک و صاف سمجھا جاتا ہے، علم و دانش اور دولت بھی ایک طرح سے پانی کا کنواں ہی ہوا کرتی ہے، اسے بانٹتے رہنا ہی بہترین عمل ہے، فیض جاری ہی رہنا چاہئے، اگر بانٹنے کا عمل رُک جائے تو کنواں غیر آباد ہوجاتا ہے، بلآخر سوکھ کر ہمیشہ کیلئے ختم ھوجاتا ھے ۔


دوسروں کے دُکھ بانٹنا سیکھئے، یہی انسانیت ہے، عبادت ہے، محبّت ہے، اور بہترین توشہء آخرت بھی، 


آج آخرِشب میں فقیر کی پٹاری میں یہی چند الفاظ ہیں، زندگی بخیر، مزید باتیں پھر سہی۔


طالبِ دعا:-


غلام محمد چوہان۔

26.11.2020

بدھ، 2 دسمبر، 2020

Naiki Aur Baddi

صدائے درویش

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

نیکی اور بدی کی جنگ اور اسلامی تعلیمات

میرے دوستو!

اگر ہم تاریخ عالم پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ نیکی اوربدی میں صدیوں سے جنگ جاری و ساری ہے، صرف اُسکی شکل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

اگر ہم صرف "ھندو میتھالوجی" کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کل یگ چل رہا ہے، کب سے چل رہا ہے اسکا کسی کو بھی علم نہیں۔ ہندو دھرم کے عقائد کے مطابق کالکی اوتار آئیں گے بدکاروں کے خلاف ہتھیار اٹھا کر انہیں ختم کریں گے تو یہ "کل یگ" ختم ہوگا، ایسا ہی اسلام میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں احادیث مبارکہ اور روایات ملتی ہیں، کب آئیں گے اور مختلف فتنوں کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے، بدی کو شکست دیں گے اور ہر طرف اسلام کا بھر ست دور دورہ ہوگا، شانتی ہی شانتی ہوگی، لیکن کب نزول ہوگا، کچھ علم نہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ شائید اب آپ علیہ السلام کی آمد کا وقت قریب ہے۔


میرے دوستو!


پہلےعرض کر چکا ہوں کہ ازل سے ہی نیکی اور بدی میں جنگ جاری ہے، اب ہم "عصرِ حاضر" پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں وہ کچھ دیکھنے اور سننے کو مل رہا ہے کہ "الحفیظ و الامان۔" کچھ واقعات تو ایسے ہوئے ہیں کہ دیکھ اور سن کر روح کانپ اٹھتی ہے، بیساختہ ذہن میں آتا ہے کہ "ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا" لیکن ویسا ہو چکا ہوتا ہے۔


میں جب اپنے بچپن کے ماحول کو یاد کرکے عصرِ حاضر پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ہر طرح سے زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے، بیساختہ خود سے کہہ اٹھتا ہوں کہ يار وہی دور اچھا تھا، جیسے میں سوچ کر آج سے 50,40 سال پہلے کے دور کو اچھا سمجھتا ہوں، مجھے یاد ہے میرے والدین اور دیگر عزیز و اقارب گئے وقتوں کو بھلےوقت کہہ کر یاد کیا کرتے تھے، اور جس وقت کو میں آج اپنا بہترین وقت سمجھتا ہوں، اسے وہ اسے دورِپرفتن کہا کرتے تھے۔ شائید اُنکے اجداد ہمارے بڑوں کے بھلےوقتوں کو انتہائی بُرا وقت سمجھتے رہے ہوں۔ میرے ایک بہت اچھے ہندو دوست اسے کال کا چکّر" کہا کرتے تھے، شائید ہو بھی۔


حضرت آدم علیہ السلام کے نزول کے بعد جب دنیا میں پہلا قتل ہوتا ہے، بھائی کو بھائی اقلیمہ کی خاطر مار ڈالتا ہے تو یہ کل یگ تب سے ھی شروع ہوگیا تھا جو ہنوز جاری ہے، کب تک جاری رہے گا، کچھ پتہ نہیں کچھ اندازہ نہیں۔


یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ جب بھی برائی اور ظلم استبداد کو کسی بھی قوم میں حد سے زیادہ عروج حاصل ہوا، وہاں اللہ کے نیک بندے، نبی اور اوتار اُترے ہیں، ظلم و ستم اور وقت کے خدائی دعوے کرنے والوں کے خلاف صف آراء ہوتے ہیں شکست دیتے ہیں۔ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم) انبیاء کرام کے سلسلے کی آخری کڑی ہیں، آپکی بعثت کے ساتھ ہی اللہ رب العزت کی طرف سے انبیاء کرام کا آنا رُک گیا ہے، یہی ہمارے ایمان کی بنیاد اور عقیدہ ہے۔


آنحضرت کے دنیا سے وصال کے بعد پھر سے جو دنیا خصوصاً عالمِ اسلام کی جو حالت ہوتی ہے اُسے پڑھ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، خصوصاً سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی المرتضیٰ مرتضیٰ کا دورِ خلافت اور پھر سانحہء کربلاء، تفصیل میں جانا ممکن نہیں، آپ سب اصحاب کو سب اندازہ ہوگا کہ تب کیا ہوا، پھر کیا ہوتا چلا گیا اور اب کیا ہو رہا ہے۔


موجودہ حالات میں مجھے اور آپکو جو مسائل اور آسانیاں درپیش ہیں وہ ہمیں اجداد کو نہیں تھیں اور اسی طرح سے جو چیلنجز، آسانیاں اور آرائش ہمیں ہیں وہ آنے والی نسلوں کو نہیں ہونگی، دور جدید کے مسائل آنے والوں کے لئے ہم سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔


جو مذہبی اور اخلاقی اقدار ہمارے اجداد کے دور میں تھیں وہ اب نہیں ہیں، آنے والا وقت کیسا ہوگا، نئی نسل کیا کیا کچھ بھگتے گی، اس کا بھی اندازہ لگانا بہت مشکل سا عمل ہے۔ اندازہ ہے کہ انکی مصروف زندگی میں سے اگر اُنہیں کچھ سوچنے کیلئے فارغ وقت ملا تو وہ ہمارے اس دور کو اچھا وقت کہیں کہ جو ہمارے بڑے وقت گزار گئے وہی اچھا وقت تھا، ہم بُرا وقت گزار رہے ہیں۔ یہی کال کا چکّر ہے اور یہ بھی کہ انسان کسی بھی حال میں خوش نہیں رہتا۔


میرے ساتھیو!


اس وقت جو ہمیں سب سے بڑا سماجی مسئلہ درپیش ہے وہ ہمارا اخلاقی انحطاط ہے، اگر ہم اخلاقیات میں دیگر اقوامِ عالم سے پیچھے رہ جاتے ہیں تو ہم یقینی طور پر مذہبی طور پر بھی سب سے پیچھے رہ جائیں گے کیوں کہ "مذہب اور اخلاق" دونوں ہی لازم و ملزوم ہیں۔


آج کے دور کے حساب سے جو کچھ face کررہے ہیں اُن میں ہمارا اخلاقی طور پر دیوالیہ پن صاف عیاں ہے، آپ پرنٹ میڈیا سے لیکر الیکٹرونک میڈیا اور عام طرزِ زندگی پر نظر ڈالیں تو ہمیں شدّت سے اخلاقیات کی کمی محسوس ہوتی ہے، صرف کمی کی بات کر رہا ہوں ہم مسلمانوں یا ہمارے مشرقی معاشرے سے خدا نخواستہ بلکل ختم ہونے کی ہرگز بات نہیں کر رہا۔ 


میرے بھائیو میرے ساتھیو!


اس دورِپرفتن میں ہم اگر اپنے سماجی و مذہبی اقدار و عقائد اور اخلاقی مسائل کو مزید روبزوال ھونے سے بچا لیں تو یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہوگی، میرا ایمان ہے کہ خطرات صرف مسلمان کو درپیش ہیں اسلام کو نہیں کیونکہ اس دین حق کی حفاظت اللہ رب العزت نے کرنی ہے اور وہ کرے گا بھی، اپنی بقاء یا فناء کا فیصلہ ہمارے ہاتھوں میں ہے، ہم سب پر لازم ہے ک ہم سب خود کو عملی طور پر مومن ہونا ثابت کریں صرف مسلمان نہیں،، میرا آج آپ سب کیلئے آخرِ شب یہی پیغام ہے۔۔


اللہ ہم سب کو کہنے اور کر گزرنے کی عملی توفیق عطا فرمائے۔


طالبِ دعا:-


غلام محمد چوہان۔

27=11=2020.

منگل، 1 دسمبر، 2020

Social Media ka Ghalat Istemal

صدائے درویش

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات اور سوشل میڈیا کاغلط استعمال، ھماری ذمہ داریاں


السلام علیکم!


آج میں آپ سب کا زیادہ وقت نہیں لونگا اور نہ ہی کوئی لمبا چوڑا "بھاشن" دینے کا ارادہ ہے، ایک ہی پوائنٹ پر آپ سب سے بات ہوگی، وہ ہے سوشل میڈیا اور اسکا ناجائز استعمال۔ 


آپ سب دوست جانتے ہیں کہ یہ فیس بک کی دنیا ہے جس میں مخلص اور سچّے لوگ یا دوست خال خال ہی ملا کرتے ہیں، ورنہ کثرت ایک سراب کے سوا کچھ بھی نہیں, یہ بھی حقیقت ہے کہ اس فورم کو ایسا بنانے والے بھی ہم خود ہی ہیں، کوئی دوسرا نہیں۔


ہم برصغیر کے لوگ اس سوشل میڈیا کا ناجائز فائدہ بھی خوب اٹھاتے ہیں، فیس بک کے بانی نے کبھی خواب میں بھی اسکا وہ استعمال نہیں سوچا ہوگا جس برے طریقے سے ہم اسکا استعمال کررہے ہیں۔


دیکھا جائے تو فیس بک ایک طرح سے ایک "انٹرٹینمنٹ" پلیٹ فارم ہے، مگر اسکا جس طرح سے ہم استعمال کررہے ہیں وہ بھی ہم سب کے سامنے ہے۔ سارے دن کا تھکا ماندہ انسان جب سوشل میڈیا پر آتا ہے تو اُسے یہاں آکر دوستوں سے مل کر خوش ہونا چاہئے، نہ کہ بھانت بھانت کی بولیاں سن کر ڈسپرس اور افسردہ و پریشان۔


کوئی سیاست کو لئے بیٹھا ہے تو کوئی مذہبی معاملات کو تو کوئی کسی کی ذاتیات کو، ہر کوئی ایک دوسرے کی کردار کشی پر اپنا فریضہ سمجھ کر کمربستہ ہے۔ ہر کوئی خود کو درست اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے کیلئے سردھڑ کی بازی لگانے میں مصروف ہے۔ بات یہاں تک ہی رہتی تو پھر بھی بہتر تھا، اس وقت کثرت ایسی ہے جو اس فورم کو "جنسی تحریک" پیدا کرنے اور لوگوں کو اس طرف مائل کرنے کیلئے بھی سرگرم عمل ہے، لوگوں سے ان باکس میں آکر ایسی باتیں اور تصاویر کیساتھ ساتھ ذاتی ننگی ویڈیوز بھی شئیر کرتے ہیں کہ دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔


دوستو!


اس بات کو یاد رکھیں، ہم اگر ہندو، سکھ، عیسائی یا مسلمان ہیں تو اسکے ساتھ ساتھ ہم " مشرقی لوگ " بھی ہیں، ہماری بھی کچھ روایات ہیں جن میں شرم و حیاء اور حفظ مراتب کا خیال بھی ہے، لوگوں کی کبھی عزتیں ساجھی ہوا کرتی تھیں، آج وہ حالت ہے کہ لوگوں کا مقدس رشتوں سے بھی یقین آٹھ چکا ہے، لوگ اب کسی پر یقین کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے خائف ہیں، ایسا کچھ ہوا بھی ہے کہ بندہ بندے سے خوف زدہ ہو جائے، حقیقت کم اور دھوکا زیادہ ہے، قدم قدم پر دھوکہ، فریب اور چیٹنگ کا سامنا ہو تو کون کسی پر اعتبار کرے گا اور کیوں۔


میرےساتھیو!


دوستی بھی ایک طرح کا مقدّس سا رشتہ ھی ھے، اس میں اگر ھم کسی کے ساتھ دو نمبری یا دھوکہ بازی کریں گے تو تو اس مقدّس رشتے کا بھی وقار مجروح ہوگا، دوست بنیں اور دوست بنائیں، میں اس سے کسی کو بھی منع نہیں کرتا، نہ ہی مجھے کرنا چاہئے، بس دوستی کے نام پر کسی کے بھی ساتھ چیٹنگ مت کریں، خصوصاً خواتین کیساتھ۔ 

خواتین سے بھی ملتمس ہوں کہ وہ بھی کسی ایسی حد کو مت عبور کریں جس سے بعد میں انہیں پچھتاوا ہو۔ 

عزتِ نفس جسے عرفِ عام میں "Self respect" بھی کہتے ہیں اُسکا ضرور خیال رکھیں، اپنی بھی اور دوسروں کی بھی، کیونکہ میرے خیال میں دنیاوی زندگی میں عزت سے بڑھ کر کوئی چیز ہے ہی نہیں، عزت چاہے مرد کی ہو یا کسی خاتون کی وہ عزت ہی ہوا کرتی ہے، اپنی عزت و وقار کو بھی محفوظ رکھیں اور اپنے ان باکس کی تحریم کو بھی، میری آپ سب سے آخرشب یہی التماس ہے۔


آپ سب کا:-

غلام محمد چوہان۔

25.11.2020.

Unbleaveable and Lovely Scenes of Animal with Comments

  تبصروں کے ساتھ جانوروں کے ناقابل یقین، ناقابل فراموش اور دلکش مناظر 💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀🌹💥💐***✨✨✨✨✨✨✨✨✨***💐💥🌹🥀🌷🌈💗🌄💗🌈🌷🥀...